سورۃ البقرہ ایک نظر میں:

آیات: 286 (قرآن کی سب سے لمبی سورۃ)
نوع: مدنی (ہجرت کے بعد نازل)
گائے کا قصہ: QS 2:67-74
قبلہ کی تبدیلی: QS 2:142-145
روزے کا حکم: QS 2:183-185
آیۃ الکرسی: QS 2:255 (قرآن کی عظیم ترین آیت)
لا اکراہ فی الدین: QS 2:256
آخری دو آیات: QS 2:285-286 (تحفظ کی آیات)

نبی ﷺ نے فرمایا: "قرآن پڑھو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا۔ زہرائین یعنی سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران پڑھو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے بادل یا دو سایہ دار جھنڈ یا پرندوں کی دو قطاریں، اور اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کریں گی۔" (صحیح مسلم 804)

تعارف: قرآن کی سب سے طویل سورۃ

سورۃ البقرہ قرآن کریم کی دوسری سورۃ ہے اور اس میں 286 آیات، 6201 الفاظ اور 25500 حروف ہیں۔ یہ مدنی سورۃ ہے یعنی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ اس سورۃ کا نام "البقرۃ" یعنی گائے ہے جو 67 سے 74 ویں آیات میں ذکر ہوئی گائے کے واقعے سے ماخوذ ہے۔

سورۃ البقرہ مختلف اہم موضوعات پر مشتمل ہے:

  • ایمان اور تقویٰ: آیات 1-20 میں متقین، کافرین اور منافقین کا ذکر
  • تاریخی واقعات: حضرت آدم، بنی اسرائیل اور حضرت ابراہیم کے قصے
  • عبادات کے احکام: نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج
  • معاملاتی قوانین: قرض، وصیت، طلاق، نکاح، تجارت
  • جہاد: اللہ کی راہ میں لڑنے کے احکام

نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے۔" (ترمذی 2878، حسن)۔ یہ سورۃ اپنی وسعت اور جامعیت کے لحاظ سے قرآن کا نچوڑ ہے۔

گائے کا قصہ (البقرة 2:67-74)

اس سورۃ کو "البقرۃ" یعنی گائے کا نام اس واقعے کی وجہ سے ملا جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آیا۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوا اور قاتل کا پتہ نہیں چلا۔ اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو:

البقرة 2:67 وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا بَقَرَةً
ترجمہ: "اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔"

بنی اسرائیل نے گائے کی صفات کے بارے میں بار بار سوالات کیے اور ہر بار شرائط سخت ہوتی گئیں۔ اگر پہلی بار ہی کوئی بھی گائے ذبح کر لیتے تو کافی تھا، لیکن انہوں نے آسان کام کو مشکل بنا لیا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے حکم پر فوری عمل کرنا چاہیے اور غیر ضروری سوالات سے پرہیز کرنا چاہیے۔

گائے ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کو لگایا گیا اور وہ زندہ ہو کر بول پڑا اور قاتل کا نام بتایا (2:73)۔ یہ اللہ کا معجزہ تھا جو مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت پر دلیل ہے اور قیامت کے منکرین کے لیے جواب ہے۔

قبلہ کی تبدیلی (البقرة 2:142-145)

ہجرت کے بعد ابتدائی مہینوں میں مسلمان نماز میں بیت المقدس (یروشلم) کی طرف منہ کرتے تھے۔ نبی ﷺ کی خواہش تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف ہو۔ اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی:

البقرة 2:144 قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
ترجمہ: "ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں، پس ہم آپ کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔"

ایک روایت کے مطابق یہ حکم اس وقت آیا جب نبی ﷺ مسجد قبلتین میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ صحابہ نے نماز ہی میں قبلہ بدل لیا۔ یہ واقعہ اسلام کی خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے کہ کعبہ تمام مسلمانوں کا مرکز ہے اور ابراہیمی روایت کا اتصال ہے۔

