فوری حوالہ, عید الاضحی 2026:

تاریخ: 6 جون 2026 (10 ذی الحجہ)
نماز عید: صبح کے وقت (فجر کے بعد، ضحیٰ سے پہلے)
قربانی: نماز عید کے فوراً بعد سے 13 ذی الحجہ کے غروب تک
تکبیرات التشریق: 9 ذی الحجہ کی فجر سے 13 کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد
سنت: فجر سے قربانی تک کچھ نہ کھانا

عید الاضحی اسلامی سال کے سب سے بڑے شعائر میں سے ایک ہے۔ یہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو منائی جاتی ہے اور اس کا تعلق حج کے اہم ترین ایام سے ہے۔ جو لوگ مکہ مکرمہ میں حج ادا کر رہے ہوتے ہیں وہ منیٰ میں قربانی کرتے ہیں، اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے گھروں میں اسی سنت کو زندہ رکھتے ہیں۔

عید الاضحی کی معنویت

عید الاضحی کی بنیاد قرآن کریم کے سورہ الصافات میں بیان کردہ اس واقعے پر ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ باپ نے بیٹے کو بتایا، اور بیٹے نے بھی فرمانبرداری کا جو جواب دیا وہ ہر دور میں ایمان کی روشنی ہے:

قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (الصافات: 102)
"بیٹے نے کہا: ابا جان! آپ وہ کریں جس کا آپ کو حکم ہوا ہے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔"

جب ابراہیم علیہ السلام نے حکمِ الٰہی پر عمل کا عزم کیا، اللہ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھ کو روک دیا اور ایک عظیم قربانی کے ذریعے اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا:

وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (الصافات: 107)
"اور ہم نے اُسے ایک بڑی قربانی سے فدیہ دے دیا۔"

یہی واقعہ ہر سال عید الاضحی کو ایک نئی روح عطا کرتا ہے۔ جانور کی قربانی محض ایک رسم نہیں, یہ ہمارے دل کی اُس قربانی کی علامت ہے جو ہم اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے اس موقع کے لیے کئی سنتیں مقرر فرمائیں تاکہ ہر مسلمان اس دن کو اللہ کی یاد اور شکر میں گزارے۔

صبح کی سنتیں

عید الاضحی کی صبح کا آغاز کئی سنتوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اس دن کی فضیلت کو اجاگر کرتی ہیں اور بندے کو روحانی کیفیت میں لاتی ہیں۔

غسل کرنا: عید کی نماز سے پہلے غسل کرنا سنت موکدہ ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ عید الفطر اور عید الاضحی دونوں کے لیے عیدگاہ جانے سے پہلے غسل فرماتے تھے (موطا امام مالک)۔ یہ غسل جسمانی طہارت کے ساتھ ساتھ روحانی تیاری کی علامت بھی ہے۔

خوشبو لگانا: بہترین خوشبو کا استعمال سنت ہے۔ نبی ﷺ ہر جمعہ اور خوشی کے موقع پر خوشبو کا اہتمام فرماتے تھے۔ عید کے دن اس سنت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

بہترین لباس پہننا: ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ دونوں عیدوں میں اپنا بہترین جوڑا زیب تن فرماتے تھے (ابن ماجہ 1272)۔ مردوں کے لیے سادہ اور وقار والا لباس، خواتین کے لیے شرعی پردے کا اہتمام ضروری ہے۔

فجر سے قربانی تک کچھ نہ کھانا: یہ عید الاضحی کی خاص سنت ہے جو عید الفطر سے مختلف ہے۔ نبی ﷺ عید الاضحی کے دن عیدگاہ سے واپسی اور قربانی سے پہلے کچھ تناول نہیں فرماتے تھے، اور پھر اپنی قربانی کا گوشت سب سے پہلے کھاتے تھے (مسند احمد)۔ جو لوگ قربانی نہ کریں وہ عید الاضحی میں بھی کھا سکتے ہیں، لیکن جو قربانی کریں اُن کے لیے پہلا نوالہ قربانی کا گوشت ہو، یہ مستحب ہے۔

پیدل عیدگاہ جانا: ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عید کے لیے پیدل تشریف لے جاتے تھے (ابن ماجہ 1295)۔ پیدل جانا اس لیے مسنون ہے کہ راستے میں تکبیرات کا ورد ہو اور لوگ ایک دوسرے سے ملیں اور اسلام کا شعار بلند ہو۔

مختلف راستے سے واپسی: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عید میں جاتے اور آتے وقت مختلف راستے اختیار فرماتے (صحیح بخاری 986)۔ حکمت یہ ہے کہ دونوں راستوں کی زمین گواہی دے، یا دونوں طرف کے لوگوں سے ملاقات ہو۔

عید الاضحی میں تکبیرات کہتے ہوئے جانا: گھر سے عیدگاہ تک تکبیرات کا ورد کرنا خاص عید الاضحی کی شان ہے۔ نماز تک اور نماز کے بعد بھی تکبیرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

