ایک نظر میں:

ابتدا: پہلی ہجری، مدینہ منورہ، خواب کے ذریعے
پہلے مؤذن: حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ
فضیلت: مؤذن کی آواز تک ہر چیز گواہ (صحیح بخاری 609)
جواب: مؤذن کے جملے دہرائیں، حیعلتین پر لا حول ولا قوة
دعا: اذان کے بعد وسیلے کی دعا (صحیح بخاری 614)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچے وہاں تک کی ہر خشک اور تر چیز اس کے لیے مغفرت مانگتی ہے۔" (صحیح بخاری 609) اذان محض آواز نہیں، یہ اللہ کے حضور بلاوا ہے اور اسے سننے والے پر جواب دینا سنت ہے۔

اذان کی ابتدا

اذان کا آغاز پہلی ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا جب مسجد نبوی تعمیر ہو چکی تھی۔ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات پر غور کر رہے تھے کہ نماز کے وقت لوگوں کو کیسے جمع کیا جائے۔ کئی تجاویز سامنے آئیں: ناقوس بجانا، آگ جلانا، جھنڈا لہرانا۔ لیکن ان سب کو ناپسند فرمایا گیا کیونکہ یہ دیگر مذاہب کے طریقے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اذان کے الفاظ خواب کے ذریعے الہام فرمائے۔ حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: "جب نبی ﷺ نے ناقوس کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے تو میں نے خواب میں ایک آدمی کو دیکھا جو ناقوس اٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے اس سے کہا: کیا آپ یہ ناقوس بیچیں گے؟ اس نے کہا: تم اس سے کیا کروگے؟ میں نے کہا: اس سے نماز کے لیے بلاوا دیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: ضرور۔ پھر اس نے اذان کے الفاظ کہے۔" (ابو داود 499، ترمذی 189)

جب حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے یہ خواب نبی ﷺ کو سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ خواب سچا ہے ان شاء اللہ۔ حضرت بلال کے ساتھ جاؤ اور انہیں یہ الفاظ بتاؤ، انہیں اذان دینے کو کہو کیونکہ ان کی آواز تمہاری آواز سے بلند ہے۔"

روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا تھا مگر وہ اسے بیان کرنے آتے، راستے میں اذان کی آواز سنی اور لوٹ گئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "عمر کے خواب نے مجھ سے سبقت لے لی۔" (ابن ماجہ 706)

حضرت بلال رضی اللہ عنہ: اسلام کے پہلے مؤذن

حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کے رہنے والے تھے اور مکہ میں ایک مشرک کے غلام تھے۔ انہوں نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا اور کفار کے ہاتھوں انتہائی ظلم و ستم برداشت کیا۔ ان کے آقا امیہ بن خلف انہیں دھوپ میں گرم پتھروں پر لٹاتا اور سینے پر بھاری پتھر رکھتا تھا تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ مگر حضرت بلال رضی اللہ عنہ "احد، احد" (اللہ ایک ہے، ایک ہے) کہتے رہے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ نبی ﷺ انہیں "سیدنا بلال" کہتے تھے۔ ہجرت مدینہ کے بعد نبی ﷺ نے انہیں اسلام کا پہلا مؤذن مقرر فرمایا۔

حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دی۔ یہ لمحہ تاریخ اسلام کے سب سے یادگار لمحات میں سے ایک ہے۔ کفار مکہ کے لیے جو شخص ظلم کی علامت تھا، آج وہ اسلام کے سب سے اونچے مقام پر کھڑا ہو کر اللہ کی کبریائی کا اعلان کر رہا تھا۔

نبی ﷺ کے وصال کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دینا تقریباً چھوڑ دیا کیونکہ انہیں نبی ﷺ کی یاد آتی تھی۔ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اصرار پر انہوں نے اذان دی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رو پڑے۔

اذان کے الفاظ اور معنی

اذان کے الفاظ یہ ہیں:

اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ (دو بار)
اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ (دو بار)
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (دو بار)
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (دو بار)
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
آؤ نماز کی طرف۔ (دو بار)
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
آؤ فلاح (کامیابی) کی طرف۔ (دو بار)
اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

فجر کی اذان میں "حیَّ على الفلاح" کے بعد دو بار یہ اضافہ ہوتا ہے:

الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ
نماز نیند سے بہتر ہے۔ (دو بار)

اذان کی گہرائی

اذان "اللہ اکبر" سے شروع ہوتی ہے اور "لا إلہ إلا اللہ" پر ختم ہوتی ہے۔ شروع میں اللہ کی بڑائی اور آخر میں توحید کا اقرار۔ درمیان میں شہادتین، پھر نماز اور فلاح کی طرف بلاوا۔ یہ چند جملوں میں پوری اسلامی زندگی کا خلاصہ ہے۔

اذان کی فضیلت

اذان کی فضیلت متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے:

مؤذن کی گواہی: نبی ﷺ نے فرمایا: "مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچے وہاں تک کی ہر خشک اور تر چیز اور ہر سننے والا چاہے جن ہو یا انسان اس کے لیے قیامت کے دن گواہی دے گا۔" (صحیح بخاری 609)

لمبی گردن: نبی ﷺ نے فرمایا: "مؤذن قیامت کے دن لمبی گردن والے ہوں گے۔" (صحیح مسلم 387) یعنی وہ دوسروں سے ممتاز اور اونچے ہوں گے۔

اذان اور شیطان: نبی ﷺ نے فرمایا: "جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور ہوا خارج کرتا ہوا چلا جاتا ہے تاکہ اذان نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو تو واپس آتا ہے، اور جب اقامت کہی جائے تو پھر بھاگتا ہے۔" (صحیح بخاری 608، صحیح مسلم 389)

مؤذن کی مغفرت: نبی ﷺ نے فرمایا: "امام ضامن ہے اور مؤذن امانتدار ہے۔ اے اللہ! اماموں کو ہدایت دے اور مؤذنوں کو معاف فرما۔" (ابو داود 517، ترمذی 207)

دعا قبول ہونے کا وقت: نبی ﷺ نے فرمایا: "اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی۔" (ابو داود 521، ترمذی 212)

اذان کا جواب دینا

اذان سن کر مؤذن کے جملوں کا جواب دینا سنت موکدہ ہے:

صحیح بخاری 613
إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ
ترجمہ: "جب تم مؤذن کو سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے۔"

اذان کا جواب دینے کا طریقہ:

  • اللہ اکبر اللہ اکبر: وہی جملہ دہرائیں: اللہ اکبر اللہ اکبر
  • أشهد أن لا إلہ إلا اللہ: وہی جملہ دہرائیں
  • أشهد أن محمداً رسول اللہ: وہی جملہ دہرائیں، پھر نبی ﷺ پر درود پڑھیں
  • حیَّ على الصلاة: لا حول ولا قوة إلا بالله کہیں
  • حیَّ على الفلاح: لا حول ولا قوة إلا بالله کہیں
  • الصلاة خير من النوم (فجر میں): صدقت وبررت کہنا مروی ہے
  • اللہ اکبر اللہ اکبر: وہی جملہ دہرائیں
  • لا إلہ إلا اللہ: وہی جملہ دہرائیں

نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص سچے دل سے اذان کا جواب دے اس کے لیے جنت ہے۔" (صحیح مسلم 385)

اذان کے بعد کی دعا

اذان ختم ہونے کے بعد پہلے نبی ﷺ پر درود پڑھیں، پھر یہ دعا:

اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ
ترجمہ: "اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر کھڑا فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔"
صحیح بخاری 614
نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اذان سن کر یہ دعا پڑھے اسے قیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔"

اذان کے بعد اور نماز سے پہلے اقامت سے پہلے تک دعا مانگنا افضل ہے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی۔" (ابو داود 521)

اذان کے دیگر احکام

اذان دینے کی شرائط

مؤذن کے لیے شرائط: مسلمان ہونا، مرد ہونا، عاقل ہونا، اذان کے اوقات جاننا، اذان کے الفاظ صحیح ادا کرنا۔ اذان ترتیب کے ساتھ بلند آواز میں قبلہ رو ہو کر دی جاتی ہے۔

اذان کے وقت کام چھوڑنا

اذان سن کر ہر ممکن کام چھوڑ کر جواب دینا اور نماز کی تیاری کرنا چاہیے۔ اذان کو نظرانداز کرنا اور اس کے باوجود نماز میں دیر کرنا مذموم ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "نماز کا وقت آ جانے کے بعد جو شخص نماز سے غافل رہے وہ اللہ کا نافرمان ہے۔"

بچے کے کان میں اذان

نومولود بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا سنت ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر یہ عمل فرمایا۔ (ابو داود 5105، ترمذی 1514) اس کی حکمت یہ ہے کہ بچہ اس دنیا میں آتے ہی توحید اور نماز کی دعوت سنے۔

اذان کا وقت

اذان نماز کا وقت داخل ہونے پر دی جاتی ہے، سوائے فجر کے جہاں کچھ فقہاء کے نزدیک وقت سے پہلے بھی اذان جائز ہے تاکہ لوگ بیدار ہوں۔ اقامت نماز شروع کرنے سے فوری پہلے کہی جاتی ہے۔

نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں

FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

اذان کب اور کیسے شروع ہوئی؟

اذان پہلی ہجری میں مدینہ منورہ میں شروع ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب میں اذان کے الفاظ سیکھے، نبی ﷺ نے منظور فرمایا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو پہلا مؤذن مقرر کیا (ابو داود 499)۔

اذان کا جواب کیسے دیتے ہیں؟

مؤذن کے ہر جملے کے بعد وہی جملہ دہرائیں۔ البتہ "حیَّ على الصلاة" اور "حیَّ على الفلاح" کے جواب میں "لا حول ولا قوة إلا بالله" کہیں (صحیح بخاری 613)۔

اذان کے بعد کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟

اذان کے بعد درود پڑھ کر "اللهم رب هذه الدعوة التامة..." والی دعا پڑھیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جو یہ دعا پڑھے اسے قیامت میں میری شفاعت ملے گی (صحیح بخاری 614)۔

فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کیوں کہتے ہیں؟

یہ فجر کی اذان کا خاص اضافہ ہے جسے "تثویب" کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے: "نماز نیند سے بہتر ہے۔" یہ لوگوں کو نیند سے بیدار ہو کر فجر کی نماز ادا کرنے کی ترغیب ہے۔

کیا نومولود کے کان میں اذان دینا سنت ہے؟

ہاں، نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنا سنت ہے (ابو داود 5105)۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ بچہ دنیا میں آتے ہی توحید کی آواز سنے۔