اہم باتیں:
• رکعات: 8 یا 20 (دونوں درست)
• وقت: رمضان میں عشاء کے بعد فجر تک
• اختتام: تین رکعت وتر پر
• حکم: سنت مؤکدہ
• جگہ: مسجد میں جماعت یا گھر میں, دونوں جائز
تراویح (عربی: التراویح، جمع ترویحہ، یعنی "آرام") رمضان کی خاص رات کی نماز ہے جو عشاء کے فرض کے بعد ادا کی جاتی ہے۔ نام اس لیے رکھا گیا کہ سلف صالحین ہر چار رکعت کے بعد قدرے توقف کر کے آرام فرماتے تھے۔ یہ سنت مؤکدہ ہے اور رمضان کی روحانیت کا بنیادی ستون۔
تراویح کیا ہے؟
تراویح وہ نفلی نماز ہے جو رمضان المبارک کی راتوں میں عشاء کی فرض نماز اور وتر کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔ یہ "قیام رمضان" کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رات کے قیام کا ذکر فرمایا:
یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ ۞ قُمِ اللَّیْلَ إِلَّا قَلِیلًا ۞ نِصْفَہُ أَوِ انقُصْ مِنْہُ قَلِیلًا ۞ أَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلًا
ترجمہ: اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو قیام کریں مگر تھوڑا، آدھی رات یا اس سے کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ، اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ (سورہ مزمل 73:1-4)
اگرچہ یہ آیات عام قیامِ لیل کے بارے میں ہیں، مگر تراویح اسی روایت کا سب سے واضح اور باجماعت اظہار ہے۔
نبی ﷺ اور تراویح
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"رسول اللہ ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔" (صحیح بخاری 1147)
نبی ﷺ نے چند راتوں میں صحابہ کرام کے ساتھ جماعت سے بھی پڑھی، مگر پھر گھر میں ادا کرنا شروع کر دیا، اس خوف سے کہ کہیں امت پر فرض نہ کر دی جائے۔ آپ ﷺ کے دور میں تراویح کی جماعت متفرق طور پر ہوتی تھی۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں صحابہ کو ایک امام کے پیچھے جمع کر دیا, اور یہ اجتماعی روایت آج تک قائم ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ حضرت عمر نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا۔
8 یا 20 رکعت؟
یہ مسئلہ صدیوں سے علماء کے درمیان زیر بحث رہا ہے، اور سچائی یہ ہے کہ دونوں طریقے درست ہیں۔
| رکعات | دلیل | پیروی |
|---|---|---|
| 8 رکعت | حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت (بخاری 1147), آپ ﷺ گیارہ سے زیادہ نہ پڑھتے، جس میں وتر بھی شامل | سعودی عرب، بعض حنابلہ، اہل حدیث |
| 20 رکعت | حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کا اجماعی عمل، صحابہ نے اقرار کیا (موطا مالک) | احناف، شوافع، مالکیہ, پاکستان، بھارت، ترکی، مصر میں عام |
پاکستان اور بھارت کی اکثر مساجد میں 20 رکعت کا معمول ہے۔ علماء کا اتفاق ہے کہ اپنے علاقے کی مسجد کا اتباع کریں اور اختلاف میں الجھنے کے بجائے خشوع اور سکونِ قلب پر توجہ دیں۔
تراویح کا وقت
تراویح کا وقت عشاء کی فرض نماز کے بعد سے فجر کے طلوع تک ہے۔ عشاء کے فرض اور سنت کے بعد فوراً پڑھنا عام معمول ہے۔
- اول وقت: عشاء کے فوراً بعد, جماعت کے ساتھ مساجد میں۔
- افضل وقت: رات کا آخری حصہ، تہجد کے ساتھ, اگر فرد گھر میں اکیلے ادا کرے۔
اگر مسجد میں تراویح ادا کر لی ہو، تو رات کے آخری پہر میں دوبارہ تہجد کے طور پر کچھ نوافل پڑھنا بھی مستحب ہے۔
ادا کرنے کا مکمل طریقہ
تراویح کو دو دو رکعت کر کے ادا کیا جاتا ہے:
- نیت: دو رکعت سنت تراویح کی نیت کریں, "میں نے دو رکعت تراویح کی نیت کی، اللہ کے لیے، قبلہ رخ"۔
- تکبیر تحریمہ: "اللہ اکبر" کہہ کر ہاتھ باندھیں۔
- ثناء، تعوذ، تسمیہ پڑھیں۔
- سورہ فاتحہ پڑھیں، پھر کوئی سورت (طویل قرأت سنت ہے, حفاظ پورے رمضان میں قرآن مکمل کرتے ہیں)۔
- رکوع، قومہ، دو سجدے معمول کے مطابق۔
- دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ + سورت، پھر رکوع اور سجدے۔
- التحیات، درود اور دعا کے بعد سلام پھیریں۔
- اسی ترتیب سے 8 یا 20 رکعت تک نماز جاری رکھیں۔
- ہر چار رکعت کے بعد قدرے توقف ("ترویحہ"), درود، تسبیح یا دعا میں۔
- آخر میں تین رکعت وتر ادا کریں۔
تراویح کے آداب
- امام کا اتباع: امام کے رکوع، سجدے اور قرأت پر مکمل توجہ۔
- قرأت سننا: خاموشی سے سنیں, قرآن کی تلاوت روح کی غذا ہے۔
- خشوع: دل کو حاضر رکھیں، سرعت سے نہ پڑھیں۔
- صف بندی: سیدھی صفیں، کندھے سے کندھا۔
- صبر: طویل قیام میں تھکاوٹ پر صبر کریں, اجر اسی میں ہے۔
- دعا: آخری دس راتوں میں، خصوصاً طاق راتوں میں، دعا اور استغفار میں اضافہ کریں۔
عام سوالات
کیا تراویح فرض ہے؟
نہیں۔ تراویح سنت مؤکدہ ہے، فرض نہیں۔ تاہم نبی ﷺ نے اسے قائم فرمایا اور صحابہ کرام نے اہتمام سے ادا کیا، اس لیے اسے بلاوجہ ترک کرنا مناسب نہیں۔
8 یا 20 رکعت: کون سی صحیح ہے؟
دونوں صحیح اور ثابت ہیں۔ 8 رکعت کا ثبوت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے، اور 20 رکعت کا ثبوت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے اجماعی عمل سے ہے۔ اپنی مقامی مسجد کے معمول کا اتباع کریں اور تنازعے سے بچیں۔
کیا گھر میں تراویح پڑھ سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ نبی ﷺ نے بھی اکثر اپنے گھر میں تراویح پڑھی۔ اہلِ خانہ کے ساتھ یا تنہا ادا کرنا جائز ہے۔ تاہم مسجد میں جماعت سے ادا کرنا افضل سمجھا جاتا ہے، خاص کر مردوں کے لیے۔
اگر دیر سے پہنچوں تو کیا کروں؟
امام جس رکعت میں ہو، اُس میں شامل ہو جائیں۔ امام کے سلام کے بعد جو رکعات چھوٹ گئیں، اُنہیں اپنے طور پر مکمل کر لیں۔ اگر بہت دیر ہو جائے تو خود بھی شروع سے ادا کر سکتے ہیں۔
کیا تراویح اور تہجد ایک ہی ہیں؟
نہیں، یہ الگ الگ نمازیں ہیں۔ تراویح صرف رمضان کی راتوں میں عشاء کے بعد ادا کی جاتی ہے۔ تہجد سال بھر سونے کے بعد رات کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔ رمضان میں دونوں کو جمع کرنا بھی جائز ہے۔
FivePrayer: اذان پر فون لاک، تراویح کا ٹائم ٹیبل، اور خاموش رہنمائی۔
نماز کی ایپ جو اذان کے وقت آپ کا فون لاک کرتی ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