ایک نظر میں:

نکاح کی تعریف: میثاق غلیظ یعنی مضبوط عہد (النساء 4:21)
ارکان: ایجاب، قبول، ولی، دو گواہ، مہر
مہر: بیوی کا حق، نحلۃ یعنی تحفہ (النساء 4:4)
ولیمہ: نکاح کے بعد کی دعوت (صحیح بخاری 5155)
مقصد: مودت و رحمت (الروم 30:21)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکی ہیں۔" (النساء 4:21) یہ آیت نکاح کی اہمیت اور گہرائی کو بیان کرتی ہے۔ نکاح محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدس دینی فریضہ ہے جو اسلامی خاندانی نظام کی بنیاد ہے۔

نکاح کی تعریف اور مقام

نکاح عربی زبان میں جمع ہونے اور ملنے کے معنی میں ہے۔ شریعت میں نکاح اس عقد کو کہتے ہیں جس کے ذریعے مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جاتے ہیں اور اسلام کے مقرر کردہ حقوق و فرائض کے پابند ہو جاتے ہیں۔

النساء 4:21 وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا
ترجمہ: "اور تم اسے کیسے واپس لو گے جبکہ تم ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو چکے ہو اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکی ہیں۔"

اللہ نے نکاح کو میثاق غلیظ یعنی مضبوط ترین عہد کہا ہے۔ قرآن میں یہی لفظ صرف دو مقامات پر آیا ہے: ایک نکاح کے لیے اور دوسری بار انبیاء سے لیے گئے عہد کے لیے (الاحزاب 33:7)۔ یہ نکاح کی عظمت کی دلیل ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ نگاہ کو نیچے رکھتا اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے۔" (صحیح بخاری 5066)

نکاح کے ارکان

اسلامی فقہ میں نکاح کے درج ذیل ارکان ہیں جن کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا:

  • ایجاب: لڑکی یا اس کے ولی کی طرف سے نکاح کی پیشکش
  • قبول: دولہا کی طرف سے قبولیت کا اظہار
  • ولی: لڑکی کا سرپرست جو نکاح پڑھاتا ہے
  • دو گواہ: دو عاقل بالغ مسلمان مرد گواہ
  • مہر: بیوی کا مالی حق جو نکاح کے ساتھ لازم ہوتا ہے

یہ ارکان چاروں مذاہب میں متفق علیہ ہیں۔ البتہ ان کی تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

ولی کی اہمیت

ولی وہ سرپرست ہے جو لڑکی کی طرف سے نکاح کرتا ہے۔ قرآن نے ولی کے حق کو صراحت سے بیان کیا ہے:

البقرة 2:232 وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ
ترجمہ: "اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔"

اس آیت میں ولی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عورت کو نکاح سے نہ روکے۔ اس سے ولی کے وجود کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ جس کا وجود نہ ہو اسے روکنے کا تصور نہیں ہوتا۔

نبی ﷺ نے فرمایا: "ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔" (ابوداؤد 2085، ترمذی 1101)

ولی کی ترتیب یہ ہے: باپ، پھر دادا، پھر بیٹا، پھر بھائی، پھر چچا اور اسی ترتیب سے آگے۔ اگر کوئی ولی نہ ہو یا ولی نا انصافی کرے تو قاضی ولی بن سکتا ہے۔

مہر: بیوی کا حق

مہر وہ مال ہے جو نکاح کے وقت شوہر بیوی کو دینے کا پابند ہوتا ہے۔ یہ بیوی کا حق ہے اور اسے نحلۃ یعنی تحفہ کہا گیا ہے:

النساء 4:4 وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً
ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو۔"

نحلۃ کا لفظ بتاتا ہے کہ مہر دل کی خوشی سے دینا چاہیے، بوجھ سمجھ کر نہیں۔ مہر بیوی کی ملکیت بن جاتا ہے اور کوئی اس سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔

مہر کی اقسام

  • مہر مسمیٰ: نکاح کے وقت طے کی گئی مقرر مقدار
  • مہر مثل: اگر مہر طے نہ ہو تو بیوی کے خاندان کی ہم مرتبہ عورتوں کے مہر کے برابر
  • مہر معجل: فوری ادا کیا جانے والا مہر
  • مہر مؤجل: بعد میں ادا کیا جانے والا مہر

