ایک نظر میں:

فرض: البقرہ 183-185 اور بخاری 1901 سے ثابت
وقت: صبح صادق سے غروب آفتاب تک
مبطلات: کھانا، پینا، جماع، قصداً قے، حیض
تراویح: 8 یا 20 رکعات، دونوں جائز
لیلۃ القدر: آخری عشرے کی طاق راتیں
صدقۃ الفطر: عید سے پہلے واجب

نبی ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری 1899، صحیح مسلم 1079)۔ یہ مہینہ صرف بھوک پیاس کا نہیں بلکہ روحانی انقلاب کا موقع ہے۔

روزے کا فرض اور دلیل

رمضان کے روزے اسلام کے پانچ ارکان میں سے چوتھا رکن ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔" (البقرہ 183)

اس کے فوراً بعد رمضان کی خصوصیت کا ذکر فرمایا:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
ترجمہ: "رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے، تو جو تم میں سے اس مہینے کو پائے وہ روزہ رکھے۔" (البقرہ 185)

حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اسلام کے ارکان گنواتے ہوئے فرمایا: وَصَوْمِ رَمَضَانَ "اور رمضان کے روزے" (صحیح بخاری 8، مسلم 16)۔ روزہ 2 ہجری میں فرض ہوا۔

رمضان کی فضیلت

نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
ترجمہ: "جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (صحیح بخاری 1901)

اسی طرح فرمایا:

مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
ترجمہ: "جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان میں (تراویح پڑھ کر) قیام کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (صحیح مسلم 760)

رمضان کی دیگر خصوصیات:

  • اس مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا (البقرہ 185)۔
  • جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں (بخاری 1899)۔
  • شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں (بخاری 1899)۔
  • روزے دار کی دعا ردّ نہیں ہوتی (ترمذی 3598)۔
  • اللہ تعالی نے روزے کا اجر خود اپنے ذمے لیا: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ (بخاری 1894)۔

روزے کے مبطلات

وہ چیزیں جو روزہ توڑ دیتی ہیں ان کو مبطلات صوم کہتے ہیں۔ انہیں دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

قضا اور کفارہ دونوں واجب کرنے والا

صرف ایک چیز اس زمرے میں آتی ہے: رمضان کے دن قصداً جماع۔ اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، یا دو مہینے مسلسل روزے رکھے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے (بخاری 1936)۔

صرف قضا واجب کرنے والے

  • کھانا پینا: قصداً کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ بھول کر کھانے سے نہیں ٹوٹتا (بخاری 1933)۔
  • قصداً قے: اگر قے خود آئے تو روزہ نہیں ٹوٹتا، اگر جان بوجھ کر کی تو ٹوٹ جاتا ہے (ترمذی 720)۔
  • حیض اور نفاس: عورت پر روزہ رکھنا ممنوع ہے، بعد میں قضا کرے۔
  • ارتداد: اسلام چھوڑ دینے سے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔

جو چیزیں روزہ نہیں توڑتیں

  • بھول کر کھانا پینا (بخاری 1933)۔
  • کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا (ابوداود 2366)۔
  • انجکشن لگوانا (اگر غذائی نہ ہو، اس میں اختلاف ہے)۔
  • خوشبو سونگھنا۔
  • آنکھ میں قطرے ڈالنا (صحیح قول)۔
  • مسواک کرنا، حتی کہ نم مسواک (بخاری 1934 کا مفہوم)۔

روزے کی روح

نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ "جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی بھوک پیاس کی کوئی ضرورت نہیں۔" (بخاری 1903)۔ روزہ صرف پیٹ کا نہیں، آنکھ، کان، زبان اور دل کا بھی ہونا چاہیے۔

سحر اور افطار

سحری کی فضیلت

نبی ﷺ نے فرمایا:

تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً
ترجمہ: "سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے۔" (صحیح بخاری 1923، مسلم 1095)

سحری کا وقت آدھی رات کے بعد سے صبح صادق تک ہے۔ مستحب یہ ہے کہ آخری وقت تک تاخیر کی جائے۔ صبح صادق کا وقت نماز فجر کے وقت کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔ اگر کوئی سحری نہ کر سکے تو پھر بھی روزہ رکھ سکتا ہے، سحری واجب نہیں بلکہ سنت مستحبہ ہے۔

افطار کی فضیلت اور طریقہ

نبی ﷺ نے فرمایا:

لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ
ترجمہ: "لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک وہ افطاری میں جلدی کریں گے۔" (بخاری 1957، مسلم 1098)

سنت یہ ہے کہ غروب آفتاب ہونے پر کھجور سے افطار کریں۔ اگر کھجور نہ ہو تو پانی سے۔ افطار سے پہلے دعا مانگیں:

اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ
ترجمہ: "اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق سے افطار کیا۔" (ابوداود 2358)

تراویح: 8 یا 20 رکعات

تراویح رمضان کی راتوں میں پڑھی جانے والی نماز ہے جو نبی ﷺ نے باجماعت پڑھائی اور پھر امت پر فرض ہونے کے ڈر سے جماعت ترک فرما دی (بخاری 2010)۔ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باجماعت تراویح دوبارہ قائم کی۔

رکعات کا اختلاف

نبی ﷺ کے عمل کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔" (صحیح بخاری 1147، مسلم 736)

یہ 8 تراویح اور 3 وتر ہیں۔ دوسری طرف موطا مالک (1/115) میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 20 رکعات تراویح مقرر کیں اور مدینہ میں یہ عمل جاری رہا۔ جمہور علماء کے نزدیک 20 رکعات اور بعض کے نزدیک 8 رکعات سنت ہے۔ دونوں اعمال درست ہیں، جھگڑے سے بچیں۔

تراویح میں قرآن مکمل کرنا

مستحب ہے کہ تراویح میں پورا قرآن مکمل کیا جائے۔ نبی ﷺ ہر رمضان میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے اور آخری رمضان میں دو بار دور کیا (بخاری 4998)۔

لیلۃ القدر

اللہ نے فرمایا:

لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ
ترجمہ: "لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔" (القدر 3)

یعنی اس ایک رات کی عبادت 83 سال سے زیادہ کی عبادت سے افضل ہے۔ اس رات قرآن نازل ہوا (القدر 1)، فرشتے اترتے ہیں اور فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے (القدر 4-5)۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، في كُلِّ وِتْرٍ
ترجمہ: "اسے رمضان کے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو۔" (صحیح بخاری 2017)

اس رات کی دعا کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا تو نبی ﷺ نے بتایا:

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
ترجمہ: "اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، مجھے معاف فرما دے۔" (ترمذی 3513، ابن ماجہ 3850 ـ صحیح)

لیلۃ القدر کی نشانیاں:

  • وہ رات معتدل ہوتی ہے، نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی (ابن خزیمہ 2192)۔
  • صبح سورج بے نور طلوع ہوتا ہے (مسلم 762)۔
  • دل میں عجیب طرح کی سکون اور خشوع محسوس ہوتی ہے۔

اعتکاف

اعتکاف کا مطلب ہے مسجد میں عبادت کی نیت سے ٹھہرنا۔ نبی ﷺ نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا اور یہ سنت زندگی بھر جاری رکھی:

كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا
ترجمہ: "نبی ﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے، اور جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا اس سال بیس دن اعتکاف فرمایا۔" (صحیح بخاری 2044)

اعتکاف کے احکام:

  • نیت: اعتکاف کی نیت ضروری ہے۔
  • جگہ: مسجد میں ہونا ضروری ہے۔ جامع مسجد افضل ہے۔
  • ممنوعات: اعتکاف میں جماع حرام ہے (البقرہ 187)، بلا ضرورت باہر نکلنا منع ہے۔
  • مباح: کھانا پینا، سونا، ضروری باتیں کرنا، طہارت کے لیے باہر جانا۔
  • مدت: کم از کم ایک دن یا رات، زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔

صدقۃ الفطر

نبی ﷺ نے صدقۃ الفطر فرض کیا:

فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ مِنَ المُسْلِمِينَ
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ الفطر فرض کیا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو، ہر غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان پر۔" (صحیح بخاری 1503، مسلم 984)

صدقۃ الفطر کا مقصد روزے کی کوتاہیوں کی تلافی اور غرباء کی عید خوشی میں شریک کرنا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کرو، اگر نماز کے بعد دو تو صدقہ تو ہے لیکن فطرہ نہیں (ابوداود 1609)۔

مقدار: ایک صاع (تقریباً 2.5 سے 3 کلو) گندم، جو، کھجور، کشمش یا پنیر۔ اناج کی بجائے نقدی دینے کا حنفی مذہب میں جواز ہے تاکہ فقراء اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کر سکیں۔

رمضان کا آخری عشرہ: سب سے قیمتی وقت

نبی ﷺ کا معمول تھا کہ آخری عشرہ آتا تو کمر کس لیتے، راتیں جاگتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے (بخاری 2024)۔ اس عشرے میں اعتکاف، تہجد، تلاوت، ذکر اور دعا کو زیادہ سے زیادہ کریں۔ لیلۃ القدر کی تلاش میں کوئی کوتاہی نہ کریں کیونکہ اس رات کو پانا گویا ہزار مہینوں کی عبادت حاصل کرنا ہے۔

رمضان میں نماز کے اوقات

رمضان کی ہر نماز وقت پر ادا کریں۔

FivePrayer سحری اور افطار کے اوقات، نماز کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس فراہم کرتا ہے۔ رمضان میں ہر لمحہ قیمتی ہے، کوئی نماز ضائع نہ ہو۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

روزے کا فرض ہونے کی دلیل کیا ہے؟

روزے کا فرض ہونا البقرہ (183-185) سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ اسلام کے پانچ ارکان والی حدیث (بخاری 8) میں بھی اس کا ذکر ہے۔ روزہ 2 ہجری میں ہجرت کے بعد فرض ہوا۔

تراویح 8 رکعات ہیں یا 20؟

نبی ﷺ کا عمل 8 رکعات تراویح اور 3 وتر یعنی کل 11 رکعات تھا (بخاری 1147)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے 20 رکعات کا عمل مسجد نبوی میں جاری ہوا (موطا مالک)۔ دونوں جائز ہیں۔

لیلۃ القدر کون سی رات ہے؟

آخری عشرے کی طاق راتوں (21، 23، 25، 27، 29) میں تلاش کریں (بخاری 2017)۔ اکثر علماء 27 ویں رات کو سب سے زیادہ راجح سمجھتے ہیں لیکن یقین کے ساتھ متعین نہیں کی جا سکتی۔

صدقۃ الفطر کا حکم کیا ہے؟

صدقۃ الفطر واجب ہے ہر مسلمان پر جو عید کے دن اور رات صاحب نصاب ہو۔ مقدار ایک صاع (تقریباً 2.5 سے 3 کلو) کھجور، جو یا دیگر اناج ہے۔ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے (بخاری 1503)۔

اعتکاف کا کیا مطلب ہے؟

اعتکاف مسجد میں عبادت کی نیت سے ٹھہرنے کا نام ہے۔ نبی ﷺ نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی سنت قائم فرمائی (بخاری 2026)۔ اعتکاف میں جماع حرام اور بلا ضرورت باہر جانا منع ہے۔