فوری حقائق:

تاریخ: 5 جون 2026, 9 ذی الحجہ 1447ھ
روزے کی فضیلت: پچھلے اور آنے والے ایک ایک سال کے گناہ معاف (مسلم 1162)
تاریخی اہمیت: اسی دن دین کی تکمیل ہوئی, "اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ" (قرآن 5:3)
یاد رہے: یہ روزہ حاجی کے لیے نہیں، صرف غیر حاجی کے لیے ہے

کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جن میں آسمان کے دروازے کچھ زیادہ کھلے ہوتے ہیں۔ یوم عرفہ انہی دنوں میں سے ہے, بلکہ پوری اسلامی تاریخ میں کسی ایک دن کی اس قدر جامع فضیلت شاید ہی کسی اور دن کو نصیب ہوئی ہو۔ یہ دن نہ صرف حاجیوں کے لیے حج کا مرکز و محور ہے، بلکہ گھر بیٹھے ہر مسلمان کے لیے بھی ایک نادر موقع ہے۔

یوم عرفہ کیا ہے؟

ذی الحجہ کا نواں دن, یعنی یوم عرفہ, حج کے ارکان میں سب سے اہم رکن کا دن ہے۔ اس دن لاکھوں حاجی مکہ مکرمہ کے قریب میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور ظہر سے غروبِ آفتاب تک وہاں ٹھہرتے ہیں۔ اسی توقف کو وقوف عرفات کہا جاتا ہے، اور نبی ﷺ نے فرمایا: "الحج عرفة", یعنی حج (کا مرکزی رکن) عرفات ہے۔

میدانِ عرفات وہ جگہ ہے جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی ملاقات ہوئی تھی، جہاں نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تاریخی خطبہ دیا، اور جہاں اسلام کی آخری اور مکمل آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن فرمایا:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔
(القرآن 5:3)

یہ آیت یوم عرفہ کو نازل ہوئی, اس لیے یہ دن دینِ اسلام کے اکمال کا دن بھی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے کہا: "اے مسلمانوں کے امیر! تمہاری کتاب میں ایک آیت ہے، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بناتے۔" حضرت عمر نے فرمایا: "میں جانتا ہوں وہ دن کون سا تھا, یوم عرفہ، اور ہم اس دن (عرفات میں) تھے۔ ہمارے لیے تو ہر جمعہ اور ہر یوم عرفہ خود ایک عید ہے۔"

روزے کی عظیم فضیلت

یوم عرفہ کا روزہ رکھنا غیر حاجیوں کے لیے ایک ایسی نعمت ہے جس کی مثال سال بھر کے نفل روزوں میں نہیں ملتی۔ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ: يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ

نبی ﷺ سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ پچھلے ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
(صحیح مسلم 1162)

یہ فضیلت لاجواب ہے۔ ایک روزے کے بدلے دو سال کے صغیرہ گناہوں کی معافی, یہ اللہ کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت کی دلیل ہے۔ علماء نے وضاحت کی ہے کہ یہاں گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں، اور کبیرہ گناہوں کے لیے خصوصی توبہ ضروری ہے۔ تاہم اللہ کی مغفرت کی وسعت پر ایمان رکھتے ہوئے یہ روزہ ہر حال میں رکھنا چاہیے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ فضیلت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو حاجی نہیں ہیں اور گھر یا اپنے شہر میں ہیں۔ حاجی کے لیے علیحدہ حکم ہے جو اگلے حصے میں آتا ہے۔

حاجی کے لیے روزے کا حکم

جو شخص حج پر ہو اور میدانِ عرفات میں وقوف کر رہا ہو، اس کے لیے یوم عرفہ کا روزہ رکھنا مکروہ ہے, بلکہ بعض علماء نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دن حاجی کے لیے دعا، ذکر، تلبیہ، اور اللہ کی طرف توجہ کا دن ہے، اور روزے کی وجہ سے کمزوری آنے سے ان عبادات میں فرق پڑ سکتا ہے۔

نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ

نبی ﷺ نے عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔
(سنن ابو داود 2440)

امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حاجی کے لیے اس دن روزہ نہ رکھنا بہتر ہے تاکہ وہ زیادہ قوت سے دعا اور عبادت میں مشغول رہے۔ وقوف کے یہ چند گھنٹے اس کی پوری زندگی کے قیمتی ترین لمحات ہیں, انہیں بھرپور عبادت سے آباد کرنا چاہیے۔

بہترین ذکر اور دعا

یوم عرفہ کے لیے افضل ترین ذکر وہ ہے جو نبی ﷺ نے خود بیان فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

سب سے بہترین دعا یوم عرفہ کی دعا ہے، اور سب سے بہترین جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہا وہ یہ ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اسی کی حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
(جامع ترمذی 3585)

یہ ذکر, لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ, ایسا ذکر ہے جو تمام انبیاء کی زبان سے جاری رہا۔ اس میں توحید کا خلاصہ ہے، اللہ کی بادشاہت کا اقرار ہے، اس کی حمد ہے، اور اس کی قدرتِ کاملہ کا اعتراف ہے۔ اس دن جتنا زیادہ یہ ذکر پڑھا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔

اس ذکر کے ساتھ ساتھ تلبیہ (لبیک اللهم لبیک)، تسبیح، تحمید، تکبیر، اور درود ابراہیمی بھی کثرت سے پڑھنا چاہیے۔ اس دن کا ہر لمحہ قیمتی ہے, دعاؤں کی فہرست بنا کر بیٹھنا، اپنی حاجات اللہ کے سامنے پیش کرنا، اپنے اہلِ خانہ اور عزیزوں کے لیے دعا کرنا، اور امتِ مسلمہ کی بھلائی مانگنا, یہ سب اس دن کے شایانِ شان ہے۔

دعا کی قبولیت

یوم عرفہ کو دعاؤں کی قبولیت کا خاص موقع قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ

کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ یوم عرفہ سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرے۔
(صحیح مسلم 1348)

سوچیں, اس ایک دن میں اللہ جتنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے، وہ سال بھر کے کسی اور دن سے زیادہ ہیں۔ یہ صرف میدانِ عرفات میں موجود حاجیوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس بندے کے لیے ہے جو اس دن سچے دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو۔

حاجیوں کے وقوف کے اوقات میں, یعنی ظہر سے غروب آفتاب تک, آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے عرفات میں جمع اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے اور کہتا ہے: "دیکھو میرے ان بندوں کو جو دور دراز سے الجھے بالوں اور گرد آلود چہروں کے ساتھ آئے ہیں، میری رحمت کی امید لے کر۔" گھر پر بیٹھے ہوئے غیر حاجی کے لیے بھی یہ دن دعا کا بہترین وقت ہے, رات سے نیت کریں، سحری کریں، اور اس دن کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ کی یاد میں گزاریں۔

FivePrayer ایپ سے اس خاص دن کے نماز کے اوقات چیک کریں تاکہ فجر سے عشاء تک ہر نماز وقت پر ادا ہو, کیونکہ یوم عرفہ جیسے بابرکت دن میں نماز کا وقت پر ادا ہونا اس دن کی عبادت کو مزید مکمل بناتا ہے۔

عملی تیاری

یوم عرفہ کا فائدہ اٹھانے کے لیے تھوڑی پیشگی تیاری ضروری ہے۔ 4 جون کی رات کو, یعنی عرفہ کی سحری سے پہلے, روزے کی نیت کر لیں۔ یہی سنت کے مطابق ہے۔ سحری کا اہتمام کریں کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ سحری میں برکت ہے، اور یہ روزے کو قوت دیتی ہے۔

اس دن فضول گفتگو، موبائل اسکرین اور سوشل میڈیا سے دوری اختیار کریں۔ جو وقت بچے وہ دعا، ذکر، قرآن کی تلاوت، اور درود شریف میں لگائیں۔ اپنی دعاؤں کی فہرست بنائیں, اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کو یاد دلانا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود خلوص اور توجہ کے ساتھ ہر بات مانگ سکیں۔ دنیاوی حاجات کے ساتھ آخرت کی مغفرت اور جنت بھی مانگیں، اپنے والدین اور اہلِ خانہ کے لیے دعا کریں، اور مسلمانوں کی اجتماعی بھلائی کے لیے بھی ہاتھ اٹھائیں۔

