اسلامی تاریخ کے اہم موڑ:

610 عیسوی: پہلی وحی، اسلام کا آغاز مکہ میں
622 عیسوی: ہجرت مدینہ، اسلامی تقویم کا آغاز
632-661 عیسوی: خلفائے راشدین کا دور
661-750 عیسوی: امویوں کی سلطنت، دمشق مرکز
750-1258 عیسوی: عباسیوں کا دور، بغداد مرکز
830 عیسوی: بیت الحکمہ، علم کا سنہرا دور
1187 عیسوی: صلاح الدین کا بیت المقدس فتح
1299-1922 عیسوی: عثمانی سلطنت

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلُ "کہو: زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا" (آل عمران 3:137)۔ تاریخ کا مطالعہ ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔

مکہ میں آغاز (610 عیسوی)

اسلام کی تاریخ 610 عیسوی کی اس رات سے شروع ہوتی ہے جب حضرت محمد ﷺ مکہ مکرمہ کے قریب غار حرا میں عبادت میں مشغول تھے۔ رمضان کی ستائیسویں رات فرشتہ جبریل نے نازل ہو کر وحی لائی:

العلق 96:1-5 اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
ترجمہ: "پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔"

آپ ﷺ کی عمر اس وقت 40 سال تھی۔ مکہ میں پہلے 13 سال (610-622 عیسوی) نبوت کا ابتدائی دور تھا جس میں اسلام کا پیغام خاموشی سے پھیلا۔ پہلے مسلمان حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا (بیویوں میں)، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ (مردوں میں)، حضرت علی رضی اللہ عنہ (لڑکوں میں) اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (غلاموں میں) تھے۔

تین سال کی خاموش دعوت کے بعد علی الاعلان تبلیغ شروع ہوئی۔ قریش نے مخالفت شروع کی، مسلمانوں کو تکلیف دی اور سماجی بائیکاٹ کیا۔ پہلی ہجرت حبشہ (ایتھیوپیا) کی طرف ہوئی جہاں عادل بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو پناہ دی۔ مکہ کا دور آزمائش اور صبر کا دور تھا جس میں بنیادی عقائد کی تعلیم ہوئی۔

ہجرت اور مدینہ کی ریاست (622 عیسوی)

622 عیسوی میں نبی ﷺ نے مکہ سے مدینہ (اس وقت یثرب) کی طرف ہجرت کی۔ یہ اسلامی تاریخ کا سب سے اہم موڑ ہے کیونکہ اسی سے اسلامی تقویم شروع ہوتا ہے۔ ہجرت کے دوران نبی ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ غار ثور میں تین دن رہے۔ قریش کا پیچھا تھا اور ابو بکر نے کہا: دشمن قریب ہے، نبی ﷺ نے فرمایا:

التوبة 9:40 لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا
ترجمہ: "غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"

مدینہ پہنچ کر نبی ﷺ نے کئی اہم کام کیے: مسجد نبوی کی تعمیر، مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ، میثاق مدینہ (مدینہ کے تمام قبائل کے ساتھ معاہدہ) اور اسلامی ریاست کی بنیاد۔ مدینہ کا دور شریعت کی تکمیل، غزوات اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کا دور تھا۔

اہم غزوات

مدینہ میں کئی اہم معرکے ہوئے: بدر (624 عیسوی) جس میں 313 مسلمانوں نے 1000 قریشیوں کو شکست دی، احد (625 عیسوی)، خندق (627 عیسوی) جس میں مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی، اور فتح مکہ (630 عیسوی) جب نبی ﷺ نے بغیر خونریزی کے مکہ فتح کیا اور عام معافی کا اعلان کیا۔ حجۃ الوداع (632 عیسوی) آپ ﷺ کا آخری حج تھا جس میں خطبہ حجۃ الوداع میں انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ دیا۔

خلفائے راشدین (632-661 عیسوی)

نبی ﷺ کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی۔ ان کے بعد چار صحابہ کرام نے باری باری خلافت سنبھالی جنہیں خلفائے راشدین کہا جاتا ہے:

حضرت ابو بکر صدیق (632-634 عیسوی)

دو سال کے مختصر دور میں انہوں نے ردہ کی جنگیں لڑیں، منکرین زکوٰۃ کو زیر کیا اور قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کرنے کی ابتدا کی۔ شام اور عراق کی طرف فوجیں روانہ کیں۔ ان کا قول تھا: "میرے اندر جب تک اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہو تب تک میری اطاعت کرو، جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو میری اطاعت واجب نہیں۔"

حضرت عمر فاروق (634-644 عیسوی)

