ایک نظر میں:
• حکم: نماز جنازہ فرض کفایہ ہے
• تکبیرات: چار تکبیرات
• تلاوت: فاتحہ، درود ابراہیمی، دعائے مغفرت
• تدفین: دائیں کروٹ، قبلہ رخ (بخاری 1350)
• تعزیت: تین دن تک جائز
نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی جنازے کے ساتھ مسلمان کے گھر سے نماز تک جائے اور پھر دفن تک رہے اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کے برابر۔" (صحیح بخاری 1325)
جنازے کی نماز کا حکم
نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ ادا کر لی تو سب کے ذمے سے فریضہ ادا ہو گیا۔ لیکن اگر کسی نے بھی ادا نہ کی تو تمام مسلمان گنہگار ہوں گے جن تک خبر پہنچی ہو۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "جو مسلمان مر جائے اور اس پر چالیس ایسے آدمیوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کی بخشش کے بارے میں ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔" (صحیح مسلم 948)
نماز جنازہ ادا کرنا میت کا حق ہے اور زندہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے جب بھی کوئی مسلمان وفات پائے تو اس کے پڑوسی، دوست احباب اور رشتہ داروں کا فرض ہے کہ جنازہ میں شرکت کریں اور میت کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ نبی ﷺ نے خود صحابہ کرام کے جنازوں میں شرکت فرمائی اور انہیں بھی جنازوں میں شرکت کی تاکید فرمائی۔
میت کو غسل دینا
مسلمان میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "میت کو غسل دو اور اسے کفن پہناؤ اور خوشبو لگاؤ اور نماز جنازہ پڑھو۔" (مستدرک حاکم)
غسل کا طریقہ
میت کو اس طرح غسل دیا جاتا ہے:
- پہلے پانی گرم کریں اور غسل کی جگہ تیار کریں۔
- میت کے ستر کو ڈھانپ کر رکھیں۔
- پہلے استنجاء کریں (ناپاکی دور کریں)۔
- پھر مکمل غسل دیں: سر اور داڑھی کو بیری کے پتوں کے پانی سے دھوئیں۔
- دائیں طرف سے شروع کریں۔
- تین یا پانچ یا سات بار غسل دینا بہتر ہے۔
- آخری بار کافور ملا پانی استعمال کریں۔
نبی ﷺ نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کے غسل کے وقت خواتین کو ہدایت فرمائی: "اسے تین، پانچ یا سات بار غسل دو، اگر ضروری سمجھو تو اس سے زیادہ بھی۔ آخری بار کافور یا کافور کا پانی استعمال کرو۔" (صحیح بخاری 1254)
شہید کو غسل نہیں دیا جاتا۔ جو شخص میدان جنگ میں اللہ کی راہ میں شہید ہو اسے اسی حالت میں دفنایا جاتا ہے (صحیح بخاری 1343)۔
کفن کا طریقہ
مرد کے لیے تین کپڑے سنت ہیں اور عورت کے لیے پانچ کپڑے۔ کفن سفید ہونا چاہیے۔
مرد کا کفن
مرد کے لیے تین کپڑے ہیں:
- لفافہ: پورے جسم کو ڈھانپنے والی چادر
- ازار: کمر سے پاؤں تک
- قمیص: سینہ سے پاؤں تک کی چادر
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "نبی ﷺ کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفنایا گیا جن میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔" (صحیح بخاری 1271)
عورت کا کفن
عورت کے لیے پانچ کپڑے ہیں: ازار، قمیص، خمار (سر کا کپڑا)، لفافہ اور سینہ بند۔
کفن کے بارے میں
کفن سادہ اور سفید ہونا چاہیے۔ بہت مہنگا کفن پہنانا فضول خرچی ہے۔ نبی ﷺ نے سادگی کی تعلیم دی ہے۔ احرام میں وفات پانے والے کو احرام کے کپڑوں ہی میں کفنایا جاتا ہے (صحیح بخاری 1267)۔
جنازہ اٹھانا
جنازہ اٹھانے میں شرکت بہت بڑا ثواب ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جنازے کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "جنازے کے ساتھ جلدی چلو۔ اگر میت نیک ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر اس کے علاوہ ہے تو ایک برائی ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔" (صحیح بخاری 1314)
جنازے کے آگے چلنا، پیچھے چلنا یا کندھا دینا سب جائز ہے۔ نبی ﷺ نے جنازے کے آگے، پیچھے اور دائیں بائیں چلنا سب کو جائز قرار دیا۔ جنازے کے ساتھ خاموشی اور وقار سے چلنا چاہیے اور باتوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔
جنازے کے وقت بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے کھڑے ہو جانا مستحب ہے۔ نبی ﷺ ایک یہودی کے جنازے کے گزرتے وقت کھڑے ہو گئے اور فرمایا: "کیا یہ ایک نفس نہیں ہے؟" (صحیح بخاری 1312)
