ایک نظر میں:

درجہ: "فرض نماز کے بعد بہترین نماز رات کی نماز ہے" (صحیح مسلم 769)
وقت: آدھی رات کے بعد فجر تک؛ آخری تہائی سب سے افضل
رکعات: کم از کم 2، نبی ﷺ کا معمول: 8+3 وتر = 11 رکعت
قرآن: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ (الإسراء 17:79)
طریقہ: 2-2 رکعت کر کے، وتر پر ختم (بخاری 1137)

تہجد (عربی: التَّهَجُّد) اُس رات کی نماز کو کہتے ہیں جو نیند کے بعد اٹھ کر پڑھی جائے۔ یہ فرض نہیں بلکہ نوافل میں سب سے اعلیٰ درجہ رکھتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو براہِ راست اس کا حکم دیا اور صحابہ نے اسے سنت کے طور پر اختیار کیا۔ آج جو مسلمان اس نماز کا اہتمام کرتے ہیں، وہ ایک ایسی روایت کو زندہ رکھتے ہیں جس کی جڑیں خود نبی ﷺ کی راتوں میں پیوست ہیں۔

فضائل: قرآن اور حدیث کی روشنی میں

تہجد کی عظمت کسی ایک آیت یا حدیث تک محدود نہیں۔ قرآن کی متعدد آیات اور احادیث کا ایک پورا ذخیرہ اس کی بلندی کی گواہی دیتا ہے۔

قرآن کریم کی گواہی

الإسراء 17:79 ـ وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا
ترجمہ: "اور رات کے ایک حصے میں تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے۔ امید ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقامِ محمود پر فائز کرے۔"
الذاریات 51:17-18 ـ كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ۝ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
ترجمہ: "وہ رات کو تھوڑا سوتے تھے، اور سحر کے وقت استغفار کرتے تھے۔" یہ اہلِ جنت کا وصف ہے۔
المزمل 73:2-6 ـ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ۝ نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ۝ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ۝ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ۝ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا
ترجمہ: "رات کو کھڑے رہو، مگر تھوڑا۔ آدھی رات، یا اس سے کچھ کم یا زیادہ، اور قرآن کو ترتیل سے پڑھو۔ بے شک ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔ بے شک رات کی عبادت نفس کو روندنے میں سخت اور قول کو سیدھا کرنے میں زیادہ موزوں ہے۔"

احادیث نبوی ﷺ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

"فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔" (صحیح مسلم 769)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

"نبی ﷺ رات کو گیارہ رکعت پڑھتے، یہی آپ ﷺ کی رات کی نماز تھی۔ آپ ﷺ اتنا لمبا سجدہ فرماتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیات پڑھ سکتا تھا۔ پھر فجر سے قبل دو ہلکی رکعات پڑھتے اور لیٹ جاتے۔" (صحیح بخاری 1145)

اللہ تعالیٰ رات کی آخری تہائی میں نازل ہوتے ہیں اور پکارتے ہیں:

"کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں دوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں بخش دوں؟" (صحیح بخاری 1145، صحیح مسلم 758)

وقت اور رکعات

تہجد کا وقت

تہجد کا وقت آدھی رات کے بعد شروع ہوتا ہے اور صبح صادق (فجر) تک رہتا ہے۔ تین درجے ہیں:

وقتدرجہحوالہ
آدھی رات کے فوراً بعد (پہلی تہائی)جائزعام نوافل کی اجازت
رات کا درمیانی حصہ (دوسری تہائی)بہترـ
رات کی آخری تہائی، سحر سے پہلےسب سے افضلصحیح مسلم 1163

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے سب سے قریب بندہ رات کی آخری تہائی میں ہوتا ہے۔ اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو جو اس وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ہو جاؤ۔" (صحیح مسلم 1163)

رکعات کی تعداد

تہجد میں رکعات کی تعداد لچکدار ہے۔ کوئی مقررہ تعداد واجب نہیں، لیکن کم از کم 2 رکعت سے شروع کرنا چاہیے۔

  • کم از کم: 2 رکعت، یہ بھی تہجد میں شامل ہے
  • نبی ﷺ کا معمول: 8 رکعت تہجد + 3 وتر = 11 رکعت (بخاری 1145)
  • دوسری روایات: 13 رکعت تک کا ذکر ملتا ہے
  • وتر: تمام رات کی نمازوں کا اختتام وتر پر ہوتا ہے

علماء نے کہا: جتنا طاقت ہو اور جو مستقل رکھ سکو، وہی بہتر ہے۔ چار رکعت جو ہر رات باقاعدہ پڑھی جائیں، اُن سے بہتر ہیں جو صرف کبھی کبھار گیارہ پڑھی جائیں۔

طریقہ: قدم بہ قدم

تہجد کی نماز 2-2 رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "رات کی نماز دو دو ہے۔" (صحیح بخاری 1137)

  1. تیاری: آنکھ کھلے تو فوراً اٹھیں۔ منہ دھوئیں اور وضو کریں۔ پاک اور آرام دہ کپڑے اور صاف جگہ۔
  2. نیت: دل میں تہجد کی 2 رکعت نفل کی نیت کریں۔ زبان سے بلند آواز میں نیت کا کوئی ثبوت نہیں۔
  3. تکبیر تحریمہ: "اللہ اکبر" کہہ کر ہاتھ باندھیں۔ ثناء، تعوذ اور تسمیہ پڑھیں۔
  4. طویل قراءت: تہجد کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں قراءت لمبی ہونی چاہیے۔ سورہ بقرہ، آل عمران، النساء یا کوئی بھی لمبی سورت پڑھ سکتے ہیں۔ نبی ﷺ ایک رکعت میں اتنی لمبی قراءت فرماتے کہ سننے والے تھک جاتے۔
  5. رکوع اور سجدے: معمول کے مطابق اطمینان کے ساتھ ادا کریں، جلدی نہ کریں۔
  6. ہر دو رکعت پر سلام: دو رکعت مکمل ہو تو سلام پھیر کر اگلی دو رکعت شروع کریں۔
  7. دعا: دو دو رکعت کے درمیان یا ہر نماز کے بعد دل کھول کر دعا مانگیں، یہی قبولیت کا وقت ہے۔
  8. وتر پر ختم کریں: تمام رکعات مکمل ہو جائیں تو آخر میں وتر پڑھیں (بخاری 1137)۔ اگر آپ عشاء کے بعد وتر پڑھ چکے ہیں تو دوبارہ وتر نہ پڑھیں۔

تہجد میں کونسی سورتیں پڑھیں؟

نبی ﷺ کی تہجد میں مندرجہ ذیل سورتوں کا ذکر ملتا ہے: سورہ البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الزمر، الإسراء اور مفصل سورتیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دل لگا کر پڑھیں، چاہے سورت مختصر ہی کیوں نہ ہو، لیکن ٹھہر کر اور سوچ کر پڑھیں۔

مستقل عادت: نبی ﷺ کی تاکید

تہجد کی سب سے بڑی خاصیت اس کا مستقل ہونا ہے۔ نبی ﷺ نے صرف فضائل بیان نہیں کیے، بلکہ صریح الفاظ میں چھوڑنے سے منع فرمایا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "عبداللہ کتنا اچھا آدمی ہے، کاش وہ رات کو نماز پڑھتا!" راوی کہتے ہیں: اس کے بعد عبداللہ رات کو تھوڑا سا ہی سوتے تھے۔ (صحیح بخاری 1122)
نبی ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اے عبداللہ! فلاں آدمی جیسے نہ بنو جو رات کو نماز پڑھتا تھا، پھر چھوڑ دی۔" (صحیح مسلم 1159)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

"نبی ﷺ کا سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے تھوڑا ہو۔" (صحیح بخاری 6465)

عملی تجاویز: استقامت کیسے رکھیں

  • کم سے شروع کریں: ہفتے میں تین رات، صرف 2 رکعت سے شروع کریں۔ یہ کبھی نہ چھوڑیں۔
  • وقت پر سوئیں: عشاء کے بعد زیادہ دیر نہ جاگیں۔ جلدی سونا تہجد کی کلید ہے۔
  • الارم لگائیں: فجر سے ایک گھنٹہ پہلے، یعنی آخری تہائی کا وقت۔
  • دل کی نیت: سونے سے پہلے تہجد کی نیت کریں۔ علماء نے کہا کہ اگر نیند نہ ٹوٹی تو بھی نیت پر اجر ملتا ہے۔
  • رمضان سے سیکھیں: رمضان میں جو توفیق ملتی ہے، اسے رمضان کے بعد بھی برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

FivePrayer اور تہجد

تہجد FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: رات کی آخری تہائی کا حساب، آپ کے شہر کے مطابق۔

FivePrayer نہ صرف پانچ فرض نمازوں کا وقت دکھاتا ہے بلکہ تہجد کا افضل وقت بھی حساب کرتا ہے، آپ کے مقام اور موسم کے مطابق۔ اذان پر فون لاک، قبلہ کمپاس اور خاموش یاد دہانی۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

تہجد کا وقت کب ہوتا ہے؟

تہجد کا وقت آدھی رات کے بعد شروع ہوتا ہے اور فجر کی اذان تک رہتا ہے۔ سب سے افضل وقت رات کی آخری تہائی ہے، یعنی فجر سے تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے (صحیح مسلم 1163)۔ یہ وقت موسم اور شہر کے حساب سے بدلتا رہتا ہے، اور FivePrayer اسے آپ کے مقام کے مطابق حساب کر دیتا ہے۔

تہجد کتنی رکعات ہے؟

تہجد کی کم از کم 2 رکعات ہیں۔ نبی ﷺ کا معمول 8 رکعت تہجد + 3 وتر = 11 رکعت تھا (صحیح بخاری 1145)۔ 2، 4، 6 یا 8، جتنی طاقت اور فرصت ہو، اتنی پڑھیں۔ مستقل رہنا زیادہ پڑھنے سے افضل ہے۔

کیا تہجد سونے کے بعد ہی پڑھنی ہے؟

لغوی اعتبار سے "تہجد" کا مطلب نیند توڑنا ہے، لیکن جمہور علماء کے نزدیک آدھی رات کے بعد جو بھی رات کی نفل نماز پڑھی جائے وہ تہجد ہے، چاہے نیند نہ آئی ہو۔ البتہ عشاء کے فوراً بعد پڑھنا تہجد نہیں بلکہ قیام اللیل ہے۔ فضیلت نیند توڑ کر اٹھنے میں زیادہ ہے کیونکہ اس میں نفس پر مجاہدہ ہے۔

تہجد، قیام اللیل، تراویح اور وتر میں کیا فرق ہے؟

قیام اللیل ایک عام اصطلاح ہے، یعنی رات کو نماز کے ساتھ کھڑے رہنا۔ تہجد اس کا وہ مخصوص حصہ ہے جو سونے کے بعد یا آدھی رات کے بعد ادا ہو۔ تراویح رمضان میں عشاء کے بعد جماعت سے پڑھی جانے والی نماز ہے۔ وتر رات کی تمام نمازوں کا اختتامیہ ہے، طاق تعداد میں، آخر میں ایک بار (بخاری 1137)۔

کیا تہجد جماعت سے پڑھی جا سکتی ہے؟

تہجد بنیادی طور پر انفرادی نماز ہے، نبی ﷺ اسے گھر میں تنہا پڑھتے تھے۔ کبھی کبھار گھر والوں یا دوستوں کے ساتھ پڑھنا جائز ہے، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ پڑھی (بخاری 1117)۔ لیکن اسے مستقل جماعت نہیں بنانا چاہیے، یہ تراویح نہیں ہے۔