فوری حقائق, قربانی 2026:
• تاریخ: 6–9 جون 2026 (10–13 ذی الحجہ 1447ھ)
• حنفی مسلک: واجب (صاحبِ نصاب پر)
• جمہور (مالکی، شافعی، حنبلی): سنت مؤکدہ
• وقت: عید کی نماز کے بعد سے 13 ذی الحجہ کے غروب تک
• سنت: ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر بال اور ناخن نہ کاٹنا (مسلم 1977)
قربانی (اردو: قُربانی، عربی: أُضْحِيَة) کا لغوی مطلب ہے "قریب ہونا"، یعنی اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرنا۔ یہ عبادت صرف رسمی ذبح نہیں، بلکہ اللہ کی اطاعت میں قیمتی چیز قربان کرنے کا عملی اظہار ہے, ٹھیک ویسے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا۔
قربانی کی فضیلت
قربانی کی فضیلت قرآن کریم میں انتہائی واضح الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحج میں ارشاد فرمایا:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ
ترجمہ: "اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی تاکہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں عطا کیے ہیں۔" (سورہ الحج: 34)
اسی سورت میں آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے قربانی کی حقیقت اور روح کو ان الفاظ میں بیان فرمایا جو ہر قربانی کرنے والے کو دل میں نقش کر لینے چاہئیں:
لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ
ترجمہ: "اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح اس نے انھیں تمہارے قابو میں کیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس ہدایت پر جو اس نے تمھیں دی۔ اور نیکوکاروں کو خوشخبری دے دو۔" (سورہ الحج: 36-37)
حدیث کی کتابوں میں قربانی کی فضیلت کے حوالے سے ایک نہایت بشارت آمیز روایت بھی موجود ہے۔ سنن ابن ماجہ کی روایت 3123 میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "عید الاضحی کے دن ابن آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی) سے زیادہ محبوب نہیں، اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے نزدیک بلندی پر پہنچ جاتا ہے، پس خوشی کے ساتھ قربانی کرو۔"
حکم اور شرائط
قربانی کے حکم میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے، لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عبادت انتہائی اہم اور مؤکد ہے۔
حنفی مسلک کے نزدیک قربانی ہر اُس مسلمان پر واجب ہے جو عاقل، بالغ، مقیم (مسافر نہ ہو)، اور نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت) کا مالک ہو, چاہے مرد ہو یا عورت۔ اس مسلک میں قربانی کی فرضیت میں کوئی کمی نہیں سمجھی جاتی۔
مالکی، شافعی اور حنبلی مسالک کے نزدیک قربانی سنت مؤکدہ ہے، یعنی نبی ﷺ کی وہ پختہ سنت جسے بلا عذر چھوڑنا سخت ناپسندیدہ ہے۔ ان مسالک میں بھی اہلِ استطاعت کے لیے قربانی چھوڑنا قابلِ اعتراض ہے۔
غریب اور تنگ دست افراد پر کسی مسلک میں بھی قربانی لازم نہیں، تاہم اگر وہ محبتِ الٰہی میں کچھ نہ کچھ بندوبست کر لیں تو اللہ ان کی نیت پر زیادہ نظر فرماتے ہیں۔
جائز جانور اور عمر
قربانی کے لیے صرف مخصوص جانور جائز ہیں جنھیں شریعت نے "بہیمۃ الانعام" کہا ہے, یعنی مویشی۔ صحیح مسلم 1963 میں نبی ﷺ نے خود قربانی کے جانوروں کی تفصیل بیان فرمائی اور معیوب جانوروں سے منع کیا۔ درج ذیل جدول میں قربانی کے جانور، ان کے حصے اور کم از کم عمر کی تفصیل ہے:
| جانور | حصے | کم از کم عمر |
|---|---|---|
| اونٹ | 7 حصے | 5 سال مکمل |