نبی ﷺ کی ازواج کا مہر پانچ سو درہم تھا (صحیح مسلم 1426)۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "بہترین مہر وہ ہے جو ادا کرنا آسان ہو۔" (ابوداؤد 2117)

گواہوں کی شرط

نکاح کے لیے کم از کم دو عادل مسلمان مرد گواہوں کی موجودگی ضروری ہے۔ ابن ماجہ (1880) میں ہے:

نبی ﷺ نے فرمایا: "ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔" (ابن ماجہ 1880)

گواہوں کی شرط اس لیے ہے تاکہ نکاح کا اعلان ہو اور خفیہ تعلقات سے فرق رہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ نکاح سماجی طور پر معروف ہو۔

احناف کے نزدیک عورتیں بھی گواہ بن سکتی ہیں اگر ان میں سے ایک مرد ہو۔ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک نکاح کے گواہ مرد ہونے چاہئیں۔

ایجاب و قبول اور خطبہ نکاح

ایجاب و قبول نکاح کا لفظی اعلان ہے۔ ولی یا لڑکی کہتی ہے: "میں نے اپنی بیٹی / بہن / اپنے آپ کو آپ کے نکاح میں دیا" اور دولہا کہتا ہے: "میں نے قبول کیا۔" یہ الفاظ ماضی کے صیغے میں ہونے چاہئیں۔

نکاح سے پہلے خطبہ نکاح پڑھنا مستحب ہے۔ نبی ﷺ خطبہ نکاح میں یہ آیات پڑھتے تھے: النساء 4:1، آل عمران 3:102 اور الاحزاب 33:70-71۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ خطبہ منقول ہے (ابوداؤد 2118، ترمذی 1105)۔

نکاح سنت ہے: نبی ﷺ کا ارشاد

نبی ﷺ نے فرمایا: "نکاح میری سنت ہے۔ جو میری سنت پر عمل نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں ہے۔" (ابن ماجہ 1846) ایک اور روایت میں ہے: "جب اللہ کسی بندے کو نیک بیوی دے تو اس نے اسے دین اور دنیا کی آدھی بھلائی دے دی۔" (طبرانی)

ولیمہ کی سنت

ولیمہ نکاح کے بعد کی خوشی کی دعوت ہے جو سنت موکدہ ہے:

نبی ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "نکاح کے بعد ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے ہو۔" (صحیح بخاری 5155)

ولیمہ کے احکام:

  • ولیمہ نکاح کے بعد تین دنوں میں ہونا چاہیے
  • ولیمے کی دعوت قبول کرنا واجب ہے (صحیح مسلم 1432)
  • ولیمے میں غریبوں کو بھی بلانا چاہیے
  • نبی ﷺ نے اس ولیمے کو برا فرمایا جس میں صرف مالدار بلائے جائیں (صحیح بخاری 5177)

حرام رشتے

اسلام نے کچھ رشتوں میں نکاح ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا ہے:

النساء 4:23 حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ
ترجمہ: "تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، دودھ کی مائیں، دودھ کی بہنیں اور بیوی کی مائیں۔"

حرام رشتوں کی تین اقسام ہیں:

  • نسب سے حرام: مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں
  • رضاعت سے حرام: دودھ کی ماں اور دودھ کی بہن اور ان کے رشتے دار جیسے نسب میں حرام ہوں
  • مصاہرت سے حرام: بیوی کی ماں، بیوی کی پرورش کی ہوئی بیٹی، بیٹے کی بیوی

زوجین کے حقوق

اسلام نے میاں بیوی دونوں کے حقوق و فرائض واضح طور پر مقرر کیے ہیں:

الروم 30:21 وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
ترجمہ: "اور اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔"

مودت اور رحمت یہ دو وہ بنیادیں ہیں جن پر اسلامی ازدواجی زندگی قائم ہے۔ مودت جذباتی محبت ہے اور رحمت وہ ہمدردی ہے جو بڑھاپے اور مشکل حالات میں رشتے کو مضبوط رکھتی ہے۔

شوہر کے فرائض

النساء 4:34 الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ
ترجمہ: "مرد عورتوں پر نگران ہیں اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس لیے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔"

شوہر کے فرائض میں شامل ہیں: نفقہ (خوراک، لباس، رہائش)، حسن معاشرت، تعلیم و تربیت، مہر کی ادائیگی اور بیوی کی عزت و آبرو کا تحفظ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو۔" (ترمذی 3895)

بیوی کے حقوق اور فرائض

بیوی کے فرائض میں شامل ہیں: شوہر کی اطاعت جائز امور میں، گھر کی دیکھ بھال، شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں نہ آنے دینا اور شوہر کے مال اور رازوں کی حفاظت۔ بیوی کے حقوق میں نفقہ، مہر، حسن معاشرت اور علم دین شامل ہیں۔

نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: "عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہے۔" (صحیح مسلم 1218)

طلاق کے احکام

اسلام طلاق کی اجازت دیتا ہے لیکن اسے ناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔" (ابوداؤد 2178)

البقرة 2:229 الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
ترجمہ: "طلاق دو بار ہے پھر یا تو بھلائی کے ساتھ روکنا ہے یا خوبصورتی کے ساتھ چھوڑنا۔"
الطلاق 65:1 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ
ترجمہ: "اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے وقت میں طلاق دو۔"

طلاق کی تین قسمیں ہیں: رجعی (جس کے بعد رجوع ممکن ہے)، بائن (جس کے بعد نیا نکاح ضروری ہے) اور مغلظہ (تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر واپسی نہیں)۔ عدت کا مقصد رجوع کا موقع دینا اور حمل کی صورت میں بچے کے نسب کا تعین کرنا ہے۔

شادی کے فوائد

نکاح کے بے شمار دنیاوی اور اخروی فوائد ہیں:

  • نسل انسانی کا تسلسل: اولاد کے ذریعے دنیا آباد رہتی ہے اور اللہ کے نیک بندے پیدا ہوتے ہیں
  • گناہ سے حفاظت: نظر کی حفاظت اور جنسی بے راہ روی سے بچاؤ (صحیح بخاری 5066)
  • ذہنی سکون: بیوی کے ساتھ سکون اللہ کی خاص نعمت ہے (الروم 30:21)
  • ثواب: بیوی اور اولاد پر خرچ کرنا صدقہ ہے (صحیح بخاری 55)
  • سماجی استحکام: خاندان سماج کی بنیادی اکائی ہے
  • دین کی تکمیل: نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے نکاح کیا اس نے نصف دین مکمل کر لیا۔" (بیہقی)
نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں

FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

اسلامی نکاح کے ارکان کیا ہیں؟

اسلامی نکاح کے ارکان ہیں: ایجاب، قبول، ولی، دو گواہ اور مہر۔ ان میں سے کوئی بھی رکن غائب ہو تو نکاح درست نہیں ہوتا۔

مہر کی کم از کم مقدار کیا ہے؟

احناف کے نزدیک کم از کم دس درہم ہے۔ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک کوئی مقررہ حد نہیں بلکہ جو بھی مال کہلا سکے وہ مہر ہو سکتا ہے۔ مہر بیوی کا حق ہے (النساء 4:4)۔

کیا نکاح میں ولی ضروری ہے؟

جمہور علماء کے نزدیک ہاں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں (ابوداؤد 2085)۔ احناف کے نزدیک بالغ عورت خود نکاح کر سکتی ہے لیکن ولی کی موجودگی بہتر ہے۔

ولیمہ کیا ہے اور اس کا کیا حکم ہے؟

ولیمہ نکاح کے بعد کی دعوت ہے جو سنت موکدہ ہے (صحیح بخاری 5155)۔ اسے نکاح کے تین دنوں کے اندر کرنا چاہیے اور دعوت قبول کرنا واجب ہے۔

اسلام میں حرام رشتے کون سے ہیں؟

سورہ النساء (4:23) میں حرام رشتوں کی مکمل فہرست ہے: مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، دودھ کی مائیں، دودھ کی بہنیں، بیوی کی مائیں اور بیٹے کی بیویاں۔