ایک نظر میں:

نام: الفاتحہ (کھولنے والی)، ام القرآن، السبع المثانی
آیات: 7، پارہ 1، مکی سورت
نماز میں حکم: ہر رکعت میں پڑھنا واجب (جمہور)
حدیث قدسی: مسلم 395 میں اس سورت کو اللہ اور بندے کے درمیان تقسیم کیا گیا
آمین: سنت مستحبہ، سری یا جہری نماز میں

جب ایک مسلمان نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو پہلی چیز جو اس کی زبان پر آتی ہے وہ سورہ الفاتحہ ہے۔ یہ سورت صرف تلاوت نہیں بلکہ ایک زندہ مکالمہ ہے جو بندے اور رب کے درمیان ہر نماز میں جاری ہوتا ہے۔ اللہ تعالی خود اس مکالمے کا جواب دیتے ہیں جیسا کہ حدیث قدسی میں آیا ہے۔

نام کے معنی اور مقام

سورہ الفاتحہ کا لفظ "فتح" سے ہے جس کے معنی ہیں کھولنا۔ یہ قرآن کریم کا پہلا باب ہے جو قرآن کے علوم و معارف کا دروازہ کھولتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس سورت کو مختلف ناموں سے یاد فرمایا:

  • ام القرآن: قرآن کی ماں، کیونکہ یہ پورے قرآن کے مفاہیم کا خلاصہ ہے۔
  • ام الکتاب: کتاب کی اصل (ترمذی 3125)۔
  • السبع المثانی: سات بار دہرائی جانے والی آیات، جن کا ذکر اللہ نے سورہ الحجر (87) میں فرمایا: وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ۔
  • الشفاء: علاج، کیونکہ نبی ﷺ نے اسے روحانی اور جسمانی شفاء قرار دیا (بخاری 5736)۔
  • الرقیہ: دم جھاڑ کی دعا، جیسا کہ بخاری (2276) میں ہے کہ صحابہ نے اسے قبیلے کے سردار پر دم کیا۔

یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور یہ مسلمانوں پر فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ اولین سورتوں میں سے ہے جو مکمل طور پر نازل ہوئی۔

فضائل اور اہمیت

نبی ﷺ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الفُرْقَانِ مِثْلُهَا
ترجمہ: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تورات، انجیل، زبور اور قرآن میں اس جیسی کوئی سورت نہیں اتاری گئی۔" (ترمذی 2875، صحیح)

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ قرآن کریم کی عظیم ترین سورت کون سی ہے؟" صحابہ نے عرض کیا: ضرور بتائیں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ المَثَانِي وَالقُرْآنُ العَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ (بخاری 4474)۔

آیت بہ آیت تفسیر

آیت 1: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ: "اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔"

یہ آیت ہر کام کو اللہ کے نام سے شروع کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ "اللہ" ذاتی نام ہے جس کا کوئی جوڑ نہیں۔ "رحمن" وسیع رحمت کا اظہار ہے جو دنیا میں سب پر ہے، چاہے مومن ہو یا کافر۔ "رحیم" خاص رحمت کا اظہار ہے جو آخرت میں صرف مومنوں کو ملے گی۔ بسم اللہ کا پڑھنا ہر اہم کام کی سنت ہے، اور نماز میں اس کی تلاوت سورہ فاتحہ کا ناگزیر حصہ ہے۔

آیت 2: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ: "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔"

"الحمد" صرف تعریف نہیں بلکہ شکر اور محبت کے ساتھ تعریف کا نام ہے۔ "رب" کے معنی ہیں پیدا کرنے والا، پرورش کرنے والا، مالک اور آقا۔ "العالمین" میں تمام مخلوقات شامل ہیں: انسان، جنات، فرشتے، حیوانات، نباتات اور کائنات کی ہر شے۔ یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ ہر تعریف کا اصل حقدار صرف اللہ ہے۔

آیت 3: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ: "بڑا مہربان نہایت رحم والا۔"

یہاں رحمت کے دو اوصاف کا دوبارہ ذکر اس لیے ہے کہ اللہ کی رحمت اس کی سب سے نمایاں صفت ہے۔ عذاب کا ذکر بعد میں آئے گا لیکن پہلے رحمت کا بیان ہوا۔ حدیث میں ہے: إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الخَلْقَ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي "اللہ نے مخلوق پیدا کرنے سے پہلے لکھ دیا: میری رحمت میرے غضب سے آگے ہے۔" (بخاری 3194)

آیت 4: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

ترجمہ: "روزِ جزا کا مالک ہے۔"

"مالک" اور "ملک" دونوں قراءتیں صحیح ہیں۔ یوم الدین قیامت کا دن ہے جب اعمال کا حساب ہوگا اور جزا و سزا ملے گی۔ رحمت کا ذکر کرنے کے بعد قیامت کا ذکر اس لیے ہے کہ انسان صرف رحمت پر تکیہ کر کے گناہ نہ کرے بلکہ حساب کا ڈر بھی دل میں رکھے۔ دنیا میں تمام بادشاہ فانی ہیں، حقیقی بادشاہت صرف قیامت کے دن اللہ کی ہوگی: لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المومن 16)۔

آیت 5: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

ترجمہ: "ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔"

یہ پوری سورہ کا مرکزی نکتہ ہے۔ "ایاک" ضمیر کو فعل سے پہلے لانا حصر اور اختصاص کا افادہ کرتا ہے یعنی صرف اور صرف تیری عبادت۔ پہلا حصہ (عبادت) بندے کا وعدہ ہے، دوسرا حصہ (استعانت) اللہ سے طلب ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا: تمام شریعت ان دو جملوں میں سمٹ گئی۔ یہاں سے سورہ غیب (اللہ کی صفات) سے حضور (بندے کے سامنے) میں تبدیل ہوتی ہے۔

آیت 6: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

ترجمہ: "ہمیں سیدھی راہ دکھا۔"

یہ قرآن کریم کی سب سے جامع دعا ہے۔ "ہدایت" کے معنی صرف اسلام قبول کرنا نہیں بلکہ ہر لمحے سیدھی راہ پر چلتے رہنا ہے۔ اسی لیے مومن روزانہ سترہ بار یا زیادہ بار یہ دعا مانگتا ہے کیونکہ وہ ہر قدم پر اللہ کی رہنمائی کا محتاج ہے۔ "صراط مستقیم" وہ راستہ ہے جو اللہ کی رضا تک پہنچاتا ہے: نبی ﷺ کی سنت، قرآن کی تعلیم اور صالح لوگوں کا طریقہ۔

آیت 7: صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ

ترجمہ: "ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا، ان لوگوں کی راہ نہیں جن پر غضب ہوا اور نہ ان کی جو بھٹکے ہوئے ہیں۔"

"انعمت علیہم" کی وضاحت سورہ النساء (69) میں ہے: نبیین، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ "مغضوب علیہم" سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں علم تھا مگر انہوں نے عمل نہ کیا۔ "ضالین" وہ لوگ جو نیک نیتی سے عمل کرتے ہیں لیکن علم کے بغیر گمراہ ہو گئے۔ نبی ﷺ نے ان تینوں گروہوں کی وضاحت فرمائی (ترمذی 2953)۔

سورہ فاتحہ کی ساخت کا عجیب نظام

پہلی تین آیات اللہ کی صفات کا بیان ہیں (حمد، رحمت، ربوبیت، مالکیت)۔ پانچویں آیت عبادت اور استعانت کا اعلان ہے جو بندے اور رب کے درمیان ملاقات کی آیت ہے۔ آخری دو آیات بندے کی دعا ہیں۔ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ پہلے اللہ کو پہچانو، پھر اس کے آگے جھکو، پھر مانگو۔

حدیث قدسی: مسلم 395

سورہ الفاتحہ کی تفسیر کا سب سے بڑا ماخذ وہ عظیم حدیث قدسی ہے جو صحیح مسلم (395) میں ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ
ترجمہ: "میں نے نماز (یعنی سورہ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو اس نے مانگا۔"

پھر اللہ تعالی نے ہر آیت کا جواب دینے کا ذکر فرمایا:

فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: حَمِدَنِي عَبْدِي
ترجمہ: "جب بندہ کہتا ہے: الحمد للہ رب العالمین، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد کی۔"

اسی طرح ہر آیت پر اللہ کا جواب آتا ہے:

  • "الرحمن الرحیم" پر اللہ فرماتا ہے: أثنى علي عبدي "میرے بندے نے میری تعریف کی۔"
  • "مالک یوم الدین" پر اللہ فرماتا ہے: مجدني عبدي "میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔"
  • "إياك نعبد وإياك نستعين" پر اللہ فرماتا ہے: هذا بيني وبين عبدي "یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔"
  • "اهدنا الصراط المستقیم" اور آخری آیت پر اللہ فرماتا ہے: هذا لعبدي ولعبدي ما سأل "یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کو وہی ملے گا جو اس نے مانگا۔"

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت محض الفاظ دہرانا نہیں بلکہ اللہ سے زندہ مکالمہ ہے۔ جب بندہ یہ آیات پڑھتا ہے تو اللہ سنتا ہے اور جواب دیتا ہے۔ اس شعور کے ساتھ پڑھنے سے نماز کا خشوع بڑھ جاتا ہے۔

نماز میں پڑھنے کا حکم

نبی ﷺ نے فرمایا:

لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
ترجمہ: "اس شخص کی نماز نہیں جس نے فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔" (صحیح بخاری 756، صحیح مسلم 394)

اس حدیث کی بنیاد پر علماء نے اختلاف کیا:

  • شافعی اور حنبلی: ہر رکعت میں امام، مقتدی اور منفرد سب کے لیے سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے، خواہ نماز جہری ہو یا سری۔
  • مالکی: امام اور منفرد کے لیے ہر رکعت میں فرض ہے، مقتدی کے لیے امام کی فاتحہ کافی ہے۔
  • حنفی: منفرد اور امام کے لیے واجب ہے۔ مقتدی کے لیے امام کی تلاوت کافی ہے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس کا امام ہو اس کا امام کی قراءت ہی قراءت ہے۔

یاد رہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے جس میں علماء کا معتبر اختلاف ہے اور سبھی آراء دلائل پر مبنی ہیں۔ اپنے علاقے کے اہل علم سے رہنمائی لیں۔

آمین کا حکم اور طریقہ

آمین کا مطلب ہے "اللہ قبول فرما" یا "ایسا ہی ہو"۔ سورہ فاتحہ کے ختم ہونے پر آمین کہنا نبی ﷺ کی سنت ہے:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ وَقَالَ آمِينَ
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ جب ام القرآن کی تلاوت سے فارغ ہوتے تو آواز بلند کر کے آمین کہتے۔" (دارقطنی، حاکم نے صحیح کہا)

آمین کی فضیلت کے بارے میں فرمایا:

إِذَا قَالَ الإِمَامُ آمِينَ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
ترجمہ: "جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے ملے اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔" (صحیح بخاری 780، مسلم 410)

آمین کے بارے میں مذاہب کا اختلاف:

  • جہری نماز میں آمین: شافعی اور حنبلی کے نزدیک بلند آواز سے، امام اور مقتدی دونوں۔ حنفی کے نزدیک آہستہ۔ مالکی کے نزدیک امام آہستہ اور مقتدی بھی آہستہ۔
  • سری نماز میں: تمام مذاہب میں آہستہ۔

سورہ فاتحہ اور آپ کی روزانہ نماز

ایک شخص جو پانچ وقت نماز باجماعت ادا کرے، وہ روزانہ کم از کم 17 رکعات پڑھتا ہے اور اتنی ہی بار سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتا ہے۔ یعنی سال میں 6205 بار سے زیادہ۔ اگر ہر بار اس مکالمے کا شعور ہو کہ اللہ خود جواب دے رہا ہے تو نماز میں خشوع خود بخود آ جائے گا۔

نماز کے اوقات FivePrayer کے ساتھ

ہر نماز وقت پر ادا کریں۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس فراہم کرتا ہے۔ سورہ فاتحہ کا مکالمہ ہر نماز میں جاری رکھیں۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

سورہ الفاتحہ کو ام القرآن کیوں کہتے ہیں؟

سورہ الفاتحہ کو ام القرآن اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں پورے قرآن کے مضامین کا خلاصہ ہے: اللہ کی تعریف، صفات، توحید، عبادت، ہدایت کی دعا اور نعمتوں کا ذکر۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس جیسی سورت نہ تورات میں ہے، نہ انجیل میں، نہ زبور میں (ترمذی 2875)۔

کیا نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے؟

جمہور علماء (شافعی، حنبلی، مالکی) کے نزدیک ہر رکعت میں سورہ فاتحہ فرض ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب (بخاری 756)۔ حنفی مذہب میں یہ امام اور منفرد پر واجب ہے، مقتدی امام کی تلاوت پر اکتفا کر سکتا ہے۔

آمین کا کیا حکم ہے؟

سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت مستحبہ ہے۔ بخاری (780) میں ہے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے ملے اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ جہری نماز میں بلند آواز سے کہنا شافعی اور حنبلی کا قول ہے، حنفی کے نزدیک آہستہ۔

سورہ فاتحہ کو السبع المثانی کیوں کہتے ہیں؟

السبع المثانی کا مطلب ہے سات بار دہرائی جانے والی آیات کیونکہ اسے ہر رکعت میں پڑھا جاتا ہے۔ اللہ نے خود (الحجر 87) میں اسے یہ نام دیا ہے۔ "مثانی" سے یہ بھی مراد ہے کہ اس میں بار بار اللہ کی حمد و ثنا ہے۔

بسم اللہ سورہ فاتحہ کی آیت ہے یا نہیں؟

شافعی مذہب میں بسم اللہ پہلی آیت ہے اور جہری نماز میں بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے۔ حنفی اور مالکی کے نزدیک یہ مستقل آیت نہیں بلکہ سورتوں کے درمیان فصل کے طور پر لکھی گئی ہے اور آہستہ پڑھی جاتی ہے۔ حنبلی میں دونوں آراء موجود ہیں۔