ایک نظر میں:
• قنوت کا معنی: عاجزی سے کھڑے رہنا، طویل قیام
• احناف: وتر کی تیسری رکعت میں رکوع کے بعد
• شافعی: فجر کی آخری رکعت میں ہمیشہ
• ماخذ: ابو داود 1425، ترمذی 464
• قنوت نازلہ: مصیبت میں تمام مسالک میں جائز
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے وتر کی نماز میں پڑھنے کے لیے یہ کلمات سکھائے: اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ..." (ابو داود 1425، ترمذی 464)
قنوت کا معنی اور اہمیت
لغت میں "قنوت" کا معنی ہے: اللہ کے سامنے خضوع اور خشوع کے ساتھ کھڑے رہنا، اطاعت گزار ہونا اور طویل قیام کرنا۔ عربی زبان میں "قنت" سے مختلف معانی مراد لیے جاتے ہیں: طویل قیام، اطاعت، سکوت، نماز اور دعا۔
البقرة 2:238 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
ترجمہ: "نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی بھی، اور اللہ کے لیے عاجزانہ کھڑے رہو۔"
اصطلاح میں قنوت وہ مخصوص دعا ہے جو نماز میں قیام کی حالت میں پڑھی جاتی ہے۔ یہ دعا وتر کی نماز، فجر کی نماز، یا کسی مصیبت کے وقت کی جاتی ہے۔ اس دعا میں ہدایت، عافیت، تولیت اور برکت کی درخواست کی جاتی ہے۔
قنوت کی خاص اہمیت اس لیے ہے کہ یہ بندے اور اللہ کے درمیان براہ راست مناجات کا لمحہ ہوتا ہے۔ نماز کی حالت میں اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر دعا کرنا باقی تمام دعاؤں سے زیادہ قبولیت کے قریب ہے کیونکہ نماز میں بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔
نبی ﷺ کا معمول تھا کہ وہ رات کی نماز میں اور وتر میں طویل دعائیں مانگتے تھے۔ صحابہ کرام نے بھی اس سنت کو آگے بڑھایا اور قنوت کو وتر کا لازمی حصہ بنایا۔
وتر میں قنوت کا طریقہ
وتر کی نماز میں قنوت پڑھنا تمام مسالک میں مشروع ہے، البتہ اس کے وقت اور طریقے میں اختلاف ہے۔
احناف کا طریقہ
احناف کے نزدیک وتر کی نماز تین رکعت ہے اور قنوت تیسری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ قنوت وتر پوری سال ہر رات فرض ہے۔ رکوع کے بعد "ربنا لك الحمد" کہنے کے بعد قنوت پڑھی جاتی ہے، پھر سجدے میں جایا جاتا ہے۔
شافعی اور حنبلی طریقہ
شافعیہ کے نزدیک وتر کی قنوت آخری رکعت میں رکوع سے پہلے پڑھی جاتی ہے اور صرف رمضان کے آخری نصف میں مسنون ہے (رمضان کی پندرہویں رات کے بعد)۔ باقی سال وتر میں قنوت پڑھنا جائز ہے۔ حنابلہ کے نزدیک بھی قنوت وتر صرف رمضان کے آخری نصف میں ہے اور رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
مالکی طریقہ
مالکیہ کے نزدیک وتر میں قنوت کا ثبوت نہیں ہے۔ البتہ قنوت نازلہ (مصیبت کے وقت) وہ بھی جائز سمجھتے ہیں۔
وتر کی نماز کا وقت
وتر کی نماز عشاء کے بعد سے صبح صادق تک پڑھی جا سکتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھ لے تو اللہ اسے پوری رات پڑھنے کا ثواب دیتا ہے۔" (ابو داود 1431) تہجد پڑھنے والوں کو وتر رات کے آخر میں پڑھنی چاہیے۔
مکمل قنوت وتر: عربی، ترجمہ اور تلفظ
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی مکمل قنوت وتر یہ ہے:
اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
اردو ترجمہ
"اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی۔ مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی۔ میری کفالت فرما ان لوگوں میں جن کی تو نے کفالت فرمائی۔ جو تو نے مجھے دیا اس میں برکت دے۔ جو تو نے فیصلہ کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا۔ بے شک تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا اور جسے تو دشمن رکھے وہ عزت نہیں پاتا۔ اے ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و برتر ہے۔"
تلفظ کے ساتھ پڑھنے کا طریقہ
قنوت کو آہستہ آواز سے پڑھنا سنت ہے جب تنہا پڑھی جائے۔ جماعت میں امام بلند آواز سے پڑھے اور مقتدی آمین کہیں یا خاموشی سے سنیں۔ قنوت کو جلدی جلدی نہ پڑھیں بلکہ آہستگی اور خشوع کے ساتھ پڑھیں۔
قنوت وتر کا اضافہ
احناف میں مذکورہ قنوت کے بعد یہ اضافی الفاظ بھی پڑھے جاتے ہیں جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں:
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، نَشْكُرُكَ وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ
اردو ترجمہ: "اے اللہ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ سے معافی مانگتے ہیں، تجھ پر ایمان رکھتے ہیں، تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور تمام خیر میں تیری تعریف کرتے ہیں۔ ہم تیرا شکر کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے۔ ہم ہر اس شخص کو الگ کر دیتے ہیں جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ! ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں، تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف دوڑتے ہیں اور تیری خدمت کرتے ہیں۔ ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو آ ملنے والا ہے۔"
احناف اور جمہور کا فرق
قنوت وتر کے بارے میں فقہاء کے درمیان چند بنیادی اختلافات ہیں:
رکوع سے پہلے یا بعد؟
- احناف: رکوع کے بعد قنوت، کیونکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے رکوع کے بعد قنوت ثابت ہے۔
- شافعیہ: رکوع سے پہلے قنوت، قیام کے آخر میں رکوع سے پہلے۔
- حنابلہ: رکوع کے بعد قنوت زیادہ افضل ہے، البتہ پہلے بھی جائز ہے۔
کتنی مدت؟
- احناف: قنوت وتر پوری سال ہر رات واجب ہے۔
- شافعیہ: فجر میں پوری سال، وتر میں صرف رمضان کے آخری نصف میں۔
- حنابلہ: صرف رمضان کے آخری نصف میں وتر میں۔
- مالکیہ: وتر میں قنوت مسنون نہیں، البتہ فجر میں قنوت نازلہ جائز ہے۔
دونوں طرف کے دلائل
احناف کا استدلال حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے عمل سے ہے جو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے۔ شافعیہ کا استدلال حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے جس میں ہے کہ نبی ﷺ فجر میں ہمیشہ قنوت پڑھتے تھے (دارقطنی)۔ دونوں مسالک قرآن و سنت پر مبنی ہیں اور دونوں پر عمل درست ہے۔
اہم بات
اگر آپ احناف ہیں تو وتر کی تیسری رکعت میں رکوع کے بعد قنوت پڑھیں۔ اگر شافعی ہیں تو فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے پہلے پڑھیں۔ اگر کوئی مسافر ہو یا مختلف مسلک کی مسجد میں ہو تو امام کی اقتداء میں پیچھے چلنا لازمی ہے۔ اختلاف میں رحمت ہے۔
قنوت نازلہ
قنوت نازلہ وہ دعا ہے جو کسی بڑی مصیبت، آفت، دشمن کے حملے یا مسلمانوں پر کسی سانحے کے وقت نماز میں مانگی جاتی ہے۔ یہ تمام مسالک میں جائز ہے اور اس پر صریح احادیث موجود ہیں۔
نبی ﷺ نے جب بئر معونہ میں ستر قراء صحابہ شہید ہوئے تو ایک ماہ تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے رہے اور قاتل قبائل پر بددعا فرماتے رہے۔ (صحیح بخاری 3170)
قنوت نازلہ کا طریقہ
قنوت نازلہ فجر کی نماز میں آخری رکعت کے رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ امام بلند آواز سے پڑھے اور مقتدی آمین کہیں۔ دعا میں مظلوم مسلمانوں کے لیے مدد مانگیں اور ظالموں کے خلاف دعا کریں۔
قنوت نازلہ کی دعا کے الفاظ
اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ... (مکمل قنوت وتر کی دعا جمع کی صیغے میں) اور پھر اپنے الفاظ میں مظلوم مسلمانوں کے لیے مانگیں: اللَّهُمَّ انْصُرِ الْمُسْلِمِينَ الْمُسْتَضْعَفِينَ، وَاكْبِتِ الظَّالِمِينَ
ترجمہ: "اے اللہ! مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما اور ظالموں کو نیچا دکھا۔"
قنوت نازلہ کی مدت مقرر نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے ایک ماہ تک پڑھی۔ بعض علماء کہتے ہیں جب تک مصیبت رہے پڑھتے رہیں۔ قنوت نازلہ پانچوں نمازوں میں یا صرف فجر میں پڑھنا جائز ہے۔
فجر میں قنوت
فجر کی نماز میں قنوت کے بارے میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے۔ نبی ﷺ سے فجر میں قنوت پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں ثابت ہیں۔
شافعیہ کا موقف
شافعیہ کے نزدیک فجر کی نماز میں ہمیشہ قنوت مسنون ہے اور یہ آخری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ ان کا استدلال حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا نبی ﷺ فجر میں قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر پوچھا: کیا رکوع سے پہلے یا بعد؟ فرمایا: رکوع کے بعد۔ (صحیح مسلم 677)
احناف کا موقف
احناف کے نزدیک فجر میں عام حالات میں قنوت نہیں ہے۔ ان کا استدلال حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ہے کہ نبی ﷺ نے قنوت نازلہ ایک ماہ پڑھی پھر ترک کر دی (متفق علیہ)۔ احناف کے نزدیک فجر میں قنوت صرف نازلہ یعنی مصیبت کے وقت پڑھی جاتی ہے، ورنہ نہیں۔
حنابلہ کا موقف
حنابلہ کے نزدیک فجر میں قنوت بدعت ہے سوائے قنوت نازلہ کے۔ وہ کہتے ہیں کہ احادیث میں فجر میں دائمی قنوت کا ثبوت نہیں ہے۔
اگر کسی شافعی مسجد میں نماز پڑھیں
اگر آپ حنفی ہیں اور شافعی امام کے پیچھے فجر پڑھ رہے ہیں جو قنوت پڑھ رہا ہو تو امام کے پیچھے خاموش کھڑے رہیں یا آمین کہیں۔ نماز صحیح ہوگی۔ یہ اجتہادی اختلاف ہے اور اس پر امت میں رحمت و وسعت ہے۔
قنوت میں ہاتھ اٹھانا
قنوت پڑھتے وقت ہاتھ اٹھانے کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے:
احناف کا طریقہ
احناف کے نزدیک قنوت وتر کے شروع میں ہاتھ کندھوں تک اٹھانا واجب ہے جیسے تکبیر تحریمہ میں۔ پھر قنوت پڑھتے وقت ہاتھ باندھ لیں۔ یہ تکبیر قنوت ہے جو رکوع کے بعد کہی جاتی ہے۔
شافعی اور حنبلی طریقہ
شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک قنوت پڑھتے وقت دعا کی طرح ہاتھ اٹھانا مستحب ہے۔ نبی ﷺ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھاتے تھے (احمد، حاکم)۔ ہاتھ سینے تک اٹھائیں اور ہتھیلیاں آسمان کی طرف ہوں۔
مالکی طریقہ
مالکیہ کے نزدیک قنوت میں ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز کے اندر صرف وہی اعمال کیے جائیں جو ثابت شدہ ہیں۔
نبی ﷺ سے قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "نبی ﷺ نے ری اور اہل بئر معونہ کے لیے ایک ماہ تک قنوت پڑھی اور ہاتھ اٹھاتے تھے۔" (ابو داود 1443)
قنوت کی فضیلت