تکبیرات التشریق

تکبیرات التشریق ان ایام میں اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا سب سے اہم ذکر ہے۔ یہ 9 ذی الحجہ (عرفہ کے دن) کی فجر کی نماز کے بعد سے شروع ہوتی ہیں اور 13 ذی الحجہ کی عصر کی نماز تک جاری رہتی ہیں۔ اس دوران پانچوں فرض نمازوں کے بعد, سلام پھیرتے ہی, ایک بار یہ تکبیرات کہی جائیں گی۔

مجموعی طور پر یہ 23 فرض نمازیں بنتی ہیں جن میں تکبیرات التشریق واجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان ایام کا ذکر فرمایا ہے:

وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ (البقرة: 203)
"اور گنتی کے ان چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔"

تکبیرات التشریق کا مکمل متن:

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ

اردو ترجمہ: "اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔"

مرد بلند آواز سے اور خواتین آہستہ آواز سے تکبیرات کہیں گی۔ حنفی مذہب کے مطابق یہ تکبیرات ہر مقیم مرد اور عورت پر واجب ہیں۔ فرض نماز کے بعد فوری طور پر سلام کے ساتھ ہی یہ تکبیرات کہی جائیں, پہلے تکبیرات، پھر دعا یا دیگر اذکار۔

نماز عید کا طریقہ

نماز عید الاضحی دو رکعت پر مشتمل ہے۔ یہ نماز بغیر اذان اور بغیر اقامت کے ادا کی جاتی ہے۔ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد سات زائد تکبیریں ہیں، اور دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے پانچ زائد تکبیریں ہیں۔ دونوں رکعتوں میں قرأت جہری (بلند آواز) سے ہوتی ہے۔

پہلی رکعت: امام تکبیر تحریمہ (اللہ اکبر) کہہ کر نماز شروع کرے گا۔ مقتدی بھی تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھیں اور ثناء پڑھیں۔ اس کے بعد امام سات زائد تکبیریں کہے گا اور ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھانا مسنون ہے۔ ہر دو تکبیروں کے درمیان وقفے میں سبحان اللہ والحمد للہ یا درود پڑھنا مستحب ہے۔ ساتویں زائد تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ اور پھر کوئی سورت, مستحب ہے کہ سورہ الاعلیٰ, پڑھی جائے۔ پھر رکوع، سجدے اور پہلی رکعت مکمل۔

دوسری رکعت: دوسری رکعت میں امام پہلے سورہ فاتحہ اور سورت پڑھے گا, مستحب ہے کہ سورہ الغاشیہ۔ سورت کے بعد، رکوع میں جانے سے پہلے، پانچ زائد تکبیریں کہی جائیں گی۔ پھر رکوع، سجدے، التحیات، درود اور سلام۔

نبی ﷺ دونوں عیدوں میں پہلی رکعت میں سورہ الاعلیٰ اور دوسری میں سورہ الغاشیہ پڑھتے تھے، جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ بعض روایات میں پہلی رکعت میں سورہ ق اور دوسری میں سورہ القمر کا بھی ذکر ہے۔

اگر کوئی مقتدی نماز میں دیر سے شامل ہو اور رکعت چھوٹ جائے تو فقہاء نے اختلاف کیا ہے, راجح قول یہ ہے کہ جب وہ اپنی چھوٹی رکعت قضا کرے تو زائد تکبیرات بھی کہے۔

خطبہ عید

عید الاضحی کی نماز کے بعد امام دو خطبے دیتا ہے۔ عید کا خطبہ جمعہ کے خطبے سے مختلف ہے: جمعہ میں خطبہ نماز سے پہلے ہوتا ہے جبکہ عید میں نماز کے بعد۔

خطبہ عید سننا سنت ہے۔ عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا جو چاہے بیٹھے اور سنے، اور جو چاہے چلا جائے (ابو داود 1155)۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ خطبہ سننا واجب نہیں لیکن سنت اور مستحب ہے۔ عید کے خطبے میں قربانی، احکام شریعت اور مناسبت کے مطابق نصیحت ہوتی ہے۔

خطبے کے دوران خاموشی سے بیٹھنا، توجہ سے سننا اور فائدہ اٹھانا شعائر اسلام کی تعظیم ہے۔ نماز ختم ہوتے ہی بھاگ جانا گو کہ جائز ہے، لیکن خطبہ سن کر جانا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔

تہنیت اور مبارک باد

عید کے دن مسلمانوں میں ایک دوسرے کو مبارک باد دینے کا رواج صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔ مسنون تہنیت کے الفاظ یہ ہیں:

تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ

اردو ترجمہ: "اللہ ہماری اور آپ کی (نیکیاں اور عبادات) قبول فرمائے۔"

ابن التركماني نے الجوهر النقي میں ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عید کے دن ایک دوسرے سے ملتے تو یہی الفاظ کہتے تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا۔ یہ ایک مختصر لیکن جامع دعا ہے, ہم اللہ سے مانگتے ہیں کہ وہ ہماری نماز، قربانی، اور اس دن کی تمام عبادات قبول فرمائے۔

جواب میں یہ کہنا مستحب ہے:

تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ وَغَفَرَ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ

"اللہ ہماری اور آپ کی قبول فرمائے اور اللہ ہمیں اور آپ کو بخش دے۔"

عید کے دن مصافحہ، گلے ملنا، اور قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کرنا ان سنتوں کا حسین حصہ ہے۔ یہ محبت، اخوت اور اسلامی برادری کا عملی اظہار ہے۔ FivePrayer ایپ میں آپ نماز عید کا وقت اپنے شہر کے حساب سے دیکھ سکتے ہیں تاکہ اس خوشی کے لمحے کو نہ چوکیں۔

قربانی کا وقت

قربانی کا وقت نماز عید ادا ہونے کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے اور 13 ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک جاری رہتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ (صحیح بخاری 952)
"جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا، اس نے اپنے لیے گوشت ذبح کیا۔ اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا، اس کی قربانی مکمل ہوئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پالیا۔"

قربانی کے چار دن ہیں: 10، 11، 12 اور 13 ذی الحجہ۔ سب سے افضل دن 10 ذی الحجہ ہے، اور اس دن نماز عید کے بعد سب سے پہلے قربانی کرنا مستحب ہے۔ قربانی کا جانور خریدتے وقت اس کی صحت، عمر اور سلامت اعضاء کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹنے چاہیں, یہ سنت ہے (صحیح مسلم 1977)۔ یہ حاجیوں کی احرام والی کیفیت سے مشابہت کی علامت ہے۔

عام سوالات

عید الاضحی میں کھانا کب کھائیں؟

عید الاضحی کی سنت یہ ہے کہ فجر کے بعد سے قربانی تک کچھ نہ کھائیں، اور قربانی کا گوشت سب سے پہلا نوالہ بنائیں۔ نبی ﷺ عید الاضحی کے دن عید کی نماز سے واپسی تک کچھ تناول نہیں فرماتے تھے۔ یہ عید الفطر کے برعکس ہے جس میں صبح کچھ طاق عدد کھجوریں کھانا سنت ہے۔ جو لوگ قربانی نہ کریں، وہ عیدگاہ جانے سے پہلے بھی کھا سکتے ہیں۔

کیا عیدگاہ کے بجائے مسجد میں نماز ہو سکتی ہے؟

نبی ﷺ کی سنت کھلے میدان یعنی عیدگاہ میں نماز پڑھنا تھا۔ تاہم بارش، سخت سردی، یا جگہ کی قلت کی وجہ سے مسجد میں نماز عید ادا کرنا جائز ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے نبی ﷺ نے مسجد میں نماز عید پڑھائی۔ شہروں میں اگر کوئی بڑا میدان نہ ہو تو مسجد میں پڑھنا بھی صحیح ہے۔

تکبیرات التشریق مردوں اور عورتوں دونوں پر واجب ہیں؟

جی ہاں، حنفی فقہ کے مطابق تکبیرات التشریق مردوں اور عورتوں دونوں پر واجب ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مرد بلند آواز سے کہیں گے اور عورتیں آہستہ آواز سے۔ یہ 9 ذی الحجہ کی فجر سے 13 کی عصر تک ہر فرض نماز کے فوراً بعد ایک مرتبہ کہی جائیں گی۔ نوافل، سنن یا وتر کے بعد واجب نہیں۔

کیا گھر میں اکیلے نماز عید ادا کی جا سکتی ہے؟

جمہور علماء کے نزدیک نماز عید کے لیے جماعت شرط ہے، اس لیے گھر میں تنہا نماز عید ادا کرنا صحیح نہیں۔ اگر کسی وجہ سے نماز عید چھوٹ جائے تو کچھ علماء نے چار رکعت قضا کی بات کہی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اپنے قریب ترین جماعت تلاش کریں۔ خواتین کے لیے گھر میں قریبی مردوں کی جماعت کے ساتھ شامل ہونا ممکن ہو تو بہتر، ورنہ اس دن کثرت سے ذکر، تلاوت اور دعا کریں۔

مسافر تکبیرات کیسے کہیں؟

مسافر کے بارے میں فقہاء میں اختلاف ہے۔ جمہور علماء (شوافع، مالکیہ، حنابلہ) کے نزدیک مسافر پر بھی تکبیرات التشریق واجب ہیں۔ حنفی مذہب میں تنہا مسافر پر واجب نہیں، لیکن اگر مسافر کسی جماعت میں شامل ہو جس پر واجب ہے تو اس پر بھی واجب ہو جاتا ہے۔ احتیاط کا تقاضا ہے کہ مسافر بھی تکبیرات کہے، کیونکہ اس میں اللہ کی کبریائی بیان کرنا ہے اور یہ ایام التشریق کی ایک خاص شان ہے۔

عید کی نماز FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: اذان، نماز کا وقت، اور قبلہ : سب ایک جگہ۔

عید الاضحی 2026 کی نماز کا وقت اپنے شہر کے مطابق FivePrayer میں دیکھیں۔ فون لاک پر اذان، تکبیرات کی یاد دہانی، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ, iOS، Android اور Chrome کے لیے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome