اہم نکات:

صبح کا وقت: فجر سے طلوع آفتاب تک
شام کا وقت: عصر سے مغرب تک
درکار وقت: ١٠ سے ١٥ منٹ
دلیل: سورہ احزاب: ٤١–٤٢

صبح و شام کے اذکار (عربی: أَذْكَارُ الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ) وہ مخصوص دعائیں اور تسبیحات ہیں جو نبی ﷺ ہر روز فجر کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد پڑھتے تھے۔ یہ اذکار صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں, یہ ایک مومن کا اپنے رب سے روزانہ کا تجدیدِ تعلق ہے، جو دن کو برکت سے بھر دیتا ہے اور رات کو اللہ کی حفاظت میں گزارتا ہے۔

صبح و شام کے اذکار کی اہمیت

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں براہِ راست حکم دیا کہ مومنین کثرت سے ذکر کریں، صبح و شام اور ہمیشہ۔ یہ وہ حکم ہے جو نبیوں، رسولوں اور صالحین کا مشترک شعار رہا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ۝ وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
(سورہ الأحزاب: ٤١–٤٢)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کو بکثرت یاد کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔

یہ آیت کریمہ صبح و شام کے اذکار کی اصل بنیاد ہے۔ لفظ بُكْرَةً (بُکرہ) سے مراد صبح کا وقت ہے اور أَصِيلًا (اَصِیل) سے مراد شام کا وقت۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس آیت کی روشنی میں صبح و شام کے اذکار کا اہتمام تمام نیکیوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے، کیونکہ یہ خود اللہ کا حکم ہے، نہ صرف سنت۔

نبی ﷺ نے ان اذکار کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص صبح یہ اذکار پڑھے، وہ دن کی آفات سے محفوظ رہتا ہے، اور جو شام کو پڑھے، وہ رات کی تکالیف سے بچا رہتا ہے۔ روحانی طور پر یہ اذکار دل میں سکون، زبان میں برکت، اور سینے میں نور پیدا کرتے ہیں۔ جو شخص ان کا مستقل معمول بنا لے، اسے ایسی طمانیت حاصل ہوتی ہے جو دنیا کی کوئی دولت نہیں دے سکتی۔

صبح کے اذکار (فجر کے بعد)

صبح کے اذکار فجر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک پڑھنے چاہئیں۔ یہ دن کی بہترین شروعات ہے, جب دنیا کی مصروفیات ابھی شروع نہیں ہوئیں اور دل خالص اللہ کی طرف متوجہ ہے۔

١. صبح کے آغاز کا ذکر

أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ۔

ترجمہ: ہم نے صبح کی اور تمام سلطنت اللہ کی ہے، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی سلطنت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے اس دن کی اور اس کے بعد کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس دن کی اور اس کے بعد کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (١ بار)

٢. صبح و شام کی نسبت کا ذکر

اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ۔

ترجمہ: اے اللہ! تیرے نام سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی نام سے ہم نے شام کی، تیرے ہی نام سے ہم جیتے ہیں اور تیرے ہی نام سے مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف اٹھنا ہے۔ (١ بار, ابو داود 5068)

٣. سید الاستغفار

یہ استغفار کا سردار ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو یہ صبح کو یقین کے ساتھ پڑھے اور اسی دن شام سے قبل وفات پائے، وہ جنتی ہے۔ (صحیح بخاری 6306)

اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔

ترجمہ: اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت بھر تیرے عہد و وعدہ پر قائم ہوں۔ میں نے جو برائیاں کی ہیں ان سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی۔ مجھے معاف کر دے کیونکہ گناہ معاف کرنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ (١ بار, بخاری ٦٣٠٦)

٤. توحید و درود کا ذکر

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔

ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی سلطنت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: جو صبح یہ کلمات دس بار پڑھے، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس گناہ مٹائے جاتے ہیں، دس درجات بلند کیے جاتے ہیں، اور وہ شیطان سے شام تک محفوظ رہتا ہے۔ (صبح میں ١٠ بار, ابو داود ٥٠٧٧)

٥. سورہ اخلاص، فلق اور ناس

نبی ﷺ صبح اور شام یہ تینوں سورتیں تین تین بار پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ ہر چیز کے لیے کافی ہیں۔ (ابو داود 5082)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۝ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۝ اللَّهُ الصَّمَدُ ۝ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۝ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۝ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۝ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ۝ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ۝ وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ۝ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۝ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۝ مَلِكِ النَّاسِ ۝ إِلَهِ النَّاسِ ۝ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۝ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ۝ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ

(ہر ایک ٣ بار)

٦. آیت الکرسی

جو شخص صبح آیت الکرسی پڑھے، اسے شام تک اللہ کی حفاظت میں رکھا جاتا ہے۔ (نسائی، صحیح سلسلہ)

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

(١ بار, البقرہ: ٢٥٥)

٧. بسم اللہ کی پناہ

بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔

ترجمہ: اللہ کے نام سے، جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سنتا جانتا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: جو بندہ صبح و شام یہ تین بار پڑھے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ (٣ بار, ترمذی ٣٣٨٨)

شام کے اذکار (عصر کے بعد)

شام کے اذکار عصر کی نماز کے بعد مغرب سے پہلے پڑھنے چاہئیں۔ یہ وہ وقت ہے جب دن کی مصروفیات سمیٹی جاتی ہیں اور رات کی حفاظت مانگی جاتی ہے۔ شام کے اذکار میں الفاظ وہی ہوتے ہیں جو صبح کے ہیں، البتہ چند الفاظ میں فرق آتا ہے:

١. شام کے آغاز کا ذکر

أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا۔

ترجمہ: ہم نے شام کی اور تمام سلطنت اللہ کی ہے، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی سلطنت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے اس رات کی اور اس کے بعد کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس رات کی اور اس کے بعد کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (١ بار)

٢. شام کی نسبت کا ذکر

اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ۔

ترجمہ: اے اللہ! تیرے نام سے ہم نے شام کی اور تیرے ہی نام سے صبح کی، تیرے ہی نام سے ہم جیتے ہیں اور تیرے ہی نام سے مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ (١ بار)

صبح کے ذکر میں "وَإِلَيْكَ النُّشُورُ" (اور تیری ہی طرف اٹھنا ہے) آتا ہے، جبکہ شام کے ذکر میں "وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ" (اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے) آتا ہے۔ یہ باریک فرق بتاتا ہے کہ صبح آخرت کے اٹھنے کی طرف اشارہ ہے اور شام ہر رات کی موت (نیند) کی طرف واپسی کا ذکر۔

٣. شام کا سید الاستغفار

صبح کا سید الاستغفار جوں کا توں شام کو بھی پڑھا جاتا ہے، البتہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شام کو یہ یقین کے ساتھ پڑھے اور اسی رات صبح ہونے سے پہلے وفات پائے، وہ جنتی ہے۔ (صحیح بخاری 6307) یہ وہی دعا ہے جو اوپر درج ہے, "اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ..." (١ بار)

٤. شام کا توحید کا ذکر

وہی کلمہ توحید جو صبح دس بار پڑھا، شام کو بھی دس بار پڑھا جائے۔ ابو داود 5077 میں صبح و شام دونوں کا ذکر ہے اور فضیلت یکساں ہے۔ (١٠ بار)

٥. شام کی پناہ کا ذکر

وہی تینوں سورتیں (اخلاص، فلق، ناس) اور آیت الکرسی اور بسم اللہ والی دعا شام کو بھی اسی طرح پڑھی جاتی ہے۔ شام کو آیت الکرسی پڑھنے والا صبح تک اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے۔

ہر ذکر کی فضیلت

اذکار کے فضائل کتب حدیث میں اس قدر تفصیل سے آئے ہیں کہ ان سب کا احاطہ ایک مضمون میں ممکن نہیں۔ تاہم چند اہم ترین فضائل یہ ہیں:

سید الاستغفار: امام بخاری نے اسے اذکارِ صباح و مساء کے باب میں اس لیے رکھا کہ یہ گناہوں کی معافی کا سب سے جامع ذریعہ ہے۔ اس میں توحید، عبودیت، اعتراف، اور استغفار چاروں پہلو موجود ہیں۔

آیت الکرسی: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو صبح آیت الکرسی پڑھے، اس پر شام تک اللہ کا ایک محافظ مقرر رہتا ہے، اور جو شام کو پڑھے اس پر صبح تک۔ (نسائی، مستدرک حاکم) یہ آیت قرآن کی عظیم ترین آیت ہے کیونکہ اس میں اللہ کی صفاتِ کمالیہ کا جامع بیان ہے۔

معوذتین کے ساتھ سورہ اخلاص: امام ترمذی کی روایت میں ہے کہ یہ تینوں سورتیں ہر چیز کے لیے کافی ہیں, یعنی جسمانی حفاظت، روحانی تطہیر، اور دنیوی و دینی بھلائی سب میں۔

بسم اللہ والی دعا: ترمذی 3388 میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو بندہ یہ تین بار پڑھے، اسے صبح تک کوئی اچانک مصیبت نہیں پہنچتی اور جو شام کو پڑھے اسے صبح تک, یہ اللہ کا وعدہ ہے۔

کلمہ توحید دس بار: ابو داود 5077 میں آتا ہے کہ یہ دس کلمات دس غلام آزاد کرنے، دس نیکیاں لکھنے، دس گناہ مٹانے، اور دس درجے بلند کرنے کے برابر ہیں۔ یعنی روزانہ صبح شام بیس بار پڑھنے سے ہر روز یہ ثواب ملتا ہے۔

علماء نے لکھا ہے کہ صبح و شام کے اذکار کی پابندی والا شخص دن بھر میں گناہوں کی طرف کم مائل ہوتا ہے کیونکہ ذکر دل کو زندہ رکھتا ہے اور غفلت کے پردے ہٹاتا ہے۔ جو شخص یہ اذکار پڑھتا ہے وہ دن کا آغاز اس احساس سے کرتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے، اللہ کی حفاظت میں ہے، اور اللہ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے, یہ احساس ہی اسے نافرمانی سے روکتا ہے۔

پابندی کے ساتھ اذکار پڑھنے کے طریقے

بہت سے مسلمان اذکار کی اہمیت جانتے ہیں، لیکن روزمرہ کی مصروفیات میں یہ معمول ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ اذکار کو نماز کے فوری بعد پڑھنے کا عادت ڈالی جائے, نماز کے بعد اٹھنے سے پہلے ہی یہ اذکار پڑھ لیے جائیں۔

شروع میں مکمل اذکار یاد نہ ہوں تو کچھ اذکار سے شروع کریں, جیسے صرف سید الاستغفار، آیت الکرسی اور بسم اللہ والی دعا, پھر آہستہ آہستہ پورے اذکار یاد کریں۔ ایک چھوٹی سی اذکار کی کتاب جیسے "حصن المسلم" (قلعہ مسلمان) ساتھ رکھنا بھی مددگار ہے۔

فجر اور عصر کی اذان پر FivePrayer کا لطیف یاددہانی نظام آپ کو وقت پر اذکار شروع کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب اذان کی آواز آئے اور فون کی اسکرین پر یاددہانی ظاہر ہو، تو یہ ایک اشارہ ہے کہ نماز کے بعد اذکار کا وقت آ گیا۔ مستقل معمول بننے میں وقت لگتا ہے، لیکن یاددہانی اس راستے کو آسان بناتی ہے۔

ایک اور عملی طریقہ یہ ہے کہ اذکار کی آڈیو ریکارڈنگ سن کر ساتھ پڑھی جائے, اس سے تلفظ درست ہوتا ہے اور توجہ مرکوز رہتی ہے۔ جو لوگ گاڑی میں سفر کرتے ہیں، وہ صبح کے اذکار گھر سے نکلتے وقت بھی پڑھ سکتے ہیں, اگرچہ نماز کے فوری بعد افضل ہے۔

عام سوالات

کیا صبح کے اذکار فرض ہیں؟

نہیں، صبح و شام کے اذکار فرض نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ اور مستحب ہیں۔ تاہم نبی ﷺ نے ان کا اس قدر اہتمام کیا اور اتنے فضائل بیان کیے کہ ان کو ترک کرنا بڑی محرومی ہے۔ یہ اذکار مسلمان کو دن اور رات کی آفات سے حفاظت، اللہ کی رحمت، اور روحانی طمانیت عطا کرتے ہیں۔ جو ان کا معمول بنا لے وہ اپنی زندگی میں واضح سکون اور برکت محسوس کرتا ہے۔

کیا اذکار دل میں پڑھے جا سکتے ہیں؟

جی ہاں، اذکار دل میں یا آہستہ آواز میں پڑھنا جائز ہے۔ تاہم علماء نے فرمایا کہ زبان سے ادا کرنا اور آواز کم از کم خود سنائی دینا افضل ہے، کیونکہ اس سے حضوری اور توجہ زیادہ حاصل ہوتی ہے۔ جو اذکار مخصوص تعداد کے ساتھ ہیں, جیسے دس بار, ان میں ہونٹوں کی حرکت ضروری ہے تاکہ گنتی مکمل ہو اور ذکر مکمل شمار ہو۔

اگر صبح کے اذکار رہ جائیں تو کیا دوپہر میں پڑھے جا سکتے ہیں؟

جی ہاں، اگر صبح کے اذکار وقت پر نہ پڑھے جا سکیں تو بعد میں بھی پڑھنے سے ثواب ملتا ہے، اگرچہ وقت کی پابندی کے ساتھ پڑھنا افضل ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ صبح کے اذکار زوال تک اور شام کے اذکار آدھی رات تک قضا ادا کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن مستقبل میں وقت پر پڑھنے کی کوشش ضروری ہے۔

صبح اور شام کے اذکار میں کیا فرق ہے؟

زیادہ تر اذکار ایک جیسے ہیں، لیکن الفاظ میں فرق ہوتا ہے۔ صبح کے اذکار میں أَصْبَحْنَا (ہم نے صبح کی) آتا ہے جبکہ شام کے اذکار میں أَمْسَيْنَا (ہم نے شام کی)۔ اسی طرح صبح میں وَإِلَيْكَ النُّشُورُ (قیامت کے اٹھنے کی طرف) اور شام میں وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (لوٹنے کی طرف) آتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہر وقت کے اذکار اس وقت کی مناسبت سے اللہ سے سوال کرتے ہیں۔

اذکار مکمل کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

مکمل صبح یا شام کے اذکار اطمینان کے ساتھ پڑھنے میں دس سے پندرہ منٹ کافی ہیں۔ اگر صرف چند اہم اذکار جیسے آیت الکرسی، معوذتین اور سید الاستغفار پڑھیں تو پانچ منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ معمول بنانے کے لیے چھوٹی شروعات کریں, روزانہ تین سے چار اذکار سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ مکمل اذکار کی طرف بڑھیں۔ مستقل معمول ہزار ناغوں سے بہتر ہے۔

اذکار FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: فجر اور عصر کی اذان پر لطیف یاددہانی۔

اذان پر فون لاک، اذکار کی یاددہانی، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome