اہم نکات ایک نظر میں:

تراویح: رمضان میں عشاء کے بعد سنت موکدہ
رکعات: 8 یا 20 رکعت (علمی اختلاف ہے)
وقت: عشاء کے بعد سے فجر سے پہلے تک
فضیلت: پچھلے تمام گناہ معاف ہوتے ہیں
ماخذ: صحیح بخاری 2009، صحیح مسلم 759

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (صحیح بخاری 2009، صحیح مسلم 759) تراویح کی نماز اسی قیام رمضان کی ادائیگی ہے جس کا نبی ﷺ نے حکم فرمایا اور خود بھی ادا فرمائی۔

تراویح کی فضیلت قرآن و حدیث میں

تراویح دراصل قیام رمضان کا ہی نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رات کی نماز کی فضیلت بیان فرمائی:

المزمل 73:20 إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ
ترجمہ: "بے شک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ رات کے دو تہائی سے بھی کم، اس کے آدھے اور اس کے ایک تہائی کے قریب کھڑے رہتے ہیں۔"
الإسراء 17:79 وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا
ترجمہ: "اور رات کے کچھ حصے میں قرآن پڑھتے ہوئے بیدار رہیں، یہ آپ کے لیے زیادہ ہے، امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے۔"

نبی ﷺ نے تراویح کی فضیلت ان الفاظ میں بیان فرمائی:

"جس نے رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔" (صحیح بخاری 2009، صحیح مسلم 759)

اسی طرح نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں اور میں نے تمہارے لیے اس کی رات کا قیام سنت کیا ہے۔" (سنن نسائی 2210، صحیح)

تراویح کی رکعات کی تعداد

تراویح کی رکعات کے بارے میں علماء کے درمیان قدیم زمانے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ دونوں اقوال قابل احترام ہیں:

گیارہ رکعت کا قول

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

"نبی ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ چار رکعت پڑھتے جن کی خوبصورتی اور طوالت کا کیا کہنا، پھر چار رکعت پڑھتے اسی طرح، پھر تین وتر پڑھتے۔" (صحیح بخاری 2013)

اس روایت کی بنا پر بعض علماء گیارہ رکعت یعنی آٹھ تراویح اور تین وتر کے قائل ہیں۔

بیس رکعت کا قول

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح پر جمع کیا:

حضرت عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت ہے: "میں رمضان میں ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد گیا تو لوگ مختلف جماعتوں میں تھے۔ حضرت عمر نے کہا: کیا اچھا ہو اگر میں ان سب کو ایک امام کے پیچھے جمع کر دوں۔ پھر آپ نے انہیں ابی بن کعب کے پیچھے جمع کر دیا۔ میں نے دوسری رات انہیں بیس رکعت تراویح پڑھتے دیکھا۔" (موطا امام مالک 380)

احناف، مالکیہ اور حنابلہ سمیت اکثر علماء بیس رکعت کے قائل ہیں کیونکہ یہ صحابہ کرام کا متواتر عمل ہے۔

علمی اختلاف کا حل

تراویح کی رکعات میں اختلاف رحمت ہے۔ اگر آپ مسجد میں باجماعت پڑھتے ہیں تو امام کی اتباع کریں چاہے وہ آٹھ پڑھائے یا بیس۔ اہم بات یہ ہے کہ تراویح ادا ہو اور خشوع و خضوع کے ساتھ ہو۔

تراویح کی ادائیگی کا طریقہ

تراویح کی نماز دو دو رکعت کر کے ادا کی جاتی ہے۔ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ طریقہ عام نماز کی طرح ہے:

دو رکعت تراویح کا طریقہ

  • نیت باندھیں: دو رکعت سنت تراویح
  • تکبیر تحریمہ کہیں: اللہ اکبر
  • ثناء پڑھیں: سبحانک اللہم وبحمدک...
  • تعوذ اور تسمیہ پڑھیں
  • سورۃ الفاتحہ پڑھیں
  • کوئی سورت یا چند آیات پڑھیں
  • رکوع، سجود اور دوسری رکعت عام نماز کی طرح
  • التحیات، درود ابراہیمی اور دعا پڑھ کر سلام پھیریں

ہر چار رکعت کے بعد تھوڑا آرام کرنا مستحب ہے۔ اسی آرام کو "ترویحہ" کہتے ہیں اور اسی سے تراویح کا نام پڑا۔ اس وقفے میں دعا یا ذکر اللہ کریں۔

تراویح کی نیت

نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ تراویح کی نیت یہ کریں:

نَوَيْتُ أَنْ أُصَلِّيَ رَكْعَتَيِ التَّرَاوِيْحِ سُنَّةَ رَسُوْلِ اللَّهِ تَعَالَىٰ إِمَامًا/مُقْتَدِيًا لِلَّهِ تَعَالَىٰ
ترجمہ: "میں نے نیت کی دو رکعت تراویح سنت رسول اللہ ﷺ امام/مقتدی بن کر اللہ کے لیے۔"

زبان سے نیت کہنا ضروری نہیں، دل میں نیت کافی ہے۔ اقتداء کی نیت امام کے پیچھے پڑھنے والے کے لیے ضروری ہے۔

تراویح کے وقفے کی دعا

ہر چار رکعت کے بعد مستحب دعا یہ ہے:

سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْهَيْبَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَنَامُ وَلَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
ترجمہ: "پاک ہے وہ جو ملک اور ملکوت کا مالک ہے، پاک ہے وہ جو عزت، عظمت، ہیبت، قدرت، بڑائی اور غلبے والا ہے، پاک ہے وہ بادشاہ جو زندہ ہے، نہ سوتا ہے اور نہ مرتا ہے، وہ پاک اور مقدس ہے، ہمارا رب اور فرشتوں اور روح کا رب۔"

گھر میں یا مسجد میں: کیا افضل ہے؟

نبی ﷺ نے ابتداءً تین یا چار راتیں مسجد میں باجماعت تراویح پڑھائی لیکن پھر بند کر دی اور فرمایا:

"مجھے ڈر تھا کہ تم پر فرض نہ کر دی جائے۔" (صحیح بخاری 1129)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں باجماعت تراویح کو منظم کیا اور انہوں نے اسے "کیا اچھی بدعت ہے" کہا، یعنی نئی چیز لیکن اچھی بات۔ (صحیح بخاری 2010)

آج جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ مسجد میں باجماعت تراویح پڑھنا زیادہ افضل ہے کیونکہ:

  • مسجد کو آباد رکھنا عبادت ہے
  • جماعت کا ثواب زیادہ ہے
  • قرآن مجید کا سننا بھی عبادت ہے
  • مسلمانوں میں اجتماعیت قائم ہوتی ہے

تراویح اور خواتین

خواتین گھر میں تراویح پڑھ سکتی ہیں اور مسجد میں بھی جا سکتی ہیں بشرطیکہ الگ انتظام ہو اور فتنے کا خطرہ نہ ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "عورتوں کو مسجد جانے سے نہ روکو۔" (صحیح بخاری 900) لیکن ساتھ ہی گھر کو بہتر بھی قرار دیا۔

تراویح میں قرآن مجید

تراویح میں قرآن مجید پڑھنا اور سننا دونوں عبادت ہیں۔ اگر حافظ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو غور سے سنیں:

الاعراف 7:204 وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
ترجمہ: "اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔"

حافظ قرآن کے پیچھے پورا قرآن ختم کروانا افضل ہے۔ نبی ﷺ رمضان میں حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور فرماتے تھے (صحیح بخاری 6)۔ اگر حافظ نہ ہو تو جتنا قرآن یاد ہو وہ کافی ہے یا چھوٹی سورتیں پڑھی جا سکتی ہیں۔

وتر کی نماز

تراویح کے بعد وتر کی نماز پڑھنا واجب ہے۔ وتر عشاء کے بعد سے فجر کی اذان تک کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے:

نبی ﷺ نے فرمایا: "وتر حق ہے تو جو چاہے تین وتر پڑھے، جو چاہے پانچ، جو چاہے سات اور جو چاہے نو وتر پڑھے۔" (سنن ابوداود 1422، صحیح)

وتر میں دعائے قنوت پڑھنا مستحب ہے خاص طور پر رمضان کے آخری نصف میں۔ رمضان میں جماعت کے ساتھ وتر پڑھنا بھی مستحب ہے۔

دعائے قنوت

اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ
ترجمہ: "اے اللہ مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے ہدایت دی، مجھے عافیت دے ان کے ساتھ جنہیں تو نے عافیت دی، میرا کارساز بن ان لوگوں کے ساتھ جن کا تو کارساز بنا، جو تو نے دیا اس میں برکت دے، اور جو تو نے فیصلہ کیا اس کے شر سے بچا، بے شک تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔"

تراویح کی خصوصی برکات

رمضان میں تراویح پڑھنے والوں کو کئی خاص فضیلتیں ملتی ہیں:

  • گزشتہ تمام گناہوں کی معافی (صحیح بخاری 2009)
  • لیلۃ القدر کی تلاش کا موقع
  • قرآن مجید سننے اور پڑھنے کا اجر
  • مسجد کی جماعت کا ثواب
  • رات کی نماز کا خاص قرب الٰہی

دنیا میں کہیں بھی نماز کے اوقات اور قبلہ کی سمت معلوم کریں۔

عام سوالات

تراویح کی نماز کتنی رکعت ہے؟

تراویح کی رکعات میں علمی اختلاف ہے۔ احناف اور اکثر علماء بیس رکعت کے قائل ہیں جبکہ بعض علماء نبی ﷺ کے عمل پر گیارہ رکعت کے قائل ہیں۔ دونوں اقوال صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔

تراویح گھر پر پڑھنا زیادہ افضل ہے یا مسجد میں؟

جمہور علماء کے نزدیک مسجد میں باجماعت تراویح پڑھنا زیادہ افضل ہے کیونکہ جماعت کا ثواب زیادہ ہے اور مسجد کو آباد رکھنا بھی عبادت ہے۔ البتہ گھر پر بھی پڑھنا جائز ہے۔

کیا تراویح میں قرآن مجید ختم کرنا ضروری ہے؟

تراویح میں قرآن مجید ختم کرنا واجب نہیں لیکن مستحب اور افضل ہے۔ اگر حافظ نہ ہو تو جتنا قرآن یاد ہو وہ پڑھنا کافی ہے۔

تراویح اور تہجد میں کیا فرق ہے؟

تراویح عشاء کے فوری بعد سونے سے پہلے پڑھی جاتی ہے جبکہ تہجد رات کے آخری حصے میں سونے کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ تراویح رمضان سے مخصوص ہے جبکہ تہجد سال بھر پڑھی جا سکتی ہے۔

تراویح کی نیت کیسے باندھیں؟

دل میں نیت کریں کہ "میں دو رکعت سنت تراویح اللہ کے لیے ادا کر رہا ہوں۔" زبان سے نیت مستحب ہے۔ امام کے پیچھے ہوں تو اقتداء کی نیت بھی کریں۔