نماز جنازہ کا طریقہ
نماز جنازہ بغیر رکوع و سجود کے ادا کی جاتی ہے۔ اس میں صرف چار تکبیرات اور قیام ہے۔ نماز جنازہ کا طریقہ درج ذیل ہے:
نماز شروع کرنے سے پہلے
- وضو کرنا لازم ہے۔
- میت کو آگے رکھیں: امام مرد میت کی کمر کے سامنے کھڑا ہو اور عورت کی کمر کے سامنے کھڑا ہو (ابو داود 3194)۔
- دل میں نیت کریں: "میں اس میت کی نماز جنازہ پڑھتا ہوں۔"
- صفیں بنائیں، بہتر ہے کہ تین صفیں ہوں۔
پہلی تکبیر: تکبیر تحریمہ
ہاتھ کندھوں تک یا کانوں تک اٹھا کر "اللَّهُ أَكْبَرُ" کہیں، پھر ہاتھ باندھ لیں۔ اس کے بعد ثناء پڑھنا مستحب ہے، پھر سورہ فاتحہ پڑھیں۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
پہلی تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ پڑھیں۔
دوسری تکبیر: درود ابراہیمی
بغیر ہاتھ اٹھائے دوسری "اللَّهُ أَكْبَرُ" کہیں پھر درود ابراہیمی پڑھیں:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
دوسری تکبیر کے بعد درود ابراہیمی پڑھیں۔
تیسری تکبیر: دعائے میت
تیسری "اللَّهُ أَكْبَرُ" کہنے کے بعد میت کے لیے مغفرت کی دعا پڑھیں۔ یہ نماز جنازہ کا سب سے اہم حصہ ہے۔
چوتھی تکبیر اور سلام
چوتھی "اللَّهُ أَكْبَرُ" کہیں پھر دائیں طرف "اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ" کہہ کر سلام پھیریں، پھر بائیں طرف بھی سلام پھیریں۔ بعض فقہاء کے نزدیک ایک سلام کافی ہے۔
مکمل دعائے مغفرت
تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مَدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَاراً خَيْراً مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلاً خَيْراً مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجاً خَيْراً مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ
اردو ترجمہ: "اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے اور اس سے درگزر فرما۔ اس کی مہمانداری عزت والی کر، اس کی قبر کشادہ فرما، اسے پانی، برف اور اولے سے دھو دے اور گناہوں سے اس طرح پاک کر جیسے سفید کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے۔ اسے اس کے گھر سے بہتر گھر، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے اور اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی عطا فرما اور اسے جنت میں داخل کر اور قبر کے عذاب اور جہنم کے عذاب سے بچا۔" (صحیح مسلم 963)
بچے کی نماز جنازہ میں دعا
اگر بچہ ہو جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو تو یہ دعا پڑھیں: "اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ فَرَطاً لِأَبَوَيْهِ وَسَلَفاً وَأَجْراً وَشَفِيعاً مُجَاباً" یعنی "اے اللہ اسے اس کے والدین کے آگے جانے والا، ان کے ثواب کا ذریعہ اور ان کے لیے قبول شفاعت کرنے والا بنا۔" (ابو داود 3180)
تدفین کا طریقہ
قبر بنانا اور میت کو دفنانا بھی فرض کفایہ ہے۔ تدفین کا طریقہ یہ ہے:
قبر کی گہرائی اور شکل
قبر اتنی گہری ہونی چاہیے کہ بدبو نہ آئے اور درندے نہ پہنچ سکیں۔ قبر کی دو قسمیں ہیں: (1) لحد: ایک طرف سے کھودی ہوئی کوٹھڑی جو احناف اور جمہور کے نزدیک افضل ہے۔ (2) شق: بیچ میں کھودی ہوئی جگہ۔
میت کو قبر میں اتارنا
نبی ﷺ نے فرمایا: "میت کو قبلہ کی طرف منہ کرکے رکھو۔" (صحیح بخاری 1350)
میت کو قبر میں اتارتے وقت یہ دعا پڑھیں:
بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ
ترجمہ: "اللہ کے نام سے اور رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر۔" (ابو داود 3213)
میت کو دائیں کروٹ لٹائیں اور چہرہ قبلہ کی طرف کریں۔ کپڑا سر کے پاس سے اور پاؤں کی طرف سے کھول دیں تاکہ میٹی کا جسم سے رابطہ ہو۔ پھر اینٹیں یا تختے لگا کر بند کریں اور مٹی ڈالیں۔
تین مٹھی مٹی ڈالنا
قبر کو بھرنے کے بعد سر کی طرف سے تین بار مٹی ڈالنا سنت ہے۔ نبی ﷺ نے ایک جنازے پر تین مٹھی مٹی ڈالی (ابن ماجہ 1565)۔ قبر کو زمین سے ایک بالشت تک بلند کریں اور اسے پہچان کے لیے کوئی نشان رکھیں۔
قبر کے پاس دعا
تدفین کے بعد قبر کے پاس کھڑے ہو کر میت کے لیے دعا کریں۔
نبی ﷺ جب میت کو دفن کر لیتے تو اس کی قبر کے پاس کھڑے ہوتے اور فرماتے: "اپنے بھائی کے لیے مغفرت مانگو اور اس کی ثابت قدمی کی دعا کرو کیونکہ ابھی اس سے سوال ہونا ہے۔" (ابو داود 3221)
تعزیت اور قبر کی زیارت
تعزیت کا طریقہ
تعزیت یعنی میت کے گھر والوں سے ہمدردی کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس مسلمان نے اپنے بھائی کی مصیبت میں تعزیت کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے کرامت کا لباس پہنائے گا۔" (ابن ماجہ 1601)
تعزیت کے وقت یہ دعا پڑھنا سنت ہے: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ
ترجمہ: "اللہ ہی کے لیے ہے جو اس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کی اس کے پاس ایک مقررہ مدت ہے، پس صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو۔" (صحیح بخاری 1284)
میت کے گھر والوں کے لیے کھانا بھیجنا مستحب ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایسی مصیبت آئی ہے جس سے وہ مشغول ہیں۔" (ترمذی 1073)
قبر کی زیارت
قبروں کی زیارت کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ نبی ﷺ نے ابتداء میں قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا پھر اجازت دے دی:
نبی ﷺ نے فرمایا: "میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔" (صحیح مسلم 976)
قبر کی زیارت کے وقت یہ دعا پڑھنا سنت ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ
ترجمہ: "سلام ہو تم پر اے ایمان دار اور مسلمان قبر والو! اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔" (صحیح مسلم 975)
ممنوع افعال
جنازے اور تدفین کے موقع پر کچھ افعال سے منع کیا گیا ہے:
- نوحہ (ماتم) کرنا: بلند آواز سے رونا، بال نوچنا، گریبان چاک کرنا، منہ پیٹنا حرام ہے (صحیح بخاری 1294)۔
- قبر پر عمارت بنانا: نبی ﷺ نے قبر کو پختہ کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا (صحیح مسلم 970)۔
- قبر پر لکھنا: نبی ﷺ نے قبر پر لکھنے سے بھی منع فرمایا (ترمذی 1052)۔
- قبر پر بیٹھنا: نبی ﷺ نے فرمایا: "قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے کہ انگاروں پر بیٹھو۔" (صحیح مسلم 971)
- قبر پر پھول چڑھانا: اس کی کوئی اصل نہیں اور یہ بدعت ہے۔
- کثرت سے تعزیت کرنا: تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں سوائے بیوی کے شوہر کے لیے چار مہینے دس دن۔
FivePrayer: پانچوں نمازوں کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس۔
FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔
عام سوالات
نماز جنازہ فرض ہے یا سنت؟
نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔ اگر محلے کے کچھ مسلمانوں نے ادا کر لی تو سب کا فرض ادا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی نے نہ پڑھی تو سب گنہگار ہوں گے۔ اس میں شرکت پر بہت بڑا ثواب ہے (صحیح بخاری 1325)۔
نماز جنازہ میں کتنی تکبیرات ہیں؟
نماز جنازہ میں چار تکبیرات ہیں: پہلی کے بعد سورہ فاتحہ، دوسری کے بعد درود ابراہیمی، تیسری کے بعد دعائے مغفرت اور چوتھی کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے (صحیح مسلم 963)۔
جنازے کی نماز میں کیا دعا پڑھیں؟
تیسری تکبیر کے بعد یہ دعا پڑھیں: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ..." (صحیح مسلم 963)۔ مکمل دعا اوپر موجود ہے۔ عورت کے جنازے میں "لَهُ" کی جگہ "لَهَا" کہیں۔
میت کو قبر میں کس طرف لٹائیں؟
میت کو قبر میں دائیں کروٹ پر لٹائیں اور چہرہ قبلہ کی طرف کریں۔ اتارتے وقت "بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ" پڑھیں (ابو داود 3213)۔
تعزیت کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟
تعزیت میں میت کے گھر والوں سے ہمدردی کریں اور یہ دعا پڑھیں: "إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى..." (صحیح بخاری 1284)۔ تعزیت تین دن کے اندر کریں۔ میت کے گھر والوں کے لیے کھانا بھیجنا مستحب ہے (ترمذی 1073)۔