ایک نظر میں:

حمل کی دعا: سورہ الأعراف 7:189 (رَبَّنَا آتَيْنَاهُمَا صَالِحًا)
ماں کی دعا: سورہ الأحقاف 46:15 (رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ)
اولاد کے لیے: سورہ إبراہیم 14:40 (رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ)
درد زہ میں: دعائے یونس، آیت الکرسی
حوالہ: صحیح مسلم 2365، سنن ابن ماجہ 3874

اسلام میں اولاد کو اللہ کی عظیم نعمت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اولادِ صالح کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے میں اولاد کی دعا کی، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی نیک اولاد کی التجا کی، اور اللہ نے انہیں قبول فرمایا۔ یہ قرآنی قصے ہر حاملہ ماں اور باپ کے لیے ایمان افزا مثالیں ہیں۔ حمل کا یہ مبارک وقت دعاؤں، ذکر اور قرآن کی تلاوت سے گزارنا نہ صرف ماں کو سکون دیتا ہے بلکہ آنے والے بچے کی روحانی نشوونما کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔

حمل کی تصدیق ہونے پر دعا

جب گھر میں نئے مہمان کی آمد کی خوشخبری ملے تو سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کریں اور اس قرآنی دعا کو پڑھیں جو حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اہلیہ نے مانگی تھی:

الأعراف 7:189 ـ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
ترجمہ: "وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی جوڑی بنائی تاکہ وہ اس سے سکون پائے۔ پھر جب اس نے اسے ڈھانپا تو اس نے ہلکا سا حمل اٹھایا اور اسی کے ساتھ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے اپنے رب اللہ سے دعا کی: اگر تو نے ہمیں صالح اولاد دی تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔"

یہ آیت حمل کے ہر مرحلے پر پڑھنا مسنون ہے۔ خاص طور پر حمل کی تصدیق ہونے پر، جب جسمانی تکلیف محسوس ہو اور جب پیدائش قریب ہو، اس دعا کو بار بار دہرانا چاہیے۔ یہ دعا شکر اور صالح اولاد کی التجا دونوں کو یکجا کرتی ہے۔

پہلی تین ماہ کا مشورہ

حمل کے پہلے تین ماہ میں جسمانی تکالیف زیادہ ہوتی ہیں۔ اس وقت روزانہ آیت الکرسی، سورہ مریم اور سورہ یوسف کی تلاوت کریں۔ علماء نے فرمایا ہے کہ قرآن کی تلاوت ماں کے دل کو سکون اور بچے کی روح کو نور بخشتی ہے۔

ماں کے لیے خاص دعا: سورہ الأحقاف

قرآن مجید کی سورہ الأحقاف میں ایک ایسی دعا ہے جو خاص طور پر ماں باپ کے احسانات کے اعتراف اور نیک اولاد کی التجا پر مشتمل ہے۔ یہ آیت حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد بھی پڑھنی چاہیے:

الأحقاف 46:15 ـ وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ: "ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے تکلیف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف اٹھا کر اسے جنا اور اس کا حمل اور دودھ چھڑانے کا وقت تیس ماہ ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا: اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہے، اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد کی بھی اصلاح فرما دے۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔"

اس آیت میں اللہ نے خود ماں کی تکلیف کا ذکر کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ماں کا مقام اسلام میں کتنا اونچا ہے۔ اس آیت کو پڑھتے وقت ماں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والے بچے کی نیکی کے لیے بھی دعا کرتی ہے۔

بچے کے لیے دعا: سورہ إبراہیم

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا ہر والدین کو اپنے بچوں کے لیے پڑھنی چاہیے۔ یہ اولاد کے نمازی بننے اور قبولیت دعا کی التجا ہے:

إبراہیم 14:40 ـ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۝ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
ترجمہ: "اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور تمام مومنوں کو بھی اس دن جب حساب قائم ہو گا۔"

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے دعا کی تھی۔ ہر ماں کو چاہیے کہ حمل کے دوران یہ دعا کثرت سے پڑھے۔ اولاد کی نمازی بنانے کی دعا ہر حاملہ خاتون کی زبان پر ہونی چاہیے کیونکہ نماز اسلام کا ستون ہے۔

درد زہ کے وقت کی دعائیں

پیدائش کا وقت سب سے مشکل لمحات میں سے ہے۔ اس وقت دعا کی قبولیت کا خاص موقع ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کی احادیث سے ثابت ہے کہ تکلیف کی حالت میں دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔

دعائے یونس علیہ السلام

حضرت یونس علیہ السلام کی یہ دعا مشکل ترین لمحات میں پڑھنے کے لیے ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی یہ دعا پڑھے اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے:

لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
ترجمہ: "تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔" (سنن ترمذی 3505، قرآن 21:87)

اللہ سے آسانی کی دعا

اللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا وَأَنتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلًا
ترجمہ: "اے اللہ! کوئی آسان نہیں سوائے اس کے جو تو نے آسان بنایا، اور تو مشکل کو بھی جب چاہے آسان بنا دیتا ہے۔" (سنن ابن ماجہ 3874، صحیح ابن حبان)

یہ دعا درد زہ کے وقت بار بار پڑھنی چاہیے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ درد زہ کی ہر تکلیف پر صبر کرنے والی ماں کو نبی ﷺ نے شہید کے برابر اجر کی بشارت دی ہے۔

آیت الکرسی

اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
البقرة 2:255 ترجمہ: "اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند..."

ماں کی تکلیف کا عظیم اجر

نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورت کا حمل سے لے کر پیدائش اور دودھ چھڑانے تک کا سفر جہاد کے مثل ہے۔ اگر اس دوران وفات ہو تو وہ شہید کے مرتبے پر ہے۔ (مسند احمد 27310) یہ ایمان افزا بشارت ہر حاملہ ماں کو یاد رکھنی چاہیے۔

پیدائش کے بعد کی سنتیں اور دعائیں

کانوں میں اذان

نبی ﷺ کا معمول تھا کہ نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہتے تھے۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر یہ عمل کیا (سنن ابو داود 5105، سنن ترمذی 1514)۔

تحنیک: کھجور سے حنک کرنا

نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ نومولود کو کھجور چبا کر اس کے منہ میں لگاتے تھے اور برکت کی دعا فرماتے تھے (صحیح مسلم 2144)۔ آج بھی اس سنت پر عمل کریں اور دعا مانگیں:

بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي الْمَوْهُوبِ لَكَ وَشَكَرْتَ الْوَاهِبَ وَبَلَغَ أَشُدَّهُ وَرُزِقْتَ بِرَّهُ
ترجمہ: "اللہ تمہیں اس بچے میں برکت دے، تم شکر گزار رہو اس دینے والے کا، یہ جوانی کو پہنچے اور تمہیں اس کی نیکی کا رزق ملے۔" (عمل الیوم واللیلة از ابن السنی)

نام رکھنے کی دعا

سातویں دن عقیقہ کرنا اور اچھا نام رکھنا سنت ہے۔ نام رکھتے وقت یہ دعا پڑھیں:

اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ بَارًّا وَاجْعَلْهُ تَقِيًّا وَأَنبِتْهُ فِي الإِسْلَامِ نَبَاتًا حَسَنًا
ترجمہ: "اے اللہ! اسے نیک اور پرہیزگار بنا اور اسے اسلام میں اچھی طرح نشوونما دے۔"

قرآنی آیات اور تلاوت کی فضیلت

حمل کے دوران قرآن کی تلاوت صرف ماں کے لیے نہیں بلکہ بچے کے لیے بھی نور ہے۔ علماء کے اجماع کے مطابق جنین اپنی ماں کی آواز اور ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ قرآن کا نور اس کی روح تک پہنچتا ہے۔

سورہ مریم کی تلاوت

سورہ مریم میں حضرت مریم علیہ السلام کا قصہ ہے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں حضرت عیسی علیہ السلام کو جنم دیا۔ اللہ نے انہیں کھجور کا درخت اور پانی دیا اور فرمایا: "پس کھا، پی اور آنکھیں ٹھنڈی کر۔" (مریم 19:26) یہ سورت حاملہ خواتین کے لیے خاص طور پر پڑھنا مفید ہے۔

سورہ یوسف کی تلاوت

سورہ یوسف میں "احسن القصص" یعنی بہترین قصے کا بیان ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ حمل کے دوران اس سورت کی تلاوت بچے کی اچھی شخصیت کی تعمیر میں مددگار ہوتی ہے۔

حاملہ کے لیے مخصوص دعا

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِن شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ
ترجمہ: "اے اللہ! میں اس (بچے) کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس کی فطرت کی بھلائی، اور میں اس کی برائی سے اور اس کی فطرت کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" (سنن ابو داود 2160 بروایت ام المومنین)

اولاد کی فضیلت اور دعا کی اہمیت

اولاد اللہ کی امانت ہے

اسلام میں اولاد کو اللہ کی امانت کہا گیا ہے۔ والدین اس امانت کے نگہبان ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔" (صحیح بخاری 1358) یہ حدیث والدین کی عظیم ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ماں کے پاؤں تلے جنت

نبی ﷺ نے تین بار ماں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی اور پھر باپ کا نام لیا (صحیح بخاری 5971)۔ اس کے پیش نظر حمل کی تکالیف برداشت کرنا جنت کا راستہ ہے۔ ہر درد، ہر تھکاوٹ اور ہر مشکل اجر کا ذریعہ ہے۔

صالح اولاد کا صدقہ جاریہ

نبی ﷺ نے فرمایا: "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، علم نافع اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔" (صحیح مسلم 1631) صالح اولاد کی پرورش ہی والدین کا سب سے بڑا صدقہ جاریہ ہے۔

روزانہ کا معمول: حاملہ ماں کے لیے

فجر کے بعد: سورہ مریم کی تلاوت یا آیت الکرسی
دن میں کسی بھی وقت: سورہ الأعراف 7:189 اور سورہ الأحقاف 46:15
عصر کے بعد: سورہ إبراہیم 14:40 اور تسبیح فاطمہ
سونے سے پہلے: آیت الکرسی اور دعائے یونس

ساتھی کی ذمہ داری

اسلام میں شوہر کو بیوی کا وکیل اور نگہبان بنایا گیا ہے۔ حمل کے دوران شوہر کا فرض ہے کہ بیوی کے لیے خاص طور پر دعا کرے، گھر کا ماحول پرسکون رکھے اور قرآن کی تلاوت میں ساتھ دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مومن اپنے مومن بھائی کے لیے غیرحاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اسے آمین کہتا ہے (صحیح مسلم 2733)۔

عزیز و اقارب کی دعائیں

پورے خاندان کو چاہیے کہ حاملہ ماں کے لیے اور آنے والے بچے کے لیے دعا کریں۔ مشترکہ دعا کی قوت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے اس کے لیے فرشتہ بھی وہی دعا مانگتا ہے (صحیح مسلم 2732)۔

نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں

FivePrayer: اذان کی یاد دہانی، نماز کے اوقات اور اذکار ایک جگہ۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے اوقات، اذان کی یاد دہانی، قبلہ کا رخ اور روزانہ کی مسنون دعائیں فراہم کرتا ہے۔ حمل کے دوران بھی نماز سے جڑے رہیں۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

حمل کی تصدیق ہونے پر سب سے پہلے کون سی دعا پڑھیں؟

حمل کی تصدیق ہونے پر سب سے پہلے الحمد للہ کہیں اور سورہ الأعراف 7:189 کی آیت پڑھیں: لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ۔ اس کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھ کر اللہ کا شکر ادا کریں اور آنے والے بچے کی صحت اور صالحیت کے لیے دعا مانگیں۔

کیا حمل کے دوران نماز پڑھنا ضروری ہے؟

ہاں، حمل کے دوران بھی نماز فرض ہے۔ حاملہ خاتون بیٹھ کر بھی نماز ادا کر سکتی ہے اگر کھڑے ہونا مشکل ہو۔ جھکنا اور سجدہ کرنا جس حد تک ممکن ہو اسی حد تک کریں۔ نماز حمل کے دوران روحانی سکون کا بہترین ذریعہ ہے۔

درد زہ کے وقت سب سے مفید دعا کون سی ہے؟

درد زہ کے وقت دعائے یونس (لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ) اور اللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا سب سے مفید ہیں۔ آیت الکرسی بار بار پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔ ان کے ساتھ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ بھی پڑھتی رہیں۔

نومولود کے لیے پہلے کیا کریں؟

نومولود کے پیدا ہونے کے بعد سب سے پہلے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہیں (سنت نبوی ﷺ)۔ پھر تحنیک کریں یعنی کھجور چبا کر منہ میں لگائیں۔ نام رکھنا سے پہلے بچے کے لیے دعا کریں اور سمجھداری سے اچھا اسلامی نام رکھیں۔ سات دن میں عقیقہ بھی ادا کریں۔