اہم نکات:

عمل: دو اضافی سجدے
دلیل: صحیح بخاری 401، صحیح مسلم 572
جمہور (مالکی، شافعی، حنبلی): سلام سے پہلے
احناف: زیادتی کی صورت میں سلام کے بعد

سجدۂ سہو (عربی: سَجْدَةُ السَّهْو) وہ دو اضافی سجدے ہیں جو نماز میں بھول یا غلطی کے سبب نماز کی تکمیل کے لیے کیے جاتے ہیں۔ نبی ﷺ نے متعدد مواقع پر خود یہ سجدے کیے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تعلیم دی۔ "سہو" کا لغوی مطلب ہے "بھول جانا", یعنی یہ سجدے اس بھول کا کفارہ اور نماز کی کمی کا ازالہ ہیں۔

تعریف

سجدۂ سہو نماز میں بھول یا غلطی کی تلافی کے لیے دو اضافی سجدے ہیں۔ نبی ﷺ نے متعدد مواقع پر خود یہ سجدے کیے اور صحابہ کو بھی تعلیم دی۔ یہ سجدے نماز کو نقص سے پاک کرنے کا شرعی طریقہ ہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔" (صحیح مسلم 572 کا مفہوم)

یہ سجدے نماز کو باطل نہیں کرتے، بلکہ اُسے مکمل کرتے ہیں۔ اِنہیں نماز کے آخر میں ادا کیا جاتا ہے، اور یہ نماز ہی کا حصہ شمار ہوتے ہیں۔

اسباب

سجدۂ سہو واجب ہونے کے چند بنیادی اسباب ہیں، جن میں سے ہر ایک کا ثبوت احادیث صحیحہ سے ملتا ہے:

  1. رکعت زیادہ ہو جانا, صحیح بخاری 401
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے دو سجدے کیے۔ (بخاری 401)
  2. رکعت کم ہونا / ادھوری نماز میں سلام کرنا, صحیح مسلم 572
    ذوالیدین رضی اللہ عنہ کا واقعہ: نبی ﷺ نے دو رکعت پر سلام پھیر دیا۔ جب آگاہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے باقی نماز مکمل کی، پھر دو سجدے کیے۔ (مسلم 572)
  3. پہلا قعدہ (تشہد) بھول جانا, سنن ابو داود 1019
    اگر دوسری رکعت میں تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے اور کھڑا ہو جائے، تو آخر میں سجدۂ سہو کرے۔ اگر بیٹھنے سے پہلے یاد آ جائے تو واپس بیٹھ کر تشہد پڑھے اور پھر بھی سجدۂ سہو کرے۔
  4. رکعتوں میں شک, صحیح مسلم 571
    نبی ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز میں شک میں پڑ جائے تو وہ صحیح تعداد طے کرنے کی کوشش کرے۔ اگر غالب گمان ہو جائے تو اسی پر نماز مکمل کرے۔ پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔" (مسلم 571)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز میں شک میں پڑ جائے اور نہ جانے کہ تین رکعت پڑھی یا چار، تو شک دور کرے اور یقین پر بنا رکھے، پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔" (صحیح مسلم 571)

طریقہ

سجدۂ سہو کا طریقہ عموماً یہ ہے (جمہور کے نزدیک، یعنی سلام سے پہلے):

  1. آخری تشہد پڑھیں, نماز معمول کے مطابق مکمل کریں اور آخری تشہد (درود ابراہیمی تک) پڑھیں۔
  2. سلام سے پہلے, سلام پھیرنے سے قبل سجدۂ سہو کریں۔
  3. تکبیر, "اللہ اکبر" کہتے ہوئے پہلے سجدے میں جائیں۔
  4. پہلا سجدہ, معمول کے مطابق سجدہ کریں اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ پڑھیں۔
  5. درمیانی جلسہ, سجدوں کے درمیان بیٹھیں۔
  6. دوسرا سجدہ, دوبارہ سجدہ کریں اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ پڑھیں۔
  7. سلام, اٹھ کر دونوں طرف سلام پھیریں اور نماز مکمل کریں۔

مختصراً: آخری تشہد → سلام سے پہلے → اللہ اکبر → پہلا سجدہ → درمیانی جلسہ → دوسرا سجدہ → سلام۔

سلام سے پہلے یا بعد

علماء کے درمیان ایک بنیادی اختلاف یہ ہے کہ سجدۂ سہو سلام سے پہلے کیا جائے یا بعد میں۔ دونوں طرف صحیح احادیث موجود ہیں:

صورتجمہور (مالکی، شافعی، حنبلی)احناف
عموماً (نقص/کمی)سلام سے پہلےسلام سے پہلے
زیادتی (رکعت بڑھ جائے)سلام سے پہلےسلام کے بعد
شک کی صورتسلام سے پہلےسلام سے پہلے
قعدہ اولیٰ بھول جاناسلام سے پہلےسلام سے پہلے

