ایک نظر میں:

اخلاق کی بنیاد: "میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا" (بیہقی)
سلام: سوار پیدل کو، کم تعداد زیادہ کو (بخاری 6234)
کھانا: بسم اللہ، دایاں ہاتھ، اپنے سامنے سے (بخاری 5376)
اجازت: تین بار، پھر واپس (بخاری 6245)
والدین: اف تک نہ کہو (الاسراء 17:23)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ "میں صرف اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں۔" (بیہقی، شعب الایمان 7610) یہ حدیث اسلام میں اخلاق کے مقام کو بیان کرتی ہے: اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل طریقہ ہے۔

اخلاق کی اہمیت: اسلام کا مرکزی پیغام

اسلام میں اخلاق کوئی ضمنی چیز نہیں بلکہ ایمان کا لازمی جزو ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔" (ترمذی 1162) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھا اخلاق ایمان کی کمال علامت ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نہ فحش کلام کرتے تھے نہ تکلف سے فحش گو بنتے تھے اور آپ ﷺ فرماتے تھے: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔" (صحیح بخاری 3559)

قیامت کے دن میزان میں سب سے وزنی چیز کیا ہوگی؟ نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہوگا۔" (ترمذی 2002) یعنی ہزاروں نوافل سے بھی وزنی ہو سکتا ہے حسن اخلاق۔

اخلاق کا تعلق صرف انسانوں سے نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ بھی ہے: اللہ کے ساتھ ادب یہ ہے کہ اس کے احکام کی پابندی کی جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے۔

سلام پھیلانے کے آداب

سلام اسلام کا خوبصورت ترین تحفہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! تم جنت میں نہیں جاؤ گے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور ایمان کامل نہیں ہوگا جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب اسے کرو تو آپس میں محبت ہو جائے؟ سلام کو آپس میں پھیلاؤ۔" (صحیح مسلم 54)

سلام کے آداب نبی ﷺ نے یوں بتائے:

"سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔" (صحیح بخاری 6234)

سلام کے مزید آداب:

  • سلام پہلے کہنا سنت اور ثواب کا باعث ہے
  • سلام کا جواب دینا فرض یا واجب ہے، نظرانداز کرنا گناہ ہے
  • السلام علیکم پر دس نیکیاں، ورحمۃ اللہ پر بیس اور وبرکاتہ پر تیس نیکیاں ملتی ہیں (ابو داود 5195)
  • گھر میں داخل ہوتے وقت اہل خانہ کو سلام کرنا مستحب ہے
  • مسجد میں داخل ہوتے وقت بھی سلام کریں

کھانے پینے کے آداب

اسلام نے کھانے پینے کے آداب بھی بیان کیے ہیں کیونکہ یہ روزمرہ کا سب سے اہم عمل ہے:

نبی ﷺ نے فرمایا: "بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔" (صحیح مسلم 2020) اور فرمایا: "جب کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے (بسم اللہ کہے)، اگر شروع میں بھول جائے تو یاد آنے پر کہے: بسم اللہ اولہ وآخرہ۔" (ابو داود 3767)

کھانے کے مکمل آداب:

  • بسم اللہ: کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہنا
  • دائیں ہاتھ: دائیں ہاتھ سے کھانا پینا
  • اپنے سامنے سے: برتن میں سے اپنے سامنے کی جگہ سے کھانا (بخاری 5376)
  • پھونکنا منع: برتن میں پھونکنا یا سانس لینا منع ہے (بخاری 5628)
  • آخر میں الحمد للہ: کھانے کے بعد الحمد للہ کہنا
  • کھانا ضائع نہ کریں: پلیٹ چاٹنا یا انگلیاں چاٹنا بھی سنت ہے
  • بیٹھ کر پینا: کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ ہے، بیٹھ کر تین سانسوں میں پینا سنت ہے

اجازت لینے کے آداب

کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینا قرآنی حکم ہے:

النور 24:27-28 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لو اور ان کے گھر والوں کو سلام نہ کرو۔"

نبی ﷺ نے فرمایا: "اجازت مانگنا تین مرتبہ ہے، اگر اجازت مل جائے تو داخل ہو، ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔" (صحیح بخاری 6245)

اجازت لینے کے عملی آداب:

