ایک نظر میں:
• وجوب: قرآن 3:97 اور بخاری 1521؛ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض
• بنیاد: وقوفِ عرفہ (9 ذوالحجہ): "الحجُّ عرفۃ" (ابو داود 1949)
• 5 بنیادی دن: 8 ذوالحجہ منی، 9 عرفات اور مزدلفہ، 10-11-12 منی (رمی، قربانی، حلق، طواف)
• اجر: "حجِ مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں" (بخاری 1773)
حج محض ایک سفر نہیں بلکہ دل کی سب سے بڑی واپسی ہے۔ جب لاکھوں دل ایک آواز میں "لبیک" کہتے ہیں تو رنگ، نسل اور زبان کے تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ہر حاجی اس قافلے میں شامل ہو جاتا ہے جو چودہ صدیوں سے جاری ہے۔
نوٹ: FivePrayer ایپ حج کے موسم میں نماز کے اوقات، قبلہ اور اذان کی یاد دہانی کے لیے آپ کا ساتھ دیتی ہے۔ iOS، Android اور Chrome پر مفت۔
حج کا وجوب
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا
"اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔" (آل عمران 3:97)
نبی کریم نے بھی حج کو ارکانِ اسلام میں شمار فرمایا:
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔" (صحیح بخاری 8، مسلم 16)
حج ہر مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے بشرطیکہ وہ استطاعت رکھتا ہو۔ استطاعت سے مراد ہے: زادِ راہ کی فراہمی، سفر کرنے میں صحت کی رکاوٹ نہ ہو، راستہ محفوظ ہو اور گھر والوں کا خرچ مہیا ہو۔ حج پر جانے سے پہلے قرض ادا کرنا اور امانتیں واپس کرنا ضروری ہے۔ حج کی تین قسمیں ہیں: حج افراد (صرف حج)، حج تمتع (پہلے عمرہ پھر حج) اور حج قران (ایک احرام میں دونوں)۔
احرام اور تلبیہ
احرام حج کی پہلی شرط ہے۔ میقات سے پہلے احرام باندھنا لازمی ہے۔ پاکستانی حجاج کے لیے میقات عموماً یلملم یا جدہ ایئرپورٹ سے پہلے ہوتا ہے۔
احرام باندھنے کا طریقہ: پہلے غسل کریں، مردوں کے لیے بغیر سلے دو سفید کپڑے (تہبند اور چادر)، خواتین اپنا معمول کا پردہ پہن سکتی ہیں۔ دو رکعت نماز پڑھ کر نیت کریں اور تلبیہ پڑھنا شروع کریں:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ
"حاضر ہوں اللہ! حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں۔ بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہت تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔" (صحیح مسلم 1184)
احرام کے بعد یہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں: سلے ہوئے کپڑے (مردوں کے لیے)، خوشبو، بال اور ناخن کاٹنا، شکار کرنا، ازدواجی تعلق اور نکاح۔ ان پابندیوں کی خلاف ورزی پر دم (فدیہ) واجب ہو جاتا ہے۔
8 ذوالحجہ: منی میں قیام (یوم الترویہ)
8 ذوالحجہ کو حاجی مکہ سے منی روانہ ہوتے ہیں۔ اس دن کو یوم الترویہ کہتے ہیں۔ منی میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن کی فجر ادا کی جاتی ہے۔ یعنی پانچ وقت منی میں گزارے جاتے ہیں۔
نبی کریم نے حجۃ الوداع میں یہ رات منی میں گزاری تھی (صحیح مسلم 1218)۔ منی میں نماز قصر کی جاتی ہے۔ اس روز کثرت سے تلبیہ، ذکر اور دعا میں مشغول رہنا مسنون ہے۔ منی خیموں کا ایک بہت بڑا شہر ہے جو دنیا بھر کے لاکھوں حجاج کو ایک ساتھ پناہ دیتا ہے۔
9 ذوالحجہ: وقوفِ عرفہ اور مزدلفہ
یہ حج کا سب سے اہم دن ہے۔ نبی کریم نے فرمایا:
"الحجُّ عرفۃ": حج عرفات ہے۔ (ابو داود 1949، ترمذی 889)
فجر کے بعد حاجی منی سے عرفات روانہ ہوتے ہیں۔ عرفات میں ظہر اور عصر جمع تقدیم کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔ پھر غروب آفتاب تک وقوف ہوتا ہے: آنسوؤں کے ساتھ دعا، تلبیہ، ذکر اور قرآن کی تلاوت۔ نبی کریم نے عرفات کی بہترین دعا کے بارے میں فرمایا:
"عرفہ کے دن کی بہترین دعا یہ ہے: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر۔" (ترمذی 3585)
غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع تاخیر کے ساتھ ادا کریں۔ رات یہاں کھلے آسمان تلے گزاریں، رمی کے لیے کنکریاں چنیں اور فجر کے بعد مشعر الحرام کے پاس دعا کریں۔ نبی کریم نے حجۃ الوداع میں یہاں فجر کے بعد لمبی دعا مانگی (صحیح مسلم 1218)۔ یہ وہ گھڑی ہے جب اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور فخر کرتے ہیں۔
10 ذوالحجہ: یوم النحر
یہ حج کا سب سے مصروف دن ہے۔ چار بنیادی اعمال ترتیب سے انجام دیے جاتے ہیں:
| ترتیب | عمل | حکم |
|---|---|---|
| 1 | بڑے جمرے (جمرۃ العقبہ) کو 7 کنکریاں مارنا | واجب |
| 2 | قربانی کرنا | واجب (حج تمتع اور قران میں) |
| 3 | حلق (سر منڈانا) یا قصر (بال کتروانا) | واجب |
| 4 | طواف افاضہ | رکن (فرض) |
جمرۃ العقبہ کو سات کنکریاں ایک ایک کر کے ماری جاتی ہیں اور ہر کنکری پر "اللہ اکبر" کہا جاتا ہے۔ نبی کریم نے چھوٹی کنکریاں مارنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا: "دین میں غلو سے بچو۔" (نسائی 3057)
رمی کے بعد قربانی کی جاتی ہے۔ حج تمتع اور قران کرنے والوں پر ہدی واجب ہے۔ قربانی کا گوشت غرباء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ قربانی کے بعد حلق یا قصر کریں اور احرام اتار دیں۔ اب ازدواجی تعلق کے سوا تمام احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ طواف افاضہ کے بعد تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
11-12-13 ذوالحجہ: ایامِ تشریق
ان دنوں حاجی منی میں رات گزارتے ہیں اور ہر روز تینوں جمروں کو زوال کے بعد کنکریاں مارتے ہیں:
| جمرہ | مقام | روزانہ کنکریاں |
|---|---|---|
| جمرۃ الاولی (چھوٹا جمرہ) | منی کا شروع | 7 کنکریاں |
| جمرۃ الوسطی (درمیانی جمرہ) | درمیان میں | 7 کنکریاں |
| جمرۃ العقبہ (بڑا جمرہ) | منی کا آخر | 7 کنکریاں |
چھوٹے اور درمیانی جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد قبلہ کی طرف رخ کر کے لمبی دعا مانگنا سنت ہے۔ جو حاجی دو دن کرنا چاہے وہ 12 ذوالحجہ کے غروب آفتاب سے پہلے منی چھوڑ سکتا ہے (البقرہ 2:203)۔ تینوں دن رہنا زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔ ایامِ تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا بھی واجب ہے۔
طواف افاضہ اور سعی
طواف افاضہ حج کا رکن ہے؛ اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ 10 ذوالحجہ سے یہ طواف کیا جا سکتا ہے۔ کعبہ کے گرد سات چکر لگائے جاتے ہیں اور ہر چکر میں دعا، ذکر یا تلاوت کی جاتی ہے۔ رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
"اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔" (البقرہ 2:201)
طواف افاضہ کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جاتی ہے؛ صفا سے شروع کر کے مروہ پر ختم ہونے والے سات چکر۔ یہ سعی حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی یادگار ہے۔ سعی میں کوئی مخصوص دعا نہیں ہے؛ آزادی سے دعا، ذکر یا تلاوت کی جا سکتی ہے۔
طواف وداع
مکہ سے روانگی سے پہلے طواف وداع کرنا واجب ہے۔ نبی کریم نے فرمایا:
"کوئی شخص بیت اللہ کو الوداع کہے بغیر نہ جائے، ہاں حائضہ عورت کو معاف ہے۔" (صحیح بخاری 1755، مسلم 1328)
طواف وداع کے بعد کعبہ کی طرف منہ کر کے دعا کریں اور مکہ سے روانہ ہو جائیں۔ مستحب ہے کہ آخری نظر کعبہ پر ڈالیں اور دل میں دوبارہ آنے کی تمنا رکھیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جو زندگی میں کبھی نہیں بھولتا۔
حجِ مبرور کا اجر
نبی کریم نے حجِ مبرور کے بارے میں فرمایا:
"حجِ مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔" (صحیح بخاری 1773)
ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا:
"جو شخص اللہ کے لیے حج کرے اور کوئی فحش بات نہ کرے اور کوئی گناہ نہ کرے تو وہ اس دن کی طرح واپس آتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔" (صحیح بخاری 1521)
حجِ مبرور کی علامات یہ ہیں کہ حاجی خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے حج کرے، تمام ارکان و واجبات ادا کرے، گناہوں سے بچے، لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور واپسی کے بعد اس کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئے۔ علماء نے کہا ہے کہ حجِ مبرور کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ حاجی حج سے پہلے کی زندگی کی طرف نہ لوٹے۔
نبی کریم نے ایک اور حدیث میں حج اور عمرہ کو مسلسل ادا کرنے کی ترغیب دی:
"حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے کرتے رہو کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کا میل دور کرتی ہے۔" (ترمذی 810)
عام سوالات
حج کتنے دن میں مکمل ہوتا ہے؟
حج کے فرائض اور واجبات ۸ ذوالحجہ سے ۱۳ ذوالحجہ تک پانچ سے چھ دن میں مکمل ہوتے ہیں۔ اس میں منی میں قیام، عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں رات گزارنا، رمی جمار، قربانی، حلق اور طواف شامل ہیں۔
حج کی بنیاد کیا ہے؟
نبی کریم نے فرمایا: "الحجُّ عرفۃ" (ابو داود 1949)۔ ۹ ذوالحجہ کو زوال سے غروب آفتاب تک عرفات میں وقوف حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ جو اس سے محروم رہے اس کا حج نہیں ہوتا۔
حج مبرور سے کیا مراد ہے؟
وہ حج جو صرف اللہ کی رضا کے لیے، تمام ارکان پورا کرتے ہوئے، گناہوں سے بچتے ہوئے ادا کیا جائے۔ اس کا بدلہ جنت ہے (بخاری 1773)۔
احرام باندھنے کا طریقہ کیا ہے؟
غسل کریں، احرام کے کپڑے پہنیں، دو رکعت نماز پڑھیں، نیت کریں اور تلبیہ پڑھنا شروع کریں۔ احرام کے بعد سلے کپڑے، خوشبو، بال و ناخن کاٹنا اور ازدواجی تعلق منع ہیں۔
حج اور عمرہ میں کیا فرق ہے؟
حج مخصوص ذوالحجہ کے ایام میں فرض عبادت ہے جس میں وقوف عرفہ، مزدلفہ میں قیام، رمی اور قربانی شامل ہیں۔ عمرہ سنت عبادت ہے جو سال کے کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہے، صرف احرام، طواف، سعی اور حلق پر مشتمل ہے۔
حج کے موسم میں نماز کبھی نہ چھوڑیں۔
مکہ، منی اور عرفات میں نماز کے درست اوقات اور قبلہ کی سمت جانیں۔ اذان کی یاد دہانی کے ساتھ ہر وقت حاضر رہیں۔ مفت، بغیر اشتہارات، بغیر اکاؤنٹ۔