اہم نکات:

مقام: سورۃ البقرہ، آیات 285-286
فضیلت: "کفتاہ" یعنی کافی ہیں (صحیح بخاری 5009)
آیت 285: اقرارِ ایمان ـ اللہ، فرشتے، کتابیں، رسول
آیت 286: لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ + تین دعائیں
ہر دعا پر: اللہ نے فرمایا "میں نے قبول کیا" (صحیح مسلم 125)

سورۃ البقرہ قرآن کریم کی سب سے طویل سورت ہے۔ اس کا اختتام دو ایسی آیات پر ہوتا ہے جن کی فضیلت نبی کریم ﷺ نے خود بیان فرمائی: جو رات کو انہیں پڑھے، اسے کافی ہیں۔ اور یہ دعویٰ صحیحین کی دو مستند احادیث سے ثابت ہے۔

تعارف

سورۃ البقرہ قرآن کریم کی سب سے طویل سورت ہے اور اس کی آخری دو آیات اپنی فضیلت میں بے مثال ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھے، وہ اسے کافی ہیں۔" (صحیح بخاری 5009، صحیح مسلم 808)

یہ آیات محض تلاوت کے الفاظ نہیں بلکہ ایمان کا خلاصہ ہیں۔ آیت 285 میں مومنوں کا اقرار ہے کہ وہ اللہ، فرشتوں، کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائے، اور فرمایا "سمعنا واطعنا" یعنی ہم نے سنا اور مانا۔ آیت 286 میں اللہ کی رحمت کا اعلان ہے کہ وہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ نہیں دیتا، اور پھر تین گہری دعائیں ہیں جو قیامت تک مومنوں کی زبان پر ہیں۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھے، اسے کافی ہیں۔" (صحیح بخاری 5009، صحیح مسلم 808)

صحیح مسلم 808 میں ایک اور روایت ہے: جب نبی ﷺ معراج پر گئے، تو انہیں سورۃ البقرہ کی یہ آخری آیات عرشِ الٰہی کے خزانے سے عطا کی گئیں جو پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ یہ ان آیات کی عظمت کی دلیل ہے۔

آیات کا متن

آیت 285: اقرارِ ایمان

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ ۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ ۫ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ؗ غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ﴿۲۸۵﴾

اردو ترجمہ: رسول اس پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوا، اور مومن بھی (ایمان لائے)۔ سب نے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا (یہ کہتے ہوئے کہ) ہم اس کے کسی رسول کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور مانا، اے ہمارے رب! تیری مغفرت چاہتے ہیں، اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

آیت 286: رحمت کا اعلان اور دعائیں

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ؕ وَاعْفُ عَنَّا ۥ وَاغْفِرْ لَنَا ۥ وَارْحَمْنَا ۥ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ﴿۲۸۶﴾

اردو ترجمہ: اللہ کسی جاندار کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جو نیکی اس نے کمائی وہ اسی کے لیے ہے، اور جو برائی اس نے کمائی وہ بھی اسی پر ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑنا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہیں۔ اور ہمیں معاف کر، ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر۔ تو ہی ہمارا مولا ہے، پس کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

آیت 285 کی تفسیر

آیت 285 ایمان کا ایک جامع اقرار نامہ ہے۔ اس میں پانچ ارکانِ ایمان کا ذکر ہے:

  • اللہ پر ایمان: توحید کا اقرار، یعنی ایک ہی معبود، وہی رب، وہی خالق۔
  • فرشتوں پر ایمان: نوری مخلوق جو اللہ کے احکام بجا لاتی ہے۔
  • کتابوں پر ایمان: تورات، زبور، انجیل اور قرآن، سب اللہ کی طرف سے۔
  • رسولوں پر ایمان: سب انبیاء و رسل، ان میں سے کسی کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں۔
  • "سمعنا واطعنا": ہم نے سنا اور مانا، یہی ایمان کا عملی پہلو ہے۔ یہودیوں نے کہا تھا "سمعنا وعصینا" (سنا اور نہ مانا)، لیکن مومنوں کا شعار ہے: سننا اور ماننا۔

آیت کا اختتام اللہ سے مغفرت مانگنے اور یہ یقین ظاہر کرنے پر ہوتا ہے کہ سب کا لوٹنا اسی کی طرف ہے: "وَاِلَیْکَ الْمَصِیْر"۔

آیت 286 کی تفسیر

آیت 286 کا پہلا حصہ قرآن کریم کے سب سے عظیم اصولوں میں سے ایک بیان کرتا ہے:

"لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا" ـ اللہ کسی جاندار کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔

یہ آیت ایک عظیم بشارت ہے۔ ہر فرض، ہر حکم اور ہر ذمہ داری جو اللہ نے عائد کی ہے، وہ انسانی طاقت کے اندر ہے۔ اس آیت پر فقہ اسلامی کی بنیاد ہے: جب کوئی شخص بیمار ہو، سفر میں ہو یا معذور ہو، اللہ رخصت دیتا ہے۔

پھر آیت میں تین دعائیں ہیں جن کے بارے میں صحیح مسلم 125 میں آتا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں، اللہ تعالیٰ نے ہر دعا پر فرمایا: "قَدْ فَعَلْتُ" یعنی میں نے قبول کیا:

