ایک نظر میں:
• وضو کی فرضیت: سورہ المائدة 5:6
• فرائض وضو: چار: چہرہ، ہاتھ (کہنی تک)، سر کا مسح، پاؤں (ٹخنے تک)
• سنت طریقہ: 12 مرحلے
• وضو کے بعد دعا: صحیح مسلم 234
• ناقضات وضو: قضائے حاجت، ریاح، نیند، بے ہوشی
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لو۔" (سورہ المائدة 5:6)
وضو کی فرضیت
نماز ادا کرنے سے پہلے وضو کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف ارشاد فرمایا:
المائدة 5:6 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ
ترجمہ: "اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہرے دھو لو اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو۔"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جو حدث (بے وضو) ہو، یہاں تک کہ وہ وضو کر لے۔" (صحیح بخاری 135، صحیح مسلم 225)
وضو نہ صرف جسمانی پاکیزگی ہے بلکہ روحانی طہارت کا ذریعہ بھی ہے۔ جب مسلمان نماز کے لیے وضو کرتا ہے تو وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے تیاری کرتا ہے۔ وضو انسان کو ظاہری اور باطنی طور پر نماز کے لیے تیار کرتا ہے۔
فقہاء کرام نے وضو کو تین درجوں میں تقسیم کیا ہے: فرض (جن کے بغیر وضو نہیں ہوتا)، واجب (جن کا ترک گناہ ہے) اور سنت (جن پر عمل سے اجر ملتا ہے)۔ ذیل میں تفصیل آتی ہے۔
وضو کے فرائض
سورہ المائدة آیت 6 میں اللہ تعالیٰ نے چار اعمال بیان فرمائے ہیں جو وضو کے فرائض ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی چھوٹ جائے تو وضو مکمل نہیں ہوتا:
پہلا فرض: چہرہ دھونا
پیشانی کے بالوں کی جڑ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور دائیں کان کی لو سے بائیں کان کی لو تک پورا چہرہ دھونا فرض ہے۔ داڑھی اگر گھنی ہو تو اس کا ظاہری حصہ دھونا کافی ہے، اگر ہلکی ہو تو اس کے نیچے کی جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔
دوسرا فرض: کہنیوں سمیت ہاتھ دھونا
دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت انگلیوں کے سروں تک دھونا فرض ہے۔ "إِلَى الْمَرَافِقِ" میں "إلى" کا مطلب "تک اور سمیت" ہے، اس لیے کہنیاں بھی دھونی ضروری ہیں۔
تیسرا فرض: سر کا مسح
احناف کے نزدیک چوتھائی سر کا مسح فرض ہے۔ شافعیہ کے نزدیک سر کے کسی بھی حصے پر مسح کافی ہے، خواہ ایک بال ہی ہو۔ مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک پورے سر کا مسح واجب ہے۔
چوتھا فرض: ٹخنوں سمیت پاؤں دھونا
دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت پوری طرح دھونا فرض ہے۔ پاؤں کی انگلیوں کے درمیان بھی پانی پہنچانا ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "پاؤں کے خشک حصوں کے لیے جہنم کی آگ ہے۔" (صحیح بخاری 96)
وضو کی نیت
وضو کے لیے دل میں نیت کافی ہے۔ زبان سے نیت کرنا احناف کے نزدیک مستحب اور شافعیہ کے نزدیک واجب ہے۔ نیت یہ ہے: "میں اللہ کی رضا کے لیے طہارت کی نیت سے وضو کرتا ہوں۔"
مکمل 12 قدمی سنت طریقہ
فرائض کے علاوہ نبی ﷺ نے وضو کا ایک مکمل طریقہ سکھایا جس میں سنتیں اور مستحبات شامل ہیں۔ اس مکمل طریقے پر عمل کرنے سے وضو سنت کے مطابق ادا ہوتا ہے اور ثواب بھی زیادہ ملتا ہے:
قدم 1: بسم اللہ پڑھنا
وضو شروع کرتے وقت "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ" پڑھیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس وضو میں اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ وضو نہیں۔" (ابو داود 101، ابن ماجہ 399) احناف کے نزدیک یہ واجب ہے۔
قدم 2: نیت کرنا
دل میں نیت کریں کہ "میں حدث سے طہارت اور نماز کی ادائیگی کے لیے وضو کرتا ہوں۔" نیت عبادت کی روح ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔" (بخاری 1)
قدم 3: دونوں ہاتھ تین بار دھونا
پہلے دائیں ہاتھ کو پھر بائیں ہاتھ کو کلائی تک تین تین بار دھوئیں اور انگلیوں کا خلال کریں۔ یہ وضو سے پہلے ہاتھوں کی صفائی ہے، نہ کہ فرائض میں سے کہنیوں تک ہاتھ دھونا۔
قدم 4: کلی کرنا
منہ میں پانی ڈال کر تین بار خوب اچھی طرح کلی کریں۔ روزے کی حالت میں پانی حلق کے اندر نہ جانے دیں۔ نبی ﷺ ہر بار منہ میں پانی ڈال کر گھماتے اور نکال دیتے تھے (صحیح بخاری 159)۔
قدم 5: ناک میں پانی ڈالنا اور صاف کرنا
تین بار دائیں ہاتھ سے ناک میں پانی ڈالیں اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کریں۔ ناک کی استنشاق (اندر پانی کھینچنا) کرنا سنت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو وضو کرے اسے ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔" (صحیح مسلم 237)
قدم 6: چہرہ تین بار دھونا
دونوں ہاتھوں سے چہرے پر پانی ڈالتے ہوئے تین بار دھوئیں۔ چہرے کا کوئی حصہ خشک نہ رہے۔ کانوں کے سامنے والی رگوں کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی تک اور کان سے کان تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔
قدم 7: کہنیوں سمیت دائیں ہاتھ کو تین بار دھونا
پہلے دائیں ہاتھ کو انگلیوں کے سروں سے کہنی تک تین بار دھوئیں۔ انگلیوں کے درمیان پانی پہنچانا یقینی بنائیں۔ ہاتھ دھوتے وقت پانی بہتا رہنا چاہیے۔
قدم 8: کہنیوں سمیت بائیں ہاتھ کو تین بار دھونا
پھر بائیں ہاتھ کو اسی طرح تین بار دھوئیں۔ نبی ﷺ ہر عمل میں دائیں سے شروع کرتے تھے: "نبی ﷺ کو دائیں طرف سے کام شروع کرنا پسند تھا، وضو میں بھی، جوتا پہننے میں بھی اور ہر کام میں۔" (صحیح بخاری 168)
قدم 9: سر کا مسح کرنا
گیلے ہاتھوں سے ایک بار پورے سر کا مسح کریں۔ پیشانی کے بالوں سے شروع کرکے گدی تک اور پھر واپس آئیں۔ احناف کے نزدیک ایک بار مسح سنت ہے۔
قدم 10: کانوں کا مسح
کانوں کا مسح سنت ہے۔ دونوں شہادت کی انگلیوں کو کانوں کے اندر اور دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے باہر پھیریں۔ کانوں کو سر کا حصہ سمجھا جاتا ہے اس لیے ان کے لیے نئے پانی کی ضرورت نہیں۔
قدم 11: دائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھونا
پہلے دائیں پاؤں کو انگلیوں سے ٹخنے تک تین بار دھوئیں۔ انگلیوں کے درمیان پانی پہنچانے کے لیے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے خلال کریں۔ نبی ﷺ نے خشک ایڑیوں والوں کو دیکھ کر فرمایا: "آگ کی وعید ہے ایڑیوں کے لیے۔" (صحیح بخاری 96)
قدم 12: بائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھونا
اسی طرح بائیں پاؤں کو بھی تین بار دھوئیں۔ اب وضو مکمل ہوا۔ وضو کے بعد آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دعا پڑھیں جو آگے آتی ہے۔
وضو میں ترتیب
احناف کے نزدیک وضو میں ترتیب واجب نہیں بلکہ سنت ہے، البتہ موالات (متواتر دھونا) واجب ہے۔ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک ترتیب فرض ہے۔ بہتر یہی ہے کہ قرآنی ترتیب کے مطابق وضو کیا جائے۔
وضو کے بعد کی دعا
وضو کے بعد آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر یہ دعا پڑھیں:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ
ترجمہ: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل فرما اور مجھے پاک رہنے والوں میں شامل فرما۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر یہ دعا پڑھے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو۔" (صحیح مسلم 234)
ایک اور روایت میں سورہ القدر کی تلاوت کا بھی ذکر ہے: "وضو کے بعد جو شخص تین بار 'سبحانك اللهم وبحمدك' پڑھے، اسے ایک مہر کے ساتھ بند کر دیا جاتا ہے اور قیامت تک نہیں کھلتا۔" (نسائی)
وضو توڑنے والی چیزیں
مندرجہ ذیل امور سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نئے وضو کی ضرورت ہوتی ہے:
قطعی ناقضات وضو (جن پر اتفاق ہے)
- قضائے حاجت: پیشاب، پاخانہ یا ریاح (گیس) کا خارج ہونا۔ قرآن میں ہے: "اگر تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آئے" (المائدة 5:6)۔
- گہری نیند: ایسی نیند جس میں انسان کو خود پر اختیار نہ رہے۔ بیٹھ کر ہلکی اونگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا (ابو داود 202)۔
- بے ہوشی یا مدہوشی: دیوانگی، بیہوشی یا نشہ کی حالت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
مختلف فیہ ناقضات وضو
- خون یا پیپ نکلنا: احناف کے نزدیک بہتا خون وضو توڑتا ہے، شافعیہ اور مالکیہ کے نزدیک نہیں توڑتا۔
- شرم گاہ کو ہاتھ لگانا: شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک عورت کی شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹتا ہے (ترمذی 83)۔ احناف کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔
- مرد عورت کا لمس: شافعیہ کے نزدیک شہوت سے عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹتا ہے (المائدة 5:6 کی تفسیر)۔
- قے آنا: احناف کے نزدیک ایک پیالے کے برابر قے سے وضو ٹوٹتا ہے، جمہور کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔
وضو میں شک
اگر وضو کے ٹوٹنے میں شک ہو تو اصل وضو کا باقی رہنا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو اور محسوس کرے کہ اس کے پیٹ میں کچھ حرکت ہے تو جب تک آواز یا بو نہ آئے وضو مت توڑے۔" (صحیح مسلم 362)
موزوں پر مسح
شریعت نے مسافروں اور دیگر افراد کو پاؤں دھونے کی بجائے موزوں پر مسح کی سہولت دی ہے:
موزوں پر مسح کی شرائط
- موزے وضو کی حالت میں پہنے گئے ہوں۔
- موزے مضبوط ہوں اور پاؤں کو ٹخنوں تک ڈھانپیں۔
- مدت: مقیم کے لیے ایک دن رات (24 گھنٹے)، مسافر کے لیے تین دن رات (72 گھنٹے)۔
موزوں پر مسح کا طریقہ
وضو میں پاؤں دھونے کی بجائے گیلے ہاتھوں سے موزوں کے اوپری حصے پر مسح کریں۔ دائیں ہاتھ سے دائیں موزے پر اور بائیں ہاتھ سے بائیں موزے پر مسح کریں۔ صرف اوپری حصے پر مسح کافی ہے، نیچے کی طرف مسح کرنا بدعت ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "اگر دین عقل سے ہوتا تو موزے کے نیچے مسح کرنا اوپر سے زیادہ موزوں ہوتا۔ میں نے نبی ﷺ کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ہے۔" (ابو داود 162)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ لوگوں نے اسے عجیب سمجھا تو انہوں نے کہا: "نبی ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔" (صحیح مسلم 272) موزوں پر مسح کا ذکر متعدد صحابہ کرام سے ثابت ہے۔
وضو کی فضیلت
وضو کے بے شمار فوائد اور فضائل احادیث میں بیان ہوئے ہیں:
گناہوں کی معافی
نبی ﷺ نے فرمایا: "جب مسلمان بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے آنکھوں سے دیکھے گئے ہر گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کی آخری بوند کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ جب ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں سے کیے گئے ہر گناہ پانی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گناہوں سے پاک ہو کر نکلتا ہے۔" (صحیح مسلم 244)
نور اور درجات کی بلندی
نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن میری امت بھی چمکتی ہوئی آئے گی وضو کے نشانات سے۔ تم میں سے جو اپنی چمک کو زیادہ کر سکے وہ کرے۔" (صحیح بخاری 136، صحیح مسلم 246)
جنت کا مقام
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص میری طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اس میں اپنے نفس سے بات نہ کرے، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔" (صحیح بخاری 159)
اسی لیے نبی ﷺ اور صحابہ کرام ہر وقت با وضو رہنے کا اہتمام کرتے تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ ہر وضو کے بعد دو رکعت نفل پڑھتے تھے اور نبی ﷺ نے انہیں جنت میں اپنے قدموں کی آواز سنی۔
FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس۔
FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔
عام سوالات
وضو کے فرائض کتنے ہیں؟
وضو کے چار فرائض ہیں: (1) پورا چہرہ دھونا، (2) کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا، (3) چوتھائی سر کا مسح کرنا (احناف کے مطابق)، (4) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا۔ یہ سورہ المائدة آیت 6 میں بیان ہیں۔
وضو کے بعد کون سی دعا پڑھیں؟
وضو کے بعد یہ دعا پڑھیں: "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ۔" (صحیح مسلم 234) اس سے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں۔
وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے؟
وضو ان چیزوں سے ٹوٹتا ہے: قضائے حاجت (پیشاب یا پاخانہ)، ریاح (گیس خارج ہونا)، گہری نیند جس میں ہوش نہ رہے، بے ہوشی یا نشہ۔ احناف کے نزدیک بہتے خون سے بھی وضو ٹوٹتا ہے۔
موزوں پر مسح کب تک جائز ہے؟
موزوں پر مسح مقیم کے لیے ایک دن رات (24 گھنٹے) اور مسافر کے لیے تین دن رات (72 گھنٹے) جائز ہے۔ یہ مدت اس وقت سے شمار ہوگی جب پہلی بار مسح کیا۔ شرط یہ ہے کہ موزے وضو کی حالت میں پہنے گئے ہوں۔
بسم اللہ وضو میں کب پڑھیں؟
بسم اللہ وضو کے شروع میں، ہاتھ دھونے سے پہلے پڑھیں۔ احناف کے نزدیک یہ واجب ہے اور بھول جانے پر معاف ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس وضو میں اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ وضو نہیں۔" (ابو داود 101)