فوری حقائق:

قرآنی دلیل: سورۃ الجمعہ 62:9-10 (جمعہ کی اذان پر کاروبار چھوڑو)
حیثیت: فرض عین, ہر بالغ، مقیم، تندرست مرد پر
رکعات: 2 رکعت فرض (ظہر کی جگہ) + 2 خطبے لازم
غسل: سنت مؤکدہ (صحیح بخاری 883)
فضیلت: ہفتے کا بہترین دن (صحیح مسلم 857)
سنتیں: 4 قبل از جمعہ + 4 (یا 2) بعد از جمعہ

جمعہ (عربی: الجُمُعَة) کا لغوی مطلب ہے "اجتماع"۔ شریعت میں جمعہ وہ ہفتہ وار فرض نماز ہے جو دوپہر کے وقت، ظہر کی جگہ، دو خطبوں کے بعد دو رکعت فرض جماعت سے ادا کی جاتی ہے۔ یہ اسلامی ہفتے کا مرکز ہے, مسجد میں اجتماع، خطبہ، دعا، اور اللہ کی یاد کا خاص دن۔

قرآنی دلیل اور بنیادی حقائق

جمعہ کا حکم قرآن کریم میں واضح طور پر آیا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

"اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان ہو تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو, یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھتے ہو۔" (سورۃ الجمعہ 62:9)

اگلی آیت میں ہے:

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ

"پھر جب نماز ادا ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔" (سورۃ الجمعہ 62:10)

ان آیات سے چند اہم فقہی نکات نکلتے ہیں:

  • "اے ایمان والو!", یہ خطاب ہر مسلمان کو ہے، اس لیے یہ فرض عین ہے۔
  • "دوڑو", جلد چلنا، پہلے آنا، مسجد میں جلد پہنچنا مستحب ہے۔
  • "خرید و فروخت چھوڑ دو", اذانِ ثانی (جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت ہوتی ہے) کے بعد کاروبار کرنا حرام ہو جاتا ہے۔
  • "پھر پھیل جاؤ", نماز کے بعد دنیاوی کام دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

جمعہ کی نماز ظہر کی نماز کی جگہ لیتی ہے, یعنی مقیم کو ظہر کی چار رکعت کی بجائے جمعہ کی دو رکعت فرض (جماعت سے) پڑھنی ہے۔ جمعہ کے دن ظہر کی نماز مستقل امام کے ساتھ جمعہ کی شکل میں ادا کی جاتی ہے۔

جمعہ کی فضیلت

جمعہ کے دن کی فضیلت احادیث میں بڑی تفصیل سے آئی ہے۔ یہ محض ایک نماز نہیں، بلکہ ہفتے کا خاص موقع ہے جس میں گناہوں کی معافی، دعا کی قبولیت، اور اللہ کی خاص رحمت ہے۔

جمعہ: سب سے بہترین دن

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہتر جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن وہاں سے اُتارا گیا۔ قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہوگی۔" (صحیح مسلم 857)

جمعہ کے غسل کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہر بالغ مسلمان پر جمعہ کے دن غسل کرنا (واجب یا مؤکد) ہے، اور مسواک کرے اور خوشبو لگائے اگر میسر ہو۔" (صحیح بخاری 883)

جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھے، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن ہوگا۔" (صحیح مسلم 794)

جمعہ اور گناہوں کی معافی

نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ, یہ ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔" (صحیح مسلم 233)

جمعہ میں دعا قبول ہونے کی خاص ساعت

نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ہے کہ اگر کوئی مسلمان اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے کچھ مانگے، تو اللہ اُسے ضرور عطا فرماتا ہے۔" (صحیح بخاری 935) علماء کی اکثریت اس ساعت کو عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک مانتی ہے۔

جمعہ کی تیاری

جمعہ کی نماز محض ایک فرض نہیں, یہ ایک خاص موقع ہے جس کے لیے نبی ﷺ نے مخصوص تیاری کا حکم دیا۔

غسل کریں

جمعہ کا غسل سنت مؤکدہ (بعض علماء کے نزدیک واجب) ہے۔ یہ غسل جمعہ کی نماز سے پہلے کریں۔ بخاری 883 میں اس کی تاکید آئی ہے۔

صاف لباس اور خوشبو

نبی ﷺ نے فرمایا: "اگر خوشبو ہو تو ضرور لگائے۔" (صحیح بخاری 883) جمعہ کے دن بہترین اور صاف لباس پہنیں۔ مسواک کریں۔ ناخن تراشیں۔

مسجد جلدی جائیں

نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جمعہ کے دن جب غسل کا وقت آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ پہلے آنے والے اُس شخص کی طرح ہیں جس نے اونٹ قربان کیا، پھر گائے، پھر مینڈھا، پھر مرغی، پھر انڈا۔ پھر جب امام آتا ہے تو فرشتے رجسٹر بند کر کے خطبہ سننے لگتے ہیں۔" (سنن ابو داود 345، صحیح بخاری 929)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جتنی جلدی مسجد میں پہنچیں، اجر اتنا زیادہ۔

امام کے قریب بیٹھیں

خطبہ سننا فرض ہے, اس لیے آگے بیٹھنا بہتر ہے تاکہ خطیب کی آواز اچھی طرح سنی جائے اور دل حاضر رہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، پھر جلدی مسجد آئے، امام کے قریب بیٹھ کر خطبہ توجہ سے سنے اور خاموش رہے, اس کے لیے ہر قدم پر سال بھر کے روزوں اور رات کے قیام کا ثواب ہے۔" (سنن ترمذی 496)

سورۃ الکہف پڑھیں

جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھنا مسنون ہے, چاہے جمعہ سے پہلے، بعد میں، یا رات کو۔ صحیح مسلم 794 میں اس کی فضیلت آئی ہے۔

کثرت سے درود پڑھیں

نبی ﷺ نے فرمایا: "جمعہ کے دن مجھ پر درود کثرت سے پڑھو۔" (سنن ابو داود 1047، ابن ماجہ 1636) یہ ایک آسان اور اہم عمل ہے۔

نماز کا طریقہ

جمعہ کی نماز کا طریقہ عام نماز سے کچھ مختلف ہے کیونکہ اس میں دو خطبے شامل ہیں جو فرض ہیں۔

خطبہ (شرط)

دو خطبے جمعہ کی نماز کی شرط ہیں, بغیر خطبے کے جمعہ صحیح نہیں ہوتا۔

  1. پہلا خطبہ: امام منبر پر کھڑے ہو کر پہلا خطبہ دیتا ہے جس میں حمد، درود، قرآنی آیات اور نصیحت ہوتی ہے۔
  2. وقفہ: امام کچھ دیر بیٹھتا ہے۔
  3. دوسرا خطبہ: دوبارہ کھڑے ہو کر مختصر دوسرا خطبہ دیتا ہے۔
  4. خطبے کے دوران خاموش رہنا واجب ہے, بات کرنا، فون دیکھنا، حتیٰ کہ "آمین" بھی نہ کہیں۔
  5. دوسری اذان (جو منبر کے قریب دی جاتی ہے) خطبے کا اعلان ہے, اس وقت سے کاروبار حرام ہو جاتا ہے۔

دو رکعت فرض نماز

  1. جماعت کی نیت: جمعہ کی دو رکعت فرض جماعت سے ادا کریں۔
  2. پہلی رکعت: امام عموماً سورۃ الاعلیٰ یا سورۃ الجمعہ پڑھتا ہے, مقتدی خاموشی سے سنے۔
  3. دوسری رکعت: امام عموماً سورۃ الغاشیہ یا سورۃ المنافقون پڑھتا ہے۔
  4. رکوع، سجدے، التحیات، درود، دعا اور سلام, معمول کے مطابق۔

سنتیں

وقترکعاتدلیل
قبل از جمعہ4 رکعت (2+2 سلام)صحیح بخاری 937، ترمذی 523
بعد از جمعہ4 رکعت (2+2 سلام)صحیح مسلم 881
بعد از جمعہ (کم)2 رکعت (مسجد میں)صحیح مسلم 882
نفل (گھر میں)2 رکعتسنن ابو داود 1130

احناف اور شوافع کے نزدیک چار رکعت قبل اور چار بعد مسنون ہیں۔ نبی ﷺ کا عام عمل دو رکعت بعد از جمعہ گھر میں پڑھنا بھی ثابت ہے, اس لیے دونوں جائز ہیں۔

کن پر فرض نہیں

جمعہ کی فرضیت عام ہے لیکن فقہاء نے قرآن و سنت کی روشنی میں کچھ استثنائی صورتیں بیان کی ہیں جن میں جمعہ کا چھوڑنا جائز ہے:

صورتحکمتفصیل
مسافرمعافجو سفر میں ہو (شرعی سفر کی مسافت پر) اسے ظہر پڑھنی ہے
مریضمعافجو شدید بیمار ہو اور چل کر مسجد نہ جا سکے
عورتفرض نہیںعورت پر جمعہ فرض نہیں، اگرچہ پڑھ لے تو کافی ہے
نابالغ بچہفرض نہیںبلوغت سے پہلے فرض نہیں، مگر پڑھنا بہتر ہے
غلام (قدیم)معافتاریخی فقہ میں ذکر ہے، عصرِ حاضر میں غیر متعلق
انتہائی خوفمعافشدید امن و امان کی صورت میں رعایت ہو سکتی ہے

ان تمام صورتوں میں فقہائے اربعہ کا اتفاق ہے۔ مسافر، مریض، عورت اور بچہ, یہ چار بنیادی استثناء ہیں۔

اہم: اگر کوئی معاف شدہ شخص جمعہ میں شامل ہو جائے تو اس کی نماز ادا ہو جاتی ہے اور ظہر کی ضرورت نہیں رہتی۔

FivePrayer کے ساتھ جمعہ کا اہتمام

جمعہ کے لیے وقت پر تیار ہونا، سورۃ الکہف یاد رکھنا، اور اذان پر فوراً مسجد کا رخ کرنا, ان سب میں FivePrayer آپ کا ساتھی ہے۔

جمعہ FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: جمعہ کی اذان پر خاص یاد دہانی، قبلہ کمپاس، اور مسجد تلاش کریں۔

اذان پر فون لاک، جمعہ کی خاص نوٹیفکیشن، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

جمعہ کی نماز کتنی رکعت ہے؟

جمعہ کی فرض نماز صرف دو رکعت ہے جو خطیب کے دو خطبوں کے بعد جماعت سے ادا کی جاتی ہے۔ یہ ظہر کی چار رکعت کی جگہ لیتی ہے۔ اس کے علاوہ سنتیں ہیں: چار رکعت قبل از جمعہ اور چار رکعت (یا کم از کم دو رکعت) بعد از جمعہ۔

کیا جمعہ کے دن غسل فرض ہے؟

جمعہ کا غسل سنت مؤکدہ ہے, امام احمد اور بعض محدثین نے اسے واجب کہا ہے، جمہور علماء سنت مؤکدہ کہتے ہیں۔ نبی ﷺ نے صحیح بخاری 883 میں فرمایا: "ہر بالغ مسلمان پر جمعہ کا غسل ہے۔" اس کی تاکید بہت زیادہ ہے, اگر ممکن ہو تو ضرور کریں۔

جمعہ کس پر فرض نہیں؟

فقہاء کے اتفاق کے مطابق، مسافر، مریض، عورت اور نابالغ بچے پر جمعہ فرض نہیں۔ اگر یہ لوگ جمعہ میں شامل ہو جائیں تو ان کی نماز ادا ہو جاتی ہے۔ جو مرد گھر پر رہ کر عذر کے بغیر جمعہ چھوڑے، اس کے لیے سخت وعید آئی ہے (سنن ابو داود 1052)۔

جمعہ سے قبل کتنی سنتیں ہیں؟

احناف کے نزدیک جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت (دو سلاموں سے) اور بعد میں چار رکعت (دو سلاموں سے) ہیں۔ شوافع بعد میں دو رکعت کو بھی کافی سمجھتے ہیں۔ نبی ﷺ کا عمل جمعہ کے بعد دو رکعت گھر میں پڑھنا بھی ثابت ہے (صحیح مسلم 882)۔ کم از کم دو رکعت بعد از جمعہ ضرور پڑھیں۔

اگر جمعہ چھوٹ جائے تو کیا کریں؟

اگر جمعہ کی جماعت سے چوک جائیں, مثلاً دیر سے آئے اور امام سلام پھیر چکے ہو, تو ظہر کی چار رکعت پڑھیں۔ جمعہ کی "قضا" نہیں ہوتی, اس کی جگہ ظہر ادا کی جاتی ہے۔ اگر آپ نے خطبہ سنا مگر ایک رکعت نہ ملی تو دوسری رکعت امام کے ساتھ پڑھیں اور سلام کے بعد ایک رکعت ملائیں, جمعہ ادا ہو جائے گا۔