دعامطلباللہ کا جواب
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا اے رب! بھول اور غلطی پر نہ پکڑنا "قد فعلت" ـ قبول کر لیا
رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا اے رب! ہم پر بھاری بوجھ نہ ڈال جیسا پہلی امتوں پر ڈالا "قد فعلت" ـ قبول کر لیا
رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ اے رب! وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم نہ اٹھا سکیں "قد فعلت" ـ قبول کر لیا

آیت کا اختتام چار درخواستوں پر ہے: عفو، مغفرت، رحمت اور دشمنوں پر نصرت ـ "وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ"۔

کب پڑھیں

حدیث میں "رات کو پڑھنے" کا ذکر ہے، لیکن علماء نے ان آیات کو کئی مواقع پر پڑھنے کی تاکید کی ہے:

  • سونے سے پہلے (سب سے اہم): یہی اصل فضیلت والا وقت ہے، بخاری 5009 اور مسلم 808 میں "رات کو" کا ذکر ہے۔ روزانہ سونے سے پہلے ان دونوں آیات کو پڑھنا سنت ہے۔
  • نماز کے بعد: بعض علماء نے فجر یا عشاء کی نماز کے بعد ان آیات کو پڑھنے کو مستحب کہا ہے۔ یہ ذکر اور ورد کا حصہ بن سکتی ہیں۔
  • صبح و شام کے اذکار میں: جو لوگ صبح و شام کے مسنون اذکار کا اہتمام کرتے ہیں، وہ ان آیات کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر آیت 286 کی دعائیں ہر مسلمان کی روزمرہ ضرورت ہیں۔

یاد رکھیں: فضیلت کا وقت رات کو سونے سے پہلے ہے، لیکن ان آیات کی تلاوت کسی بھی وقت باعثِ برکت ہے۔

FivePrayer App

FivePrayer ایپ آپ کو پانچوں نمازوں پر لطیف یاد دہانی دیتا ہے، اور سونے کے وقت کا الرٹ آپ کو ان آخری آیات اور دیگر سونے کے اذکار یاد دلانے میں مددگار ہے۔ iOS، Android اور Chrome پر مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ کے۔

اکثر سوالات

"کافی ہیں" سے کیا مراد ہے؟

علماء نے کئی تشریحات دی ہیں: رات کی تلاوت کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے، شیطانی شر اور آفات سے حفاظت ہوتی ہے، یا رات کی عبادت کے لیے کافی ہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ تمام معانی ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں، یعنی ان آیات کو پڑھنے والے کو اللہ کی طرف سے کفایت مل جاتی ہے۔

کیا ایک بار پڑھنا کافی ہے؟

جی ہاں۔ حدیث میں "جو ان دونوں کو پڑھے" فرمایا، اس لیے ایک بار پڑھنا فضیلت کے لیے کافی ہے۔ البتہ ان آیات کو بار بار پڑھنا، تدبر کے ساتھ پڑھنا، اور ان کے معنی سمجھنا روح کو قرآن سے جوڑتا ہے، اور یہ اور بھی بہتر ہے۔

"لا یکلف اللہ" آیت کا کیا پیغام ہے؟

"لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا" یعنی اللہ کسی جاندار کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ یہ آیت دین کی بنیادی آسانی کا اعلان ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ ہر فرض اللہ نے انسانی طاقت کے اندر رکھا ہے: بیمار کے لیے رخصت ہے، مسافر کے لیے قصر ہے، مجبور کے لیے استثنیٰ ہے۔ یہ آیت مومن کو مایوسی سے بچاتی اور اللہ کی رحمت پر یقین مضبوط کرتی ہے۔

کیا یہ دونوں آیات شیطان سے حفاظت کرتی ہیں؟

بعض علماء نے "کفتاہ" کی تفسیر میں شیطانی شر سے حفاظت بھی شامل کی ہے۔ صحیح مسلم 808 کی روایت میں یہ آیات معراج کے موقع پر عرش کے خزانے سے عطا ہونے کا ذکر ہے، یہی ان کی غیر معمولی عظمت کی دلیل ہے۔ آیت الکرسی کی طرح یہ آیات بھی رات کو پڑھنے سے حفاظت اور برکت کا ذریعہ ہیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور انہیں روزانہ کا معمول بنائیں۔

یہ آیات نماز کے بعد پڑھنی ہیں یا سونے سے پہلے؟

سونے سے پہلے پڑھنا سب سے زیادہ ثابت اور افضل ہے، اور یہی فضیلت والی حدیث کا موقع ہے (بخاری 5009)۔ نماز کے بعد بھی پڑھنا جائز اور مستحب ہے، اور صبح و شام کے اذکار میں بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ بہرحال انہیں کسی نہ کسی وقت روزانہ پڑھنے کا معمول بنا لیجیے۔

قرآن کے ساتھ FivePrayer

FivePrayer: پانچ نمازوں کا نرم ساتھی۔

اذان پر فون لاک، نماز کے اوقات، قبلہ کمپاس اور سونے کے وقت کی یاد دہانی۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome