ایک نظر میں:
• قرآن میں 25 انبیاء کا نام کے ساتھ ذکر ہے
• حضرت آدم: پہلے انسان اور پہلے نبی، تخلیق اور جنت سے اخراج (QS 2:30-37)
• حضرت ابراہیم: آگ میں سلامت، قربانی کا عظیم واقعہ (QS 37:99-111)
• حضرت موسیٰ: فرعون سے نجات، سمندر کا پھٹنا (QS 26:10-67)
• حضرت عیسیٰ: معجزاتی پیدائش، اللہ کے کلمہ (QS 3:45-48)
• حضرت محمد ﷺ: خاتم النبیین، اسراء و معراج (QS 33:40)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ "بیشک ان کے واقعات میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے۔" (یوسف 12:111) انبیاء کے واقعات پڑھنا ایمان کو تازہ کرتا ہے اور زندگی کی مشکلوں میں راستہ دکھاتا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام: تخلیق اور جنت سے اخراج
حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے پہلے مخلوق انسان اور پہلے نبی ہیں۔ قرآن کریم میں ان کی تخلیق کا واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا:
البقرة 2:30 وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
ترجمہ: "اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔"
اللہ نے حضرت آدم کو مٹی سے تخلیق فرمایا اور انہیں تمام چیزوں کے نام سکھائے۔ پھر فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور کہا: أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ "میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے" (الاعراف 7:12)۔ تکبر کی وجہ سے ابلیس مردود ہوا۔
حضرت آدم اور حضرت حواء جنت میں رہے اور اللہ نے انہیں ایک درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا۔ شیطان نے انہیں بہکایا اور انہوں نے اس درخت کا پھل کھایا۔ اللہ نے انہیں زمین پر بھیج دیا:
البقرة 2:37 فَتَلَقَّى آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
ترجمہ: "پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی، بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔"
اس واقعے کا سبق یہ ہے کہ انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ حضرت آدم کی دعا جو قبول ہوئی: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (الاعراف 7:23) ہر مسلمان کے لیے توبہ کی دعا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام: آگ اور قربانی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قرآن میں خلیل اللہ یعنی اللہ کا دوست کہا گیا ہے (النساء 4:125)۔ ان کی زندگی آزمائشوں سے بھری تھی اور ہر آزمائش میں وہ ثابت قدم رہے۔
بتوں کا توڑنا اور آگ میں ڈالا جانا
حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور ان کے بتوں کو توڑ دیا۔ نمرود نے انہیں آگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر آگ کو ٹھنڈا کر دیا:
الانبیاء 21:68-69 قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ... قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ
ترجمہ: "انہوں نے کہا: اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو... ہم نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامت ہو جا۔"
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جو اللہ کے لیے سب کچھ چھوڑ دے، اللہ اس کے لیے ہر مشکل آسان کر دیتا ہے۔
قربانی کا عظیم واقعہ
جب حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں تو انہوں نے اپنے بیٹے کو بتایا۔ حضرت اسماعیل نے فرمایا:
الصافات 37:102 قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ
ترجمہ: "اس نے کہا: اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ کر دیں، آپ مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔"
جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا تو اللہ نے فرمایا: قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا "تم نے خواب سچ کر دکھایا" (الصافات 37:105) اور ان کی جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا۔ اسی قربانی کی یاد میں عیدالاضحی منائی جاتی ہے۔
خانہ کعبہ کی تعمیر
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے مل کر خانہ کعبہ تعمیر کیا اور دعا مانگی:
البقرة 2:127 رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بیشک تو سننے والا، جاننے والا ہے۔"
حضرت موسیٰ علیہ السلام: مصر سے نجات
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ قرآن میں سب سے زیادہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے نبی تھے جنہیں اللہ نے فرعون سے نجات دلانے کے لیے مبعوث فرمایا۔
