اہم نکات:
• حکم: سنت مؤکدہ
• وقت: طلوعِ آفتاب کے ٢٠ منٹ بعد سے ٹھیک ظہر سے پہلے تک
• رکعات: کم از کم ٢، افضل ٤ یا ٨
• بہترین وقت: جب دھوپ تیز ہو جائے (مسلم 686)
• دلیل: صحیح مسلم 720، صحیح بخاری 1178، سنن ترمذی 473
نماز چاشت, جسے عربی میں صلاۃ الضحی کہتے ہیں, دن کے چڑھتے وقت کی وہ مبارک نماز ہے جو نبی ﷺ نے بار بار پڑھی اور اپنے صحابہ کو ترغیب دی۔ یہ نماز کوئی معمولی نفل نہیں بلکہ سنت مؤکدہ کے درجے میں ہے۔ اس کی فضیلت میں وارد احادیث اتنی قوی اور متعدد ہیں کہ بڑے بڑے علماء نے اسے اپنے معمولات کا حصہ بنائے رکھنے کی تاکید کی ہے۔
نماز چاشت کی فضیلت
نماز چاشت کے بارے میں نبی ﷺ کے ارشادات ایسے ہیں کہ انہیں پڑھ کر دل خود بخود اس نماز کی طرف کھنچتا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى
ترجمہ: ہر صبح تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہو جاتا ہے۔ ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تحمید صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے, اور ان سب کی جگہ چاشت کی دو رکعت کافی ہو جاتی ہیں۔ (صحیح مسلم 720)
انسانی جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں, اور ہر جوڑ کی شکرگزاری کے لیے روزانہ کچھ عبادت ہونی چاہیے۔ نماز چاشت کی یہ دو رکعت یہ پوری ذمہ داری سنبھال لیتی ہیں۔ یہ فضیلت کتنی بڑی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
دوسری اہم حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں آئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ
ترجمہ: میرے خلیل (نبی ﷺ) نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی: ہر مہینے تین دن روزہ رکھنا، چاشت کی دو رکعت پڑھنا، اور سونے سے پہلے وتر ادا کرنا۔ (صحیح بخاری 1178، صحیح مسلم 721)
نبی ﷺ نے اپنے قریبی صحابی کو جو تین وصیتیں کیں، ان میں نماز چاشت کا شامل ہونا اس کی اہمیت کو بخوبی ظاہر کرتا ہے۔ یہ محض ایک اضافی نماز نہیں بلکہ مستقل عادت بنانے کی چیز ہے۔
سنن ترمذی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ
ترجمہ: اوابین (بہت زیادہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں) کی نماز اس وقت ہے جب (گرمی سے) اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ (سنن ترمذی 473)
یعنی جب دھوپ تیز ہو جائے اور زمین گرم ہو جائے, وہ چاشت کا بہترین وقت ہے اور اس نماز کو "صلاۃ الاوابین" یعنی بہت زیادہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز کہا گیا ہے۔
نماز چاشت کا وقت
نماز چاشت کا وقت طلوعِ آفتاب کے تقریباً بیس منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور نماز ظہر سے دس سے پندرہ منٹ پہلے ختم ہو جاتا ہے۔ وقت کے اندر رہنا ضروری ہے، کیونکہ ظہر کے وقت سے پہلے "استوا" کا وہ لمحہ آتا ہے جب نفل نماز پڑھنا مکروہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے ظہر کی اذان سے کم از کم دس سے پندرہ منٹ پہلے نماز چاشت مکمل کر لینا ضروری ہے۔
نماز چاشت کا بہترین اور افضل وقت وہ ہے جب سورج اچھی طرح چڑھ آئے اور دھوپ تیز ہو جائے۔ عام طور پر یہ طلوعِ آفتاب کے ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد کا وقت ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت (686) میں آیا ہے کہ نبی ﷺ کی چاشت کی نماز کے بارے میں استفسار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ اسے اس وقت پڑھتے جب دھوپ خوب اچھی طرح پھیل جاتی۔
اب ایک اہم سوال, نماز اشراق اور نماز چاشت میں فرق کیا ہے؟ یہ دو الگ نمازیں ہیں یا ایک ہی؟ علماء میں اس پر دو آراء ہیں: ایک رائے یہ ہے کہ دونوں ایک ہی نماز ہے جسے اشراق کے وقت پڑھا جائے تو اشراق کہتے ہیں اور چاشت کے وقت پڑھا جائے تو چاشت۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اشراق ایک الگ نماز ہے جو طلوعِ آفتاب کے فوراً بعد (بیس سے پچیس منٹ بعد) پڑھی جاتی ہے، جبکہ چاشت اس کے گھنٹے ڈیڑھ بعد تیز دھوپ میں پڑھی جاتی ہے۔ عملی لحاظ سے بہتر یہ ہے کہ جو شخص فجر کے بعد بیٹھ کر ذکر کرے اور پھر طلوعِ آفتاب کے بعد نماز اشراق پڑھے، وہ ان دونوں کا ثواب الگ الگ حاصل کرتا ہے۔ اور جو شخص چاشت کے وقت نفل پڑھے، وہ نماز ضحی کا ثواب پائے گا۔
رکعات کی تعداد
نماز چاشت کے لیے کم از کم دو رکعت پڑھنا ضروری ہے, یہی وہ مقدار ہے جو صحیح مسلم 720 کی حدیث میں مذکور ہے اور جو صحابہ کو وصیت کی گئی تھی۔ تاہم اس کی زیادہ سے زیادہ تعداد کے بارے میں علماء نے مختلف احادیث کو سامنے رکھ کر بحث کی ہے۔
چار رکعت کو افضل قرار دیا گیا ہے۔ سنن ابو داود (1289) میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے چار رکعت چاشت پڑھیں اور زیادہ پر اضافے کو بھی پسند فرمایا۔ آٹھ رکعت پڑھنے کا ثبوت بھی صحیح احادیث میں موجود ہے, ایک روایت کے مطابق نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر آٹھ رکعت ضحی ادا فرمائی (صحیح مسلم 719)۔ بارہ رکعت تک کی روایت بھی آئی ہے، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کبھی کبھی آٹھ رکعت پڑھتے تھے۔
ضروری بات یہ ہے کہ نماز چاشت میں ہر دو رکعت پر الگ سلام پھیرا جائے۔ دو دو رکعت کر کے پوری نماز مکمل ہوتی ہے, چاہے چار ہوں، آٹھ ہوں یا بارہ۔ ایک نشست میں چار یا اس سے زیادہ رکعت پڑھنا اور درمیان میں سلام نہ پھیرنا درست نہیں۔
خلاصہ یہ ہے: اگر وقت اور طاقت ہو تو آٹھ رکعت پڑھیں۔ اگر مصروفیت زیادہ ہو تو چار پڑھیں۔ اور اگر صرف اتنا وقت ہو تو دو رکعت پڑھ کر بھی نماز چاشت کی سنت ادا ہو جاتی ہے۔
نماز چاشت کا طریقہ
نماز چاشت ادا کرنے کا طریقہ عام نفل نماز جیسا ہی ہے، کوئی خاص طریقہ یا مخصوص ہیئت نہیں۔ تاہم کچھ مستحب باتیں ہیں جن کا خیال رکھنا بہتر ہے۔
سب سے پہلے تازہ وضو کریں، صاف کپڑے پہنیں، اور ایک پاک اور پرسکون جگہ کا انتخاب کریں۔ پھر دل میں یہ نیت کریں کہ "میں دو رکعت نفل نماز چاشت ادا کر رہا/رہی ہوں"۔ زبان سے نیت کہنا ضروری نہیں، لیکن دل کی نیت لازمی ہے۔ تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھیں، ثناء پڑھیں، پھر سورہ فاتحہ۔
پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ والشمس (الشمس) پڑھنا مستحب ہے، کیونکہ یہ سورت دن کی روشنی اور آفتاب کا ذکر کرتی ہے اور نماز چاشت کے وقت سے موزوں ہے۔ دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ والضحی (الضحی) پڑھیں, اس سورت کا نام ہی "چاشت" ہے اور اس کا تعلق اس نماز سے نمایاں ہے۔ تاہم اگر یہ سورتیں یاد نہ ہوں تو کوئی بھی سورت پڑھ سکتے ہیں، مثلاً پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری میں سورہ اخلاص۔
پہلی رکعت مکمل کریں, رکوع، سجدے، اور دوسری رکعت میں بھی یہی ترتیب۔ پھر التحیات، درود ابراہیمی، اور دعا مأثورہ پڑھ کر سلام پھیریں۔ یہ دو رکعت مکمل ہوئیں۔ اگر مزید رکعت پڑھنی ہوں تو ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں۔
نماز مکمل ہونے کے بعد اللہ کا شکر ادا کریں اور یہ دعا پڑھ سکتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ اِنَّ الضُّحَاءَ ضُحَاؤُکَ، وَالْبَھَاءَ بَھَاؤُکَ، وَالْجَمَالَ جَمَالُکَ، وَالْقُوَّۃَ قُوَّتُکَ، وَالْقُدْرَۃَ قُدْرَتُکَ، وَالْعِصْمَۃَ عِصْمَتُکَ
ترجمہ: اے اللہ! یہ چاشت تیری چاشت ہے، یہ رونق تیری رونق ہے، یہ جمال تیرا جمال ہے، یہ قوت تیری قوت ہے، یہ قدرت تیری قدرت ہے، اور یہ حفاظت تیری حفاظت ہے۔ (سنن ترمذی 480 / مسند احمد)
کیا نماز چاشت گھر میں پڑھ سکتے ہیں؟
نماز چاشت گھر، دفتر، سفر میں، یا کسی بھی پاک اور ستر ڈھکی ہوئی جگہ پر ادا کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے مسجد میں جانا ضروری نہیں اور نہ ہی کوئی جماعت درکار ہے, یہ ایک انفرادی سنت نماز ہے۔ بلکہ نفل نمازیں گھر میں پڑھنے کو نبی ﷺ نے افضل قرار دیا ہے، کیونکہ گھر ریاکاری سے زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔
یہ نماز خواتین کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی مردوں کے لیے۔ گھر میں کام کاج کی مصروفیت کے باوجود اگر چاشت کے وقت سے پہلے چند منٹ نکال کر دو یا چار رکعت ادا کر لی جائیں تو نہ صرف روحانی فائدہ ہوتا ہے بلکہ دن بھر ذہنی سکون اور برکت محسوس ہوتی ہے۔
طالب علم، ملازم پیشہ افراد، اور گھریلو خواتین, سب کے لیے نماز چاشت قابلِ عمل ہے۔ یونیورسٹی میں لیکچر کے بیچ وقفے میں، دفتر میں ناشتے کے بعد، یا گھر میں بچوں کو اسکول بھیجنے کے بعد, یہ نماز پڑھنے کے لیے کوئی خاص انتظام یا تیاری درکار نہیں۔ بس وضو ہو، قبلہ معلوم ہو، اور چند منٹ کا وقت ہو۔
FivePrayer اور نماز چاشت
نماز چاشت کا وقت ہر شہر اور علاقے میں مختلف ہوتا ہے کیونکہ یہ مقامی طلوعِ آفتاب اور ظہر کے اوقات پر منحصر ہے۔ کراچی اور لاہور میں چاشت کا وقت مختلف ہوگا، اور شمالی علاقوں میں موسم کے اعتبار سے بھی تبدیلی آتی ہے۔ FivePrayer کا ایپ آپ کے مقام کے مطابق ضحی کا صحیح وقت دکھاتا ہے, طلوعِ آفتاب سے لے کر ظہر تک کا پورا شیڈول آپ کے سامنے ہوتا ہے۔ اذان پر نوٹیفکیشن، قبلہ کمپاس، اور نفل نمازوں کی یاد دہانی, سب ایک جگہ، بغیر کسی اشتہار کے، بالکل مفت۔
عام سوالات
کیا نماز چاشت گھر میں پڑھ سکتے ہیں؟
جی ہاں، نماز چاشت گھر، دفتر، مسجد یا کسی بھی پاک جگہ ادا کی جا سکتی ہے۔ یہ نفل نماز ہے اور اس کے لیے مسجد میں جانا ضروری نہیں۔ نبی ﷺ نے نفل نمازیں گھر میں پڑھنے کو افضل قرار دیا ہے کیونکہ گھر ریاکاری سے زیادہ محفوظ ہے۔
اگر فجر فوت ہو جائے تو کیا نماز چاشت ہوگی؟
جی ہاں، نماز چاشت کے لیے فجر کی ادائیگی شرط نہیں۔ یہ دونوں الگ الگ نمازیں ہیں۔ اگر فجر قضا ہو جائے تو پہلے فجر کی قضا کریں، پھر چاشت کے وقت میں نماز چاشت ادا کریں۔ تاہم جو شخص باجماعت فجر پڑھ کر ذکر کرتے ہوئے طلوعِ آفتاب کا انتظار کرے، اسے اشراق کا الگ ثواب ملتا ہے۔
نماز اشراق اور نماز چاشت میں کیا فرق ہے؟
نماز اشراق طلوعِ آفتاب کے بیس سے پچیس منٹ بعد پڑھی جاتی ہے، جبکہ نماز چاشت اس کے بعد اس وقت پڑھی جاتی ہے جب دھوپ تیز ہو جائے, یعنی طلوع کے قریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد۔ بعض علماء کے نزدیک اشراق بھی ضحی کا ابتدائی حصہ ہے، اور بعض انہیں الگ قرار دیتے ہیں۔ عملی لحاظ سے دونوں اوقات میں نفل پڑھنے کی فضیلت ثابت ہے۔
نماز چاشت کی بہترین رکعات کتنی ہیں؟
کم از کم دو رکعت سنت سے ثابت ہے اور حدیث مسلم 720 کی بنیاد پر یہ واجب صدقوں کی جگہ لے لیتی ہے۔ چار رکعت افضل ہے۔ آٹھ رکعت بھی ثابت ہے اور نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن آٹھ رکعت ادا فرمائی (مسلم 719)۔ بارہ رکعت تک کا بھی ذکر آیا ہے۔ ہر دو رکعت پر الگ سلام پھیرنا ضروری ہے۔
کیا نماز چاشت قضا کی جا سکتی ہے؟
نماز چاشت نفل ہے، لہٰذا اس کی قضا واجب نہیں۔ تاہم جو شخص نماز چاشت پڑھنے کا عادی ہو اور کسی روز عذر کی وجہ سے رہ جائے، تو وہ بعد میں پڑھ سکتا ہے, فقہاء نے اسے مستحب قرار دیا ہے۔ نبی ﷺ نے بھی بعض اوقات نمازیں بعد میں پوری کی ہیں جب کسی رکاوٹ کی وجہ سے وقت پر نہ پڑھ سکے ہوں۔
FivePrayer: آپ کے مقام کے مطابق ضحی کا صحیح وقت۔
اذان پر فون لاک، نفل نمازوں کی یاد دہانی، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