فوری حقائق:

حیثیت: نماز کی شرط, قرآن 5:6 میں فرض
8 اعضاء: نیت، ہاتھ، کلی، ناک، چہرہ، بازو، سر کا مسح، پاؤں
4 فرائض: چہرہ، ہاتھ (کہنیوں تک)، سر کا مسح، پاؤں (ٹخنوں تک)
دلیل: صحیح مسلم 226، صحیح بخاری 135
وضو کے بعد: مسلم 234 کی دعا, جنت کے تمام دروازے کھلتے ہیں

وضو (عربی: الوُضوء) اسلامی طہارت کی بنیاد ہے۔ یہ محض جسمانی صفائی نہیں، بلکہ ایک روحانی تیاری ہے, جس سے بندہ اللہ کے حضور پیش ہونے کے لیے ظاہری اور باطنی طور پر پاک ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ اس کے اعضاء بیان ہوئے ہیں، اور نبی ﷺ کی سنت سے ہر مرحلے کی تفصیل ملتی ہے۔

وضو کی فرضیات: قرآن 5:6

وضو کا حکم براہِ راست قرآن مجید میں نازل ہوا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ

ترجمہ: "اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں کو دھوؤ، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ، اور اپنے سروں کا مسح کرو، اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک (دھوؤ)۔" (سورۃ المائدہ: 6)

اس آیت سے وضو کے چار فرائض ثابت ہوتے ہیں:

فریضہحدفقہی نوٹ
۱. چہرہ دھوناپیشانی کے بال سے ٹھوڑی تک، اور ایک کان کی لو سے دوسرے تکچاروں مذاہب متفق
۲. ہاتھ دھوناکہنیوں سمیت دونوں ہاتھچاروں مذاہب متفق, "إِلَى الْمَرَافِقِ" سے کہنیاں شامل ہیں
۳. سر کا مسحسر کے کسی حصے پر تر ہاتھ پھیرناحنفی: چوتھائی؛ مالکی و حنبلی: پورا سر؛ شافعی: کچھ بھی کافی
۴. پاؤں دھوناٹخنوں سمیت دونوں پاؤںجمہور: دھونا فرض؛ قرائت "أَرْجُلَكُمْ" پر اتفاق

اس کے علاوہ جمہور فقہاء کے نزدیک ترتیب (اسی ترتیب سے کرنا) اور موالات (پے در پے کرنا) بھی شرط ہیں۔

مرحلہ بہ مرحلہ طریقہ

نبی ﷺ کے وضو کا مفصل طریقہ صحیح مسلم 226 اور صحیح بخاری 135 میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے مروی ہے:

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا: تین تین بار ہاتھ دھوئے، کلی کی، ناک صاف کی، تین بار چہرہ دھویا، دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین بار دھویا، پھر بائیں کو، سر کا ایک بار مسح کیا، دائیں پاؤں کو ٹخنے تک تین بار دھویا، پھر بائیں کو، پھر فرمایا: "میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا۔" (صحیح مسلم 226)