بچپن سے نبوت تک
جب فرعون نے تمام نومولود بنی اسرائیل لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو اللہ نے حضرت موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ انہیں صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں بہا دیں۔ فرعون کے گھر کے لوگوں نے انہیں اٹھایا اور پروان چڑھایا۔ جوان ہونے پر حضرت موسیٰ کو طور پر اللہ کی آواز سنائی دی:
الشعراء 26:10 وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
ترجمہ: "اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔"
معجزات اور فرعون سے مقابلہ
حضرت موسیٰ فرعون کے دربار میں گئے اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا۔ اللہ نے انہیں کئی معجزات دیے: لاٹھی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا، اور نو آفتیں جیسے ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ لیکن فرعون نے ایمان لانے سے انکار کیا۔
آخرکار اللہ نے حضرت موسیٰ کو رات کو بنی اسرائیل کو لے کر نکلنے کا حکم دیا۔ جب وہ سمندر کے کنارے پہنچے اور فرعون کی فوج نے پیچھا کیا تو اللہ نے حکم دیا:
الشعراء 26:63 فَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
ترجمہ: "پس ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، تو وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا۔"
بنی اسرائیل خشک راستے سے گزرے اور جب فرعون نے پیچھا کیا تو سمندر اس پر بند ہو گیا۔ فرعون کے آخری الفاظ تھے: آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ (یونس 10:90)۔ لیکن اس وقت کا ایمان قبول نہ ہوا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام: معجزاتی پیدائش
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں۔ مسلمان انہیں نبی اور رسول مانتے ہیں، نہ خدا اور نہ خدا کے بیٹے۔
حضرت مریم اور معجزاتی پیدائش
اللہ نے فرشتہ جبریل کو حضرت مریم کے پاس بھیجا:
آل عمران 3:45 إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
ترجمہ: "جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔"
حضرت مریم کنواری تھیں، انہوں نے سوال کیا کہ میرے بیٹا کیسے ہوگا جبکہ کسی انسان نے مجھے چھوا نہیں۔ اللہ نے جواب دیا: كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ "اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے" (آل عمران 3:47)۔ حضرت عیسیٰ کی مثال حضرت آدم جیسی ہے کہ اللہ نے انہیں مٹی سے بنایا (آل عمران 3:59)۔
معجزات اور رفع
اللہ نے حضرت عیسیٰ کو کئی معجزات دیے: پنگھوڑے میں کلام کرنا، مردوں کو زندہ کرنا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دینا، مٹی کی چڑیا میں جان ڈالنا (آل عمران 3:49)۔ یہودیوں نے انہیں سولی دینے کی کوشش کی لیکن اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا (النساء 4:157-158)۔
حضرت محمد ﷺ: خاتم النبیین
حضرت محمد ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں۔ اللہ نے فرمایا:
الاحزاب 33:40 مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
ترجمہ: "محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کی مہر ہیں۔"
آپ ﷺ 570 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ 40 سال کی عمر میں غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی۔ 13 سال تک مکہ میں اور پھر مدینہ میں اسلام کی دعوت دی۔
اسراء و معراج
ہجرت سے ایک سال قبل، نبی ﷺ کو اسراء و معراج کا معجزاتی سفر کرایا گیا:
الاسراء 17:1 سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى
ترجمہ: "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی۔"
اسراء کے بعد معراج میں نبی ﷺ آسمانوں سے گزرے اور ہر آسمان پر مختلف انبیاء سے ملاقات ہوئی۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم، دوسرے پر حضرت عیسیٰ اور یحییٰ، تیسرے پر حضرت یوسف، چوتھے پر حضرت ادریس، پانچویں پر حضرت ہارون، چھٹے پر حضرت موسیٰ اور ساتویں پر حضرت ابراہیم سے ملاقات ہوئی۔ سدرۃ المنتہی پر اللہ نے پانچ نمازیں فرض فرمائیں۔
دیگر اہم انبیاء کے واقعات
حضرت یوسف علیہ السلام
حضرت یوسف کا قصہ قرآن نے أَحْسَنَ الْقَصَصِ یعنی "بہترین قصہ" قرار دیا (یوسف 12:3)۔ انہیں بھائیوں نے کنویں میں ڈالا، غلام بنا کر بیچا گیا، جھوٹا الزام لگا کر قید کیا گیا، لیکن ہر مشکل میں انہوں نے صبر کیا اور بالآخر مصر کے خزانوں کے نگران بنے اور بھائیوں کو معاف کیا۔
حضرت ایوب علیہ السلام
حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ نے بیماری اور مال و اولاد کی آزمائش سے آزمایا۔ 18 سال تک وہ بیمار رہے لیکن شکایت نہیں کی۔ ان کی دعا: أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ "مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے" (الانبیاء 21:83) ہر بیمار کی دعا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام
حضرت یونس نے قوم سے مایوس ہو کر بغیر اجازت چلے گئے اور مچھلی کے پیٹ میں بند ہو گئے۔ وہاں انہوں نے تسبیح پڑھی: لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (الانبیاء 21:87)۔ اللہ نے انہیں نجات دی۔
انبیاء کی سیرت سے اخذ کردہ اسباق
تمام انبیاء کی زندگیوں میں تین بنیادی اسباق ہیں:
توحید: اللہ کی وحدانیت
ہر نبی نے توحید کی دعوت دی۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ سب نے ایک ہی پیغام دیا: اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ نے فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ "ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسے وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو" (الانبیاء 21:25)۔
صبر: آزمائش میں ثابت قدمی
ہر نبی کو آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ حضرت ایوب کی بیماری، حضرت یوسف کی قید، حضرت ابراہیم کی آگ، حضرت موسیٰ کا فرعون سے مقابلہ، اور نبی ﷺ کا طائف میں پتھر کھانا۔ سب نے صبر کیا اور اللہ نے سب کو نجات دی: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ "صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا" (الزمر 39:10)۔
توکل: اللہ پر بھروسہ
ہر نبی نے مشکل وقت میں اللہ پر مکمل بھروسہ کیا۔ حضرت ابراہیم آگ میں، حضرت موسیٰ سمندر کے کنارے، اور نبی ﷺ ہجرت کے وقت غار ثور میں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اے اللہ کے رسول! دشمن ہمارے قریب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا "غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے" (التوبة 9:40)۔
قرآن میں ذکر کردہ 25 انبیاء کے نام
آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، ایوب، ذوالکفل، موسیٰ، ہارون، داود، سلیمان، الیاس، الیسع، یونس، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، اور محمد ﷺ۔ اللہ نے فرمایا: وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ (النساء 4:164)
نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں۔
FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے درست اوقات، اذان کی یاد دہانی، اور قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔
عام سوالات
قرآن میں کتنے انبیاء کا ذکر ہے؟
قرآن کریم میں 25 انبیاء کا نام کے ساتھ ذکر ہے، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے کچھ رسولوں کے قصے بیان کیے اور کچھ نہیں بیان کیے (النساء 4:164)، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ احادیث میں 124,000 انبیاء کا ذکر ملتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں کیوں ڈالا گیا؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے بتوں کو توڑ دیا کیونکہ وہ توحید کی دعوت دے رہے تھے۔ نمرود کے حکم پر انہیں آگ میں ڈالا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر آگ کو ٹھنڈا اور سلامت کر دیا: يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبیاء 21:69)۔
اسراء و معراج کیا ہے؟
اسراء رات کے وقت نبی ﷺ کا مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر ہے (الاسراء 17:1) اور معراج آسمانوں سے گزرتے ہوئے سدرۃ المنتہی تک کا سفر ہے۔ اس سفر میں نبی ﷺ کو پانچ نمازوں کا حکم ملا اور انبیاء سے ملاقات ہوئی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے کیسے نجات ملی؟
اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ لاٹھی سے سمندر پر مارو۔ سمندر پھٹ گیا اور بنی اسرائیل خشک راستے سے گزر گئے۔ جب فرعون نے پیچھا کیا تو سمندر اس پر بند ہو گیا (الشعراء 26:63-66)۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش معجزاتی کیوں تھی؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ اللہ نے فرشتہ جبریل کو حضرت مریم کے پاس بھیجا اور انہیں ایک پاکیزہ بیٹے کی خوشخبری دی (آل عمران 3:45-47)۔ ان کی پیدائش اللہ کی قدرت کا نشان ہے۔