2026 کی اہم تاریخیں:
• ذی الحجہ کا آغاز: 28 مئی 2026 (1 ذی الحجہ)
• یوم الترویہ: 4 جون (8 ذی الحجہ)
• یوم عرفہ: 5 جون 2026 (9 ذی الحجہ)
• عید الاضحی: 6 جون 2026 (10 ذی الحجہ)
• حدیث: بخاری 969, "ان ایام میں نیک اعمال اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں"
اسلامی سال میں جہاں رمضان المبارک ایک بے مثال موسمِ عبادت ہے، وہاں ذی الحجہ کے پہلے دس دن بھی خداوندِ کریم کی طرف سے بندوں کو ملنے والا ایک عظیم الشان تحفہ ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جن میں حج کا عظیم فریضہ ادا ہوتا ہے، قربانی کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے، اور دنیا کے ہر کونے سے مسلمان ایک ہی ذکر اور تکبیر میں ڈوب جاتے ہیں۔
ان دنوں کی عظمت
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قسم کھا کر ان راتوں کو خاص شرف بخشا ہے۔ سورۃ الفجر میں ارشاد ہے:
وَالْفَجْرِ ﴿١﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿٢﴾
قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی۔
(سورۃ الفجر: 1-2)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ "دس راتیں" ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے خود ان کی قسم کھائی، جو اُن کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرف کو الفاظ میں بھی بیان فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ, يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلاَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلاَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ۔
کوئی دن ایسا نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں, یعنی پہلے دس دنوں, سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! جہاد فی سبیل اللہ سے بھی نہیں؟ فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ سے بھی نہیں، مگر وہ شخص جو اپنی جان اور مال لے کر نکلے اور کچھ واپس نہ لائے۔
(صحیح بخاری 969)
یہ وہ حدیث ہے جو ان دنوں کا اصل مقام واضح کرتی ہے۔ یہاں نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف حج کرنے والوں کے لیے یہ دن افضل ہیں, بلکہ ہر نیک عمل، چاہے نماز ہو، روزہ ہو، صدقہ ہو، یا ذکر، ان دنوں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔
سنتی اعمال
ان دنوں کی تیاری صرف ایک خاص عمل کی نہیں، بلکہ ہر خیر کے دروازے کو کھولنے کی ہے۔ علماء نے مختلف احادیث کی روشنی میں کئی اعمال بیان کیے ہیں جن کا اہتمام ان دنوں میں خاص طور پر کرنا چاہیے۔
سب سے پہلے اور سب سے اہم ہے سچی توبہ اور استغفار۔ یہ دن اللہ کی رحمت کے خاص موسم ہیں، اور بندے کو چاہیے کہ وہ ان دنوں کے آغاز میں اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرے، کسی کا حق ہو تو ادا کرے، اور اپنے رب کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جائے۔
صدقہ اور خیرات کا خاص اہتمام کریں, چاہے کم ہو، لیکن ہر دن ہو۔ اہلِ علم نے بتایا ہے کہ ان دنوں میں صدقہ کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے، کیونکہ عام طور پر نیک اعمال کا ثواب وقت اور مکان کی فضیلت سے بڑھتا ہے۔
صلہ رحمی, یعنی رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا، اُن سے ملنا، اُن کا حال پوچھنا, بھی ان دنوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی سے تعلق کٹا ہوا ہو تو یہ مبارک دن اُسے جوڑنے کا بہترین موقع ہے۔
قرآن کریم کی تلاوت کثرت سے کریں۔ ہر دن کم از کم ایک پارہ یا جتنا ممکن ہو پڑھنے کا معمول بنائیں۔ اگر حفظ نہ ہو تو دیکھ کر پڑھنا بھی عظیم عبادت ہے۔
اور یقیناً، پنج وقتہ نمازوں کی پابندی ان دنوں میں خاص طور پر اہم ہے, نماز کو ابتدائی وقت میں ادا کرنا، تہجد کا اہتمام کرنا، اور ہر نماز کے بعد ذکر الٰہی میں مشغول رہنا۔ FivePrayer ایپ کا اذان الرٹ آپ کو ہر نماز کا وقت یاد دلائے گا تاکہ ان قیمتی دنوں میں ایک بھی نماز فوت نہ ہو۔
روزہ: خاص طور پر یوم عرفہ
ان دس دنوں میں روزہ رکھنا بہت بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے پہلے نو دنوں کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ لہٰذا جو شخص ان سب دنوں کا روزہ رکھ سکے، اسے ضرور رکھنا چاہیے۔ اور جو تمام نہ رکھ سکے، وہ جتنے ہو سکیں رکھے۔
تمام دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت یوم عرفہ کے روزے کی ہے, یعنی 9 ذی الحجہ کا روزہ، جو 2026 میں 5 جون کو ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ۔
یہ گزشتہ سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
(صحیح مسلم 1162)
یہ ایک روزہ دو سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہے, اس سے بڑھ کر کیا بات ہو سکتی ہے؟ یاد رہے کہ یہ روزہ صرف غیر حاجیوں کے لیے ہے، کیونکہ حاجیوں کے لیے یوم عرفہ خود عبادت میں گزرتا ہے اور اُن کے لیے روزہ رکھنا مکروہ ہے تاکہ وہ دعاؤں اور ذکر کی قوت برقرار رکھ سکیں۔
یوم الترویہ (8 ذی الحجہ، 2026 میں 4 جون) کا روزہ بھی مستحب ہے۔ بعض روایات میں اس کی فضیلت کا ذکر ملتا ہے اور اہلِ علم نے اسے بھی خیر کا دن قرار دیا ہے۔
ذکر اور تکبیر
ان دنوں کی ایک خاص پہچان تکبیر ہے, اللہ کی بڑائی کا اعلان، جو فضاؤں میں گونجتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ, "اور معلوم دنوں میں اللہ کا نام لیں۔" (سورۃ الحج: 28), علماء کی اکثریت کے نزدیک "ایامِ معلومات" سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔
تکبیر کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی تکبیر مطلق: یہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے اور عید الاضحی کے دن تک جاری رہتی ہے۔ مسجد میں، بازار میں، گھر میں، راستے میں, ہر وقت پڑھی جا سکتی ہے، بشرطیکہ شور نہ مچایا جائے۔
دوسری تکبیر مقید: یہ عید الاضحی کی نماز کے بعد سے شروع ہوتی ہے اور 13 ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ سے مسند احمد (6154) میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔
تکبیر کا مستحب الفاظ یہ ہیں:
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بازاروں میں بلند آواز سے تکبیر کہتے اور لوگ بھی ان کی آواز سن کر تکبیر کہنے لگتے, یہ ان مبارک دنوں کی خاص رونق تھی۔
قربانی کی نیت اور بال ناخن کا حکم
جو شخص عید الاضحی پر قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے عید کی قربانی تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا۔
جب دس دن (ذی الحجہ کے) آ جائیں اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بالوں اور جلد کو نہ چھوئے۔
(صحیح مسلم 1977)
یہ حکم صرف قربانی کرنے والے پر لاگو ہوتا ہے، اس کے گھر والوں پر نہیں, جب تک وہ خود بھی قربانی کرنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں۔ اس میں بال، ناخن اور جلد کی تراش شامل ہے۔ علماء نے بتایا ہے کہ یہ اس لیے ہے کہ قربانی کرنے والا بھی کچھ حد تک حاجی جیسی کیفیت میں ہو جائے, جس طرح محرم اپنے بال نہیں کاٹتا، ویسے ہی قربانی کرنے والا بھی عید تک انتظار کرے۔
اگر بھول کر یا لاعلمی میں کاٹ لیے، تو گناہ نہیں، لیکن آئندہ سے احتیاط رکھنی چاہیے۔ قربانی کرنے کی استطاعت کے باوجود چھوڑ دینا مناسب نہیں, نبی ﷺ کی سنت کو اہمیت دینی چاہیے۔
یوم عرفہ کی خصوصیت
ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں سب سے پُرنور دن یوم عرفہ ہے, 9 ذی الحجہ۔ یہ وہ دن ہے جب لاکھوں حجاج کرام میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے ہیں، اور جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے۔
یہی وہ دن ہے جس میں دینِ اسلام کی تکمیل کا اعلان ہوا:
اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
(سورۃ المائدہ: 3)
یہ آیت یوم عرفہ ہی کو نازل ہوئی تھی, جمعے کے دن، حجۃ الوداع کے موقع پر۔ اس دن کی عظمت اسی ایک آیت سے واضح ہے۔
یوم عرفہ کی بہترین دعا کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔
بہترین دعا یوم عرفہ کی دعا ہے، اور بہترین بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہی وہ یہ ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
(سنن ترمذی 3585)
غیر حجاج کے لیے یوم عرفہ کا خاص عمل یہ ہے: صبح سے غروبِ آفتاب تک مسلسل دعا، ذکر، درود، استغفار اور اس کلمے کا ورد۔ کثرت سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ پڑھیں، کچھ وقت تنہائی میں بیٹھ کر دل کی گہرائیوں سے اللہ سے مانگیں، اور اگر ہو سکے تو یوم عرفہ کا روزہ ضرور رکھیں۔
یوم النحر: عید الاضحی
دسویں ذی الحجہ, یوم النحر, اسلامی سال کا سب سے بڑا دن ہے۔ 2026 میں یہ 6 جون بروز ہفتہ ہے۔ اس دن کا آغاز نمازِ عید سے ہوتا ہے، جو سنتِ موکدہ ہے اور جماعت کے ساتھ کھلی جگہ ادا کی جاتی ہے۔ نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا اور نمازِ عید کے بعد قربانی کا گوشت کھانا مسنون ہے۔