  • دروازے کے سامنے کھڑے ہونے کی بجائے ایک طرف کھڑے ہوں تاکہ اندر نظر نہ پڑے
  • پہلے سلام کریں پھر اجازت مانگیں
  • اجازت لیتے وقت اپنا نام بتائیں، محض "میں ہوں" کہنا کافی نہیں
  • تین بار سے زیادہ نہ کھٹکھٹائیں
  • اجازت نہ ملے تو بغیر ناراضگی کے واپس چلے جائیں

مجلس کے آداب

جب لوگ اکٹھے بیٹھے ہوں تو آداب کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے:

المجادلہ 58:11 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ
ترجمہ: "اے ایمان والو! جب تم سے مجلس میں جگہ کشادہ کرنے کو کہا جائے تو کشادہ کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی کرے گا۔"

مجلس کے اہم آداب:

  • کسی کو اٹھانا منع ہے: نبی ﷺ نے فرمایا: کوئی کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے (صحیح بخاری 6269)
  • سلام کر کے بیٹھیں: مجلس میں آنے پر سلام کریں
  • تین لوگوں میں چھپ کر بات نہ کریں: جب تین لوگ ہوں تو دو مل کر تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں (صحیح بخاری 6290)
  • مجلس کی دعا: جب مجلس سے اٹھیں تو یہ دعا پڑھیں: سبحانک اللہم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک وأتوب الیک
  • راز رکھنا: مجلس میں ہوئی باتیں امانت ہیں (ابو داود 4868)

مجلس ختم کرنے کی دعا

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
ترجمہ: اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری تعریف، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ (ترمذی 3433)

گفتگو کے آداب

زبان اللہ کی عطا کردہ بے قدر نعمت ہے جو بولی جائے تو پتھر پر نقش بن جاتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ یا خیر کی بات کرے یا خاموش رہے۔" (صحیح بخاری 6477)

گفتگو کے اسلامی اصول:

  • سچ بولنا: جھوٹ منافق کی علامت ہے (صحیح بخاری 33)
  • غیبت سے بچنا: غیبت مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے (الحجرات 49:12)
  • چغل خوری سے بچنا: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا (صحیح بخاری 6056)
  • گالی نہ دینا: مومن لعنت کرنے والا اور فحش گو نہیں ہوتا (ترمذی 1977)
  • دوسرے کی بات سننا: جب کوئی بات کر رہا ہو تو توجہ سے سنیں
  • بحث سے گریز: نبی ﷺ نے جنت میں گھر کی ضمانت اس کے لیے دی جو حق پر ہو کر بھی جھگڑا چھوڑ دے (ابو داود 4800)

والدین کے ساتھ حسن سلوک

اسلام میں والدین کا مقام اللہ کی عبادت کے بعد سب سے اعلی ہے:

الاسراء 17:23-24
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا
ترجمہ: "اور تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک مت کہو اور انہیں جھڑکو نہیں بلکہ ان سے نرمی کی بات کرو۔"

اس آیت میں اللہ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو اپنی عبادت کے بعد ذکر کیا ہے جو ان کے مقام کی دلیل ہے۔ "اف" سب سے معمولی ناپسندیدگی کا لفظ ہے، اور اللہ نے اتنی سی بات بھی منع کر دی، تو گالی یا مار سے معلوم ہو کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہوگا۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک کے آداب:

  • ان سے نرمی اور احترام سے بات کریں
  • ان کی خدمت کریں اور ان کی ضروریات پوری کریں
  • ان کے سامنے اونچی آواز میں نہ بولیں
  • ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کا ادب کریں
  • مرنے کے بعد بھی دعا اور صدقہ جاریہ سے ان کو فائدہ پہنچائیں

پڑوسی کے حقوق

نبی ﷺ نے پڑوسی کے حقوق پر اتنا زور دیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گمان ہوا کہ شاید پڑوسی کو وارث بنا دیا جائے:

نبی ﷺ نے فرمایا: "جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہوا شاید پڑوسی کو وارث بنا دیا جائے۔" (صحیح بخاری 6015)

پڑوسی کے حقوق:

  • پڑوسی کو تکلیف سے بچانا: وہ شخص جنتی نہیں جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو (صحیح مسلم 46)
  • اس کے ساتھ نیکی کرنا: کھانا پکائیں تو پڑوسی کو بھی بھیجیں
  • اس کی مدد کرنا: بیماری یا تکلیف میں حاضر ہونا
  • اس کا راز محفوظ رکھنا
  • اس کے گھر میں جھانکنا اور اس کی نقل کرنا منع ہے
  • تین دن تک ناراضگی برقرار رکھنا جائز نہیں

