ایک نظر میں:

دلیل: سورہ الفجر 1-2 اور بخاری 969
مستحب اعمال: روزے، ذکر، تکبیر، تلاوت، صدقہ
یوم عرفہ: 9 ذوالحجہ، دو سال کے گناہ معاف
قربانی: 10 سے 13 ذوالحجہ
عید الاضحی: 10 ذوالحجہ، ابراہیمی سنت

نبی ﷺ نے فرمایا: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ یعنی کوئی ایسے دن نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دس دنوں کے مقابلے میں زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟ فرمایا: جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو جان اور مال لے کر نکلے اور کچھ واپس نہ لائے۔ (صحیح بخاری 969)

فضیلت: قرآن اور حدیث کی روشنی میں

اللہ تعالی نے سورہ الفجر کی ابتدا میں ان دنوں کی قسم کھائی:

وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ
ترجمہ: "قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔" (الفجر 1-2)

مفسرین کی اکثریت کے نزدیک "لیال عشر" سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما، ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ سب اسی تفسیر پر ہیں۔ اللہ کا کسی چیز کی قسم کھانا اس کی عظمت کی دلیل ہے۔

نبی ﷺ نے ان دنوں کی فضیلت یوں بیان فرمائی:

مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ
ترجمہ: "کوئی ایسے دن نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں (ذوالحجہ کے دس دنوں) کے مقابلے میں زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟ فرمایا: جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو جان و مال لے کر نکلے اور کچھ واپس نہ لائے۔" (صحیح بخاری 969)

ان دس دنوں کی فضیلت کی وجوہات:

  • اس میں یوم عرفہ ہے جو سال کا سب سے بڑا دن ہے۔
  • اس میں یوم النحر (قربانی کا دن) ہے جسے بعض علماء نے سال کا سب سے افضل دن قرار دیا۔
  • اس میں حج ہوتا ہے جو اسلام کا پانچواں رکن ہے۔
  • اس میں عید الاضحی آتی ہے۔
  • ان دنوں میں نماز، روزہ، حج، صدقہ اور قربانی سب ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔

کیا رمضان کے آخری عشرے سے بھی افضل؟

علماء میں اس مسئلے پر بحث ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا: ذوالحجہ کے دس دنوں کے اعتبار سے یہ دن رمضان کے آخری عشرے سے افضل ہیں، لیکن رمضان کی راتیں (لیلۃ القدر کی وجہ سے) ذوالحجہ کی راتوں سے افضل ہیں۔

مستحب روزے

ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں میں روزے رکھنا مستحب ہے۔ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ ﷺ: صِيَامَ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ
ترجمہ: "چار چیزیں جنہیں نبی ﷺ نہیں چھوڑتے تھے: عاشوراء کا روزہ، ذوالحجہ کے دس دنوں کے روزے، ہر مہینے تین دن کے روزے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں۔" (سنن نسائی 2416، ابوداود 2437)

یوم عرفہ کا روزہ: خصوصی فضیلت

9 ذوالحجہ کو یوم عرفہ کہتے ہیں۔ اس دن کا روزہ رکھنے کی خاص فضیلت ہے:

صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ
ترجمہ: "عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ پچھلے سال اور اگلے سال کے گناہ معاف کر دے گا۔" (صحیح مسلم 1162)

یہ روزہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو حج پر نہیں گئے۔ حاجیوں کے لیے یوم عرفہ کا روزہ مکروہ ہے کیونکہ انہیں میدان عرفات میں دعاؤں کے لیے توانائی چاہیے۔

10 ذوالحجہ یعنی عید الاضحی کا روزہ حرام ہے۔ نبی ﷺ نے عید کے دن روزے سے منع فرمایا (بخاری 1990)۔

ذکر اور تسبیح

ان دنوں میں ذکر کثرت سے کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ
ترجمہ: "اور معلوم دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں۔" (الحج 28)

مفسرین کے نزدیک "ایام معلومات" ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں اور "ایام مقددودات" (الحج 203) ایام تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ) ہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ
ترجمہ: "ان دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کہو۔" (مسند احمد 5446، صحیح)

مستحب اذکار:

  • تہلیل: لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ
  • تکبیر: اللَّهُ أَكْبَرُ
  • تحمید: الْحَمْدُ لِلَّهِ
  • تسبیح: سُبْحَانَ اللَّهِ
  • استغفار: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ
  • درود: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ

تکبیرات ذوالحجہ

ان دنوں میں دو طرح کی تکبیریں ہیں:

تکبیر مطلق

ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر عید کے آخر تک کسی بھی وقت تکبیر کہنا مستحب ہے۔ بازاروں، گھروں اور مسجدوں میں بلند آواز سے تکبیر کہنی چاہیے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان دنوں میں بازار میں تکبیر کہتے تھے اور لوگ بھی تکبیر کہتے (بخاری معلقاً، فتح الباری 2/536)۔

تکبیر مقید (تکبیرات تشریق)

9 ذوالحجہ کی فجر سے 13 ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد یہ تکبیریں پڑھی جاتی ہیں:

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ
وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
وَلِلَّهِ الْحَمْدُ

یہ تکبیریں مرد بلند آواز سے اور خواتین آہستہ پڑھیں۔ حنفی مذہب میں یہ واجب ہیں، جمہور کے نزدیک سنت مستحبہ۔

قربانی کے احکام

قربانی ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔ اللہ نے فرمایا:

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
ترجمہ: "تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔" (الکوثر 2)

نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا
ترجمہ: "جس کے پاس وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔" (ابن ماجہ 3123، احمد 8273، صحیح قول پر حسن)

قربانی کے احکام

  • حکم: حنفی مذہب میں واجب، جمہور کے نزدیک سنت موکدہ۔
  • کس پر: ہر صاحب نصاب مسلمان پر جو مقیم ہو۔
  • وقت: عید کی نماز کے بعد سے 13 ذوالحجہ کے غروب آفتاب تک۔
  • جانور: بکرا، بکری (ایک شخص کی طرف سے)، گائے، بھینس، اونٹ (سات افراد تک کی طرف سے)۔
  • عمر: بکری 1 سال، گائے 2 سال، اونٹ 5 سال۔ دنبہ اگر بھرا پرا ہو تو 6 ماہ سے بھی جائز (مسلم 1963)۔
  • عیوب: اندھی، لنگڑی، بیمار اور انتہائی کمزور جانور کی قربانی جائز نہیں (ترمذی 1497)۔

قربانی کا گوشت

نبی ﷺ نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کریں: ایک تہائی خود کھائیں، ایک تہائی تحفے میں دیں اور ایک تہائی فقراء میں تقسیم کریں۔ البتہ اگر سب گھر میں کھا لیں تو بھی جائز ہے (مسلم 1971)۔

قربانی سے پہلے بال اور ناخن نہ کاٹیں

نبی ﷺ نے فرمایا:

إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ
ترجمہ: "جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔" (صحیح مسلم 1977)

یہ حکم صرف قربانی کرنے والے پر ہے، جانور پر نہیں۔ یہ حرام نہیں بلکہ ممنوع ہے، اگر کوئی کاٹ لے تو قربانی پر اثر نہیں پڑتا۔

عید الاضحی

10 ذوالحجہ کو عید الاضحی منائی جاتی ہے۔ یہ دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے جب اللہ نے ان کے بیٹے کی جگہ جنت سے مینڈھا بھیج دیا (الصافات 107)۔

عید الاضحی کے مستحب اعمال

  • عید کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھائیں تاکہ پہلے قربانی کا گوشت کھا سکیں (ترمذی 542)۔
  • غسل کریں، عمدہ لباس پہنیں اور خوشبو لگائیں۔
  • عیدگاہ جاتے ہوئے تکبیر کہتے جائیں۔
  • ایک راستے سے جائیں اور دوسرے سے واپس آئیں (بخاری 986)۔
  • عید کی نماز باجماعت ادا کریں۔
  • قربانی کریں اور رشتہ داروں، پڑوسیوں اور فقراء کو گوشت دیں۔

عید کی نماز کا طریقہ

عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے۔ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد 7 اضافی تکبیریں اور دوسری رکعت میں قیام سے پہلے 5 اضافی تکبیریں (جمہور)۔ حنفی کے نزدیک دونوں رکعتوں میں 3-3 اضافی تکبیریں رکوع سے پہلے کہی جاتی ہیں۔ نماز کے بعد خطبہ سنا جائے۔

ان دس دنوں کا صحیح استعمال

ان دنوں میں ہر نیکی کا اجر زیادہ ہے۔ اس لیے: ہر فرض نماز وقت پر ادا کریں، کثرت سے تکبیر و تہلیل کریں، روزانہ قرآن کی تلاوت کریں، صدقہ کریں اور رشتہ داروں سے ملاقات کریں۔ اگر حج پر نہیں گئے تو 9 ذوالحجہ کا روزہ رکھیں اور قربانی کریں۔ یہ عبادتیں آپس میں جمع ہو کر بے مثال اجر کا ذریعہ بنتی ہیں۔

ذوالحجہ میں نماز کے اوقات

ان مبارک دنوں میں ہر نماز وقت پر ادا کریں۔

FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے اوقات، تکبیرات کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس فراہم کرتا ہے۔ ذوالحجہ کے ان قیمتی دنوں کو نماز کے ساتھ آباد کریں۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome

عام سوالات

ذوالحجہ کے پہلے دس دن کیوں افضل ہیں؟

نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ایسے دن نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دس دنوں سے زیادہ محبوب ہو (بخاری 969)۔ اللہ نے خود ان راتوں کی قسم کھائی (الفجر 1-2)۔ ان دنوں میں یوم عرفہ، عید الاضحی اور حج سب ایک ساتھ آتے ہیں۔

ذوالحجہ کے روزوں کا کیا حکم ہے؟

پہلے نو دنوں میں روزے مستحب ہیں۔ نبی ﷺ یہ روزے رکھتے تھے (نسائی 2416)۔ خاص طور پر 9 ذوالحجہ (یوم عرفہ) کا روزہ دو سال کے گناہ معاف کرتا ہے (مسلم 1162)۔ 10 ذوالحجہ (عید) کا روزہ حرام ہے۔

تکبیرات تشریق کیا ہیں؟

تکبیرات تشریق یہ ہیں: اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ یہ 9 ذوالحجہ کی فجر سے 13 ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔ حنفی کے نزدیک یہ واجب ہیں۔

قربانی کا حکم کیا ہے؟

حنفی مذہب میں واجب اور جمہور کے نزدیک سنت موکدہ ہے۔ وقت عید کی نماز کے بعد سے 13 ذوالحجہ کے غروب تک ہے۔ قربانی سے پہلے چاند نظر آنے سے بال اور ناخن نہ کاٹیں (مسلم 1977)۔