ایک نظر میں:

قرآنی دعا: رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (الإسراء 17:24)
فوت شدہ کے لیے: مغفرت، رفع درجات اور رحمت کی دعا
اجر: نیک اولاد کی دعا انتقال کے بعد بھی جاری رہتی ہے (مسلم 1631)
مقام: اللہ کی رضا والدین کی رضا میں اور اس کی ناراضگی ان کی ناراضگی میں
عمل: زندگی میں خدمت اور مرنے کے بعد دعا

اسلام میں والدین کا مقام اللہ کی عبادت کے فوراً بعد آتا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ نے توحید کے حکم کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا ہے۔ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ والدین کی خدمت اور ان کے لیے دعا کرنا کس قدر اہم فریضہ ہے۔ نبی ﷺ نے واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ نیک اولاد کی دعا انسان کے انتقال کے بعد بھی اس کے لیے صدقہ جاریہ کا درجہ رکھتی ہے۔

قرآن مجید میں والدین کا مقام

قرآن کریم میں والدین کا ذکر اس قدر عظمت کے ساتھ آیا ہے کہ علماء نے لکھا ہے: اسلام میں والدین کے حقوق بنیادی عقیدے کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

الإسراء 17:23-24 ـ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ۝ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
ترجمہ: "تیرے رب نے فیصلہ کر دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں 'اف' بھی نہ کہو اور نہ انہیں ڈانٹو بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کرو۔ اور عاجزی کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہو اور کہو: 'اے میرے رب! ان پر رحم فرما جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔'"

یہ آیت اسلام کی سب سے جامع تعلیم ہے والدین کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں۔ اس میں تین باتیں یکجا ہیں: برے رویے سے بچنا، اچھا رویہ اختیار کرنا، اور اللہ سے ان کے لیے دعا مانگنا۔

دیگر قرآنی آیات

لقمان 31:14 ـ وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ
ترجمہ: "اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں وصیت کی۔ اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھا اور دو سال میں دودھ چھڑایا، (اس لیے) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔"

زندہ والدین کے لیے دعائیں

دعا نمبر 1: قرآنی دعا (الإسراء 17:24)

رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
ترجمہ: "اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔"

یہ قرآن مجید میں اللہ کی سکھائی ہوئی دعا ہے۔ ہر نماز کے بعد اور خاص طور پر سجدے میں اسے پڑھیں۔ "رَبَّيَانِي صَغِيرًا" کا لفظ والدین کی محنت اور ماں کی ممتا کو سمیٹتا ہے۔

دعا نمبر 2: ابراہیم علیہ السلام کی دعا

رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
ترجمہ: "اے ہمارے رب! روزِ حساب مجھے، میرے والدین کو اور سب مومنوں کو معاف فرما دے۔" (ابراهيم 14:41)

دعا نمبر 3: نوح علیہ السلام کی دعا

رَّبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
ترجمہ: "اے میرے رب! مجھے، میرے والدین کو، اور جو بھی ایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوا اسے، اور سب مومن مردوں اور مومن عورتوں کو معاف فرما دے۔" (نوح 71:28)

دعا نمبر 4: روزانہ کی عمومی دعا

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا وَأَصْلِحْ لِي شَأنَهُمَا وَأَدِمْ عَافِيَتَهُمَا
ترجمہ: "اے اللہ! مجھے اور میرے والدین کو معاف فرما، ان پر رحم فرما جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا، ان کے معاملات درست فرما اور ان کی عافیت کو برقرار رکھ۔"

فوت شدہ والدین کے لیے دعائیں

انتقال کے بعد والدین کے لیے تین چیزیں فائدہ دیتی ہیں: صدقہ جاریہ، نیک اولاد کی دعا، اور وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں (صحیح مسلم 1631)۔ اولاد کی دعا ان کے عمل نامے میں مسلسل اضافہ کرتی رہتی ہے۔

نماز جنازہ کی دعا

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ
ترجمہ: "اے اللہ! اسے معاف فرما، اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے، اسے درگزر فرما، اس کی مہمان نوازی عزت والی کر، اس کی منزل کشادہ فرما، اور اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو۔" (صحیح مسلم 963)

رفع درجات کی دعا

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِوَالِدَيَّ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُمَا فِي الْجَنَّةِ وَأَدْخِلْهُمَا الْفِرْدَوْسَ الأَعْلَى
ترجمہ: "اے اللہ! میرے والدین کو معاف فرما، جنت میں ان کا درجہ بلند فرما اور انہیں فردوسِ اعلیٰ میں داخل فرما۔"

فاتحہ اور قرآن خوانی

جمہور علماء کے نزدیک قرآن پڑھ کر اس کا ثواب فوت شدہ والدین کو بھیجنا جائز ہے۔ سورہ یاسین، سورہ اخلاص، سورہ فاتحہ اور دیگر سورتیں پڑھ کر ایصال ثواب کی نیت کریں۔

احادیث کی روشنی میں

نیک اولاد کی دعا کی اہمیت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل تین کے سوا منقطع ہو جاتا ہے: صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔" (صحیح مسلم 1631)

والدین کی دعا کا اثر اولاد پر

نبی ﷺ نے فرمایا: "تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور باپ کی اپنے بیٹے کے لیے دعا۔" (ابو داود 1536، ترمذی 1905)

والدین کی رضا میں اللہ کی رضا

نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔" (ترمذی 1899 ـ حسن)

والدین کے لیے دعا کرنے کے عملی طریقے

ہر نماز میں یاد رکھیں

ہر فرض نماز کے بعد جب آپ استغفار پڑھتے ہیں، اس کے ساتھ والدین کے لیے دعا کو بھی معمول بنائیں۔ تشہد کے بعد دعا مانگنے کا وقت بھی خاص طور پر مناسب ہے۔

سجدے میں دعا

نبی ﷺ نے فرمایا کہ بندہ اپنے رب کے سب سے قریب سجدے میں ہوتا ہے، لہذا (سجدے میں) کثرت سے دعا مانگو (صحیح مسلم 482)۔ سجدے میں والدین کے لیے دعا مانگنا خاص طور پر موثر ہے۔

صدقہ کا انتظام

فوت شدہ والدین کی طرف سے پانی کے کنویں، مسجد کی تعمیر، یتیم خانے میں تعاون یا کسی بھی صدقہ جاریہ کا انتظام کریں۔ یہ عمل ان کے عمل نامے میں تا قیامت اضافہ کرتا رہے گا۔

والدین کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "والد کی وفات کے بعد اس کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بہترین نیکی ہے۔" (صحیح مسلم 2552)

ماں کا مخصوص مقام

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "تیری ماں۔" اس نے پھر پوچھا: "پھر کون؟" فرمایا: "تیری ماں۔" پھر پوچھا: "پھر کون؟" فرمایا: "تیری ماں۔" پھر پوچھا: "پھر کون؟" فرمایا: "تیرا باپ۔" (صحیح بخاری 5971، صحیح مسلم 2548)۔ ماں کا مقام باپ سے تین گنا زیادہ ہے۔

نماز میں والدین کے لیے مکمل دعا

یہ جامع دعا ہے جو آپ ہر نماز کے بعد پڑھ سکتے ہیں:

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَارْحَمْهُمَا وَعَافِهِمَا وَاعْفُ عَنْهُمَا وَارْزُقْنِي بِرَّهُمَا فِي حَيَاتِهِمَا وَبَعْدَ مَمَاتِهِمَا، وَاجْعَلْنِي بَارًّا بِهِمَا، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُمَا، وَوَسِّعْ مَدْخَلَهُمَا، وَاجْمَعْنِي بِهِمَا فِي جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى
ترجمہ: "اے اللہ! مجھے اور میرے والدین کو معاف فرما، ان پر رحم فرما، انہیں عافیت دے، انہیں معاف فرما، ان کی زندگی میں اور ان کے انتقال کے بعد مجھے ان کے ساتھ نیکی کرنے کی توفیق دے، مجھے ان کا فرمانبردار بنا، ان کی مہمان نوازی عزت والی کر، ان کی جگہ کشادہ کر، اور جنت الفردوس اعلیٰ میں مجھے ان کے ساتھ جمع فرما۔"
نماز اور دعا FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، قبلہ کمپاس اور دعائیں۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

فوت شدہ والدین کے لیے کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟

رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ (نوح 71:28) اور اللهم اغفر له وارفع درجته في المهديين (صحیح مسلم 1631) فوت شدہ والدین کے لیے مستند دعائیں ہیں۔ ان کی طرف سے صدقہ کریں، قرآن پڑھیں اور ایصال ثواب کریں۔

کیا والدین کی نافرمانی معاف ہو سکتی ہے؟

ہاں، اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ سچی توبہ کریں، اگر والدین زندہ ہیں تو ان سے معافی مانگیں، آئندہ خدمت کریں اور ان کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف فرماتے ہیں۔

کیا غیر مسلم والدین کے لیے مغفرت کی دعا جائز ہے؟

غیر مسلم والدین کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں (التوبة 9:113-114)۔ البتہ ان کی ہدایت کی دعا، ان کی صحت اور دنیاوی بہبود کی دعا زندگی میں مانگ سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ دنیاوی معاملات میں حسن سلوک بھی فرض ہے۔

نماز میں والدین کے لیے کب دعا مانگیں؟

سجدے میں، تشہد کے بعد سلام سے پہلے، فرض نماز کے فوراً بعد اذکار کے ساتھ، اور تہجد کی دعاؤں میں خصوصی طور پر والدین کا ذکر کریں۔ دعا قبول ہونے کے اوقات: سجدہ، اذان کے بعد، جمعہ کی آخری گھڑی، اور سحر کا وقت۔