ایک نظر میں:
• تعریف: اقامت نماز کے قیام کا اعلان ہے، اذان کے بعد دوسری ندا
• الفاظ: اذان جیسے، لیکن "قد قامت الصلاۃ" کا اضافہ
• حکم: جمہور علماء کے نزدیک سنت موکدہ
• کون کہے: وہی شخص جس نے اذان دی ہو، یا دوسرا مقرر شخص
• وقت: اذان کے فوراً بعد نہیں، بلکہ صفیں درست ہوں تب
اسلام کی ہر فرض نماز سے پہلے دو ندائیں دی جاتی ہیں: پہلی اذان جو لوگوں کو مسجد کی طرف بلاتی ہے، اور دوسری اقامت جو نمازیوں کو صفوں میں کھڑے ہوکر نماز شروع کرنے کی اطلاع دیتی ہے۔ اقامت کا لفظ "قیام" سے ہے یعنی قائم ہونا۔ جب یہ الفاظ گونجتے ہیں تو ہر نمازی جان لیتا ہے کہ اللہ کے حضور کھڑے ہونے کا وقت آ گیا۔
اقامت کی تاریخ اور مشروعیت
اذان کی ابتدا ہجرت مدینہ کے بعد پہلے سال میں ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب میں اذان کے الفاظ سنے اور نبی ﷺ کو بتائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ سچا خواب ہے، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کی تعلیم دی گئی (صحیح بخاری 604)۔ اسی وقت اقامت کا بھی حکم نافذ ہوا کیونکہ یہ نماز شروع ہونے کی عملی اطلاع ہے۔
اقامت کی دلیل قرآن کریم کی اس آیت سے بھی لی جاتی ہے:
المائدہ 5:58 ـ وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا
ترجمہ: "اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔"
اور نبی ﷺ نے اقامت کے بارے میں واضح ہدایت دی:
إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي
ترجمہ: "جب نماز کی اقامت ہو جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔" (صحیح بخاری 637، صحیح مسلم 604)
اقامت کے مستند الفاظ
اقامت کے الفاظ اذان سے ملتے جلتے ہیں، البتہ ان میں "قد قامت الصلاۃ" کے الفاظ اضافی ہیں۔ علماء کے درمیان اقامت کے الفاظ کی تعداد میں اختلاف ہے، جو مختلف صحیح احادیث سے ماخوذ ہے:
حنفی طریقہ (اذان جیسے الفاظ)
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
ماخذ: حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی روایت (سنن ابو داود 502، نسائی 631)
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (دو بار)
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ (دو بار)
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ (دو بار)
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ (دو بار)
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
جمہور (مالکی، شافعی، حنبلی) طریقہ
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
ماخذ: حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت (سنن ابو داود 510، ترمذی 192)
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
دونوں طریقے صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ جس مسجد کا رواج جس مذہب کے مطابق ہو، وہی اپنائیں۔ اختلاف فروعی ہے، بنیادی نہیں۔
اہم مسائل اور احکام
اقامت کا حکم
جمہور علماء کے نزدیک اقامت سنت موکدہ ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک واجب ہے۔ بہرحال، اقامت کے بغیر فرض نماز ادا ہو جاتی ہے، لیکن اسے چھوڑنا خلاف سنت ہے۔ نبی ﷺ نے کبھی بھی اقامت کے بغیر جماعت نہیں پڑھائی۔
اقامت کون کہے؟
مستحب یہ ہے کہ وہی شخص اقامت کہے جس نے اذان دی ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ
ترجمہ: "جس نے اذان دی وہی اقامت کہے۔" (سنن ابو داود 514، ترمذی 199 ـ لیکن اس کی سند میں کلام ہے)
البتہ اگر اذان دینے والا موجود نہ ہو، یا امام کسی اور کو اقامت کا حکم دے، تو جائز ہے۔ صحابہ کرام کے تعامل سے ثابت ہے کہ کبھی کبھی اذان اور اقامت الگ الگ اشخاص نے دی۔
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ
نبی ﷺ کے زمانے میں اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ لوگ آجائیں اور صفیں درست ہو جائیں:
كَانَ بَيْنَ أَذَانِ بِلَالٍ وَإِقَامَتِهِ تَرَبُّصٌ يُمْكِنُ فِيهِ مَنْ أَرَادَ السُّنَّةَ الرَّاتِبَةَ أَنْ يَرْكَعَهَا
ترجمہ: "حضرت بلال کی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ جو شخص سنت پڑھنا چاہے وہ پڑھ سکے۔" (صحیح مسلم 378، بخاری 625)
اقامت کی سنتیں
آواز کا انداز
اقامت اذان سے تیز اور جلد کہی جائے۔ نبی ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ہدایت فرمائی:
إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ
ترجمہ: "جب اذان دو تو آہستہ آہستہ کہو اور جب اقامت کہو تو جلدی کہو۔" (ترمذی 195 ـ حسن صحیح)
قبلہ رو کھڑے ہو کر اقامت
اذان کی طرح اقامت بھی قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو کر کہی جائے۔ "حی علی الصلاۃ" پر دایں طرف اور "حی علی الفلاح" پر بائیں طرف منہ پھیرنا بھی اقامت میں مسنون ہے، کیونکہ یہ اقامت کا حصہ ہے جیسا اذان میں ہوتا ہے۔
امام کا انتظار
اقامت کے بعد امام کے آنے تک نمازی بیٹھے رہیں۔ امام کو دیکھ کر کھڑے ہوں:
إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ
ترجمہ: "جب نماز کی اقامت ہو جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے نہ دیکھ لو، اور سکون اختیار کرو۔" (صحیح بخاری 637)
صفوں کا درست ہونا
اقامت کے بعد امام کی ذمہ داری ہے کہ صفیں سیدھی کرے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "صفوں کو درست کرو کیونکہ صفوں کی درستی نماز کے حسن میں سے ہے۔" (صحیح بخاری 723)
اقامت کا جواب
علماء کے ایک گروہ کی رائے ہے کہ اقامت کا جواب اذان کی طرح دینا مستحب ہے۔ سنن ابوداود (528) میں روایت ہے کہ اقامت کے الفاظ کا جواب وہی الفاظ دوہرا کر دیا جائے۔ البتہ "قد قامت الصلاۃ" پر جواب دینے کے بارے میں حدیث یہ ہے:
قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا
ترجمہ: "'قد قامت الصلاۃ' سنے تو کہے: 'أقامها الله وأدامها' (اللہ اسے قائم اور دائم رکھے)۔" (سنن ابو داود 528 ـ ضعیف لیکن علماء نے اسے فضائل اعمال میں قبول کیا)
اقامت کے جواب کے بارے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کوئی جواب دے تو حرج نہیں، اور اگر نہ دے تو بھی ٹھیک ہے کیونکہ اقامت کی حالت نماز کی تیاری کی حالت ہے۔
اقامت اور نماز کا خصوصی تعلق
نبی ﷺ نے فرمایا: جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ "میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔" (نسائی 3940، احمد 12286 ـ صحیح)۔ اقامت وہ لمحہ ہے جب بندہ دنیا کی مصروفیات سے منقطع ہوکر اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کی تیاری کرتا ہے۔ اس لمحے کو غنیمت سمجھیں، دل کو حاضر کریں، اور نماز کو خشوع کے ساتھ ادا کریں۔
نماز کا وقت کبھی مت چھوڑیں۔
FivePrayer آپ کے شہر کے مطابق نماز کے اوقات، اذان کی یاد دہانی اور قبلہ کمپاس فراہم کرتا ہے۔ ہر اقامت کی آواز پر حاضر رہیں۔
عام سوالات
اقامت اور اذان میں کیا فرق ہے؟
اذان نماز کے وقت کا عام اعلان ہے جو دور دور تک پہنچتا ہے، جبکہ اقامت نماز شروع ہونے کا فوری اعلان ہے۔ اقامت اذان سے مختصر اور تیز ہوتی ہے اور اس میں "قد قامت الصلاۃ" کے اضافی الفاظ ہوتے ہیں۔ اذان کے بعد نماز سے پہلے سنتیں پڑھی جاتی ہیں، اقامت کے بعد فوراً فرض نماز شروع ہوتی ہے۔
کیا خواتین کے لیے اقامت سنت ہے؟
جمہور علماء کے نزدیک خواتین کے لیے اقامت لازمی نہیں۔ البتہ اگر خواتین مل کر نماز پڑھیں تو آہستہ آواز میں اقامت کہہ سکتی ہیں۔ بلند آواز اذان اور اقامت خواتین کے لیے مناسب نہیں۔
اقامت سننے کے وقت کیا کرنا چاہیے؟
اقامت کا جواب دینا مستحب ہے۔ "قد قامت الصلاۃ" پر "أقامها الله وأدامها" کہیں۔ پھر جلدی صف میں شامل ہوں، سکون اور وقار کے ساتھ۔ نبی ﷺ نے دوڑتے ہوئے نماز کی طرف آنے سے منع فرمایا (بخاری 908)۔
کیا مسبوق کے لیے اقامت دوبارہ کہنا جائز ہے؟
نہیں۔ ایک نماز کے لیے ایک اقامت کافی ہے۔ اگر آپ بعد میں آئیں تو جماعت میں شامل ہو جائیں اور چھوٹی رکعتیں بعد میں پوری کریں۔ دوبارہ اقامت کا کوئی ثبوت نہیں۔
اقامت کے الفاظ کتنی بار پڑھے جاتے ہیں؟
حنفی مذہب میں الفاظ دو دو بار ہیں، "قد قامت الصلاۃ" بھی دو بار۔ مالکی، شافعی اور حنبلی کے نزدیک الفاظ ایک ایک بار ہیں، سوائے "اللہ اکبر" (ابتداء میں دو بار) اور "قد قامت الصلاۃ" (دو بار) کے۔ دونوں طریقے صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