قبلہ کی تبدیلی پر یہود اور منافقین نے اعتراض کیا تو اللہ نے جواب دیا:

البقرة 2:142 سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ
ترجمہ: "بے وقوف لوگ کہیں گے: انہیں اس قبلے سے کیوں پھیر دیا جس پر وہ تھے؟ کہو: مشرق و مغرب سب اللہ کے لیے ہیں۔"

روزے کا حکم (البقرة 2:183-185)

رمضان کے روزوں کا حکم سورۃ البقرہ میں نازل ہوا۔ یہ آیات مسلمانوں کے لیے سب سے مانوس آیات میں سے ہیں:

البقرة 2:183 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔"

اس آیت میں روزے کی فرضیت کے ساتھ اس کا مقصد بھی بتایا گیا: لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ یعنی تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔ روزہ محض بھوک اور پیاس نہیں بلکہ نفس کی تربیت اور اللہ کا قرب ہے۔

البقرة 2:185 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ
ترجمہ: "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔"

رمضان اور قرآن کا تعلق اس آیت میں واضح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں قرآن کی تلاوت اور تراویح کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی سورۃ میں بیمار اور مسافر کو رخصت دی گئی اور فدیہ کا حکم آیا (2:184)۔

آیۃ الکرسی (البقرة 2:255)

آیۃ الکرسی قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "آیۃ الکرسی قرآن کی عظیم ترین آیت ہے۔" (صحیح مسلم 810)

البقرة 2:255
اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: "اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو محیط ہے اور ان کی نگہبانی اسے تھکاتی نہیں، اور وہی بلند اور عظیم ہے۔"

آیۃ الکرسی اللہ کی 9 صفات بیان کرتی ہے: وحدانیت، حیات، قیومیت، بے خوابی، مالکیت، علم، اجازت کے بغیر شفاعت کا نہ ہونا، کرسی کی وسعت اور تھکان سے پاکی۔ یہ توحید کا سب سے مکمل بیان ہے۔

آیۃ الکرسی پڑھنے کے اوقات اور فضائل

فرض نماز کے بعد: "جو ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے، اسے جنت میں جانے سے صرف موت روکتی ہے۔" (نسائی، سنن کبری 9928)
سونے سے پہلے: اللہ کی حفاظت رہتی ہے اور شیطان قریب نہیں آتا (صحیح بخاری 2311)
صبح و شام: اللہ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ

لا اکراہ فی الدین (البقرة 2:256)

آیۃ الکرسی کے فوراً بعد یہ عظیم آیت آئی ہے جو مذہبی آزادی کا اسلامی اعلان ہے:

البقرة 2:256 لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
ترجمہ: "دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی سے واضح ہو گئی ہے۔ جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔"

یہ آیت بتاتی ہے کہ اسلام کبھی زبردستی نہیں۔ ایمان دل کا عمل ہے اور دل کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کی دعوت دلیل، حکمت اور حسن اخلاق سے ہے۔ العروة الوثقى یعنی "مضبوط کڑا" توحید اور اللہ پر ایمان ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔

آخری دو آیات (البقرة 2:285-286)

سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات قرآن کریم کی سب سے برکت والی آیات میں سے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

"جو رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھے، وہ اسے کافی ہوں گی۔" (صحیح بخاری 4008، صحیح مسلم 808)
البقرة 2:285 آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
ترجمہ: "رسول اس پر ایمان لائے جو اس پر اس کے رب کی طرف سے نازل ہوا اور مومن بھی۔ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور مانا۔ اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہیے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔"
البقرة 2:286 لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
ترجمہ: "اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جو اس نے کمایا وہ اسی کے لیے ہے اور جو اس نے برا کمایا وہ اسی پر ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلوں پر ڈالا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہم طاقت نہ رکھتے ہوں۔ اور ہمیں معاف کر، ہماری بخشش کر، ہم پر رحم کر۔ تو ہی ہمارا مالک ہے، پس کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔"

آیت 286 میں تین اہم بشارتیں ہیں: پہلی یہ کہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، دوسری یہ کہ بھول اور غلطی معاف ہوتی ہے، اور تیسری یہ کہ اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ یہ آیت ہر مسلمان کے لیے راحت اور امید کا پیغام ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام فکرمند ہوئے اور اللہ نے فرمایا: "میں نے قبول کر لیا۔" (صحیح مسلم 125)

سورۃ البقرہ کے فضائل اور احادیث

گھر میں پڑھنے کی فضیلت (بخاری 5010)

نبی ﷺ نے فرمایا: "اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔ بیشک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔" (صحیح مسلم 780)

صحیح بخاری 5010 میں بھی آتا ہے کہ سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کریں گی۔

جادو اور شیطان سے حفاظت

نبی ﷺ نے فرمایا: "جو تین راتیں سورۃ البقرہ پڑھے اسے جادو نہیں لگتا۔" (طبرانی) آیۃ الکرسی بھی شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہے جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بخاری 2311 میں مذکور ہے جس میں شیطان نے اقرار کیا کہ آیۃ الکرسی پڑھنے سے اللہ کا فرشتہ حفاظت کرتا ہے۔

زہرائین کی فضیلت

نبی ﷺ نے فرمایا: "البقرہ اور آل عمران پڑھو کیونکہ وہ قیامت کے دن بادل یا دو سایہ دار جھنڈوں کی طرح اپنے پڑھنے والوں کا سایہ کریں گی۔" (صحیح مسلم 804)۔ انہیں زہرائین یعنی "دو روشن سورتیں" کہتے ہیں۔

سورۃ البقرہ میں دیگر اہم احکام

سود کی حرمت (2:275-279): اللہ نے سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا
قصاص (2:178-179): جان کے بدلے جان، لیکن معافی افضل ہے
وصیت (2:180-182): موت سے پہلے مال کی وصیت کا حکم
طلاق کے احکام (2:228-237): عدت، رجعت اور خلع کے قوانین
قرض کا لکھنا (2:282): معاہدات کو تحریر میں لانے کا حکم

نماز کے اوقات FivePrayer کے ساتھ

نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ میں 286 آیات ہیں اور یہ قرآن کریم کی سب سے لمبی سورۃ ہے۔ یہ مدنی سورۃ ہے یعنی ہجرت کے بعد نازل ہوئی۔ اس میں عقیدہ، عبادت، معاملات، قانون، تاریخ اور اخلاق سب موضوعات زیر بحث آئے ہیں۔

آیۃ الکرسی کون سی آیت ہے؟

آیۃ الکرسی سورۃ البقرہ کی آیت 255 ہے: اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ... یہ قرآن کی سب سے عظیم آیت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جو ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے، اسے جنت میں جانے سے صرف موت روکتی ہے (نسائی)۔

سورۃ البقرہ گھر میں پڑھنے کی کیا فضیلت ہے؟

نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ، بیشک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے (صحیح مسلم 780)۔ صحیح بخاری 5010 میں بھی سورۃ البقرہ کی فضیلت مذکور ہے۔

سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کی کیا فضیلت ہے؟

نبی ﷺ نے فرمایا: جو رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات (285-286) پڑھے، وہ اسے کافی ہوں گی (صحیح بخاری 4008، صحیح مسلم 808)۔ یہ آیات دعا، قبولیت اور اللہ کی رحمت کا اعلان ہیں۔

لا اکراہ فی الدین کا کیا مطلب ہے؟

لا اکراہ فی الدین (البقرة 2:256) کا مطلب ہے: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ یہ آیت مذہبی آزادی کا اسلامی اعلان ہے۔ اسلام ہمیشہ دلیل اور حکمت سے پھیلا ہے، زبردستی سے نہیں۔