مہمان نوازی: ابراہیمی سنت

مہمان نوازی انبیا کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں کو مہمان سمجھ کر بغیر مانگے کھانا پیش کیا (الذاریات 51:26)۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے۔" (صحیح بخاری 6018)

مہمان نوازی کے آداب:

  • مہمان کا گرم جوشی سے استقبال کریں
  • تین دن تک مہمان کو اچھا کھانا کھلانا ضیافت ہے
  • تین دن کے بعد جو کرو وہ صدقہ ہے
  • مہمان پر تکلف اور بوجھ ڈالنا مناسب نہیں
  • مہمان کو الوداع کرنے کے لیے دروازے تک جانا مستحب ہے

راستے کے سات حقوق

نبی ﷺ نے راستے میں بیٹھنے سے منع فرمایا لیکن جب صحابہ نے مجبوری بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر بیٹھنا ہی ہے تو راستے کا حق ادا کرو۔" صحابہ نے پوچھا راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

"(1) نگاہ نیچی رکھو، (2) تکلیف دہ چیز ہٹاؤ، (3) سلام کا جواب دو، (4) نیکی کا حکم دو، (5) برائی سے روکو۔" (صحیح بخاری 2465، صحیح مسلم 2121)

بعض روایات میں مزید آداب ملتے ہیں: (6) راستے سے گزرنے والوں کو جگہ دو، (7) راستے میں تکلیف دہ چیز ہٹانا: نبی ﷺ نے فرمایا کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے (صحیح بخاری 2989)۔

راستے کے مزید آداب:

  • راستے میں قضاء حاجت یا پیشاب کرنا منع ہے (ابو داود 26)
  • لوگوں کے دروازوں کے سامنے لمبا نہ بیٹھیں
  • راستہ چلتے ہوئے ذکر کریں
  • ملنے والے کو سلام کریں

روزمرہ کے آداب کا خلاصہ

صبح: بیداری کی دعا، وضو کی دعا، گھر سے نکلنے کی دعا
ملاقات پر: سلام اور مصافحہ
کھانے پر: بسم اللہ، دایاں ہاتھ، اپنے سامنے سے
مجلس میں: سلام، توجہ سے سننا، راز محفوظ رکھنا
رات کو: دائیں کروٹ، سونے کی دعا، آیت الکرسی

نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں

FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ اسلامی آداب میں سب سے اہم نماز کا وقت ہے، FivePrayer آپ کا ساتھی ہے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

اسلام میں سب سے پہلے کس کو سلام کرنا چاہیے؟

نبی ﷺ نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو (صحیح بخاری 6234)۔ چھوٹا بڑے کو پہلے سلام کرے۔ سلام شروع کرنا سنت اور اس کا جواب دینا فرض یا واجب ہے۔

کھانے کے آداب کیا ہیں؟

کھانے کے آداب: بسم اللہ کہنا، دائیں ہاتھ سے کھانا، اپنے سامنے سے کھانا، برتن میں پھونکنا منع ہے (صحیح بخاری 5376)۔ اگر بسم اللہ کہنا بھول جائے تو یاد آنے پر بسم اللہ اولہ وآخرہ کہیں۔ کھانے کے بعد الحمد للہ کہیں۔

والدین کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟

قرآن (الاسراء 17:23) میں اللہ نے فرمایا: اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو، انہیں اف تک مت کہو، انہیں جھڑکو مت اور ان سے نرمی سے بات کرو۔ والدین کی خدمت نماز سے بھی افضل ہے جب تک وہ اللہ کی نافرمانی نہ کروائیں۔

پڑوسی کے کیا حقوق ہیں؟

نبی ﷺ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنا تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہوا شاید پڑوسی کو وارث بنا دیا جائے (صحیح بخاری 6015)۔ پڑوسی کو تکلیف سے بچانا، اس کی مدد کرنا اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اسلام کا حکم ہے۔

کسی کے گھر جانے کی اجازت کیسے لیں؟

قرآن (النور 24:27-28) میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لو اور سلام کرو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اجازت مانگنا تین بار ہے، اگر اجازت نہ ملے تو واپس چلے جاؤ (صحیح بخاری 6245)۔