اہم نکات ایک نظر میں:

قربانی: واجب (احناف) یا سنت موکدہ (دیگر ائمہ)، 10 تا 12 ذوالحجہ
جانور: بکری 1 سال، گائے 2 سال، اونٹ 5 سال
گوشت: تین حصے: خود، رشتہ دار، غریب
ذوالحجہ کے دس دن: افضل ترین عبادت کے دن
ماخذ: صحیح بخاری 5545، صحیح مسلم 1966

عید الاضحی کا مطلب ہے قربانی کی عید۔ یہ تہوار حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم عمل کی یادگار ہے جب انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس فرمانبرداری کو قبول فرمایا اور جنت سے مینڈھا بھیج کر آزمائش ختم کر دی۔ اس واقعے نے قیامت تک کے مسلمانوں کو قربانی کی سنت عطا کی۔

عید الاضحی کا پس منظر اور اہمیت

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس آزمائش کا ذکر سورۃ الصافات میں فرمایا ہے:

الصافات 37:103-107 فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
ترجمہ: "پھر جب دونوں نے فرمانبرداری اختیار کر لی اور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بل لٹا دیا اور ہم نے پکارا: اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ اور ہم نے ایک بڑے ذبح سے اسے فدیہ دے دیا۔"

اللہ تعالیٰ نے قربانی کا یہ عمل قیامت تک جاری رکھنے کا حکم فرمایا۔ سورۃ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا:

الکوثر 108:2 فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
ترجمہ: "پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔"

ذوالحجہ کے پہلے دس دن: افضل ترین ایام

ذوالحجہ کے پہلے دس دن سال کے افضل ترین دن ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"ان دنوں سے زیادہ کوئی دن ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، ماسوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔" (صحیح بخاری 969)

ان دنوں کے مستحب اعمال

  • روزے: نو ذوالحجہ کا روزہ خاص طور پر مستحب ہے
  • ذکر اللہ: تکبیر، تہلیل اور تحمید کثرت سے پڑھنا
  • صدقہ: اللہ کی راہ میں خرچ کرنا
  • نماز: نوافل کا اہتمام
  • توبہ: گناہوں سے سچی توبہ

یوم عرفہ کا روزہ

نو ذوالحجہ یعنی یوم عرفہ کا روزہ بہت افضل ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ پچھلے ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہ معاف کر دے گا۔" (صحیح مسلم 1162) البتہ حجاج کو یہ روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔

قربانی کا حکم اور شرائط

احناف کے نزدیک قربانی واجب ہے اور شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک سنت موکدہ ہے۔ قربانی واجب ہونے کی شرائط یہ ہیں:

  • مسلمان ہونا
  • عاقل اور بالغ ہونا
  • مقیم ہونا: مسافر پر قربانی واجب نہیں
  • صاحب نصاب ہونا: زکوٰۃ کے نصاب کے برابر مال ہو
نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔" (سنن ابن ماجہ 3123، حسن)

قربانی کا وقت

قربانی کا وقت دس ذوالحجہ کو عید کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے اور بارہ ذوالحجہ کے غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ نماز سے پہلے ذبح کی گئی قربانی معتبر نہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے گوشت کھایا نہ قربانی کی، اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی مکمل ہوئی۔" (صحیح بخاری 5545)

قربانی کے جانور اور ان کی شرائط

جانوروں کی عمر

  • بکری، دنبہ، بھیڑ: کم از کم ایک سال (بھیڑ یا دنبہ اگر بہت فربہ ہو تو چھ ماہ کا بھی کافی ہے)
  • گائے، بھینس: کم از کم دو سال
  • اونٹ: کم از کم پانچ سال

جانوروں کی تعداد

بکری یا دنبہ ایک شخص کی طرف سے کافی ہے۔ گائے یا اونٹ میں سات شخص شریک ہو سکتے ہیں جبکہ نیت قربانی کی ہو۔

ناقص جانور جو درست نہیں

نبی ﷺ نے فرمایا: "چار طرح کے جانور قربانی میں کافی نہیں: واضح طور پر کانا، واضح طور پر بیمار، واضح طور پر لنگڑا، اور وہ جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔" (سنن ترمذی 1497، صحیح)

اس کے علاوہ کٹے کان والا، کٹی دم والا، اندھا اور ایسا جانور جس کے سینگ جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں، ان سب کی قربانی مکروہ ہے۔

ذبح کا طریقہ اور آداب

ذبح سے پہلے

  • نیت کریں کہ یہ قربانی اللہ کے لیے ہے
  • جانور کو قبلہ رخ لٹائیں
  • جانور کے ساتھ نرمی کا برتاو کریں
  • چھری کو جانور کے سامنے تیز نہ کریں
  • تیز دھار چھری استعمال کریں

ذبح کی دعا

بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي
ترجمہ: "اللہ کے نام سے اور اللہ بہت بڑا ہے، اے اللہ یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، اے اللہ مجھ سے قبول فرما۔"

نبی ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے ذبح فرماتے اور بسم اللہ پڑھتے۔ (صحیح بخاری 5558)

قربانی کی حکمت

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحج میں قربانی کی حکمت بیان فرمائی:

الحج 22:37 لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ
ترجمہ: "اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔"

گوشت کی تقسیم

قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے:

  • ایک تہائی: اپنے اہل خانہ کے لیے
  • ایک تہائی: رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کے لیے
  • ایک تہائی: فقراء اور مساکین کے لیے

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "قربانی کا گوشت کھاو، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔" گوشت ذخیرہ کرنا جائز ہے لیکن ابتدائے اسلام میں تین دن سے زیادہ ذخیرہ کرنے سے روکا گیا تھا، بعد میں یہ پابندی ختم کر دی گئی۔ (صحیح مسلم 1977)

کھال اور ہڈیوں کا حکم

قربانی کی کھال خود استعمال کرنا جائز ہے یا صدقہ دینا افضل ہے۔ کھال کو فروخت کرنا اور اس کی رقم قصاب کو دینا جائز نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے کھال فروخت کی اس کی قربانی نہیں۔" (مستدرک حاکم)

عید الاضحی کی نماز

عید الاضحی کی نماز عید الفطر کی طرح دو رکعت ہے جس میں چھ زائد تکبیریں ہوتی ہیں۔ تکبیرات کا طریقہ بالکل وہی ہے جو عید الفطر میں ہے۔ عید الاضحی کی تکبیریں نو ذوالحجہ کی صبح سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک پڑھی جاتی ہیں۔

عید الاضحی کی خاص تکبیرات

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ

عید الاضحی میں قربانی کرنے والے کو نماز سے پہلے کچھ نہیں کھانا چاہیے بلکہ قربانی کے بعد کھانا سنت ہے۔ یہ عید الفطر کے برعکس ہے جہاں نماز سے پہلے کھانا سنت ہے۔

عید کے خطبے میں قربانی کے احکام

عید الاضحی کے خطبے میں امام قربانی کے احکام، وقت اور طریقہ بیان کرتا ہے تاکہ تمام نمازی قربانی درست طریقے سے ادا کر سکیں۔ خطبہ سننا سنت ہے۔

دنیا میں کہیں بھی نماز کے اوقات اور قبلہ کی سمت معلوم کریں۔

عام سوالات

قربانی کس پر واجب ہے؟

قربانی اس مسلمان پر واجب ہے (احناف کے نزدیک) جو عاقل، بالغ، مقیم اور صاحب نصاب ہو۔ دیگر ائمہ کے نزدیک سنت موکدہ ہے۔ مسافر پر قربانی واجب نہیں۔

قربانی کے جانور کی شرائط کیا ہیں؟

بکری یا دنبہ کم از کم ایک سال، گائے یا بھینس کم از کم دو سال اور اونٹ کم از کم پانچ سال کا ہونا چاہیے۔ جانور صحت مند، تندرست اور موٹا ہونا چاہیے۔ کانا، لنگڑا اور بہت بیمار جانور کافی نہیں۔

قربانی کا گوشت کیسے تقسیم کریں؟

ایک تہائی اپنے خاندان کے لیے، ایک تہائی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لیے، اور ایک تہائی غریبوں اور مساکین کے لیے تقسیم کرنا مستحب ہے۔ گوشت خود کھانا بھی جائز ہے۔

ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی کیا فضیلت ہے؟

نبی ﷺ نے فرمایا ان دنوں میں نیک اعمال اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں، جہاد سے بھی افضل۔ (صحیح بخاری 969) نو ذوالحجہ کا روزہ دو سال کے گناہ معاف کرتا ہے۔

عید الاضحی کی نماز کتنی رکعت ہے؟

عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے جس میں چھ زائد تکبیریں ہوتی ہیں، عید الفطر کی طرح۔ نماز کے بعد دو خطبے ہوتے ہیں جن میں قربانی کے احکام بیان کیے جاتے ہیں۔