| گائے / بھینس | 7 حصے | 2 سال مکمل |
| بکرا / بکری | 1 حصہ | 1 سال مکمل |
| بھیڑ / دنبہ | 1 حصہ | 6 ماہ (اگر فربہ و خوب موٹا ہو) |
جانور کا صحت مند اور بے عیب ہونا ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے چار قسم کے عیب دار جانوروں سے منع فرمایا: جس کی آنکھ ظاہراً کانی ہو، جو ظاہراً بیمار ہو، جو ظاہراً لنگڑا ہو، اور جو اس قدر لاغر ہو کہ اس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو (ابو داود 2802)۔ اس کے علاوہ کان یا دم کا ایک تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہو، سینگ جڑ سے ٹوٹا ہو، یا خصی جانور, ان کے بارے میں فقہاء کا تفصیلی اختلاف ہے، تاہم خصی بکرے یا دنبے کی قربانی جائز اور جمہور کے نزدیک افضل بھی ہے۔
بالوں اور ناخنوں کا حکم
یہ وہ مسئلہ ہے جس کے بارے میں بہت سے لوگ یا تو لاعلم ہیں یا اسے غلط سمجھتے ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت 1977 میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا
ترجمہ: "جب ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بالوں اور جلد (ناخنوں) میں سے کچھ نہ کاٹے۔"
یعنی جب ذی الحجہ کا چاند نظر آ جائے اور قربانی کا ارادہ ہو، تو قربانی ادا ہونے تک بال اور ناخن نہ کاٹے جائیں۔ اس سنت کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا بھی اس حال میں حاجیوں سے مشابہت اختیار کرتا ہے جو احرام باندھے ہوئے ہیں۔
اہم وضاحت: یہ حکم صرف اُس شخص پر ہے جو خود قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اس کے گھر کے افراد، بیوی، بچے یا دیگر اہلِ خانہ, جن کی طرف سے وہ قربانی کر رہا ہے, ان پر یہ پابندی نہیں ہے۔ اگر کوئی بھول کر بال یا ناخن کاٹ لے تو فوراً استغفار کرے، قربانی باطل نہیں ہوگی۔
نیت اور دعائے ذبح
قربانی کی نیت دل میں کافی ہے، زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں۔ تاہم نیت اس طرح ہونی چاہیے کہ یہ جانور کس کی طرف سے، کس عبادت کے لیے ذبح کیا جا رہا ہے, اپنی طرف سے، اہلِ خانہ کی طرف سے، یا کسی مرحوم کی ایصالِ ثواب کے لیے۔
ذبح کے وقت کی دعا جو صحیح احادیث سے ثابت ہے:
بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ
ترجمہ: "اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے (عطا) ہے اور تیرے ہی لیے (پیش) ہے۔"
اگر کسی کی طرف سے قربانی کر رہے ہوں تو اضافہ کریں: "اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ فُلَانٍ" یعنی "اے اللہ! فلاں سے قبول فرما"۔ نبی ﷺ خود اپنی قربانی کے وقت فرماتے تھے: "اللہم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد"۔
ذبح کا طریقہ
ذبح کا طریقہ شرعاً اتنا ہی اہم ہے جتنا قربانی کا ارادہ۔ جانور کو انسانی احترام کے ساتھ ذبح کرنا اسلام کی امتیازی تعلیم ہے۔
جانور کو قبلے کی سمت لٹایا جائے, یعنی اس کا سینہ اور منہ قبلے کی طرف ہو۔ ذبح سے پہلے اور دوران کسی اور جانور کو قریب نہ لایا جائے تاکہ اسے خوف نہ ہو۔ پانی پلانا مستحب ہے تاکہ جانور پرسکون رہے۔ چھری انتہائی تیز ہونی چاہیے اور اسے جانور کے سامنے تیز نہ کیا جائے, نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔
ذبح ایک ہی تیز جھٹکے میں حلقوم (سانس کی نالی)، ودجین (دو بڑی رگیں) اور مری (خوراک کی نالی) کاٹنا ضروری ہے۔ جانور کو تڑپتا دیکھ کر چھوٹے بچوں کو قریب نہ لایا جائے۔ ذبح کے بعد جانور مکمل ٹھنڈا ہونے سے پہلے کھال اتارنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں تکلیف ہو سکتی ہے۔
گوشت کی تقسیم
قربانی کا گوشت تین برابر حصوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے: ایک تہائی خود اور اپنے گھر والوں کے لیے، ایک تہائی رشتہ داروں اور دوستوں کو تحفے میں، اور ایک تہائی غریبوں اور محتاجوں کو صدقے میں۔
یہ تقسیم واجب نہیں، تاہم نبی ﷺ کی سنت اور علماء کی اکثریت کی تعلیم یہی ہے۔ اگر کوئی سارا گوشت رکھ لے تو گناہ نہیں، لیکن قربانی کی روح, جو کہ ایثار اور بانٹنا ہے, مجروح ہوتی ہے۔ اگر کوئی سارا گوشت صدقہ کر دے تو بھی جائز ہے۔
قربانی کا گوشت تین دن تک ذخیرہ کرنا اب جائز ہے, ابتدائے اسلام میں جو ممانعت تھی وہ ایک خاص حکمت کی وجہ سے تھی اور بعد میں نبی ﷺ نے خود اس سے رجوع فرما لیا (صحیح مسلم 1971)۔
قربانی کی کھال، ہڈیاں یا کوئی حصہ بیچنا جائز نہیں, نہ ذبح کرنے والے کو اجرت کے طور پر دینا جائز ہے۔ کھال مسجد، مدرسہ، یا کسی ضرورت مند کو دی جا سکتی ہے۔ FivePrayer ایپ میں قربانی کی تاریخوں کی یاد دہانی اور ذی الحجہ کے اوقات ترتیب دیے جا سکتے ہیں تاکہ ان مبارک ایام میں کوئی عبادت رہ نہ جائے۔
عام سوالات
کیا قربانی کے بجائے صدقہ کافی ہے؟
جمہور علماء کے نزدیک نہیں۔ قربانی ایک مستقل شعائرِ اسلام میں سے ہے جسے صدقے سے بدلا نہیں جا سکتا, ٹھیک ویسے جیسے نماز کی جگہ صدقہ کافی نہیں ہوتا۔ صدقہ الگ نیکی ہے اور قربانی الگ عبادت۔ اگر کوئی صاحبِ استطاعت ہو تو دونوں ساتھ کرنا بہترین عمل ہے۔
کیا بیرون ملک قربانی کروائی جا سکتی ہے؟
جی ہاں، کسی قابلِ اعتماد ادارے یا شخص کو وکیل بنا کر بیرون ملک قربانی کرانا جائز ہے۔ شرط یہ ہے کہ وکیل مسلمان ہو، جانور شرعی تقاضے پورے کرتا ہو، اور ذبح عید کی نماز کے بعد ہو۔ وکالت کی صورت میں بالوں اور ناخنوں کا حکم پھر بھی آپ پر لاگو رہتا ہے کیونکہ یہ حکم قربانی کا ارادہ رکھنے والے سے متعلق ہے۔
اگر بال کٹوا لیے تو قربانی باطل ہوگی؟
نہیں، قربانی بالکل باطل نہیں ہوگی۔ بال اور ناخن نہ کاٹنا ایک مستحب سنت ہے، واجب نہیں۔ اگر کوئی بھول کر، لاعلمی میں، یا کسی ضرورت کی وجہ سے کاٹ لے تو صرف اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ احتیاط کرے۔ قربانی اپنے وقت پر ادا کرے, اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
کیا عورتیں بھی قربانی کر سکتی ہیں؟
جی ہاں، بالکل۔ حنفی مسلک میں جو عورت صاحبِ نصاب اور مقیم ہو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔ عورت خود بھی ذبح کر سکتی ہے کیونکہ شریعت میں اس پر کوئی ممانعت نہیں، تاہم مستحب یہ ہے کہ کسی قابل مرد سے ذبح کرایا جائے۔ حیض والی عورت بھی قربانی کی نیت کر سکتی ہے اور کسی اور سے ذبح کرا سکتی ہے۔
مشترکہ قربانی میں نیتوں کا کیا ہوگا؟
گائے، بھینس یا اونٹ میں سات افراد تک شریک ہو سکتے ہیں۔ ہر شریک کی نیت قربانی، عقیقہ، یا ایصالِ ثواب میں سے کوئی ایک ہونی چاہیے, محض گوشت حاصل کرنے کی نیت شرعاً درست نہیں۔ اگر شرکاء میں سے کوئی ایک غیر مسلم ہو یا اس کی نیت فاسد ہو تو بعض علماء کے نزدیک باقی سب کی قربانی بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے شرکاء کا انتخاب احتیاط اور اعتماد کے ساتھ کریں۔
FivePrayer: عید الاضحی اور ذی الحجہ کے مبارک ایام کی یاد دہانی۔
اذان پر فون لاک، تکبیراتِ تشریق کی اطلاع، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