ایک نظر میں:

وقت: رمضان کی آخری دس راتوں کی طاق راتیں (21، 23، 25، 27، 29)
قوی ترین قول: 27ویں رات (ابن عباس رضی اللہ عنہما)
فضیلت: ہزار مہینوں سے بہتر یعنی 83+ سال سے زیادہ
بہترین دعا: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
ماخذ: سورۃ القدر 97:1-5، ترمذی 3513، بخاری 2017

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ "بیشک ہم نے اسے شبِ قدر میں نازل کیا اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔" (القدر 97:1-3)

سورۃ القدر کی مکمل تفسیر

سورۃ القدر قرآن کریم کی 97 ویں سورت ہے اور اس میں صرف پانچ آیات ہیں، لیکن ان پانچ آیات میں اس رات کی عظمت کا ایسا بیان ہے جو پوری اسلامی تاریخ میں بے مثال ہے۔ یہ سورت مکمل طور پر شبِ قدر کو وقف ہے:

القدر 97:1 إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
ترجمہ: "بیشک ہم نے اسے (قرآن کو) شبِ قدر میں نازل کیا۔"

اس آیت میں اللہ نے خود اپنی ذات کا حوالہ دیا (انا) جو تعظیم کی علامت ہے۔ قرآن مجید کا شبِ قدر میں نازل ہونا اس رات کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ مفسرین نے واضح کیا ہے کہ قرآن لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اس رات مکمل طور پر اتارا گیا، پھر وہاں سے حضرت جبریل علیہ السلام تھوڑا تھوڑا حضور اکرم ﷺ پر 23 سال میں نازل فرماتے رہے۔

القدر 97:2 وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
ترجمہ: "اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟"

یہ اندازِ بیان تعظیم اور تعجب کے لیے ہے۔ قرآن میں جب اللہ کہتا ہے "تمہیں کیا معلوم" تو وہ اس چیز کی بے پناہ عظمت کو بیان کرتا ہے۔ گویا کہا جا رہا ہے کہ اس رات کی عظمت کا احاطہ الفاظ سے ممکن نہیں۔

القدر 97:3 لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ
ترجمہ: "شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔"

ہزار مہینے 83 سال اور 4 ماہ کے برابر ہیں۔ ایک انسان کی اوسط عمر کے لحاظ سے یہ پوری زندگی سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی جو شخص اس ایک رات کو عبادت میں گزارے اس کا اجر اس شخص سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے جس نے 83 سال سے زیادہ عبادت کی ہو۔ علما نے لکھا ہے کہ "بہتر سے" مراد یہ ہے کہ ایک رات کی عبادت کا ثواب ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ہے، یعنی اجر میں بھی فائق ہے محض برابر نہیں۔

القدر 97:4 تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ
ترجمہ: "اس میں فرشتے اور روح (جبریل) اپنے رب کی اجازت سے ہر معاملے کے حکم کے ساتھ اترتے ہیں۔"

اس آیت میں "روح" سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں جو اللہ کے نزدیک اتنے معزز ہیں کہ انہیں الگ ذکر کیا گیا۔ فرشتوں کا نزول اس قدر کثیر ہوتا ہے کہ زمین تنگ پڑ جاتی ہے۔ وہ مومنوں کی عبادت میں شریک ہوتے ہیں اور ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

القدر 97:5 سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ
ترجمہ: "وہ رات سراسر سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔"

یہ آخری آیت اس رات کا خلاصہ ہے: "سلام" یعنی اللہ کی طرف سے سلامتی اور امن فجر تک جاری رہتا ہے۔ علما نے کہا ہے کہ اس رات شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے اور فرشتے اہلِ ایمان کو سلام کرتے ہیں۔

سورۃ الدخان (44:3) میں بھی اس رات کا ذکر ہے: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ "بیشک ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا۔" اس آیت میں اسے "مبارک رات" کہا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رات میں خیر و برکت کا خزانہ بے حساب ہے۔

