فوری معلومات:

ماخذ: صحیح مسلم، حدیث 234
راوی: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
وقت: وضو مکمل ہونے کے فوراً بعد
فضیلت: جنت کے آٹھ دروازے کھل جاتے ہیں
حکم: مستحب اور مسنون

وضو اسلام کی طہارت کا بنیادی ستون ہے۔ نماز، طواف، اور قرآن کی تلاوت, ان سب کے لیے وضو شرط ہے۔ لیکن وضو محض جسمانی صفائی کا نام نہیں، یہ ایک عبادت ہے جس میں ظاہر کے ساتھ باطن بھی پاک ہوتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس عبادت کو مزید بلند کرنے کے لیے ایک مختصر لیکن نہایت فضیلت والی دعا سکھائی۔

یہ دعا صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہے اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ جو مسلمان وضو کے بعد یہ پڑھے، اس کے لیے جنت کے تمام آٹھ دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ یہ ایسا موقع ہے جو دن میں کئی بار آتا ہے, بشرطیکہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔

دعا کا متن

یہ وہ دعا ہے جو نبی ﷺ نے وضو کے بعد پڑھنے کے لیے سکھائی۔ عربی متن اس طرح ہے:

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

ترجمہ کاری (Transliteration):

Ashhadu an lā ilāha illallāhu waḥdahū lā sharīka lah, wa ashhadu anna Muḥammadan ʿabduhū wa rasūluh.

اردو ترجمہ:

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔

فوری حوالہ:

ماخذ: صحیح مسلم، حدیث 234
راوی: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
فضیلت: جنت کے آٹھ دروازے کھلتے ہیں

فضیلت اور حدیث

صحیح مسلم (حدیث 234) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ, فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ

اردو ترجمہ: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں", اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وضو اور یہ دعا کا مجموعہ کس قدر عظیم عمل ہے۔ جنت کے آٹھ دروازے, مختلف اعمال کے لیے مخصوص دروازے, سب ایک ساتھ کھلنا ایک بہت بڑی بشارت ہے۔ عام طور پر ہر عمل کا ایک مخصوص دروازہ ہوتا ہے، لیکن وضو کے بعد یہ دعا پڑھنے والے کو یہ انعام ملتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے کسی بھی دروازے سے جنت میں داخل ہو۔

سنن ترمذی (حدیث 55) میں ایک اضافہ بھی موجود ہے, آسمان کی طرف نظر اٹھانا اور "اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي" والی دعا, جس کا ذکر اگلے حصے میں آئے گا۔

پڑھنے کا صحیح طریقہ

یہ دعا صحیح طریقے سے پڑھنے کے لیے چند باتیں یاد رکھیں:

  1. وقت: وضو مکمل ہونے کے فوراً بعد پڑھیں, نہ کہ دوران وضو۔ حدیث میں "فَرَغَ مِنْ وُضُوئِہٖ" (جب وضو سے فارغ ہو) کے الفاظ ہیں۔
  2. نظر: سنن ترمذی (55) کے مطابق آسمان کی طرف نظر اٹھانا مستحب ہے, یہ اللہ کی طرف توجہ اور دعا کی ایک ادب کی علامت ہے۔
  3. دل کی حاضری: دعا کے الفاظ کا مطلب سمجھتے ہوئے پڑھیں۔ یہ محض زبان کا عمل نہیں، دل کی گواہی ہے۔
  4. آواز: آہستہ پڑھیں, اتنی کہ خود سنائی دے۔ بلند آواز لازمی نہیں۔
  5. وضو کا اہتمام: حدیث میں "فَأَحْسَنَ الوُضُوءَ" (اچھی طرح وضو کیا) کا ذکر ہے, یعنی وضو مکمل اور اطمینان سے کریں۔

جب آپ ہر وضو کے بعد یہ عادت بنا لیں، تو دن میں کئی بار یہ فضیلت حاصل ہوتی ہے, فجر سے پہلے، نماز ظہر کے وقت، عصر، مغرب اور عشاء۔ یہ ایک چھوٹا عمل ہے جس کا اجر بہت بڑا ہے۔

اضافی دعا

سنن ترمذی (حدیث 55) میں ایک مزید دعا بھی منقول ہے جو بعض علماء نے وضو کے بعد پڑھنے کا ذکر کیا ہے:

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ

ترجمہ کاری (Transliteration):

Allāhumma-jʿalnī mina-t-tawwābīna wa-jʿalnī mina-l-mutaṭahhirīn.

اردو ترجمہ:

اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں میں سے بنا، اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں سے بنا۔

یہ دعا اس بات کا اظہار ہے کہ ظاہری طہارت کے ساتھ ساتھ ہم باطنی پاکیزگی بھی چاہتے ہیں, گناہوں سے توبہ اور دل کی صفائی۔ پہلی دعا (صحیح مسلم 234) کو پڑھ کر اس کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

FivePrayer کے ساتھ نماز کی پابندی

FivePrayer: طہارت اور نماز کی عادت پختہ بنائیں۔

FivePrayer ایپ نماز کے اوقات اور یاددہانیوں کے ذریعے طہارت اور نماز کی عادت پختہ بنانے میں مدد کرتی ہے۔ اذان پر یاددہانی، قبلہ کمپاس، اور پانچوں نمازوں کے صحیح اوقات, مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

اکثر سوالات

وضو کے بعد کی دعا کہاں سے ثابت ہے؟

یہ دعا صحیح مسلم (حدیث 234) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر یہ کلمات کہے، تو اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔" اس حدیث کی صحت پر اہل علم کا اتفاق ہے۔

کیا یہ دعا پڑھنا واجب ہے یا سنت؟

یہ دعا واجب نہیں بلکہ مستحب اور مسنون ہے۔ وضو بغیر اس دعا کے بھی صحیح ہے اور نماز ادا ہو جاتی ہے۔ تاہم اس کی عظیم فضیلت, جنت کے آٹھ دروازوں کا کھلنا, کے پیش نظر ہر وضو کے بعد اس کا اہتمام کرنا عقلمندی ہے۔ اسے عادت بنا لینے سے دن میں کئی بار یہ انعام حاصل ہوتا ہے۔

"جنت کے آٹھ دروازے" سے کیا مراد ہے؟

احادیث میں آیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں, بعض احادیث میں ان دروازوں کے نام بھی آئے ہیں جیسے باب الصلاۃ، باب الصیام، باب الصدقہ وغیرہ۔ عام طور پر کسی ایک دروازے کا استحقاق کسی خاص عمل سے ملتا ہے۔ وضو کے بعد یہ دعا پڑھنے والے کو یہ خصوصی انعام ملتا ہے کہ تمام آٹھ دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں تاکہ وہ جس سے چاہے داخل ہو, یہ اللہ کا خصوصی فضل ہے۔

وضو کے بعد دعا پڑھنا بھول جائیں تو؟

اگر وضو کے فوراً بعد پڑھنا بھول گئے تو گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔ اگلی بار اہتمام کریں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ تھوڑی دیر بعد بھی پڑھ سکتے ہیں، لیکن افضل یہی ہے کہ وضو مکمل ہوتے ہی پڑھ لیں۔ اسے یاد رکھنے کے لیے وضو کے آخری قطرے جھاڑتے وقت ذہن میں لانا آسان طریقہ ہے۔

کیا یہ دعا وضو کے دوران یا بعد میں پڑھیں؟

یہ دعا وضو مکمل ہونے کے بعد پڑھنی ہے، نہ کہ دوران وضو۔ صحیح مسلم کی حدیث میں "ثُمَّ قَالَ" (پھر کہا) کے الفاظ ہیں جو وضو کی تکمیل کے بعد اس دعا کے پڑھنے پر دلالت کرتے ہیں۔ دوران وضو جو دعائیں پڑھی جاتی ہیں, جیسے شروع میں "بسم اللہ", وہ الگ ہیں۔ یہ دعا آخر میں ہے۔