قنوت ایک عظیم دعا ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قیام کی حالت میں مانگی جاتی ہے۔ اس دعا میں جو چیزیں مانگی گئی ہیں وہ دین و دنیا کی تمام بھلائیوں کا خلاصہ ہیں:
- ہدایت مانگنا: اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگنا سب سے افضل دعا ہے۔ سورہ فاتحہ میں ہم روزانہ سترہ بار ہدایت مانگتے ہیں۔
- عافیت مانگنا: نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ سے عافیت مانگو کیونکہ یقین کے بعد سب سے بہتر چیز عافیت ہے۔" (ترمذی 3558)
- تولیت مانگنا: اللہ کی کفالت اور سرپرستی مانگنا یعنی تمام معاملات اس کے سپرد کرنا۔
- برکت مانگنا: جو کچھ ملا ہے اس میں برکت مانگنا کیونکہ قلیل مال میں برکت کثیر مال سے بہتر ہے۔
- شر سے بچانا: قضاء کے شر سے حفاظت مانگنا، یعنی بری قسمت سے اللہ کی پناہ۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ الفاظ سکھائے جو میں وتر کی نماز میں پڑھوں۔" (ابو داود 1425) یہ حدیث دلیل ہے کہ نبی ﷺ نے خود اس دعا کا انتخاب کیا اور اسے سکھایا۔
قنوت کی دعا مانگتے وقت خشوع اور حضور قلب کا اہتمام کریں۔ محض زبان سے الفاظ ادا کرنا کافی نہیں، بلکہ ان الفاظ کا معنی سمجھ کر اللہ سے مانگنا مطلوب ہے۔ دعا کے وقت آنکھیں بند نہ کریں اور نگاہ سجدے کی جگہ پر رکھیں۔
جو شخص وتر کی نماز باقاعدگی سے ادا کرے اور قنوت خشوع کے ساتھ پڑھے اسے اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہوتا ہے۔ رات کی نماز میں اللہ سے مناجات کرنا اور اپنی حاجات بیان کرنا مومن کی پہچان ہے۔ اللہ رات کے آخری تہائی حصے میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور پوچھتے ہیں: "کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں عطا کروں؟" (صحیح بخاری 1145)
FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس۔
FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔
عام سوالات
قنوت کا کیا معنی ہے؟
قنوت کا معنی ہے اللہ کے سامنے عاجزی اور خشوع کے ساتھ کھڑے رہنا۔ عربی زبان میں قنوت کا مطلب طویل قیام، اطاعت اور دعا ہے۔ نماز میں قنوت اس مخصوص دعا کو کہتے ہیں جو وتر یا فجر کی نماز میں مانگی جاتی ہے۔
احناف اور شافعی قنوت میں کیا فرق ہے؟
احناف کے نزدیک قنوت صرف وتر میں واجب ہے اور تیسری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ شافعیہ کے نزدیک فجر کی نماز میں بھی ہمیشہ قنوت ہے، آخری رکعت میں رکوع سے پہلے۔ دونوں کے دلائل حدیث سے ہیں اور دونوں درست ہیں۔
قنوت وتر کب پڑھیں؟
احناف کے نزدیک قنوت وتر پوری سال ہر رات پڑھیں۔ حنابلہ کے نزدیک صرف رمضان کے آخری نصف میں۔ شافعیہ کے نزدیک وتر میں رمضان کے آخری نصف میں اور فجر میں ہمیشہ۔
قنوت نازلہ کیا ہے اور کب پڑھیں؟
قنوت نازلہ وہ دعا ہے جو کسی بڑی مصیبت یا آفت کے وقت نماز میں مانگی جاتی ہے۔ نبی ﷺ نے صحابہ کے قتل ہونے پر ایک ماہ تک فجر میں قنوت نازلہ پڑھی (صحیح بخاری 3170)۔ یہ تمام مسالک میں جائز ہے۔
قنوت میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے؟
احناف کے نزدیک قنوت کے شروع میں ہاتھ اٹھانا واجب ہے۔ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک دعا کی طرح ہاتھ اٹھانا مستحب ہے۔ مالکیہ کے نزدیک ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے۔ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانا نبی ﷺ سے ثابت ہے (ابو داود 1443)۔