شبِ قدر کب ہوتی ہے

نبی کریم ﷺ نے شبِ قدر کی متعین تاریخ بیان نہیں فرمائی بلکہ اسے آخری دس راتوں میں چھپایا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ مومن پوری دس راتیں عبادت میں گزاریں اور کسی ایک رات پر بھروسہ کر کے دوسری راتوں کو ضائع نہ کریں۔ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔" (صحیح بخاری 2017)

آخری عشرے کی طاق راتیں یہ ہیں: 21ویں، 23ویں، 25ویں، 27ویں اور 29ویں رات۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام میں رات دن سے پہلے شروع ہوتی ہے، یعنی 21ویں رمضان کی رات اصل میں 20ویں رمضان کی شام سے شروع ہوتی ہے۔ لہذا نماز مغرب کے بعد سے لے کر اگلے دن فجر تک وہ رات شمار ہوتی ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔" (صحیح مسلم 1167) اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ پوری دس راتیں عبادت کرنی چاہیے نہ کہ صرف طاق راتیں۔

آخری دس راتوں کی طاق راتیں

21ویں رات: 20 رمضان کی شام سے 21 رمضان فجر تک
23ویں رات: 22 رمضان کی شام سے 23 رمضان فجر تک
25ویں رات: 24 رمضان کی شام سے 25 رمضان فجر تک
27ویں رات: 26 رمضان کی شام سے 27 رمضان فجر تک
29ویں رات: 28 رمضان کی شام سے 29 رمضان فجر تک

27ویں رات کا خصوصی مقام

اگرچہ شبِ قدر کی متعین تاریخ مخفی رکھی گئی ہے، تاہم علما میں سب سے مشہور قول یہ ہے کہ یہ رمضان کی 27ویں رات ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی کا قول اختیار کیا ہے اور انہوں نے اس کے لیے خاص دلیل بھی دی ہے۔

انہوں نے فرمایا: سورۃ القدر میں "ہی" یعنی شبِ قدر کا لفظ سورت کے 30 الفاظ میں 27واں لفظ ہے، اور یہ 27ویں رات کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک لسانی اشارہ ہے لیکن صحابی کا قول ہونے کی وجہ سے اس کو بہت وزن حاصل ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہا کہ شبِ قدر 27ویں رمضان کی رات ہے۔ انہوں نے علامات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا۔ (صحیح مسلم 762)

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے "زاد المعاد" میں لکھا ہے کہ اکثر احادیث کی رو سے 27ویں رات کا احتمال سب سے زیادہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری راتیں نظرانداز کی جائیں۔ اصل طریقہ یہ ہے کہ آخری دس راتوں کی ہر رات عبادت کی جائے۔

حضرت عائشہؓ کی دعا: شبِ قدر کا سب سے بہترین عمل

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار نبی کریم ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر میں جان لوں کہ کون سی رات شبِ قدر ہے تو اس میں کیا کہوں؟ نبی ﷺ نے یہ دعا سکھائی جو ترمذی 3513 میں موجود ہے:

عربی:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

اردو ترجمہ:
"اے اللہ! بیشک تو بہت معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔"

یہ دعا مختصر ہے لیکن بے حد جامع ہے۔ اس میں تین باتیں شامل ہیں: اللہ کی صفت عفو کا اقرار، اس بات کا اعتراف کہ اللہ کو معافی پسند ہے، اور خود کے لیے معافی کی درخواست۔ علما نے لکھا ہے کہ انسانی زندگی میں سب سے بڑی ضرورت معافی ہے اور یہی سب سے بڑی نعمت بھی ہے۔

امام ترمذی نے اس حدیث کو "حسن صحیح" کہا ہے۔ اس دعا کو بار بار، کثرت سے اور دل کی حضوری کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ کچھ علما نے کہا ہے کہ جو شخص شبِ قدر میں صرف یہی دعا کثرت سے مانگتا رہے وہ اس رات کا حق ادا کر دیتا ہے۔

شبِ قدر کے اعمال: کیا کریں اور کیسے کریں

قیام اللیل: رات بھر نماز

شبِ قدر کا سب سے افضل عمل رات بھر نماز پڑھنا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص شبِ قدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (صحیح بخاری 1901) تراویح اور تہجد دونوں اس قیام میں شامل ہیں۔

تلاوت قرآن

شبِ قدر میں قرآن کریم کی تلاوت کا خاص مقام ہے کیونکہ اسی رات قرآن نازل ہوا۔ سورۃ القدر خود اس رات پڑھنی چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو اس رات کچھ قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھیں تاکہ معنی بھی سمجھ میں آئیں۔

ذکر الٰہی

تسبیح (سبحان اللہ)، تحمید (الحمد للہ)، تکبیر (اللہ اکبر)، تہلیل (لا الہ الا اللہ) اور استغفار (استغفر اللہ) کثرت سے کریں۔ حضرت عائشہؓ والی دعا بھی ذکر کا حصہ بنائیں۔

اعتکاف: سب سے کامل طریقہ

نبی ﷺ ہر سال رمضان کے آخری دس دن مسجد میں اعتکاف فرماتے تھے۔ صحیح بخاری 2025 میں ہے کہ آپ ﷺ نے آخری دس دنوں میں اعتکاف کا یہ معمول آخری عمر تک جاری رکھا۔ اعتکاف کا فائدہ یہ ہے کہ پوری دس راتیں مسجد میں گزرتی ہیں اور شبِ قدر یقیناً مل جاتی ہے۔

دعا اور گریہ

اللہ کے سامنے آنکھوں میں آنسو لا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، والدین کے لیے، مسلمانوں کے لیے اور پوری انسانیت کے لیے دعا کریں۔ یہ رات دعا قبول ہونے کی رات ہے۔

صدقہ اور خیرات

اس رات مالی صدقہ کرنا بھی بے حد فضیلت رکھتا ہے۔ جو شخص اس رات صدقہ دے اس کا اجر ہزار مہینوں کے صدقے کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ کسی غریب کی ضرورت پوری کریں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کریں۔

فرشتوں کا نزول

سورۃ القدر (97:4) میں اللہ نے بتایا کہ اس رات جبریل علیہ السلام اور فرشتے اللہ کے حکم سے زمین پر اترتے ہیں۔ وہ ہر اس مقام پر حاضر ہوتے ہیں جہاں اللہ کا ذکر ہو اور مومنوں کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں۔ اس رات مساجد میں فرشتوں کی موجودگی کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

شبِ قدر کی عبادت کا ترتیب وار طریقہ

• مغرب کے بعد: نفل نماز اور قرآن تلاوت
• عشاء: تراویح مکمل کریں
• رات کے پہلے حصے میں: ذکر اور استغفار
• آدھی رات کے بعد: تہجد کی نماز
• سحری سے پہلے: عائشہؓ والی دعا کثرت سے پڑھیں
• فجر تک: قرآن تلاوت اور صلوٰۃ علی النبیﷺ

آخری دس راتوں کا عملی شیڈول

آخری دس راتوں میں ہر رات شبِ قدر کا احتمال ہے، اس لیے ہر رات کو اسی جذبے سے گزاریں جیسے آج ہی شبِ قدر ہو۔ یہاں ایک ہفتہ وار شیڈول ہے:

پہلا دن (20 رمضان شام): اعتکاف میں داخل ہوں یا گھر میں دنیاوی مشاغل کم کریں۔ شام کو قرآن کریم کا ترجمے سمیت مطالعہ کریں۔ تراویح میں توجہ سے شریک ہوں۔

21ویں اور 23ویں رات: یہ ابتدائی طاق راتیں ہیں۔ نفل نمازوں میں لمبی قرأت کریں۔ صدقہ نکالیں اور اپنے پیاروں کے لیے خوب دعا کریں۔

25ویں رات: اس رات عبادت کی توانائی کو اوج پر پہنچائیں۔ خاندان کو جگائیں اور مل کر عبادت کریں۔

27ویں رات: یہ سب سے زیادہ احتمال والی رات ہے۔ اس رات پوری توجہ اور جسمانی قوت عبادت میں لگائیں۔ بہترین دعا کثرت سے پڑھیں۔

29ویں رات: آخری طاق رات۔ اگر رمضان 30 دن کا ہو تو یہ بھی شبِ قدر ہو سکتی ہے۔ اسے بھی پوری لگن سے گزاریں۔

علامات کی درجہ بندی: صحیح اور ضعیف

صحیح روایات کی علامات

نبی ﷺ نے فرمایا کہ شبِ قدر کی صبح کو سورج بغیر شعاعوں کے، گول اور ہموار طلوع ہوتا ہے جیسے طشت۔ (صحیح مسلم 762) یہ ایک فطری علامت ہے جو فرشتوں کے اترنے اور چڑھنے سے سورج کی شعاعوں میں تبدیلی سے ہو سکتی ہے۔ تاہم علما نے واضح کیا ہے کہ یہ علامت ہر سال ظاہر نہیں ہوتی یا ہم دیکھ نہیں پاتے۔

ضعیف روایات

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس رات کتے نہیں بھونکتے، درخت زمین کو سجدہ کرتے ہیں، سمندر کا پانی میٹھا ہو جاتا ہے وغیرہ۔ یہ روایات یا تو سنداً ضعیف ہیں یا ان کی کوئی اصل نہیں۔ ان باتوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ انہیں پھیلانا چاہیے۔

اہم بات

شبِ قدر کی تلاش علامات سے نہیں بلکہ محنت سے کرنی چاہیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اس قدر محنت کرتے تھے جس قدر دوسرے اوقات میں نہ کرتے۔ (صحیح مسلم 1175) یہی اصل طریقہ ہے۔

نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں

FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ رمضان اور شبِ قدر کی تیاری کے لیے FivePrayer آپ کا ساتھی ہے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

شبِ قدر کب ہوتی ہے؟

شبِ قدر رمضان کے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں ہوتی ہے: 21، 23، 25، 27 یا 29 رمضان۔ نبی ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو (صحیح بخاری 2017)۔ علما کا مشہور قول ہے کہ 27ویں رات کا احتمال سب سے زیادہ ہے۔

شبِ قدر کی سب سے افضل دعا کیا ہے؟

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ دعا کرو: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (ترمذی 3513)۔ ترجمہ: اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما۔

شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر کیوں ہے؟

اللہ تعالیٰ نے سورۃ القدر (97:3) میں فرمایا: لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ، یعنی شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے 83 سال اور 4 ماہ کے برابر ہیں، یعنی ایک رات کی عبادت کا ثواب پوری زندگی کی عبادت سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

شبِ قدر کی علامات کیا ہیں؟

صحیح روایت کے مطابق اگلی صبح سورج بغیر شعاعوں کے، گول اور ہموار طلوع ہوتا ہے (صحیح مسلم 762)۔ تاہم علما نے واضح کیا ہے کہ یہ علامت ہر سال ظاہر نہیں ہوتی یا دیکھ نہیں پاتے۔ دوسری بہت سی مشہور علامات ضعیف روایات پر مبنی ہیں۔

اعتکاف کیا ہے اور اس کا شبِ قدر سے کیا تعلق ہے؟

اعتکاف مسجد میں آخری دس دن اور راتیں گزارنا ہے۔ نبی ﷺ ہر سال رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرماتے تھے (صحیح بخاری 2025)۔ اعتکاف کا مقصد شبِ قدر کی تلاش اور پوری توجہ سے عبادت کرنا ہے تاکہ کوئی رات فوت نہ ہو۔