وضو کے 8 مراحل

  1. نیت کریں
    دل میں یہ ارادہ کریں کہ طہارت کے لیے وضو کر رہے ہیں۔ نیت زبان سے کہنا ضروری نہیں, دل کا ارادہ کافی ہے۔ بعض فقہاء نے "نویتُ الوضوء لرفع الحدث" زبان سے کہنا مستحب کہا ہے۔
  2. بِسْمِ اللَّہِ پڑھیں
    وضو شروع کرتے وقت بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھیں, نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص بسم اللہ کے بغیر وضو کرے، اس کا وضو نہیں" (ابو داود 101)۔ حنفی فقہاء کے نزدیک یہ واجب ہے۔
  3. دونوں ہاتھ دھوئیں
    کلائیوں تک تین بار دونوں ہاتھ دھوئیں۔ انگلیوں کے درمیان خلال کریں۔ یہ وضو سے پہلے ہاتھ صاف کرنے کی سنت ہے, نہ کہ وضو کا فرض (وہ کہنیوں تک بعد میں آئے گا)۔
  4. کلی کریں اور ناک صاف کریں
    تین بار منہ میں پانی لے کر اچھی طرح کلی کریں۔ پھر تین بار دائیں ہاتھ سے ناک میں پانی ڈالیں اور بائیں ہاتھ سے ناک جھاڑیں (استنشاق و استنثار)۔ روزے کی حالت میں ناک میں پانی زیادہ نہ چڑھائیں۔
  5. چہرہ دھوئیں (فرض)
    تین بار پورا چہرہ دھوئیں, پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی تک، اور ایک کان کی لو سے دوسرے تک۔ داڑھی والے: اگر داڑھی گھنی ہو تو اندر خلال کرنا مستحب ہے، اگر پتلی ہو تو جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔
  6. ہاتھ کہنیوں تک دھوئیں (فرض)
    پہلے دایاں ہاتھ تین بار کہنی سمیت دھوئیں, انگلیوں سے شروع کریں اور کہنی تک لے جائیں۔ پھر بائیں ہاتھ اسی طرح۔ کہنیاں دھونے میں شامل ہونی چاہئیں۔
  7. سر کا مسح کریں (فرض)
    تر ہاتھوں سے سر کا مسح کریں, ایک بار۔ دونوں ہاتھ پیشانی سے گدی تک لے جائیں، پھر واپس لائیں۔ اسی پانی سے انگوٹھوں سے کانوں کے اندر اور باہر مسح کریں۔ دونوں کانوں کا مسح سنت ہے۔
  8. پاؤں ٹخنوں تک دھوئیں (فرض)
    پہلے دایاں پاؤں تین بار ٹخنے سمیت دھوئیں, انگلیوں کا خلال کریں (چھنگلی سے شروع کریں)۔ پھر بائیں پاؤں اسی طرح۔ ٹخنے دھونے میں شامل ہونے چاہئیں۔

وضو مکمل ہونے کے بعد آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دعا پڑھیں (دیکھیں: وضو کے بعد دعا

سنن اور مستحبات

نبی ﷺ نے وضو میں کئی سنتیں اور مستحبات ادا فرمائے جو وضو کو مکمل اور افضل بناتے ہیں:

سنت / مستحبدلیلنوٹ
مسواک کرناابو داود 52, "اگر امت پر بھاری نہ ہوتا تو ہر وضو کے ساتھ مسواک فرض کر دیتا"وضو سے پہلے یا منہ دھوتے وقت
تین تین بار دھوناصحیح مسلم 226, نبی ﷺ کا معمولفرض ایک بار، سنت تین بار
انگلیوں کا خلالترمذی 39, "ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو"ہاتھ اور پاؤں دونوں میں
داڑھی کا خلالترمذی 31, نبی ﷺ داڑھی کا خلال کرتےگھنی داڑھی میں مستحب
دائیں سے شروع کرنابخاری 168, "نبی ﷺ دائیں طرف پسند فرماتے"ہاتھ، پاؤں میں دایاں پہلے
بسم اللہ پڑھناابو داود 101شروع میں
وضو کے بعد دعاصحیح مسلم 234دیکھیں: دعا والا حصہ

وضو ٹوٹنے کی وجوہات

درج ذیل امور سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نماز سے پہلے نیا وضو کرنا ضروری ہوتا ہے:

  1. قضائے حاجت
    پیشاب، پاخانہ، ریح (گیس) کا خارج ہونا, یہ متفق علیہ ناقضِ وضو ہے۔ قرآن 5:6 میں "أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ" سے ثابت ہے۔
  2. گہری نیند
    ایسی نیند جس میں شعور ختم ہو جائے اور حواس باقی نہ رہیں۔ اگر بیٹھے بیٹھے اونگھ آئی اور جگہ محفوظ رہی تو اکثر فقہاء کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹا۔ دلیل: ابو داود 201۔
  3. غشی یا بے ہوشی
    مکمل بے ہوشی، مدہوشی، یا ایسی حالت جس میں عقل و شعور جاتا رہے, متفق علیہ ناقض ہے۔
  4. خون کا بہنا
    اس میں فقہاء کا اختلاف ہے: حنفی و حنبلی کے نزدیک بہنے والا خون ناقضِ وضو ہے؛ شافعی و مالکی کے نزدیک نہیں۔ احتیاط کا تقاضا ہے کہ زیادہ خون بہنے پر وضو تازہ کیا جائے۔
  5. شرم گاہ کو ہاتھ لگانا
    براہِ راست بغیر کپڑے کے, حنبلی و شافعی کے نزدیک ناقض؛ حنفی و مالکی کے نزدیک نہیں۔ دلیل: ابو داود 181۔
  6. مرد-عورت کا لمس
    شافعی کے نزدیک عورت کو بغیر رکاوٹ کے چھونا ناقضِ وضو ہے۔ حنفی و مالکی کے نزدیک شہوت کے ساتھ ہو تو۔ حنبلی کے نزدیک شہوت سے لمس۔ مذاہب میں وسیع اختلاف ہے۔

