اہم نکات ایک نظر میں:
• عید کی نماز: دو رکعت، چھ زائد تکبیریں، واجب
• وقت: طلوع آفتاب کے بیس منٹ بعد سے زوال تک
• فطرانہ: ایک صاع کھانا، نماز سے پہلے ادا کرنا افضل
• تکبیرات: شام عید سے نماز تک
• ماخذ: صحیح بخاری 956، صحیح مسلم 887
عید الفطر کا مطلب ہے روزہ کھولنے کی خوشی۔ رمضان المبارک کی عبادت اور ریاضت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ خوشی کا موقع عطا فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دو تہوار جاہلیت کے زمانے کے دیکھے اور فرمایا: "اللہ نے تمہارے لیے ان دونوں کے بجائے بہتر دو دن دیے ہیں: عید الاضحی اور عید الفطر۔" (سنن ابوداود 1134، صحیح)
عید الفطر کیا ہے؟
عید الفطر اسلام کے دو اہم تہواروں میں سے پہلا تہوار ہے جو رمضان المبارک کے اختتام پر یکم شوال کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کو ماہ رمضان کی عبادت کے صلے میں انعام کا دن ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرة میں فرمایا:
البقرة 2:185 وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
ترجمہ: "اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس ہدایت پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں دی ہے اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔"
عید کا دن اسلام میں خوشی اور اجتماعیت کا دن ہے۔ یہ صرف جشن نہیں بلکہ شکر گزاری کا دن ہے جس میں مسلمان اکٹھے ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
فطرانہ: صدقہ فطر
صدقہ فطر یا فطرانہ عید کا ایک اہم واجب رکن ہے جو رمضان کے اختتام پر ہر مسلمان پر فرض ہے:
نبی کریم ﷺ نے صدقہ فطر کو روزوں کی لغو اور فحش باتوں سے پاکی اور مسکینوں کو کھانا دینے کے لیے مقرر فرمایا۔ (سنن ابوداود 1609، ابن ماجہ 1827)
فطرانہ کی مقدار
نبی ﷺ نے فطرانہ کی مقدار ایک صاع مقرر فرمائی۔ ایک صاع تقریباً 2.5 کلو گرام کے برابر ہے۔ فطرانہ درج ذیل اجناس میں سے کسی ایک کی شکل میں ادا کیا جائے:
- گندم: ایک صاع
- جو: ایک صاع
- کھجور: ایک صاع
- کشمش: ایک صاع
- پنیر: ایک صاع
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "نبی ﷺ نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا، غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے سب مسلمانوں پر۔" (صحیح بخاری 1503، صحیح مسلم 984)
فطرانہ کا وقت
فطرانہ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ "جس نے نماز سے پہلے ادا کیا وہ مقبول زکوٰۃ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا وہ صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔" (سنن ابوداود 1609) فطرانہ رمضان کے آخری ایام میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔
فطرانہ کس کو دیا جائے؟
فطرانہ اسی شہر یا قصبے کے فقرا اور مساکین کو دینا چاہیے جہاں آپ رہتے ہیں تاکہ عید کے دن وہ بھی خوشی میں شریک ہو سکیں اور انہیں سوال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
تکبیرات عید
عید الفطر کی تکبیریں رمضان کی آخری شام یعنی چاند رات سے شروع ہوتی ہیں اور عید کی نماز تک جاری رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرة میں اس کا حکم دیا ہے:
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
ترجمہ: "اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔"
یہ تکبیریں بازاروں میں، مساجد میں، گھروں میں اور راستوں میں بلند آواز سے پڑھی جانی چاہیے تاکہ اسلام کا شعار ظاہر ہو اور اللہ کی بڑائی کا اعلان ہو۔
عید کے دن کی سنتیں
نبی کریم ﷺ نے عید کے دن کئی سنتیں قائم فرمائیں جن پر عمل کرنا مستحب ہے:
غسل اور آرائش
عید کے دن غسل کرنا سنت ہے۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے غسل فرمایا کرتے تھے۔ (موطا مالک 428) اس کے علاوہ خوشبو لگانا اور صاف یا نئے کپڑے پہننا بھی سنت ہے۔
کچھ کھا کر جانا
عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھانا سنت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "نبی ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھا کر نکلتے اور وہ طاق تعداد میں ہوتیں۔" (صحیح بخاری 953)
پیدل چل کر جانا
عیدگاہ پیدل جانا سنت ہے اور ایک راستے سے جانا اور دوسرے سے واپس آنا بھی سنت ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "نبی ﷺ عید کے دن راستہ بدل کر واپس آتے تھے۔" (صحیح بخاری 986)
عید الفطر کی نماز کا طریقہ
عید کی نماز دو رکعت ہے اور اس میں چھ زائد تکبیریں ہوتی ہیں۔ یہ نماز واجب ہے اور اسے عیدگاہ میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا افضل ہے:
پہلی رکعت
- نیت باندھیں اور تکبیر تحریمہ یعنی اللہ اکبر کہیں
- ثناء پڑھیں: سبحانک اللہم وبحمدک...
- تین زائد تکبیریں کہیں، ہر تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑ دیں
- سورۃ الفاتحہ پڑھیں
- کوئی سورت پڑھیں، افضل ہے سورۃ الاعلی
- رکوع، سجود اور باقی ارکان عام نماز کی طرح ادا کریں
دوسری رکعت
- سورۃ الفاتحہ سے پہلے تین زائد تکبیریں کہیں
- سورۃ الفاتحہ پڑھیں
- کوئی سورت پڑھیں، افضل ہے سورۃ الغاشیہ
- چوتھی تکبیر رکوع کے لیے کہیں
- نماز مکمل کریں اور سلام پھیریں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: "نبی ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی میں تکبیر کہتے تھے، پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں قبل قراءت کے۔" (سنن ابوداود 1150، صحیح)
نماز کا وقت
عید کی نماز کا وقت طلوع آفتاب کے بعد تقریباً بیس منٹ سے لے کر زوال آفتاب تک ہے۔ نبی ﷺ عید کی نماز کو قدرے تاخیر سے ادا فرماتے تاکہ لوگ فطرانہ ادا کر سکیں۔
خطبہ عید
عید کی نماز کے بعد امام دو خطبے دیتا ہے۔ نماز جمعہ کے برعکس عید کے خطبے نماز کے بعد ہوتے ہیں نہ کہ پہلے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے عید کی نماز خطبے سے پہلے ادا فرمائی۔ (صحیح بخاری 956)
خطبے میں امام لوگوں کو ان کے دینی فرائض یاد دلاتا ہے، عید کے احکام بیان کرتا ہے اور دعا کرتا ہے۔ خطبہ سننا سنت ہے لیکن جمعہ کے خطبے کے برعکس اس کا سننا واجب نہیں۔ تاہم خطبے میں شریک رہنا مستحب ہے۔
عید مبارک کہنا
عید کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا مستحب ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے ملتے تو کہتے:
تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ
ترجمہ: "اللہ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے۔"
حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "صحابہ کرام عید کے دن ملتے تو ایک دوسرے سے کہتے: تقبل اللہ منا ومنکم۔" (فتح الباری، ابن حجر) آج کل "عید مبارک" اور "عید سعید" کہنا بھی جائز ہے۔
عید کا حقیقی مفہوم
عید صرف نئے کپڑے اور خوشی کا دن نہیں بلکہ شکر گزاری کا دن ہے۔ رمضان کے روزے، تراویح اور دیگر عبادات کی قبولیت کی امید لے کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونا اور غریبوں کے ساتھ خوشی بانٹنا عید کی حقیقی روح ہے۔
عید پر اقرباء سے ملنا
عید کے دن رشتہ داروں سے ملنا، ان کا حال دریافت کرنا اور خوشی بانٹنا بھی سنت ہے۔ اسلام نے عید کو صلہ رحمی اور محبت کا موقع بنایا ہے۔ جن سے ناراضگی ہو ان سے صلح کرنا بھی عید کا ثواب ہے۔
قبرستان کی زیارت
عید کے دن قبرستان جانا جائز ہے تاکہ دنیا کی یاد تازہ ہو اور مرحومین کے لیے دعا کی جائے۔ بعض علماء نے اسے مستحب کہا ہے۔
بچوں کی تربیت
عید کا دن بچوں کو اسلامی اقدار سکھانے کا بہترین موقع ہے۔ انہیں نماز عید کی اہمیت بتائیں، فطرانہ کا فلسفہ سمجھائیں اور انہیں غریب بچوں کے ساتھ خوشی بانٹنے کی ترغیب دیں۔ نبی ﷺ نے خود بچوں کو عیدگاہ لے کر جانے کی ترغیب دی۔
دنیا میں کہیں بھی نماز کے اوقات اور قبلہ کی سمت معلوم کریں۔
عام سوالات
عید الفطر کی نماز کا طریقہ کیا ہے؟
عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے جس میں چھ زائد تکبیریں ہوتی ہیں: پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے تین تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے تین تکبیریں۔ نماز کے بعد دو خطبے ہوتے ہیں۔
فطرانہ کتنا ہے اور کب ادا کرنا ضروری ہے؟
فطرانہ ایک صاع یعنی تقریباً 2.5 کلو گندم، کھجور، جو یا کشمش ہے۔ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے لیکن رمضان کے آخری دنوں میں بھی دیا جا سکتا ہے۔
عید الفطر کے دن کی سنتیں کیا ہیں؟
غسل، خوشبو، نئے کپڑے، نماز سے پہلے کھجور کھانا، پیدل عیدگاہ جانا، ایک راستے سے جا کر دوسرے سے واپس آنا اور لوگوں کو مبارکباد دینا سنت ہے۔
عید الفطر کی تکبیریں کیا ہیں؟
"اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد" یہ تکبیریں عید کی شام سے نماز تک بلند آواز سے پڑھی جاتی ہیں۔
کیا عورتیں بھی عید کی نماز کے لیے جا سکتی ہیں؟
ہاں، نبی ﷺ نے تمام مسلمانوں کو بشمول عورتوں اور بچوں کے عیدگاہ جانے کا حکم فرمایا۔ حائضہ عورتیں نماز سے الگ رہیں گی لیکن عیدگاہ میں حاضر ہو سکتی ہیں۔ (صحیح بخاری 971)