ایک نظر میں:
• نماز: دو رکعات، بالکل عید کی نماز کی طرح (بخاری 1012)
• وقت: قحط یا پانی کی قلت کے موقع پر، صبح عید کے وقت کی طرح
• جگہ: کھلا میدان، عیدگاہ افضل ہے
• امتیازی خصوصیت: خطبے میں چادر پلٹنا سنت ہے
• خاص دعا: اللّٰهمَّ اسقنا غيثاً مغيثاً (بخاری 1013)
نماز استسقاء (عربی: صلاة الاستسقاء) وہ نماز ہے جو بارش طلب کرنے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ "استسقاء" کے معنی پانی مانگنا ہے۔ یہ نبی ﷺ کی سنت سے ثابت ایک خاص نماز ہے جو اس وقت ادا کی جاتی ہے جب کسی علاقے میں بارش نہ ہو اور قحط کا خطرہ ہو۔ یہ صرف دعا نہیں بلکہ ایک مکمل اجتماعی عبادت ہے جس میں پوری قوم اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے۔
استسقاء کا ثبوت: حدیث اور قرآن
نماز استسقاء نبی ﷺ کی پختہ سنت ہے، یہ صحیح ترین کتابوں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ عیدگاہ کی طرف نکلے اور بارش کے لیے اللہ سے دعا مانگی۔ آپ ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کیا، اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعات نماز پڑھی۔ (صحیح بخاری 1012)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: لوگوں نے نبی ﷺ سے قحط کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ منبر لگایا جائے۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ ایک خاص دن باہر نکلیں۔ جب سورج کا کنارہ نکلا تو آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ کر اللہ کی بڑائی بیان کی، پھر نماز پڑھائی۔ (صحیح بخاری 1014)
قرآن مجید میں بھی بارش کو اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت کی علامت قرار دیا گیا ہے:
الاعراف 7:57 ـ وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ
ترجمہ: "اور وہی ہے جو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھا لاتی ہیں تو ہم اسے ایک مردہ شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں اور پانی اتارتے ہیں، پھر اس سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔"
نوح علیہ السلام نے بھی قوم کو استغفار پر ابھارا اور بارش کا وعدہ دیا:
نوح 71:10-12 ـ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ
ترجمہ: "میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو، وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد کرے گا۔"
کب پڑھی جائے
نماز استسقاء کے لیے مخصوص اوقات یا شرائط مندرجہ ذیل ہیں:
| صورتحال | حکم |
|---|---|
| بارش بالکل نہ ہو، قحط کا خطرہ | مستحب (بلکہ بعض کہتے ہیں واجب) |
| پانی کی شدید قلت | مستحب |
| فصلیں تباہ ہونے کا خطرہ | مستحب |
| نہریں اور کنویں خشک ہوں | مستحب |
وقت کے بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ یہ عید کی نماز کے وقت کی طرح پڑھی جائے، یعنی چاشت کے وقت جب سورج تھوڑا اوپر ہو۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو پہلے سے اطلاع دی، وہ ایک مقرر دن جمع ہوئے اور نماز ادا کی۔ یہ اجتماعی نماز ہے، تنہا بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن جماعت افضل ہے۔
نماز کا طریقہ: قدم بہ قدم
نماز استسقاء کا طریقہ عید کی نماز جیسا ہے، تکبیرات زائد کے ساتھ:
- تیاری: غسل کریں، صاف کپڑے پہنیں، عاجزی کے ساتھ نکلیں۔ نبی ﷺ عاجزی، خشوع اور سکینت کے ساتھ نکلے (سنن ابی داؤد 1165)۔
- جگہ: کھلا میدان یا عیدگاہ افضل ہے۔ مسجد میں بھی جائز ہے لیکن کھلی جگہ سنت کے زیادہ قریب ہے۔
- اذان اور اقامت: نہیں ہے۔ عید کی طرح صرف "الصلاة جامعة" کہا جا سکتا ہے۔
- نیت: دل میں دو رکعات نماز استسقاء کی نیت کریں۔
- پہلی رکعت: تکبیر تحریمہ کے بعد سات زائد تکبیریں (عید کی طرح)، پھر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت۔
- دوسری رکعت: قیام میں پانچ زائد تکبیریں، پھر سورہ فاتحہ اور سورت، پھر نماز مکمل کریں۔
- خطبہ: نماز کے بعد امام خطبہ دیتا ہے جس میں توبہ، استغفار اور بارش کی دعا ہوتی ہے۔
- قبلہ کی طرف: خطبے میں امام قبلہ کی طرف منہ کرتا ہے اور دعا مانگتا ہے۔
- چادر پلٹنا: قبلہ رو ہو کر چادر یا کپڑا پلٹنا سنت ہے (بخاری 1012)۔
نوٹ: بعض علماء کے نزدیک خطبہ نماز سے پہلے ہوتا ہے (جیسے جمعہ)، لیکن جمہور کے نزدیک جیسا کہ بخاری 1012 سے ظاہر ہوتا ہے، نماز پہلے ہے اور خطبہ بعد میں، جیسے عید۔
مخصوص دعا
نماز اور خطبے میں مندرجہ ذیل دعائیں پڑھی جاتی ہیں:
اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ
"اے اللہ! ہمیں فائدہ دینے والی، کشادہ، خوشگوار، ہری بھری، نفع بخش اور نقصان سے پاک، جلد بارش عطا فرما۔" (سنن ابی داؤد 1169، حسن)
اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ
"اے اللہ! اپنے بندوں اور جانوروں کو سیراب فرما، اپنی رحمت پھیلا اور اپنے مردہ شہر کو زندہ کر۔" (سنن ابی داؤد 1172)
یہ بھی دعا کریں:
اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ
"اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں۔ ہم پر بارش نازل فرما۔" (سنن ابن ماجہ 1269)
خطبہ اور چادر پلٹنا
استسقاء کے خطبے کی چند خاص باتیں ہیں جو اسے عام خطبے سے ممتاز کرتی ہیں:
استغفار کثیر
نبی ﷺ نے خطبے میں استغفار کثرت سے کیا کیونکہ قرآن میں نوح علیہ السلام نے کہا تھا کہ استغفار بارش لاتا ہے (سورہ نوح 71:10-12)۔ خطبے میں "استغفروا ربكم إنه كان غفاراً" بار بار کہنا مستحب ہے۔
چادر پلٹنا
نبی ﷺ کی ایک خاص سنت یہ ہے کہ خطبے میں قبلہ رو ہو کر چادر یا کوٹ کا داہنا حصہ بائیں طرف اور بایاں حصہ داہیں طرف کر لیا جائے:
"نبی ﷺ نے اپنی چادر کا داہنا حصہ بائیں طرف اور بایاں حصہ داہنی طرف کیا جب قبلے کی طرف منہ کیا۔" (صحیح بخاری 1012)
جمہور علماء کے نزدیک یہ تفاؤل ہے، یعنی علامت کہ جیسے حالت پلٹ گئی، اسی طرح بارش کی صورتحال بھی پلٹ جائے۔ مقتدی بھی چادر پلٹ سکتے ہیں البتہ امام کے ساتھ پلٹنا افضل ہے۔
جب بارش ہو جائے
جب بارش ہو جائے تو نبی ﷺ کی سنت ہے کہ اس دعا کو پڑھیں:
اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
"اے اللہ! اس بارش کو فائدہ مند بنا۔" (صحیح بخاری 1032)
علماء کی آراء
فقہاء کے درمیان چند مسائل پر اختلاف ہے:
| مسئلہ | جمہور علماء | حنفی مذہب |
|---|---|---|
| نماز کا طریقہ | عید کی طرح (تکبیرات زائد) | صرف دو رکعات، زائد تکبیریں نہیں |
| خطبے کا وقت | نماز کے بعد | نماز سے پہلے بھی جائز |
| حکم | سنت مؤکدہ | مستحب |
| چادر پلٹنا | سنت ہے | ثابت ہے لیکن کم زور دیتے ہیں |
تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ قحط میں اللہ سے رجوع کرنا اور بارش مانگنا واجب ہے، خواہ نماز کی صورت میں ہو یا صرف دعا کی صورت میں۔
انفرادی بھی ممکن ہے: اگر علاقے میں اجتماعی نماز استسقاء نہ ہو تو گھر میں انفرادی طور پر دو رکعات پڑھ کر اور اوپر دی گئی دعائیں مانگ کر بھی یہ سنت ادا کی جا سکتی ہے۔ اللہ کی رحمت پر یقین رکھیں۔
FivePrayer: نماز کے اوقات، قبلہ اور اذان کا ساتھی۔
استسقاء کا وقت، فجر اور ظہر کا حساب، سب FivePrayer میں آپ کے شہر کے مطابق۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔
عام سوالات
نماز استسقاء کب پڑھی جاتی ہے؟
جب کسی علاقے میں بارش نہ ہو اور قحط یا پانی کی قلت ہو۔ نبی ﷺ نے یہ نماز قحط کی صورت میں پڑھائی (بخاری 1012)۔ اسے عید کی نماز کے وقت کی طرح، صبح کھلے میدان میں پڑھنا افضل ہے۔
نماز استسقاء کی کتنی رکعات ہیں؟
جمہور علماء کے نزدیک دو رکعات ہیں بالکل عید کی نماز جیسی، تکبیرات زائد کے ساتھ۔ پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں زائد۔ حنفی مذہب میں صرف دو رکعات ہیں بغیر زائد تکبیروں کے۔
چادر پلٹنے کا کیا مطلب ہے؟
نبی ﷺ کی سنت ہے کہ خطبے میں قبلہ رو ہو کر چادر کا داہنا حصہ بائیں طرف اور بایاں حصہ داہیں طرف کر لیا جائے۔ یہ تفاؤل کی علامت ہے کہ جیسے حالت پلٹی، بارش کی حالت بھی پلٹ جائے (بخاری 1012)۔
کیا گھر میں بھی یہ نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جماعت کے بغیر انفرادی طور پر گھر میں دو رکعات پڑھ کر اور استسقاء کی دعائیں مانگ کر بھی یہ سنت ادا ہو جاتی ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ استسقاء کی اصل روح اللہ سے رجوع اور توبہ ہے، چاہے جماعت سے ہو یا تنہا۔