اہم باتیں:

کب: پانی نہ ہو، یا استعمال نقصاندہ ہو
کس چیز سے: پاک مٹی، گرد، ریت یا پتھر
ضربیں: ایک یا دو (مذہب کے مطابق)
احاطہ: چہرہ اور دونوں بازو
نواقض: وضو کے تمام نواقض + پانی کا میسر آنا

تیمم (عربی: التیمم، یعنی "ارادہ کرنا") اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم رحمت ہے, جب پانی نہ ہو یا اس کا استعمال مشکل ہو، تو پاک زمین سے طہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ امت محمدیہ ﷺ کی ایک خاص نعمت ہے، جو پہلی امتوں کو نہیں ملی تھی۔

تیمم کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوہِكُمْ وَأَیْدِیكُمْ ۚ إِنَّ اللَّہَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا

ترجمہ: اور اگر تم بیمار ہو، یا سفر میں، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے ہم بستری کی ہو، اور پانی نہ پاؤ، تو پاک مٹی سے تیمم کرو اور اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس کا مسح کرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔ (سورہ النساء 4:43)

اور سورہ المائدہ 5:6 میں بھی یہی حکم دوبارہ آیا ہے، جس سے تیمم کی شرعی حیثیت قطعی ہے۔

تیمم کب جائز ہے؟

تیمم درج ذیل حالات میں جائز ہے:

  • پانی موجود نہ ہو, جیسے سفر، صحرا، یا ایسی جگہ جہاں پانی نہیں۔
  • پانی ہو لیکن استعمال صحت کو نقصان دے, مثلاً جلد کی بیماری، زخم، یا ڈاکٹر کی ممانعت۔
  • پانی تک رسائی مشکل یا خطرناک ہو, جنگ، آگ، یا درندوں کے قریب کنواں۔
  • پانی کم ہو اور پینے کے لیے بچانا ضروری ہو۔
  • شدید سردی ہو اور پانی گرم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو، اور ٹھنڈا پانی ضرر دے گا۔

کس چیز سے تیمم کیا جائے؟

تیمم زمین کی کسی بھی پاک سطح سے کیا جا سکتا ہے:

  • پاک مٹی
  • ریت
  • گرد
  • پتھر
  • کچی اینٹ
  • غیر پینٹ شدہ دیوار (قدرتی پتھر یا اینٹ)

شرط یہ ہے کہ سطح پاک ہو (نجاست سے خالی) اور قدرتی ہو۔ پینٹ، لکڑی، شیشہ، پلاسٹک، یا دھات سے تیمم جائز نہیں (احناف کے نزدیک پتھر یا چونا گچ سے بھی جائز ہے)۔

تیمم کا مکمل طریقہ

  1. نیت: دل میں ارادہ کریں, "میں نے طہارت کی نیت کی، نماز ادا کرنے کے لیے، اللہ کے لیے۔"
  2. بسم اللہ پڑھیں۔
  3. دونوں ہاتھ پاک مٹی یا گرد آلود سطح پر ایک بار ہلکا سا ماریں۔
  4. ہاتھوں کو جھاڑ لیں (تاکہ زائد مٹی گر جائے) اور پھر پورے چہرے پر مسح کریں, پیشانی سے ٹھوڑی تک، ایک کان سے دوسرے کان تک۔
  5. دوبارہ ہاتھ مٹی پر ماریں۔
  6. بائیں ہاتھ سے دائیں بازو کا مسح کریں, ہاتھ کی پشت سے کہنی تک، پھر اندرونی طرف سے واپس۔
  7. دائیں ہاتھ سے بائیں بازو کا مسح اسی طرح کریں۔

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "تمہارے لیے بس اتنا کافی تھا", اور آپ ﷺ نے زمین پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر مسح کر دکھایا (بخاری 347، مسلم 368)۔

مذاہب کا فرق

پہلواحناف، شوافعمالکیہ، حنابلہ
ضربیںدو ضربیں (چہرہ + بازو)ایک ضرب کافی، یا دو
بازو کہاں تککہنی تککلائی تک (حنابلہ)؛ کہنی تک (مالکیہ)
سطحزمین کی ہر پاک سطح (احناف)صرف مٹی یا ریت پر گرد ہو
ایک تیمم سے نمازیںاحناف: جب تک ٹوٹے نہہر فرض کے لیے نیا تیمم

تیمم کا احاطہ

تیمم حدث اصغر (وضو) اور حدث اکبر (غسل) دونوں کا بدل ہے۔ اس سے درج ذیل کام جائز ہیں:

  • فرض اور نفل نمازیں
  • قرآن کی تلاوت اور چھونا
  • طواف
  • سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر
  • جمعہ، عید، نمازِ جنازہ

نواقض تیمم

تیمم درج ذیل امور سے ٹوٹ جاتا ہے:

  • وہ تمام اسباب جو وضو کو توڑتے ہیں (پیشاب، پاخانہ، ہوا، نیند، خون، وغیرہ)
  • اگر تیمم جنابت کے لیے تھا تو جنابت کے اسباب
  • پانی کا میسر آ جانا, یہ سب سے اہم۔ جیسے ہی پانی دستیاب ہو اور استعمال ممکن ہو، تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔
  • عذر کا ختم ہو جانا (مثلاً بیماری سے شفا)

عام سوالات

کیا تیمم غسل کا بدل ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ اگر پانی موجود نہ ہو، یا اس کا استعمال صحت کو نقصان دے، تو تیمم وضو اور غسل دونوں کا بدل ہے۔ ایک ہی تیمم سے ہر طرح کی طہارت حاصل ہوتی ہے۔

ایک تیمم سے کتنی نمازیں پڑھ سکتے ہیں؟

احناف: جب تک تیمم ٹوٹے نہیں، جتنی چاہیں نمازیں پڑھ سکتے ہیں۔ جمہور علماء (شوافع، مالکیہ، حنابلہ): ایک فرض اور اس کے ساتھ نوافل کے لیے کافی ہے، ہر فرض کے لیے نیا تیمم افضل ہے۔

اگر نماز کے دوران پانی مل جائے؟

اگر وقت باقی ہو تو نماز توڑ کر وضو کریں اور دوبارہ پڑھیں۔ اگر وقت بہت تنگ ہو یا نماز تقریباً ختم ہو چکی ہو، تو جاری رکھیں, اللہ معاف فرمائے گا۔ یہ مسئلہ علماء کے درمیان اختلافی ہے، احتیاط نماز توڑنے میں ہے۔

کیا دیوار پر تیمم جائز ہے؟

اگر دیوار قدرتی پتھر، اینٹ یا کچی مٹی سے بنی ہو، تو ہاں۔ اگر پینٹ شدہ، چونا گچ، یا پلاسٹک سے ڈھکی ہو تو احناف کے علاوہ اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں۔ احناف کہتے ہیں کہ زمین کی ہر جنس سے تیمم درست ہے۔

ہوائی جہاز میں یا قطار میں پانی نہ ہو تو؟

کسی بھی صاف اور قدرے گرد آلود سطح پر تیمم کر لیں, سیٹ کا کنارہ، چمڑے کی کرسی، یا کھڑکی کا فریم۔ شریعت کا مقصد "اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں" (سورہ البقرہ 2:185)۔ سفر میں رخصت ہے۔

سفر میں بھی نماز قائم

FivePrayer: اذان پر فون لاک، قبلہ، اور سفر کا قصر : سب کچھ ایک جگہ۔

نماز کی ایپ جو اذان کے وقت آپ کا فون لاک کرتی ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome