اہم نکات:
• رکعات: دو رکعت نفل
• وقت: کوئی بھی جائز وقت (تین ممنوع اوقات کے علاوہ)
• دعا: نماز کے بعد، نہ کہ دورانِ نماز
• دلیل: صحیح بخاری 1166، ابو داود 1538
• نتیجہ: دل کا میلان، راستے کی آسانی، رکاوٹوں کا ہٹنا, ضروری نہیں کہ خواب آئے
استخارہ (عربی: الِاسْتِخَارَۃ) کا لغوی مطلب ہے "بھلائی طلب کرنا"۔ شرعی اصطلاح میں استخارہ وہ دو رکعت نفل نماز ہے جس کے بعد ایک مخصوص دعا پڑھ کر بندہ اللہ تعالیٰ سے اپنے معاملے میں رہنمائی اور خیر کی درخواست کرتا ہے۔ یہ نبی ﷺ کی واضح سنت ہے، اور ہر مسلمان کو اپنے فیصلوں سے قبل اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
استخارہ کیا ہے؟
استخارہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک گہرا مکالمہ ہے۔ جب کسی معاملے میں دل میں الجھن ہو، یا یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی فیصلہ ہمارے لیے بہتر ہے یا نقصان دہ، تو ہم اپنے علم کی محدودیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے بدلے اللہ کے علمِ کامل سے بھلائی مانگتے ہیں۔
یہ کوئی "غیب کی خبر" نہیں ہے، نہ یہ خواب دیکھنے کا ذریعہ ہے، اور نہ ہی یہ علمِ نجوم جیسا فال نکالنا ہے۔ یہ خالص ایک دعا اور توکل ہے, ہم اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر یہ کام ہمارے دین، دنیا اور آخرت کے لیے بہتر ہے تو اسے ہمارے لیے میسر کر دے، اور اگر نقصان دہ ہے تو ہم سے دور کر دے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ یوں سکھاتے تھے، جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے ہیں۔ آپ ﷺ فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی معاملے کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے..." (صحیح بخاری 1166)
یہ حدیث چھ بڑے ذخائر میں موجود ہے, صحیح بخاری (1166، 6382، 7390)، سنن ابو داود (1538)، سنن ترمذی (480)، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ, اور اس کی صحت پر اہل علم کا اجماع ہے۔
کب استخارہ کرنا چاہیے
استخارہ ہر اُس معاملے میں مسنون ہے جو مباح ہو، یعنی شرعاً نہ تو فرض ہو اور نہ ہی حرام۔ نبی ﷺ نے فرمایا "ہر معاملے میں", اس سے ظاہر ہے کہ یہ صرف بڑے فیصلوں کے لیے نہیں۔
- نکاح: رشتہ قبول کرنا یا انکار کرنا۔
- ملازمت: نوکری قبول کرنا، چھوڑنا، یا نئی نوکری ڈھونڈنا۔
- سفر: طویل سفر، ہجرت، تعلیم یا حج کے لیے روانگی۔
- تجارت: کاروبار شروع کرنا، شراکت کرنا، یا سرمایہ کاری کا فیصلہ۔
- گھر/جائیداد: مکان خریدنا، بیچنا، یا کرایہ پر لینا۔
- تعلیم: یونیورسٹی، شعبہ، یا کسی کورس کا انتخاب۔
جو معاملات شرعاً واضح ہیں, یعنی جو فرض ہیں یا جن کا کرنا واجب ہے، یا جو حرام ہیں اور جن سے رکنا ضروری ہے, ان میں استخارہ نہیں کیا جاتا، کیونکہ ان میں اللہ نے پہلے سے ہی فیصلہ فرما دیا ہے۔ مثلاً: نماز پڑھنے میں استخارہ نہیں، شراب پینے میں بھی نہیں۔
دو رکعت نماز کا طریقہ
استخارہ کی نماز عام دو رکعت نفل کی طرح ہے۔ کوئی خاص ہیئت یا تبدیلی نہیں۔
- وضو: اگر وضو نہیں تو تازہ وضو کریں۔ صاف کپڑے اور پاک جگہ مستحب ہے۔
- نیت: دل میں اُس معاملے کا تصور رکھیں جس کے لیے رہنمائی چاہیے۔ پھر دو رکعت نفل استخارہ کی نیت کریں۔
- تکبیر تحریمہ: "اللہ اکبر" کہہ کر ہاتھ باندھیں۔
- ثناء، تعوذ، تسمیہ پڑھیں۔
- پہلی رکعت: سورہ فاتحہ کے بعد سورہ کافرون (یا کوئی بھی سورت) پڑھیں۔ پھر معمول کے مطابق رکوع اور دو سجدے۔
- دوسری رکعت: سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص (یا کوئی بھی سورت) پڑھیں۔ پھر رکوع، دو سجدے، التحیات اور درود۔
- سلام پھیر کر نماز مکمل کریں۔
- نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر مکمل استخارہ کی دعا پڑھیں۔
مکمل استخارہ کی دعا
دعا کا متن صحیح بخاری 1166 سے ماخوذ ہے۔ پڑھتے وقت لفظ "ھٰذَا الْاَمْر" کی جگہ اپنے معاملے کا واضح ذکر کریں, مثلاً "اس فلاں سے نکاح" یا "فلاں ادارے میں ملازمت"۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔
اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ (یا فرمائیں: عَاجِلِہٖ وَاٰجِلِہٖ) فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ۔
وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ (یا: عَاجِلِہٖ وَاٰجِلِہٖ) فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ۔
ترجمہ کاری (transliteration):
Allahumma inni astakhiruka bi'ilmik, wa astaqdiruka bi-qudratik, wa as'aluka min fadlikal-'azim. Fa-innaka taqdiru wa la aqdir, wa ta'lamu wa la a'lam, wa Anta 'allamul-ghuyub.
Allahumma in kunta ta'lamu anna hadhal-amra (یہاں اپنا معاملہ ذکر کریں) khayrun li fi dini wa ma'ashi wa 'aqibati amri faqdurhu li wa yassirhu li thumma barik li fih.
Wa in kunta ta'lamu anna hadhal-amra sharrun li fi dini wa ma'ashi wa 'aqibati amri fasrifhu 'anni wasrifni 'anhu, waqdur liyal-khayra haythu kana thumma ardini bih.
اردو ترجمہ:
اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے بھلائی طلب کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے قدرت مانگتا ہوں، اور تیرے فضلِ عظیم سے سوال کرتا ہوں۔ بے شک تو قادر ہے، میں قادر نہیں۔ تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا، اور تو غیب کا جاننے والا ہے۔
اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ (اپنا کام ذکر کریں) میرے دین، میری معاش، اور میرے انجامِ کار کے لیے بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے، میرے لیے آسان کر دے، اور پھر اس میں میرے لیے برکت ڈال دے۔
اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ میرے دین، میری معاش، اور میرے انجامِ کار کے لیے نقصان دہ ہے، تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے، اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے، جہاں بھی ہو، اور پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔
دعا کے بعد: نتیجہ کیسے سمجھیں؟
یہ سب سے اہم اور سب سے زیادہ غلط فہمی والا حصہ ہے۔ علماء نے واضح کیا ہے کہ استخارہ کے بعد عمل میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ اپنا کام آغاز کریں، تدبیر کریں، اور جو حالات سامنے آئیں اُن کی روشنی میں آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں۔
استخارہ کا جواب ان میں سے کسی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے:
- دل کا میلان: دعا کے بعد دل میں ایک طرف واضح رغبت یا اطمینان محسوس ہونا۔
- راستے کی آسانی: کام میں رکاوٹیں خود بخود ہٹنا، دروازے کھلنا۔
- راستے کی دشواری: رکاوٹیں آنا، حالات کا الٹ ہو جانا, یہ بھی اللہ کا ایک فیصلہ ہے۔
- اطمینان: ابتدائی الجھن کا دور ہونا، فکر کا ہلکا ہونا۔
اگر استخارہ کے بعد فیصلہ کر کے بھی نتیجہ بظاہر ناخوش گوار نکلے، تو یہ یقین رکھیں کہ اللہ نے آپ کے لیے یہی بہتر سمجھا۔ دعا کے آخری حصے میں "ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ" (پھر مجھے اس پر راضی کر دے) سے یہی مراد ہے, کہ جو بھی فیصلہ ہو، اللہ بندے کو اُس پر دل سے راضی کر دے گا۔
عام غلط فہمیاں
| غلط فہمی | درست بات |
|---|---|
| "استخارہ خواب دیکھنے کے لیے ہے۔" | خواب استخارہ کا حصہ نہیں۔ نبی ﷺ کی حدیث میں خواب کا کوئی ذکر نہیں۔ |
| "استخارہ کسی عامل یا پیر سے کرواؤ۔" | استخارہ ذاتی عبادت ہے۔ دوسروں سے استخارہ کرانا ثابت نہیں۔ |
| "رنگوں سے فیصلہ ہوتا ہے, سفید ہاں، سیاہ نہ۔" | یہ سب من گھڑت ہے۔ سنت میں ایسا کچھ نہیں۔ |
| "استخارہ صرف نکاح کے لیے ہے۔" | ہر مباح معاملے میں استخارہ مسنون ہے, چھوٹا ہو یا بڑا۔ |
| "ایک بار استخارہ کیا تو دوبارہ نہیں ہو سکتا۔" | اگر اطمینان نہ ہو تو دہرایا جا سکتا ہے۔ بعض روایات میں سات بار تک ذکر ہے۔ |
عام سوالات
استخارہ کے لیے بہترین وقت کونسا ہے؟
کوئی بھی جائز وقت, جس میں نفل نماز پڑھنا منع نہ ہو۔ تین ممنوع اوقات سے بچیں: (1) طلوعِ آفتاب کے فوراً بعد، (2) دوپہر کے استوا پر، (3) غروبِ آفتاب کے فوراً قبل۔ تہجد کا وقت (رات کا آخری حصہ) سب سے افضل ہے، لیکن دن میں بھی کسی جائز وقت میں ادا کی جا سکتی ہے۔
استخارہ کا جواب کیسے ملتا ہے؟
استخارہ کا نتیجہ اکثر دل کا میلان، راستے میں آسانی، یا رکاوٹوں کا ہٹنا ہے۔ نبی ﷺ کی حدیث میں خواب کا کوئی ذکر نہیں۔ کام شروع کرنے کے بعد جو حالت پیش آئے، اُسے اللہ کا فیصلہ سمجھیں۔
کیا استخارہ ایک سے زیادہ بار کیا جا سکتا ہے؟
جی ہاں۔ اگر دل میں واضح اطمینان نہ ہو، تو دوبارہ یا سہ بارہ کر سکتے ہیں۔ بعض روایات میں سات بار تک کا ذکر ہے۔ علماء نے فرمایا کہ جب تک قلب کو سکون نہ ملے، استخارہ دہرایا جا سکتا ہے۔
کیا استخارہ کے بعد خواب آنا ضروری ہے؟
نہیں۔ خواب استخارہ کا حصہ نہیں ہے۔ اگر کوئی واضح اور پاکیزہ خواب آ جائے تو ٹھیک ہے، لیکن نتیجہ خواب پر منحصر نہیں۔ زیادہ تر علماء نے دل کے میلان اور حالات کی سہولت کو ہی استخارہ کا جواب کہا ہے۔
کیا میرا استخارہ کوئی اور کر سکتا ہے؟
استخارہ ذاتی عبادت ہے, خود ہی کرنا چاہیے۔ کسی دوسرے سے استخارہ کرانا نبی ﷺ کی سنت سے ثابت نہیں۔ البتہ مشورہ لینا یا کسی صالح سے دعا کا کہنا الگ بات ہے۔
کیا حیض والی عورت استخارہ کر سکتی ہے؟
حیض کی حالت میں نماز ممنوع ہے، لہٰذا دو رکعت ادا نہیں ہو سکتیں۔ تاہم وہ ہاتھ اٹھا کر استخارہ کی دعا پڑھ سکتی ہیں، یا پاکی کے بعد مکمل استخارہ کر سکتی ہیں۔ اگر معاملہ فوری ہو تو صرف دعا بھی کافی ہے۔
FivePrayer: نفل اور سنت نمازوں کی خاموش یاد دہانی۔
اذان پر فون لاک، تہجد کا ٹائم ٹیبل، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