اہم نکات:
• نیند ایک چھوٹی موت ہے, سورہ زمر: ٤٢
• آیت الکرسی: سوتے وقت شیطان سے حفاظت, بخاری ٣٢٧٥
• دائیں کروٹ پر سونا سنت, بخاری ٢٤٧
• وضو کے ساتھ سونا مستحب, ابو داود ٥٠٤٢
رات کا وقت ہر مسلمان کے لیے ایک نئے موقع کا آغاز ہے, بشرطیکہ وہ سوتے اور جاگتے وقت وہ سنت اذکار ادا کرے جو نبی کریم ﷺ نے خود پڑھے اور اپنے صحابہ کو سکھائے۔ یہ دعائیں صرف الفاظ نہیں، بلکہ یہ ایک سوئے ہوئے مومن اور اس کے رب کے درمیان رات بھر قائم رہنے والا تعلق ہے۔
اسلام میں نیند کا مقام
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نیند کو ایک خاص شان کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سورہ زمر کی آیت ٤٢ میں ارشاد ہوتا ہے:
اَللَّهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰى إِلٰى أَجَلٍ مُّسَمًّى
ترجمہ: "اللہ روحیں قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت، اور جو ابھی مری نہیں ان کی نیند کے وقت۔ پھر جن پر موت کا فیصلہ کر دیا ہو انھیں روکے رکھتا ہے اور باقی کو ایک مقررہ مدت تک کے لیے لوٹا دیتا ہے۔" (سورہ زمر: ٤٢)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہر رات ہماری روح ایک مختصر وفات کی حالت سے گزرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے صبح واپس لوٹا دیتا ہے، اور جس پر موت کا فیصلہ ہو، اسے روک لیتا ہے۔ یہ احساس ہی نیند کو ایک لمحۂ فکریہ بنا دیتا ہے, اور یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے سونے سے پہلے اور جاگنے پر خاص دعائیں تعلیم فرمائیں۔
جب ہم ان دعاؤں کے ساتھ سوتے ہیں تو ہماری نیند محض آرام کا وقفہ نہیں رہتی بلکہ ایک مستمر عبادت بن جاتی ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جب مومن حسنِ نیت کے ساتھ بستر پر لیٹتا ہے تو اُسے رات بھر کا اجر ملتا رہتا ہے۔
سونے سے پہلے کی دعائیں
نبی کریم ﷺ نے سونے سے پہلے کئی اذکار کا اہتمام کیا۔ ان سب کو ملا کر ادا کرنا افضل ہے، لیکن جو بھی یاد ہو اس سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ سب کا معمول بنائیں۔
پہلی دعا: بسم اللہ کے ساتھ سونا
بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا
ترجمہ: "اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں۔"
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب رات کو سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ کر یہ کلمات پڑھتے۔ (صحیح بخاری ٦٣١٢) یہ مختصر الفاظ سونے کی نیت کو اللہ کی یاد سے جوڑ دیتے ہیں۔
دوسری دعا: آیت الکرسی
اَللّٰهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُۥ مَا فِى السَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَٰوَٰتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُۥ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: "اللہ, اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ہمیشہ زندہ، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس سفارش کرے بغیر اس کی اجازت کے؟ وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ وہ اس کے علم میں سے کچھ نہیں پا سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔ وہ بلند، بزرگ ہے۔"
صحیح بخاری ٣٢٧٥ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں آتا ہے کہ شیطان نے خود اقرار کیا کہ جو شخص سوتے وقت آیت الکرسی پڑھ لے، اس پر اللہ کی طرف سے ایک نگہبان مقرر ہو جاتا ہے اور شیطان صبح تک اس کے قریب نہیں آ سکتا۔ نبی ﷺ نے اسے صحیح قرار دیا۔ یہ ایک آیت کتنی بڑی حفاظت ہے!
تیسری دعا: تین سورتیں، تین بار
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ ہر رات سوتے وقت اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان میں سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھتے اور پھونکتے، پھر پورے بدن پر جہاں تک ممکن ہو ہاتھ پھیرتے۔ یہ عمل تین بار کرتے۔ (صحیح بخاری ٥٠١٧)
ان تینوں سورتوں کو مجموعی طور پر "معوذات" کہا جاتا ہے۔ سورہ اخلاص توحید کا خلاصہ ہے، اور سورہ فلق و ناس ہر قسم کے ظاہری اور باطنی شر سے پناہ مانگنے کی دعا ہیں۔ یہ تینوں مل کر ایک مکمل روحانی حصار ہیں۔
چوتھی دعا: سورہ بقرہ کی آخری دو آیات
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِۦ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِاللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِۦ ۚ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ۔ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَٰفِرِينَ
نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھیں، وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔" (صحیح بخاری ٥٠١٠) علماء نے فرمایا کہ "کافی ہوں گی" کا مطلب ہے کہ یہ آیات ہر شر، ہر رات کی تکلیف، اور ہر وسوسے سے بچائیں گی۔
پانچویں دعا: تسبیح فاطمی
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کام کاج کی تھکاوٹ کی شکایت لے کر نبی ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے خادمہ مانگنے کی بجائے یہ تسبیح تعلیم فرمائی: سوتے وقت ٣٣ بار سبحان اللہ، ٣٣ بار الحمد للہ، اور ٣٤ بار اللہ اکبر پڑھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمھارے لیے خادمہ سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری ٣١١٣) یہ تسبیح تھکے ہوئے بدن کو روحانی طاقت بخشتی ہے اور نیند کو پرسکون بناتی ہے۔
سونے کے آداب
سنتِ نبوی میں صرف دعائیں نہیں، بلکہ سونے کا ایک مکمل آداب بھی ہے جسے اپنانا روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے فائدہ مند ہے۔
سب سے پہلی سنت دائیں کروٹ پر سونا ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو نماز کی طرح وضو کرو، پھر دائیں کروٹ لیٹو۔" (صحیح بخاری ٢٤٧) دائیں کروٹ پر سونے میں یہ حکمت بھی ہے کہ اس طرح دل پر دباؤ کم ہوتا ہے اور نیند زیادہ گہری اور پرسکون ہوتی ہے۔
وضو کے ساتھ سونا بھی مستحب ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تم بستر پر آؤ تو نماز کی طرح وضو کرو۔" (ابو داود ٥٠٤٢) اس کی حکمت یہ ہے کہ اگر نیند میں روح قبض ہو جائے تو بندہ پاک حالت میں ہو، اور اگر صبح جاگے تو وضو کی حالت میں فجر کے لیے تیار ہو۔
بستر کو صاف کرنا بھی سنت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بستر پر لیٹنے سے پہلے اسے تین بار جھاڑو، کیونکہ تمھیں نہیں معلوم کہ بعد میں اس میں کیا آ گیا ہے۔ (صحیح بخاری ٦٣٢٠) یہ صفائی کی اسلامی تعلیم کا ایک عملی مظہر ہے۔
کھانے کے فوراً بعد نہ سونا بھی حکمت کی بات ہے جسے علماء اور طبیب دونوں نے درست قرار دیا ہے۔ ہضم کا عمل مکمل ہونے دیں، کچھ چلیں یا بیٹھ کر ذکر کریں، پھر بستر پر جائیں۔
روشنی بجھانا اور آگ بند کرنا بھی نبوی تعلیم ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ رات کو چراغ بجھا کر سوؤ۔ (صحیح بخاری ٦٢٩٤) آج کے دور میں یہ موبائل اور دیگر الیکٹرانک آلات کو بند یا الگ رکھنے پر بھی لاگو ہوتا ہے تاکہ نیند میں خلل نہ آئے۔
جاگنے کی دعا
جس طرح سوتے وقت اللہ کا نام لیا، اسی طرح جاگتے وقت اللہ کا شکر ادا کرنا سنت ہے۔ نیند کی چھوٹی موت سے واپسی کا پہلا جملہ شکرِ الٰہی ہونا چاہیے۔
جاگنے کی پہلی دعا
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
ترجمہ: "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندہ کیا، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔"
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب رات کو جاگتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (صحیح بخاری ٦٣١٢) آنکھ کھلتے ہی یہ الفاظ زبان پر جاری ہوں تو پوری صبح ایک شکر گزار دل کے ساتھ گزرتی ہے۔
رات میں جاگنے پر خصوصی دعا
اگر رات میں بیچ میں آنکھ کھل جائے تو نبی ﷺ نے ایک خاص ذکر تعلیم فرمایا:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ: "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اکیلا، کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے، اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پاک ہے اللہ، تعریف اللہ کے لیے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور کوئی طاقت اور قوت نہیں مگر اللہ کی طرف سے۔"
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو رات میں جاگ کر یہ کلمات پڑھے، پھر استغفار کرے اور دعا مانگے، تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ (سنن ترمذی ٣٤١٣) رات کا یہ لمحہ دعا قبولیت کا ایک خاص وقت ہے, اسے ضائع نہ کریں۔
برے خواب سے بچاؤ
کبھی کبھی نیند میں ڈراؤنے یا پریشان کن خواب آتے ہیں۔ اسلام نے اس کے لیے بھی مکمل رہنمائی دی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے۔ (صحیح مسلم ٢٢٦١)
برا خواب آنے پر تین کام کرنے چاہئیں: پہلا، فوری طور پر "اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" پڑھیں اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگیں۔ دوسرا، بائیں طرف ہلکا سا تھوکیں, یہ عمل برے خواب کو رد کرنے کی علامت ہے۔ تیسرا، اگر ممکن ہو تو کروٹ بدل لیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ برے خواب کو کسی کو نہ بتائیں, نہ دوست کو، نہ گھر والوں کو۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ برا خواب بتانے سے نقصان نہیں ہوتا اگر اسے نہ بتاؤ۔ (صحیح مسلم ٢٢٦١) اس پر پریشان نہ ہوں، اللہ پر توکل رکھیں اور اگلی رات سونے سے پہلے کے اذکار مکمل طور پر ادا کریں۔
اگر آپ مسلسل برے خواب آنے سے پریشان ہیں تو سونے سے پہلے آیت الکرسی اور معوذات کا خاص اہتمام کریں، کیونکہ یہی سب سے بڑی روحانی ڈھال ہے۔
روحانی فوائد اور FivePrayer
سونے اور جاگنے کی یہ دعائیں اس وقت سب سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں جب یہ ایک مستقل معمول بن جائیں۔ مستقل مزاجی کا آغاز ہوتا ہے نمازوں کی پابندی سے۔ جب فجر کی اذان بجتے ہی آنکھ کھلے اور صبح کے اذکار پابندی سے ادا ہوں، تو نیند کا پورا چکر, رات کی دعاؤں سے صبح کے اذکار تک, ایک مکمل عبادت بن جاتا ہے۔
FivePrayer اذان کے بالکل وقت پر آگاہ کرتا ہے, بغیر کسی اشتہار کے، بغیر اکاؤنٹ بنائے۔ فجر کی اذان پر جاگنے کی یہ عادت نہ صرف نماز کی پابندی کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ جاگنے کی دعا اور صبح کے اذکار بھی بروقت ادا ہوتے ہیں۔ ایپ میں قبلہ کمپاس اور نماز کے اوقات بھی شامل ہیں تاکہ پوری عبادت آسان ہو۔
عام سوالات
کیا آیت الکرسی زبانی یاد ہونی چاہیے یا قرآن سے پڑھ سکتے ہیں؟
قرآن سے پڑھنا بالکل جائز ہے اور اس کی فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم زبانی یاد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ بستر پر لیٹے لیٹے آنکھیں بند کر کے بھی آسانی سے پڑھ سکیں۔ سونے سے پہلے قرآن اٹھانا ضروری نہیں, یاد ہو تو دل سے پڑھیں، ورنہ قرآن سے پڑھ لیں۔
رات میں ڈراؤنے خواب آئیں تو کیا کریں؟
صحیح مسلم ٢٢٦١ کی روایت کے مطابق تین کام کریں: اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھیں اور برے خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگیں، بائیں طرف ہلکا تھوکیں، اور کروٹ بدل لیں۔ اس خواب کو کسی کو نہ بتائیں, یہ نقصان نہیں دے گا۔ اگلی رات سونے سے پہلے آیت الکرسی اور معوذات کا خاص اہتمام کریں۔
کیا بغیر دعا کے سو سکتے ہیں؟
نیند بغیر دعا کے بھی جائز ہے، لیکن ان اذکار کو چھوڑنا محرومی ہے۔ نبی ﷺ نے ان کی تعلیم اس لیے دی کہ مومن سوتے میں بھی اللہ کی حفاظت میں رہے اور رات کا وقت بھی ثواب میں شامل ہو۔ اگر کبھی بھول جائیں تو اگلی رات سے دوبارہ معمول بنائیں۔
سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھنے کی کیا فضیلت ہے؟
نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھیں، وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔" (صحیح بخاری ٥٠١٠) علماء نے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ یہ آیات ہر شر اور رات کی تکلیف سے محفوظ رکھیں گی۔ یہ دو آیات ایمان کا خلاصہ بھی ہیں اور حفاظت کا ذریعہ بھی۔
دائیں کروٹ پر سونا کیوں سنت ہے؟
نبی ﷺ نے خود دائیں کروٹ پر سونے کا اہتمام کیا (صحیح بخاری ٢٤٧) اور فرمایا کہ دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھو۔ طبی نقطہ نظر سے بھی دائیں کروٹ دل پر دباؤ کم کرتی ہے اور نیند کو پرسکون بناتی ہے۔ اسلام میں ہر خیر کے کام کا آغاز دائیں جانب سے کرنا عام طور پر مستحب ہے, یہ اسی اصول کی ایک مثال ہے۔
FivePrayer: فجر کی اذان پر جاگیں، صبح کے اذکار بروقت ادا کریں۔
اذان پر فون کا الرٹ، قبلہ کمپاس، اور نماز کے اوقات, مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