ایک نظر میں:

پہلا رکن: کلمہ شہادت: لا إله إلا الله محمد رسول الله
دوسرا رکن: پانچ وقت نماز: فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء
تیسرا رکن: زکوٰۃ: ڈھائی فیصد سالانہ
چوتھا رکن: رمضان کے روزے
پانچواں رکن: حج: زندگی میں ایک بار، صاحب استطاعت پر فرض
ماخذ: صحیح بخاری 8، صحیح مسلم 16

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اسلام پانچ چیزوں پر قائم ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔" (صحیح بخاری 8، صحیح مسلم 16)

پہلا رکن: کلمہ شہادت

اسلام کی بنیاد کلمہ شہادت پر ہے۔ یہ وہ اعلان ہے جو ایک انسان کو مسلمان بناتا ہے اور اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کی اصل کو بیان کرتا ہے:

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ
ترجمہ: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"

یہ محض زبان کا اقرار نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور اعمال میں اس کا ظہور بھی ضروری ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

محمد 47:19 فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ
ترجمہ: "پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی مغفرت مانگو۔"

کلمہ شہادت کے دو حصے ہیں: پہلا حصہ توحید کا اقرار ہے جس میں ہر معبود باطل کا انکار اور صرف اللہ کی الوہیت کا اثبات ہے۔ دوسرا حصہ رسالت کا اقرار ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔

دوسرا رکن: نماز

نماز اسلام کا ستون ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "نماز دین کا ستون ہے، جس نے اسے قائم کیا اس نے دین قائم کیا اور جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے دین کو ڈھا دیا۔" (بیہقی، شعب الایمان)

البقرة 2:43 وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
ترجمہ: "اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔"

پانچ نمازوں کے اوقات

دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں:

  • فجر: صبح صادق سے طلوع آفتاب تک
  • ظہر: زوال آفتاب سے عصر تک
  • عصر: ہر چیز کا سایہ دوگنا ہونے سے غروب آفتاب تک
  • مغرب: غروب آفتاب کے فوری بعد سے شفق ڈوبنے تک
  • عشاء: شفق ڈوبنے سے آدھی رات یا صبح صادق تک
النساء 4:103 إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
ترجمہ: "بیشک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے۔"

نماز کی فرضیت پر پوری امت کا اجماع ہے۔ نماز کا انکار کفر ہے اور اسے جان بوجھ کر ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ نماز کے لیے طہارت یعنی وضو یا غسل شرط ہے۔

نماز کے فوائد

قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ "بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔" (العنکبوت 29:45)۔ نماز انسان کو اللہ کی یاد میں رکھتی ہے اور گناہوں سے بچاتی ہے۔

تیسرا رکن: زکوٰۃ

زکوٰۃ اسلام کا مالی فریضہ ہے جو امیروں کے مال میں غریبوں کا حق قرار دیتا ہے۔ یہ محض رضاکارانہ خیرات نہیں بلکہ واجب فریضہ ہے:

التوبة 9:103 خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا
ترجمہ: "ان کے مالوں میں سے صدقہ لو جو انہیں پاک کرے اور انہیں بڑھائے۔"

زکوٰۃ کے شرائط

زکوٰۃ اس شخص پر فرض ہے جس میں یہ شرائط پائی جائیں:

  • نصاب: ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر نقدی
  • حول: نصاب پر پورا سال گزرنا
  • شرح: ڈھائی فیصد سالانہ

نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے امیروں کے مال میں غریبوں کا حق مقرر کیا ہے کہ اس سے ان کی ضرورت پوری ہو جائے۔" (طبرانی، معجم الاوسط) زکوٰۃ سماج کی معاشی توازن کا اسلامی نظام ہے۔

چوتھا رکن: روزہ

رمضان المبارک کے روزے ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض ہیں:

البقرة 2:183 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔"

روزے کا مقصد تقویٰ اور اللہ کا قرب ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے پرہیز نہیں بلکہ جھوٹ، غیبت، گناہ اور فحش باتوں سے بھی روزہ رکھنا ضروری ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑے۔" (صحیح بخاری 1903)

روزے کی خصوصی فضیلت

نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔" (صحیح بخاری 1904، صحیح مسلم 1151)

رمضان میں لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے (القدر 97:3)۔ اعتکاف اور قیام رمضان بھی اس ماہ کی خاص عبادات ہیں۔

پانچواں رکن: حج

حج ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے:

آل عمران 3:97 وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا
ترجمہ: "اور لوگوں پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔"

حج کے ارکان

حج کے اہم ارکان یہ ہیں: احرام باندھنا، عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں رات گزارنا، منیٰ میں کنکریاں مارنا، قربانی، حلق یا قصر، طواف افاضہ اور سعی صفا و مروہ۔

نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور فحش باتیں نہ کیں اور نافرمانی نہ کی، وہ اس طرح گناہوں سے پاک ہو کر لوٹے گا جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔" (صحیح بخاری 1521)

ارکان اسلام کی حکمت

پانچوں ارکان مل کر ایک مکمل نظام تشکیل دیتے ہیں: کلمہ عقیدے کی بنیاد ہے، نماز روزانہ کی عبادت، زکوٰۃ مالی فریضہ، روزہ سالانہ تربیت اور حج عمر بھر کی زیارت۔ یہ پانچوں ارکان ایک مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو کو عبادت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی یہ حدیث ہمیں ہدایت دیتی ہے کہ ان ارکان پر عمل محض رسم نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے ایمان کا اظہار ہے۔ ہر رکن کا اپنا فلسفہ اور حکمت ہے اور ان سب کا مقصد ایک ہی ہے: اللہ کا قرب اور اس کی رضا۔

نماز کے اوقات FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

اسلام کے پانچ ارکان کون سے ہیں؟

اسلام کے پانچ ارکان یہ ہیں: (1) کلمہ شہادت، (2) پانچ وقت نماز، (3) زکوٰۃ، (4) رمضان کے روزے، (5) حج بیت اللہ۔ یہ حدیث جبریل (صحیح بخاری 8) میں بیان ہوئے ہیں۔

نماز دن میں کتنی بار فرض ہے؟

نماز دن رات میں پانچ بار فرض ہے: فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء۔ اللہ نے فرمایا: بیشک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے (النساء 4:103)۔

زکوٰۃ کس پر فرض ہے اور کتنی ہے؟

زکوٰۃ اس مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کے برابر) ہو اور پورا سال گزر جائے۔ شرح ڈھائی فیصد ہے۔

روزہ کیوں فرض کیا گیا؟

روزہ اس لیے فرض کیا گیا تاکہ مومن تقویٰ حاصل کرے (البقرة 2:183)۔ روزہ نفس کی تربیت، غریبوں کے احساس اور اللہ کی یاد کا ذریعہ ہے۔

حج کس پر فرض ہے؟

حج ہر اس مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے جو جسمانی صحت اور مالی استطاعت رکھتا ہو (آل عمران 3:97)۔