بخاری 401 میں رکعت زیادہ ہونے پر نبی ﷺ نے سلام کے بعد دو سجدے کیے، جبکہ مسلم 572 (ذوالیدین والے واقعے) میں رکعت کم ہونے پر سلام سے پہلے سجدے کیے۔ یہ اجتہادی مسئلہ ہے, اپنے مسلک کے مطابق عمل کریں۔

مسالک کا فرق

چاروں مسالک کا اس موضوع پر تفصیلی موقف:

حنفی مسلک

سجدۂ سہو واجب ہے جب واجبات نماز میں کوئی نقص آئے۔ زیادتی (مثلاً رکعت زیادہ ہو) کی صورت میں سجدہ سلام کے بعد ہے۔ نقص یا شک میں سلام سے پہلے۔ احناف واجب اور سنت کے درمیان فرق کرتے ہیں, سنت بھول جانے پر سجدۂ سہو واجب نہیں۔

مالکی مسلک

سجدۂ سہو واجب اور مستحب دونوں مواقع پر ہے۔ عموماً سلام سے پہلے، لیکن بعض صورتوں میں (مثلاً سلام سے پہلے کچھ بھول جائے اور بعد میں یاد آئے) تو سلام کے بعد بھی ہو سکتا ہے۔ مالکی اس باب میں دونوں صورتوں کو تسلیم کرتے ہیں۔

شافعی مسلک

سجدۂ سہو سنت موکدہ ہے (واجب نہیں)۔ ترک کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ ہمیشہ سلام سے پہلے ہوگا، خواہ نقص ہو یا زیادتی۔ بخاری 401 کی حدیث کو شوافع نے اس طرح جمع کیا کہ وہاں خاص حالت تھی۔

حنبلی مسلک

سجدۂ سہو واجب ہے۔ نقص کی صورت میں سلام سے پہلے، اور جب نبی ﷺ کی حدیث میں سلام کے بعد کا ذکر ہو (جیسے بخاری 401) تو سلام کے بعد, یعنی حدیث کے مطابق ہر مسئلے میں عمل ہوگا۔

FivePrayer ایپ

FivePrayer ایپ آپ کو نماز کے اوقات، اذان، اور قبلے کی سمت سے آگاہ رکھتی ہے تاکہ آپ ہر نماز وقت پر، یکسوئی سے ادا کر سکیں۔ جب نماز کی یاد دہانی بروقت ہو، تو بھول کی گنجائش کم ہوتی ہے۔

اکثر سوالات

کیا سجدۂ سہو واجب ہے؟

جمہور علماء کے نزدیک سجدۂ سہو واجب ہے جب اس کا سبب پایا جائے۔ ترک کرنے پر نماز ناقص رہتی ہے، تاہم اکثر فقہاء کے نزدیک نماز باطل نہیں ہوتی جب تک سبب موجود رہا ہو اور وقت نہ گزرا ہو۔ شوافع کے نزدیک سنت موکدہ ہے۔ اپنے مسلک کے مطابق عمل کریں۔

سجدۂ سہو میں کیا پڑھیں؟

عام سجدے کی طرح سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ پڑھیں۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے۔ حدیث میں کوئی خاص الگ ذکر سجدۂ سہو کے لیے ثابت نہیں۔ کچھ علماء نے بعد میں دعا بھی مستحب بتائی ہے لیکن یہ فرض نہیں۔

سجدۂ سہو چھوٹ جائے تو نماز ٹوٹتی ہے؟

جمہور کے نزدیک سجدۂ سہو چھوٹ جانے سے نماز باطل نہیں ہوتی، البتہ نماز ناقص رہتی ہے۔ اگر ابھی نماز ختم نہیں ہوئی تو سجدہ کر لیں۔ سلام کے فوراً بعد بھی یاد آئے تو سجدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن نماز کے بعد کافی وقت گزر جائے تو اکثر کے نزدیک موقع نہیں رہتا۔

رکعتوں میں شک ہو تو کیا کریں؟

نبی ﷺ نے حکم دیا کہ شک کی صورت میں کم تعداد پر یقین کریں اور نماز مکمل کریں، پھر سلام سے پہلے دو سجدۂ سہو کریں۔ (صحیح مسلم 571) اگر غالب گمان کسی تعداد پر ہو تو اسی پر نماز مکمل کر کے سجدۂ سہو کریں۔ اگر دونوں برابر ہوں تو کم تعداد کو یقینی مانیں۔

مقتدی کو بھی امام کی غلطی پر سجدۂ سہو کرنا ہوگا؟

جی ہاں۔ جب امام سجدۂ سہو کرے تو مقتدی بھی اس کی اقتداء میں سجدۂ سہو کرے گا, چاہے غلطی کا علم مقتدی کو نہ ہو۔ مقتدی امام کے پیچھے ہے، اس لیے امام کے سجدے میں شامل ہو گا۔ منفرد (اکیلا نمازی) اپنی غلطی پر خود سجدۂ سہو کرے گا۔

نماز FivePrayer کے ساتھ

FivePrayer: نماز کا بروقت ساتھی۔

اذان پر فون لاک، نماز کے اوقات، اور قبلہ کمپاس۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome