اہم نکات:
• شرح: ڈھائی فیصد (٢.٥٪) مال پر
• نصاب: ٨٥ گرام سونا یا ٥٩٥ گرام چاندی
• حول: ایک قمری سال گزرنا ضروری
• دلیل: سورہ توبہ: ١٠٣ · صحیح بخاری 1395
زکات (عربی: الزَّكَاۃ) کا لغوی مطلب ہے "پاکیزگی" اور "نمو"۔ شرعی اصطلاح میں زکات وہ مقررہ حصہ ہے جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان اپنے مخصوص مال میں سے سال میں ایک بار آٹھ مستحق گروہوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ محض مالی عبادت نہیں بلکہ اخلاقی تربیت بھی ہے کہ دولت انسان کے دل پر بوجھ نہ بنے، اور ساتھ ہی معاشرتی ذمہ داری بھی کہ امت کا کوئی فرد بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے۔
زکات: اسلام کا تیسرا رکن
اسلام کے پانچ ارکان میں زکات کا مقام تیسرا ہے، یعنی کلمہ شہادت اور نماز کے بعد۔ قرآن کریم میں زکات کا ذکر اکثر نماز کے ساتھ آتا ہے، جیسے یہ دونوں ایک ہی سانس کی عبادتیں ہوں، ایک روح کی پاکیزگی کے لیے اور دوسری مال کی پاکیزگی کے لیے۔
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(سورہ توبہ: ١٠٣)
ان کے مالوں میں سے صدقہ لو جو انہیں پاک کرے اور ان کو بابرکت کرے، اور ان کے لیے دعا کرو۔ بے شک تمہاری دعا ان کے لیے سکون کا باعث ہے۔ اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
اس آیت میں تین باتیں بیان ہوئیں: (١) زکات لینا نبی ﷺ کا فریضہ تھا، یعنی ریاست اور خلیفہ کی ذمہ داری، (٢) زکات دینے والے کے مال اور روح دونوں پاک ہوتے ہیں، اور (٣) دعا کرنے والے کی دعا دینے والے کے لیے سکون بنتی ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
(سورہ بقرہ: ٢٧٧)
جو لوگ ایمان لائے، نیک عمل کیے، نماز قائم کی اور زکات دی, ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکات ادا کرنا، حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔" (صحیح بخاری 8، صحیح مسلم 16)۔ زکات کا یہ مقام ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی اختیاری خیرات نہیں بلکہ ایمان کی علامت اور شرط ہے۔
نصاب: کتنے مال پر زکات فرض ہے؟
نصاب وہ کم از کم مقدار ہے جس تک مال پہنچنے پر زکات فرض ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کا مال نصاب سے کم ہو تو اس پر زکات واجب نہیں، چاہے وہ بظاہر خوشحال ہی کیوں نہ دکھتا ہو۔ نصاب کی دو بنیادیں ہیں:
- سونے کا نصاب: ٨٥ گرام (بیس مثقال / بیس دینار)۔ پاکستان میں مئی ٢٠٢٦ کی قیمت کے مطابق اندازاً ١٦ لاکھ روپے سے زائد۔
- چاندی کا نصاب: ٥٩٥ گرام (دو سو درہم)۔ پاکستان میں مئی ٢٠٢٦ کی قیمت کے مطابق اندازاً ١ لاکھ ٥٠ ہزار روپے سے زائد۔
فقہاء کے نزدیک جب نقدی، سونے، چاندی اور کاروباری مال کو ملا کر دیکھیں اور یہ کسی ایک نصاب کے برابر یا زیادہ ہو جائے، تو زکات واجب ہوتی ہے۔ چونکہ چاندی کا نصاب سونے سے کم ہے، اس لیے جو لوگ غریبوں کے لیے زیادہ احتیاط کرتے ہیں وہ چاندی کے نصاب کو پیمانہ بناتے ہیں۔ اس طرح زیادہ لوگ زکات کے دائرے میں آتے ہیں اور زیادہ مستحقین کی مدد ہو جاتی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے زکات کے بارے میں لکھا: "چاندی میں چالیسواں حصہ زکات ہے، اور اگر مال دو سو درہم سے کم ہو تو زکات نہیں، الا یہ کہ مالک چاہے۔" (صحیح بخاری 1454)
حول: ایک سال گزرنا ضروری
حول (عربی: الحَوْل) کا مطلب ہے "ایک قمری سال"۔ یہ زکات کی دوسری بنیادی شرط ہے۔ صرف نصاب کا مالک ہونا کافی نہیں بلکہ اس نصاب پر پورا ایک اسلامی سال (354 دن) گزرنا بھی ضروری ہے۔
مثلاً اگر آپ نے پہلی محرم کو نصاب کی رقم جمع کی اور اگلی محرم تک وہ نصاب کے برابر یا زیادہ رہی، تو اگلی محرم کو زکات واجب ہوگی۔ اگر سال کے اندر کبھی مال نصاب سے کم ہو گیا تو حول ٹوٹ جاتا ہے اور نئے سرے سے حساب شروع ہوگا۔ البتہ احناف کے نزدیک ابتدا اور انتہا میں نصاب کا ہونا کافی ہے، درمیان میں اگر وقتی کمی ہو تو حول نہیں ٹوٹتا۔
زرعی پیداوار کا حول نہیں ہوتا، بلکہ فصل کاٹتے وقت فوراً عُشر (دسواں حصہ) یا نصف عُشر (بیسواں حصہ) ادا ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور فصل کاٹنے کے دن ان کا حق ادا کرو۔" (سورہ انعام: 141)
کس مال پر زکات فرض ہے؟
تمام مال پر زکات واجب نہیں، بلکہ صرف وہ مال جو نمو اور اضافے کی صلاحیت رکھتا ہو اور جس کا مالک نصاب اور حول کی شرائط پوری کرتا ہو:
- نقدی: بینک بیلنس، جیب میں رقم اور گھر میں محفوظ روپے، یعنی ہر طرح کی نقدی پر زکات واجب ہے۔
- سونا اور چاندی: زیورات، سکے یا سونے کی انٹیں، سب پر زکات فرض ہے (جمہور فقہاء کے نزدیک)۔
- کاروباری مال: جو مال بیچنے کے لیے خریدا گیا ہو، یعنی دکان کا سامان یا تھوک کا اسٹاک، اس کی سالانہ مارکیٹ ویلیو پر زکات۔
- حصص (سٹاک): جو سٹاک کاروباری مقصد سے رکھے جائیں، ان پر زکات۔
- زرعی پیداوار: گندم، چاول، مکئی اور دیگر فصلیں، جن پر زکات کاٹتے وقت ادا کی جاتی ہے۔
- قرض میں دی ہوئی رقم: جو رقم دوسروں کو قرض دی ہو اور واپس ملنے کی توقع ہو، اس پر بھی زکات واجب ہے۔
جن پر زکات واجب نہیں: رہائشی مکان، ذاتی گاڑی، گھر کا فرنیچر اور برتن، ذاتی استعمال کے کپڑے اور جوتے، کاروبار کے لیے خریدی گئی مشینری اور اوزار (اگر بیچنے کے لیے نہ ہوں)۔ یہ "اموالِ مشغولہ" کہلاتی ہیں، یعنی وہ چیزیں جن کی ضرورت آدمی کو اپنی زندگی چلانے کے لیے ہے، اس لیے ان پر زکات نہیں۔
حساب کا طریقہ: عملی مثال
زکات کا حساب لگانا بظاہر پیچیدہ لگتا ہے لیکن ایک سادہ فارمولے سے کیا جا سکتا ہے:
زکات = (تمام زکاتی اثاثے) − (فوری واجب الادا قرضے) × ٢.٥٪
فرض کریں آپ کا حال درج ذیل ہے (پاکستانی روپوں میں، مئی ٢٠٢٦):
| زکاتی اثاثہ | رقم (روپے) |
|---|---|
| بینک بیلنس اور نقدی | ٥,٠٠,٠٠٠ |
| سونے کے زیورات (٥٠ گرام × ١٨,٠٠٠) | ٩,٠٠,٠٠٠ |
| کاروباری مال کی مارکیٹ ویلیو | ٣,٠٠,٠٠٠ |
| قرض دی ہوئی رقم (قابلِ وصول) | ١,٠٠,٠٠٠ |
| کل اثاثے | ١٨,٠٠,٠٠٠ |
| منہا: فوری واجب الادا قرض | (٢,٠٠,٠٠٠) |
| خالص زکاتی مال | ١٦,٠٠,٠٠٠ |
| زکات (٢.٥٪) | ٤٠,٠٠٠ |
یاد رکھیں: صحیح حساب کے لیے اپنی زکات کی ایک مقررہ تاریخ طے کر لیں (جیسے یکم رمضان یا یکم محرم) اور ہر سال اسی تاریخ پر حساب لگائیں۔ اگر قیمتیں اور مال بدلتا رہتا ہو تو سال کے آخر میں جو حالت ہو، اسی پر حساب کریں۔
آٹھ مستحق گروہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خود زکات کے مصارف مقرر فرمائے ہیں، یہاں تک کہ یہ حق نبی ﷺ کو بھی نہیں دیا گیا کہ وہ مصارف تبدیل کریں۔ سورہ توبہ کی آیت 60 میں آٹھ گروہ بیان ہوئے ہیں:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(سورہ توبہ: ٦٠)
صدقات (زکات) صرف فقراء کے لیے ہیں، مساکین کے لیے، زکات جمع کرنے والوں کے لیے، جن کے دلوں کو الفت دینی مقصود ہو، گردنوں کو آزاد کرنے میں، قرض داروں کے لیے، اللہ کی راہ میں، اور مسافر کے لیے, یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے۔ اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
ان آٹھ گروہوں کی تفصیل:
- فقراء: وہ لوگ جن کے پاس نصاب سے کم مال ہو اور بنیادی ضروریات (کھانا، کپڑا، رہائش) پوری نہ ہوتی ہوں۔ یہ سب سے اہم مصرف ہے اور جمہور علماء کے نزدیک یہی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔
- مساکین: احناف کے نزدیک مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، یعنی فقیر سے بھی زیادہ محروم۔ شافعیہ کے نزدیک مسکین کے پاس کچھ ہے لیکن کافی نہیں۔ دونوں صورتوں میں مالی تنگی والے افراد مراد ہیں۔
- عاملین علیہا: زکات جمع کرنے، حساب کرنے اور تقسیم کرنے پر مقرر سرکاری یا ادارتی ملازمین۔ انہیں اپنی خدمات کے عوض زکات سے تنخواہ مل سکتی ہے، چاہے وہ خود امیر ہوں۔
- مؤلفۃ القلوب: جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو، یعنی نئے مسلمان یا وہ غیر مسلم جن کی اسلام سے دشمنی ختم کرنا ضروری ہو۔ اس مصرف کے اطلاق پر علماء کے درمیان اختلاف ہے۔
- فی الرقاب (گردنیں آزاد کرنا): اصل میں غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے تھا۔ آج کل اس کا اطلاق ان لوگوں پر ہو سکتا ہے جو کسی جبری صورتحال (قید، بانڈڈ لیبر) میں پھنسے ہوں۔
- غارمین (قرض داران): وہ لوگ جو قرض کے بوجھ تلے دبے ہوں اور انہوں نے یہ قرض اپنی ذاتی عیاشی پر نہیں بلکہ جائز ضرورت یا دوسروں کی مدد کے لیے لیا ہو۔ انہیں قرض ادا کرنے کے لیے زکات دی جا سکتی ہے۔
- فی سبیل اللہ: اللہ کی راہ میں۔ اصل میں جہاد کے لیے تھا، لیکن جمہور علماء کے نزدیک اس میں اسلامی تعلیم، دعوت اور دینی منصوبے بھی شامل ہیں۔
- ابن السبیل (مسافر): وہ مسافر جو سفر میں پھنس گیا ہو، اس کا مال ختم ہو گیا ہو اور وطن پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ چاہے وہ اپنے شہر میں امیر ہو، سفر کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اسے زکات دی جا سکتی ہے۔
زکات کا سب سے پہلا حقدار اپنے قریب کا مستحق ہے: پہلے اپنے شہر کے فقراء، پھر اپنے ضلعے کے اور پھر اپنے ملک کے۔ حدیث میں ہے: "صدقہ پہلے قریبی رشتہ داروں کا حق ہے، پھر دوسروں کا۔" (صحیح مسلم 979، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت سے)
زکات المال اور زکات الفطر میں فرق
| پہلو | زکات المال | زکات الفطر |
|---|---|---|
| واجب ہونے کی وجہ | نصاب اور حول | رمضان کا روزہ رکھنا |
| مقدار | ڈھائی فیصد (٢.٥٪) | تقریباً ٢ کلو گندم یا اس کی قیمت |
| وقت ادائیگی | حول مکمل ہونے پر | عید الفطر سے پہلے |
| کس پر فرض | صاحبِ نصاب پر | گھر کے ہر فرد کی طرف سے |
| مقصد | مال کی پاکیزگی، غریبوں کی مدد | روزوں کی تلافی، عید میں غریبوں کی شرکت |
| مستحقین | آٹھ مخصوص اصناف | بنیادی طور پر فقراء و مساکین |
عام سوالات
کیا زکات رمضان میں ادا کرنا لازمی ہے؟
نہیں۔ زکات اُس تاریخ پر واجب ہوتی ہے جب آپ کے مال پر ایک قمری سال (حول) مکمل ہوتا ہے، نہ کہ لازماً رمضان میں۔ تاہم لوگ اکثر رمضان میں زکات دیتے ہیں کیونکہ اس مہینے میں نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ کا حول رمضان میں مکمل ہوتا ہے تو ادا کریں، ورنہ اپنی مقررہ تاریخ پر ادا کریں۔ البتہ اگر آپ نے حول سے پہلے دے دی تو وہ بھی درست ہے، اور یہ پیشگی زکات (تعجیل الزکاۃ) جائز ہے۔
کیا زیورات پر زکات ہوتی ہے؟
جمہور فقہاء (احناف، حنابلہ، بعض مالکیہ) کے نزدیک سونے چاندی کے زیورات پر زکات واجب ہے چاہے وہ زیرِ استعمال ہوں۔ شافعیہ اور بعض علماء کے نزدیک پہنے جانے والے زیورات پر زکات نہیں۔ احتیاط اور جمہور کی رائے یہ ہے کہ نصاب (٨٥ گرام) پہنچنے اور حول گزرنے پر زکات ادا کی جائے۔ اگر گھر میں مختلف افراد کے زیورات ہیں، تو ہر عورت اپنے ذاتی زیورات کا خود حساب لگائے۔
صدقہ اور زکات میں کیا فرق ہے؟
زکات ایک فرض عبادت ہے جو نصاب اور حول کی شرائط پوری ہونے پر واجب ہوتی ہے، اس کی شرح مقرر (٢.٥٪) ہے، اور یہ صرف آٹھ مخصوص مصارف میں خرچ ہو سکتی ہے۔ صدقہ نفلی ہے، اس کی کوئی مقررہ مقدار یا وقت نہیں اور کسی بھی نیک کام میں دیا جا سکتا ہے۔ زکات نہ دینا گناہِ کبیرہ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جن لوگوں نے زکات نہ دی ان کا مال تانبے کی شکل اختیار کرے گا اور انہیں داغا جائے گا۔ (صحیح بخاری 1402)
کیا قریبی رشتہ داروں کو زکات دی جا سکتی ہے؟
جی ہاں، مستحق قریبی رشتہ داروں کو زکات دینا نہ صرف جائز بلکہ زیادہ ثواب کا باعث ہے کیونکہ ایک ہی عمل میں صلہ رحمی اور زکات دونوں کا اجر ملتا ہے۔ تاہم جن کا نفقہ آپ پر واجب ہے (یعنی بیوی، اولاد، والدین) انہیں زکات نہیں دی جا سکتی کیونکہ وہ آپ کی ذمہ داری ہیں۔ بھائی، بہن، چچا، خالہ یا پھوپھی اگر مستحق ہوں تو انہیں زکات دینا افضل ہے۔
حصص (سٹاک) پر زکات کیسے حساب کریں؟
سٹاک کی زکات کے دو طریقے ہیں: (١) تجارتی سٹاک: اگر آپ نے سٹاک بیچنے کے مقصد سے خریدے ہیں تو سال کے آخر میں ان کی مارکیٹ ویلیو پر ٢.٥٪ زکات ادا کریں۔ (٢) طویل مدتی سرمایہ کاری: اگر سٹاک لمبے عرصے کے لیے رکھے ہیں تو کمپنی کے زکاتی اثاثوں (نقدی، وصول شدہ رقوم، کاروباری مال) کا تناسب معلوم کریں اور اس حصے پر ٢.٥٪ ادا کریں۔ آسان اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ سال کے آخر میں سٹاک کی کل مارکیٹ ویلیو پر ٢.٥٪ ادا کر دیں۔
FivePrayer: پانچ نمازوں اور دینی فرائض کی خاموش یاد دہانی۔
اذان پر فون لاک، تہجد کا ٹائم ٹیبل، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