نماز کے بعد قربانی کا وقت شروع ہوتا ہے، جو 12 ذی الحجہ تک جاری رہتا ہے۔ قربانی صرف گوشت کا معاملہ نہیں, یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یاد اور اللہ کی اطاعت میں قیمتی چیز قربان کرنے کا اظہار ہے۔
یوم النحر اور ایامِ تشریق (11، 12، 13 ذی الحجہ) خوشی اور اظہارِ شکر کے دن ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے, یہ کھانے پینے، اللہ کا ذکر کرنے، اور احباب سے ملنے کے دن ہیں۔
روحانی استعداد
ذی الحجہ کے ان دنوں کو پورا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انہیں رمضان کی طرح ایک موسمِ عبادت سمجھیں, نہ کہ صرف عید اور قربانی کا انتظام کرنے کا وقت۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ایک گہری بات فرمائی: "ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کے دن رمضان کے آخری عشرے کے دنوں سے افضل ہیں، جبکہ رمضان کی آخری دس راتیں ذی الحجہ کی راتوں سے افضل ہیں۔" اس تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ ذی الحجہ کے دن عبادتِ عامہ کے لیے سال کے بہترین دن ہیں, خاص طور پر نماز، روزہ، صدقہ اور ذکر کے لیے۔
عملی رہنمائی کے طور پر: ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی اپنا نظام الاوقات ترتیب دیں۔ رات کو جلدی سوئیں تاکہ فجر کو بیدار ہو سکیں۔ ہر دن کا کچھ وقت قرآن کے لیے مختص کریں۔ گھر میں تکبیر کی فضا بنائیں۔ بچوں کو بھی ان دنوں کی اہمیت سمجھائیں۔ اور سب سے بڑھ کر، ان دنوں میں گناہ سے بچنے کا خاص اہتمام کریں, کیونکہ جس طرح نیکی کا ثواب بڑھتا ہے، عین ممکن ہے کہ خطاء کا بھی حساب مختلف ہو۔
اللہ تعالیٰ ان قیمتی دنوں کو ہم سے قبول فرمائے، ہمارے حجاج کو حجِ مقبول نصیب فرمائے، اور ہم سب کو ان دنوں کی برکتوں سے مستفید فرمائے۔ آمین۔
عام سوالات
کیا یہ دن رمضان سے افضل ہیں؟
علماء میں اس پر مدلل بحث ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے توضیح فرمائی کہ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کے دن رمضان کے آخری عشرے کے دنوں سے افضل ہیں, کیونکہ ان میں حج، قربانی، عرفہ اور عید جیسے عظیم شعائر ہیں۔ تاہم رمضان کی آخری راتیں, بالخصوص لیلۃ القدر, ذی الحجہ کی راتوں سے افضل ہیں۔ یعنی دونوں کی فضیلت مختلف پہلوؤں میں ہے، اور دونوں کو اپنے اپنے موسم میں پورا غنیمت سمجھنا چاہیے۔
کیا تمام 9 دن روزہ رکھنا لازم ہے؟
نہیں، یہ لازم نہیں بلکہ مستحب ہے۔ نبی ﷺ خود ان دنوں کا روزہ رکھتے تھے، اس لیے اہتمام کرنا بہت بہتر ہے۔ لیکن اگر سب نہ ہو سکیں تو کم از کم یوم عرفہ (9 ذی الحجہ) کا روزہ ضرور رکھیں, صحیح مسلم 1162 کی حدیث کے مطابق یہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
قربانی نہ کرنے والے کے لیے بھی بال ناخن نہ کاٹنے کا حکم ہے؟
صحیح مسلم 1977 کی حدیث واضح ہے کہ یہ حکم اُن لوگوں کے لیے ہے جو قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جو قربانی نہیں کر رہے, مثلاً بچے یا جن لوگوں کی مالی استطاعت نہیں, اُن پر یہ پابندی نہیں۔ البتہ اگر کوئی احتیاطاً رکنا چاہے تو رک سکتا ہے, اس میں حرج نہیں۔
عورتیں ایام میں تکبیر کیسے کہیں؟
تکبیر کے لیے طہارت شرط نہیں ہے, یہ عام ذکر الٰہی ہے، نماز نہیں۔ حیض والی عورتیں بھی تکبیر مطلق اور تکبیر مقید پڑھ سکتی ہیں، قرآن کی تلاوت کے سوا دیگر تمام اذکار و ادعیہ جاری رکھ سکتی ہیں۔ البتہ تکبیر آہستہ آواز میں کہیں, بلند آواز سے اذان و تکبیر مردوں کا شعار ہے۔
ان دنوں میں کون سا عمل سب سے افضل ہے؟
بخاری 969 کے مطابق ہر نیک عمل ان دنوں میں اللہ کو سب سے محبوب ہے, اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دنوں میں جو بھی نیکی کریں، وہ باقی دنوں کی نیکی سے زیادہ وزنی ہے۔ تاہم یوم عرفہ کی دعا، ذکر اور روزہ خاص فضیلت رکھتے ہیں۔ حاجیوں کے لیے تو وقوفِ عرفہ ہی سب سے عظیم عمل ہے، اور باقی مسلمانوں کے لیے یوم عرفہ کا روزہ اور دعا سب سے افضل اعمال میں شامل ہے۔
FivePrayer: ہر نماز کے وقت کی خاموش یاد دہانی۔
ذی الحجہ کے مبارک دنوں میں ایک بھی نماز فوت نہ ہو, FivePrayer کا اذان الرٹ آپ کو بروقت یاد دلائے گا۔ قبلہ کمپاس، تہجد الرٹ، مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