ان کے دس سالہ دور میں اسلامی سلطنت نے تاریخی پھیلاؤ دیکھا۔ مصر، شام، عراق، فارس، فلسطین اور یروشلم فتح ہوئے۔ حضرت عمر نے 638 عیسوی میں خود یروشلم کا سفر کیا اور وہاں کے عیسائیوں کو مذہبی آزادی کا عہد دیا۔ انہوں نے باقاعدہ فوجی چھاؤنیاں، ڈاک خانہ نظام، پولیس فورس اور سرکاری رجسٹر قائم کیے۔ اسلامی تقویم کا آغاز بھی ان کے دور میں ہوا۔

حضرت عثمان غنی (644-656 عیسوی)

انہوں نے قرآن کریم کو حتمی شکل میں جمع کروایا اور اس کی نقلیں مختلف شہروں میں بھیجیں۔ ان کے دور میں سلطنت مزید پھیلی، بحری فوج قائم ہوئی اور افریقہ تک اسلام پہنچا۔

حضرت علی المرتضیٰ (656-661 عیسوی)

حضرت علی کے دور میں داخلی اختلافات پیدا ہوئے اور جنگ جمل (656) و جنگ صفین (657) ہوئی۔ انہوں نے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا۔ ان کے بعد حضرت معاویہ نے خلافت سنبھالی اور امویوں کا دور شروع ہوا۔

امویوں کی سلطنت (661-750 عیسوی)

امویوں نے دمشق کو دارالخلافہ بنایا۔ ان کے دور میں اسلامی سلطنت اپنی زیادہ سے زیادہ وسعت کو پہنچی۔ 711 عیسوی میں طارق بن زیاد نے جبل الطارق پار کر کے اسپین (اندلس) فتح کیا۔ مشرق میں سندھ اور پنجاب تک اسلام پہنچا جب محمد بن قاسم نے 712 عیسوی میں برصغیر میں فتوحات کیں۔ وسطی ایشیا میں بھی اسلام پھیلا۔ عربی سرکاری زبان بنی اور فن تعمیر نے ترقی کی، قبۃ الصخرہ (691 عیسوی) اسی دور کی یادگار ہے۔

عباسیوں کا دور (750-1258 عیسوی)

750 عیسوی میں عباسیوں نے امویوں کو ہٹا کر اقتدار سنبھالا اور بغداد کو نئی راجدھانی بنایا۔ عباسی دور اسلامی تہذیب کا سنہرا دور تھا۔

بیت الحکمہ (830 عیسوی)

خلیفہ مامون الرشید نے 830 عیسوی میں بغداد میں بیت الحکمہ قائم کیا جو دنیا کا سب سے بڑا علمی مرکز تھا۔ یہاں:

  • ریاضی: الخوارزمی نے الجبرا ایجاد کیا جس پر جدید ریاضی کی بنیاد ہے
  • طب: ابن سینا (Avicenna) نے "کتاب الشفاء" اور "القانون فی الطب" لکھی
  • فلکیات: ستاروں کا نظام مرتب کیا، آج بھی کئی ستاروں کے عربی نام ہیں
  • فلسفہ: یونانی فلسفے کا عربی ترجمہ اور اس پر مسلم علماء کا کام
  • کیمیا: جابر بن حیان نے کیمیا کی بنیاد رکھی

بغداد 10 لاکھ آبادی کا شہر بن گیا اور دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ خلیفہ ہارون الرشید کا دور (786-809) عباسی عروج کی چوٹی تھا۔

مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات

الجبرا (الخوارزمی)، سرجیکل آلات (ابوالقاسم الزہراوی)، آنکھوں کا آپریشن (ابن الہیثم)، قہوہ (Yemen سے)، تین کورس کا کھانا، الکحل (الکیمیا میں)، یونیورسٹی نظام (قرطبہ)۔ ان ایجادات نے مغرب کے نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کی راہ ہموار کی۔

1258 عیسوی میں منگولوں نے ہلاکو خان کی قیادت میں بغداد کو تباہ کر دیا اور آخری عباسی خلیفہ کو قتل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ دریائے دجلہ سیاہ ہو گیا کتابوں کی روشنائی سے اور سرخ ہو گیا خون سے۔

صلیبی جنگیں اور صلاح الدین (1187 عیسوی)

1095 عیسوی میں پوپ اربن دوم نے صلیبی جنگ کا اعلان کیا اور یروشلم واپس لینے کی مہم شروع ہوئی۔ 1099 عیسوی میں صلیبیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا اور وہاں مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کیا۔

1187 عیسوی میں صلاح الدین ایوبی نے اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب لکھا۔ حطین کی جنگ میں صلیبیوں کو شکست دے کر اکتوبر 1187 میں یروشلم فتح کیا۔ اور فاتح ہونے کے باوجود انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا، عیسائیوں کو ان کی مقدس جگہوں تک رسائی دی اور کسی کو قتل نہیں کیا۔ تاریخ نے انہیں سب سے بڑا مسلم فاتح اور سب سے فیاض انسان مانا۔

عثمانی سلطنت (1299-1922 عیسوی)

عثمانی سلطنت 1299 عیسوی میں عثمان اول کی قیادت میں اناطولیہ (موجودہ ترکی) میں قائم ہوئی اور 600 سال سے زیادہ قائم رہی۔

سلطان محمد فاتح اور قسطنطنیہ (1453)

سلطان محمد دوم جنہیں محمد فاتح کہا جاتا ہے، انہوں نے 21 سال کی عمر میں 1453 عیسوی میں قسطنطنیہ (Constantinople) فتح کیا جو بازنطینی سلطنت کا دارالخلافہ تھا۔ نبی ﷺ نے صدیوں پہلے اس فتح کی بشارت دی تھی:

لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ
ترجمہ: "قسطنطنیہ ضرور فتح ہوگا، اس کا امیر بہترین امیر ہوگا اور اس کی فوج بہترین فوج ہوگی۔" (مسند احمد)

قسطنطنیہ کا نام استنبول رکھا گیا اور یہ عثمانی سلطنت کا دارالخلافہ بنا۔ آیا صوفیا مسجد میں تبدیل ہوئی۔

عثمانی سلطنت کا عروج

سلطان سلیمان القانونی (1520-1566) کے دور میں عثمانی سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی تھی: ایشیا، افریقہ اور یورپ۔ مصر، شام، عراق، حجاز (مکہ اور مدینہ)، الجزائر، تونس، بلغاریہ، یونان، سربیا اور مجارستان سب عثمانی حکومت میں تھے۔

1916-1918 کی پہلی جنگ عظیم میں عثمانی سلطنت نے جرمنی کا ساتھ دیا اور شکست کھائی۔ 1922 عیسوی میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے سلطنت کا خاتمہ کیا اور جمہوریہ ترکیہ قائم کیا۔ خلافت 1924 میں ختم کی گئی جو مسلم دنیا میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔

مسلم دنیا آج

آج دنیا میں 1.9 ارب مسلمان ہیں جو دنیا کی آبادی کا تقریباً 25 فیصد ہیں۔ 57 ممالک پر مشتمل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (OIC) ہے۔ انڈونیشیا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے۔

جدید مسلم دنیا کئی چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی علمی اور اقتصادی ترقی بھی ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہوئے، ملائیشیا اور ترکی نے اقتصادی ترقی کی۔ آج دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی نظام (Islamic Finance) تیزی سے پھیل رہا ہے۔

الروم 30:4 وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
ترجمہ: "اور اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہ زبردست، رحم کرنے والا ہے۔"

مسلمانوں کے لیے یہ تاریخ محض معلومات نہیں بلکہ ایمان کی تقویت، فخر کا ذریعہ اور مستقبل کے لیے رہنمائی ہے۔ ہمارے اسلاف نے جو علم، انصاف اور تقوے کی روایت چھوڑی ہے، اسے آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

نماز کے اوقات FivePrayer کے ساتھ

نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

اسلام کا آغاز کب اور کہاں ہوا؟

اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں ہوا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر غار حرا میں پہلی وحی نازل فرمائی۔ پہلی آیات سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں (96:1-5)۔

ہجرت کیا ہے اور یہ کب ہوئی؟

ہجرت 622 عیسوی میں نبی ﷺ کا مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف نقل مکانی ہے۔ یہ اسلامی تقویم (ہجری) کا نقطہ آغاز ہے۔ اس واقعے نے مسلم ریاست کی بنیاد رکھی اور اسلام کی تاریخ میں نئے دور کا آغاز کیا۔

خلفائے راشدین کون تھے؟

خلفائے راشدین چار خلفاء ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کے بعد اسلامی ریاست کی قیادت کی: حضرت ابو بکر صدیق (632-634)، حضرت عمر فاروق (634-644)، حضرت عثمان غنی (644-656)، اور حضرت علی المرتضیٰ (656-661)۔

بیت الحکمہ کیا تھا؟

بیت الحکمہ 830 عیسوی میں بغداد میں عباسی خلیفہ مامون الرشید نے قائم کیا۔ یہ ایک عظیم علمی ادارہ تھا جہاں ریاضی، طب، فلکیات اور فلسفہ میں تحقیق ہوتی تھی اور مختلف زبانوں کی کتابوں کا عربی ترجمہ کیا جاتا تھا۔

عثمانی سلطنت کب قائم اور کب ختم ہوئی؟

عثمانی سلطنت 1299 عیسوی میں عثمان اول کی قیادت میں قائم ہوئی اور 1922 عیسوی میں ختم ہوئی۔ سلطان محمد فاتح نے 1453 میں قسطنطنیہ فتح کیا۔ یہ 600 سال سے زیادہ قائم رہنے والی عظیم مسلم سلطنت تھی۔