یہ دن بے کار مت گزاریں۔ سال میں یہ ایک دن آتا ہے, اور پھر چلا جاتا ہے۔ جو اس موقع سے فائدہ اٹھا لے، وہ خوش نصیب ہے۔ جو اسے غفلت میں کھو دے، اسے نہ جانے کب اگلا ایسا موقع ملے, کیونکہ اگلے یوم عرفہ تک پہنچنا ہمارے ہاتھ میں نہیں۔

عام سوالات

کیا عرفہ کا روزہ رمضان کے روزے جتنا ضروری ہے؟

نہیں۔ رمضان کے روزے فرض ہیں اور ارکانِ اسلام میں شامل ہیں، جبکہ یوم عرفہ کا روزہ نفل اور سنت ہے۔ لیکن فضیلت میں یہ روزہ غیر معمولی ہے, نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس سے پچھلے اور آنے والے ایک ایک سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں (مسلم 1162)۔ کوئی اور نفل روزہ اس درجے کی فضیلت نہیں رکھتا، اس لیے جو رمضان کی قضا رکھتا ہو وہ پہلے قضا پوری کرے، لیکن عرفہ کا روزہ بھی ترک نہ کرے اگر ممکن ہو۔

کیا حیض والی خاتون بھی یوم عرفہ کی فضیلت حاصل کر سکتی ہیں؟

جی ہاں۔ روزہ رکھنے میں حیض رکاوٹ ہے، لیکن اس دن کا ذکر، دعا، استغفار، تلاوتِ قرآن، اور اللہ کی یاد میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ وہ دل کی گہرائی سے دعا کریں، بکثرت لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ پڑھیں، اللہ سے مغفرت مانگیں, فضیلت کا دروازہ ان کے لیے بھی کھلا ہے۔ اللہ کی رحمت کسی ایک عبادت تک محدود نہیں۔

کون سا وقت دعا کے لیے سب سے افضل ہے؟

علماء نے فرمایا کہ یوم عرفہ میں ظہر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک کا وقت سب سے افضل ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب حاجی میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔ غیر حاجی کے لیے بھی یہی وقت دعا کی کثرت کا بہترین موقع ہے۔ البتہ اس دن کا پورا وقت ہی بابرکت ہے, فجر سے رات تک جب بھی ہو سکے، دعا اور ذکر میں مشغول رہیں۔

کیا میں پہلے سے نیت کے بغیر عرفہ کا روزہ رکھ سکتا ہوں؟

نفل روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے کرنا افضل ہے۔ لیکن اگر صبح اٹھ کر یاد آئے اور اس وقت تک کچھ نہ کھایا پیا ہو تو دوپہر سے پہلے تک نیت کر کے روزہ رکھ سکتا ہے, بعض علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ یہ نفل روزے کی آسانی ہے۔ بہرحال، پیشگی نیت, یعنی رات کو سوتے وقت دل میں ٹھان لینا, سنت اور احتیاط کے زیادہ قریب ہے۔

کیا اس دن استغفار کی کوئی خاص دعا ہے؟

کوئی ایک خاص الفاظ مقرر نہیں، لیکن سید الاستغفار پڑھنا افضل ہے: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك...۔ اس کے ساتھ بکثرت لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ پڑھنا، جو ترمذی 3585 میں یوم عرفہ کا بہترین ذکر بتایا گیا، سب سے زیادہ مسنون ہے۔ اپنی زبان میں بھی اللہ سے سچے دل سے معافی مانگنا جائز اور پُرتاثیر ہے۔

یوم عرفہ FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: اہم دنوں میں نماز کا وقت کبھی نہ چھوٹے۔

یوم عرفہ پر فجر سے عشاء تک نماز کے درست اوقات، اذان کی خاموش یاددہانی، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome