ایک نظر میں:

پیدائش: 570 عیسوی، مکہ مکرمہ، ربیع الاول
بچپن: والدین کی وفات، دادا اور چچا کی پرورش
پہلی وحی: 610 عیسوی، غار حرا، 40 سال کی عمر
ہجرت: 622 عیسوی، اسلامی تاریخ کا آغاز
فتح مکہ: 630 عیسوی، 8 ہجری
وفات: 632 عیسوی، مدینہ منورہ، 63 سال کی عمر

سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ ہر مسلمان پر لازم ہے کیونکہ اللہ نے خود فرمایا: لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "بیشک تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔" (الاحزاب 21)۔ یہ نمونہ ہمارے سامنے تب ہی آ سکتا ہے جب ہم آپ ﷺ کی زندگی کے واقعات کو جانیں۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

محمد ﷺ 570 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں قریش کے قبیلہ بنو ہاشم میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ سال تھا جسے "عام الفیل" کہا جاتا ہے کیونکہ اس سال یمن کے حاکم ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ کعبہ کو منہدم کرنے کی مہم چلائی تھی۔ اللہ نے ابابیل کے ذریعے اس فوج کو تباہ کیا جیسا کہ سورہ الفیل میں بیان ہے۔

آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ آپ کی پیدائش سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ آپ کی والدہ حضرت آمنہ نے آپ کو حلیمہ سعدیہ کے سپرد کیا جو آپ کو بادیہ میں لے گئیں۔ چار یا پانچ سال کی عمر میں آپ ﷺ کو والدہ کے پاس واپس کیا گیا۔ جب آپ ﷺ چھ سال کے تھے تو والدہ حضرت آمنہ بھی وفات پا گئیں۔ پھر آپ کی پرورش دادا عبدالمطلب نے کی، اور ان کی وفات کے بعد چچا حضرت ابوطالب نے۔

یتیمی اور بچپن کی تنہائی نے نبی ﷺ کو رحم دل، صابر اور محتاجوں کا دردمند بنا دیا۔ اللہ نے خود اس نعمت کا ذکر کیا: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى "کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا پھر جگہ دی؟" (الضحی 6)۔

الامین: جوانی اور نکاح

جوانی میں آپ ﷺ نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا۔ آپ کی سچائی، دیانت داری اور اخلاق کریم کی وجہ سے مکہ کے لوگ آپ کو "الامین" (امانت دار) اور "الصادق" (سچا) کہتے تھے۔ یہ القاب خود مکہ کے کافروں نے آپ کو دیے تھے۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک دولت مند اور عزت دار خاتون تھیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کی تجارتی دیانت اور اخلاق سے متاثر ہو کر نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ 25 سال کی عمر میں آپ ﷺ نے 40 سالہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ یہ نکاح نبوت سے پہلے ہوا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پہلی مسلمان ہونے کا اعزاز پانے والی خاتون ہیں۔

آپ ﷺ 35 سال کی عمر میں اس وقت بھی امین ثابت ہوئے جب قریش کعبہ کی تعمیر نو کے دوران حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنے پر آپس میں جھگڑنے لگے۔ آپ ﷺ نے ایک چادر میں حجر اسود رکھ کر تمام قبائل کے سرداروں سے اسے اٹھوایا اور پھر اپنے ہاتھ سے اسے جگہ پر رکھا۔ یہ حل ایسا تھا کہ سب کو خوشی ہوئی۔

پہلی وحی اور آغاز رسالت

40 سال کی عمر میں آپ ﷺ کثرت سے غور و فکر اور عبادت میں مشغول رہنے لگے۔ مکہ کے قریب جبل نور پر غار حرا میں آپ ﷺ تنہائی میں عبادت کرتے تھے۔ 610 عیسوی میں رمضان کی ایک رات جبریل علیہ السلام پہلی بار تشریف لائے۔

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ
ترجمہ: "پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، پیدا کیا انسان کو خون کی پھٹکی سے، پڑھو اور تمہارا رب سب سے بزرگ ہے۔" (العلق 1-3)

آپ ﷺ گھر واپس آئے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ماجرا سنایا۔ انہوں نے فوراً ایمان لایا اور کہا: "اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محروموں کے لیے کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبت جھیلتے ہیں۔" (صحیح بخاری 3)

مکی دور: صبر اور آزمائش

نبوت کے ابتدائی سالوں میں اسلام کی تبلیغ خفیہ رہی۔ پہلے ایمان لانے والوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا (خواتین میں)، حضرت علی رضی اللہ عنہ (بچوں میں)، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (مردوں میں) اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (غلاموں میں) شامل تھے۔

تین سال بعد کھلم کھلا تبلیغ شروع ہوئی۔ قریش نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو ستایا: ابوجہل، ابولہب اور دیگر سردار سب سے آگے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسے غلاموں کو تپتی ریت پر لٹایا گیا۔ نبی ﷺ نے خود بھی بے شمار تکلیفیں اٹھائیں لیکن ایمان میں کوئی کمی نہ آنے دی۔

نبوت کے دسویں سال غم کا سال آیا جسے "عام الحزن" کہتے ہیں۔ اس سال حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوطالب دونوں وفات پا گئے۔ آپ ﷺ کو طائف کے سفر میں پتھروں سے لہولہان کیا گیا لیکن آپ نے طائف والوں کے لیے بددعا نہ کی بلکہ فرمایا: "اے اللہ! ان کی اولاد کو ہدایت دے۔"

اسی دور میں معراج کا واقعہ ہوا جس میں آپ ﷺ کو ایک رات میں مسجد اقصی اور پھر آسمانوں تک لے جایا گیا اور پانچ وقت کی نمازیں فرض کی گئیں (الاسراء 1)۔

ہجرت مدینہ: نئے دور کا آغاز

622 عیسوی میں مکہ کے کافروں نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اللہ نے آپ کو خبر دی اور آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے اندھیرے میں مکہ چھوڑا۔ دشمنوں سے بچنے کے لیے آپ نے تین دن غار ثور میں قیام کیا۔

مدینہ پہنچنے پر انصار نے آپ ﷺ کا والہانہ استقبال کیا۔ آپ نے مسجد نبوی تعمیر کی، مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) قائم کی اور مدینہ کی مختلف آبادیوں کے درمیان "میثاق مدینہ" کا معاہدہ کیا جو تاریخ کا پہلا تحریری دستور سمجھا جاتا ہے۔

ہجرت کی یہ تاریخ 622 عیسوی اسلامی تقویم کا نقطہ آغاز ہے۔ دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسی واقعے سے اسلامی کیلنڈر کا آغاز مقرر کیا۔

غزوات اور جہاد

مدینہ میں قیام کے دوران مسلمانوں کو مختلف غزوات میں حصہ لینا پڑا۔ نبی ﷺ کی زندگی میں تقریباً 27 غزوات ہوئے (جن میں آپ ﷺ خود شریک ہوئے) اور 60 سے زیادہ سرایا (جن میں صحابہ کو بھیجا گیا)۔

غزوہ بدر 624 عیسوی

یہ اسلام کی پہلی بڑی جنگ تھی۔ 313 مسلمانوں نے ایک ہزار سے زیادہ کافروں کے خلاف لڑ کر فتح حاصل کی۔ قرآن نے اس دن کو "یوم الفرقان" یعنی حق و باطل کے درمیان فرق کا دن قرار دیا (الانفال 41)۔

غزوہ احد 625 عیسوی

اس غزوے میں مسلمانوں کو ابتدائی کامیابی ملی لیکن تیراندازوں کے پہاڑ چھوڑ دینے سے دشمن نے پلٹ کر حملہ کیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سمیت 70 صحابہ شہید ہوئے۔ خود نبی ﷺ کو بھی زخم آئے۔ اس واقعے میں اللہ نے کئی اہم تعلیمات دیں (آل عمران 121-175)۔

غزوہ خندق 627 عیسوی

مدینہ کے چاروں طرف خندق کھود کر دشمن کو روکا گیا۔ یہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تجویز تھی۔ دشمن کے 10000 جنگجو مدینہ محاصرہ کر کے بھی کامیاب نہ ہو سکے اور ناکام واپس لوٹے (الاحزاب 9-27)۔

صلح حدیبیہ 628 عیسوی

نبی ﷺ عمرہ کے ارادے سے 1400 صحابہ کے ساتھ نکلے۔ قریش نے روکا اور ایک معاہدہ ہوا جو بظاہر مسلمانوں کے خلاف لگتا تھا لیکن اللہ نے اسے "فتح مبین" قرار دیا (الفتح 1)۔ اس معاہدے سے اسلام کی اشاعت میں بے مثال اضافہ ہوا۔

فتح مکہ 630 عیسوی

قریش نے حدیبیہ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ نبی ﷺ نے 10000 صحابہ کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی کی۔ مکہ بغیر کسی بڑی لڑائی کے فتح ہو گیا۔ کعبے میں داخل ہو کر آپ ﷺ نے 360 بتوں کو توڑا اور فرمایا:

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
ترجمہ: "حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے۔" (الاسراء 81)

پھر آپ ﷺ نے کعبے کے دروازے پر کھڑے ہو کر قریش سے پوچھا: "تم لوگ کیا سمجھتے ہو، میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟" سب نے کہا: "آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: اذهبوا فأنتم الطلقاء "جاؤ، تم سب آزاد ہو۔" یہ عام معافی آپ ﷺ کے اخلاق عظیم کی سب سے بڑی مثال ہے۔

نبی ﷺ کا کردار: قرآن کی گواہی

اللہ نے فرمایا: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ "اور بیشک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔" (القلم 4)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا (صحیح مسلم 746)۔ فتح مکہ کے دن کی معافی، طائف میں بددعا نہ کرنا، دشمنوں کے ساتھ انصاف۔ یہ سب اس "خلق عظیم" کی جھلکیاں ہیں۔

حجۃ الوداع اور وفات

10 ہجری بمطابق 632 عیسوی میں نبی ﷺ نے حج ادا کیا۔ یہ آپ ﷺ کا پہلا اور آخری حج تھا اسی لیے اسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ اس موقع پر تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ جمع تھے۔

عرفات کے میدان میں آپ ﷺ نے خطبہ دیا جو "خطبہ حجۃ الوداع" کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى
ترجمہ: "لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، کسی عجمی کو عربی پر نہیں، سرخ کو سیاہ پر نہیں، سیاہ کو سرخ پر نہیں، مگر تقوی سے۔"

اسی حج کے موقع پر آیت نازل ہوئی: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا "آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔" (المائدہ 3)۔

حج کے چند ماہ بعد 12 ربیع الاول 11 ہجری کو نبی ﷺ پر بیماری شدت اختیار کر گئی۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ آخری لمحات میں زبان پر تھا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى "اے اللہ! اعلی رفیق کی طرف (لے چل)۔" (بخاری 4463)۔

آپ ﷺ 63 سال کی عمر میں 8 جون 632 عیسوی کو وصال فرما گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں سر رکھے ہوئے۔ آپ کو انہی کے کمرے میں دفن کیا گیا جو آج مسجد نبوی کا حصہ ہے اور روضہ اطہر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

نبی ﷺ کی وفات کی خبر سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتنے متاثر ہوئے کہ کہنے لگے آپ وفات نہیں پائے۔ تب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا:

مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ
ترجمہ: "جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ وفات پا گئے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اور اسے موت نہیں آتی۔" (بخاری 3668)
نبی ﷺ کی سنت: نماز باوقت

نبی ﷺ کی اتباع میں نماز پابندی سے ادا کریں۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس فراہم کرتا ہے۔ نبی ﷺ کی محبت کا بہترین اظہار ان کی سنت پر عمل ہے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

نبی ﷺ کی پیدائش کب ہوئی؟

نبی ﷺ 570 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں ربیع الاول کی 12 تاریخ کو پیدا ہوئے۔ اس سال کو عام الفیل کہتے ہیں۔ آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ آپ کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے اور چھ سال کی عمر میں والدہ حضرت آمنہ بھی وفات پا گئیں۔

نبی ﷺ کو الامین کیوں کہا جاتا تھا؟

نبی ﷺ بچپن اور جوانی سے ہی انتہائی سچے اور امانت دار تھے۔ مکہ والوں نے انہیں "الامین" (امانت دار) اور "الصادق" (سچا) کا لقب دیا۔ حجر اسود کو جگہ پر رکھنے کا واقعہ اس کی بڑی مثال ہے جب تمام قبائل نے آپ ﷺ پر بھروسہ کیا۔

پہلی وحی کب اور کہاں نازل ہوئی؟

پہلی وحی 610 عیسوی میں رمضان کی ایک رات غار حرا میں نازل ہوئی جب آپ ﷺ کی عمر 40 سال تھی۔ جبریل علیہ السلام نے سورہ العلق کی پہلی پانچ آیات سنائیں۔ پہلی مسلمان ہونے والی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

ہجرت مدینہ کب ہوئی؟

ہجرت مدینہ 622 عیسوی میں ہوئی۔ نبی ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے۔ اسی واقعے کو اسلامی کیلنڈر کی بنیاد بنایا گیا ہے۔

نبی ﷺ کا وصال کب ہوا؟

نبی ﷺ کا وصال 12 ربیع الاول 11 ہجری بمطابق 8 جون 632 عیسوی کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ ﷺ کی عمر 63 سال تھی۔ آپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں دفن کیا گیا جو آج روضہ اطہر کے نام سے مشہور ہے۔