وضو کے بعد دعا

نبی ﷺ نے وضو کے فوراً بعد آسمان کی طرف دیکھ کر یہ دعا پڑھنے کی تعلیم فرمائی۔ صحیح مسلم 234 میں ہے کہ اس دعا کے پڑھنے سے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں اور بندہ جس سے چاہے داخل ہو:

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ

اردو ترجمہ:

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔

اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں میں سے بنا، اور مجھے پاک رہنے والوں میں سے بنا۔

ترجمہ کاری (transliteration):

Ashhadu an lā ilāha illallāhu waḥdahu lā sharīka lah, wa ashhadu anna Muḥammadan ʿabduhu wa rasūluh.
Allāhumma-j'alnī minat-tawwābīna waj'alnī minal-mutaṭahhirīn.

نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا: "جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر کہے: سُبْحَانَکَ اللَّھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْھَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ، تو یہ کلمات ایک پرزے میں لکھے جائیں گے اور قیامت تک مہر لگائی جائے گی, وہ مہر قیامت تک نہ کھلے گی۔" (نسائی)

FivePrayer ایپ میں وضو اور نماز کی یاد دہانی، اذان کا وقت، اور قبلہ کمپاس کی سہولت موجود ہے, تاکہ آپ کبھی وضو کی اہمیت نہ بھولیں۔

عام سوالات

وضو میں کتنے فرائض ہیں اور کون کون سے؟

وضو کے چار فرائض ہیں جو قرآن مجید سورۃ المائدہ آیت 6 سے ثابت ہیں: (1) پورے چہرے کو دھونا، (2) کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کو دھونا، (3) سر کا مسح کرنا، (4) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں کو دھونا۔ ان میں سے کوئی بھی چھوٹ جائے تو وضو درست نہیں ہوتا۔

کیا وضو میں ترتیب ضروری ہے؟

جی ہاں، جمہور فقہاء (حنفی، مالکی، حنبلی) کے نزدیک ترتیب واجب یا فرض ہے, یعنی پہلے چہرہ، پھر ہاتھ، پھر سر کا مسح، پھر پاؤں۔ قرآن مجید میں اسی ترتیب سے اعضاء کا ذکر ہے۔ اگر ترتیب بدل دی تو وضو دوبارہ کرنا ہوگا۔ البتہ بعض فقہاء نے اسے مستحب کہا ہے۔

وضو ٹوٹنے کی اہم وجوہات کیا ہیں؟

وضو ٹوٹنے کی متفق علیہ وجوہات: (1) پیشاب یا پاخانہ، (2) ریح خارج ہونا، (3) گہری نیند۔ اور مختلف فیہ وجوہات: خون بہنا، شرم گاہ کو ہاتھ لگانا، مرد-عورت کا لمس, ان میں مذاہب کا اختلاف ہے۔ احتیاط کے لیے کسی بھی شک کی صورت میں نیا وضو کر لینا بہتر ہے۔

کیا تین بار دھونا ضروری ہے؟

نہیں۔ ایک بار دھونا فرض ادا کرنے کے لیے کافی ہے، دو بار مستحب، اور تین بار سنت ہے (مسلم 226)۔ تین سے زیادہ دھونا مکروہ ہے, نبی ﷺ نے ایک شخص کو چار بار دھوتے دیکھا تو ناپسندیدگی ظاہر کی (نسائی)۔

کیا وضو کے بعد تولیہ استعمال کر سکتے ہیں؟

فقہاء کا اس میں اختلاف ہے۔ حنفی و مالکی کے نزدیک وضو کے بعد تولیہ سے پونچھنا مکروہ ہے, تاہم کوئی گناہ نہیں۔ شافعی و حنبلی کے نزدیک جائز ہے۔ نبی ﷺ سے دونوں طرح کے آثار ملتے ہیں۔ سردی میں یا ضرورت ہو تو پونچھنا قطعی جائز ہے۔

وضو اور نماز FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: نماز کے اوقات، اذان، اور قبلہ کمپاس۔

پانچوں نمازوں کی درست یاد دہانی، اذان پر فون لاک، اور قبلہ کمپاس, مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے دستیاب۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome