حج 2026 ـ اہم نکات:

تاریخیں: 5 جون – 9 جون 2026 (9-13 ذی الحجہ 1447ھ)
فرضیت: فرض عین، زندگی میں ایک بار، ہر مستطیع مسلمان پر
ارکانِ حج: احرام، وقوف عرفات، طواف افاضہ، سعی صفا مروہ
دلیل: قرآن 3:97 ـ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا

حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے آخری اور شاید سب سے عظیم سفر ہے۔ یہ محض ایک جسمانی سفر نہیں بلکہ روحانی بازگشت ہے اس ازلی میثاق کی جو انسان نے اپنے رب سے باندھا تھا۔ ہر سال لاکھوں مسلمان دنیا کے گوشے گوشے سے، مختلف زبانوں اور نسلوں کے باوجود، ایک ہی لباس میں اور ایک ہی تلبیہ کی آواز بلند کرتے ہوئے بیت اللہ کی طرف رخ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، ان پر جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔" (آل عمران 3:97)

حج کی یہ رہنمائی آپ کے ہاتھوں میں اس لیے ہے کہ جب آپ اس بابرکت سفر پر روانہ ہوں تو ہر قدم سنت کے مطابق اور دل مطمئن ہو۔ آئیے قدم بقدم چلتے ہیں۔

مرحلہ اول: احرام: سب کچھ چھوڑ کر اللہ کے حضور

احرام محض کپڑوں کا نام نہیں، یہ ایک حال ہے، ایک کیفیت ہے۔ جب حاجی احرام باندھتا ہے، تو وہ اس دنیا کی زینت و زیبائش کو پس پشت ڈال کر اپنے رب کے دربار میں ایک فقیر کی صورت حاضر ہوتا ہے۔

میقات پہنچنے سے پہلے غسل کریں، یہ سنت ہے۔ مردوں کے لیے بغیر سلائی کی دو سفید چادریں (ازار اور رداء) پہننا لازم ہے۔ عورتوں کے لیے عام شرعی لباس، جس میں چہرہ اور ہاتھ کھلے ہوں۔ پھر میقات پر حج کی نیت کریں اور تلبیہ کی آواز بلند کریں:

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ

اردو ترجمہ: "حاضر ہوں، اے اللہ، حاضر ہوں! حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں! بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیری ہیں اور بادشاہت بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔"

تلبیہ پڑھتے رہیں، چلتے، بیٹھتے، اٹھتے، نماز کے بعد، یہاں تک کہ 10 ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی پہلی رمی کر لیں۔

احرام کی ممنوعات میں شامل ہیں: خوشبو لگانا، بال یا ناخن کاٹنا، سلے ہوئے کپڑے (مردوں کے لیے)، سر ڈھانپنا (مردوں کے لیے)، شکار کرنا، جنسی تعلقات، اور لڑائی جھگڑا۔ قرآن نے فرمایا: "حج میں نہ بے حیائی ہو، نہ گناہ، نہ لڑائی۔" (البقرہ 2:197)

مرحلہ دوم: طواف قدوم: خانہ کعبہ کا پہلا استقبال

مکہ مکرمہ پہنچ کر سب سے پہلا کام طواف قدوم ہے، یعنی "آمد کا طواف"۔ گویا ایک مہمان اپنے میزبان کے گھر پہنچ کر سلام عرض کرتا ہے۔ یہ طواف افراد اور قران کرنے والوں کے لیے سنت ہے، تمتع کرنے والوں کے لیے عمرے کے طواف سے یہ کام ہو جاتا ہے۔

مسجد الحرام میں داخل ہوتے ہی خانہ کعبہ کو سامنے دیکھ کر تکبیر پڑھیں اور دعا کریں۔ حجر اسود کے سامنے آئیں، استلام کریں (چومیں یا ہاتھ سے اشارہ کریں)، اور "بسم اللہ، اللہ اکبر" کہہ کر طواف شروع کریں۔

طواف کے سات چکر خانہ کعبہ کے گرد، دائیں جانب (کعبہ آپ کی بائیں طرف) لگائیں۔ پہلے تین چکروں میں رمل کریں، یعنی اکڑ کر، کندھے ہلاتے ہوئے تیز قدموں سے چلیں۔ یہ ابتدائی اسلام میں مسلمانوں کی طاقت کے اظہار کے طور پر شروع ہوا تھا۔ آخری چار چکر معمول کے مطابق چلیں۔

ہر چکر کے دوران دعا و ذکر کریں۔ کوئی مخصوص الفاظ لازم نہیں، لیکن رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا ثابت ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ طواف مکمل کر کے دو رکعت نفل مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کریں۔

مرحلہ سوم: سعی صفا مروہ: ایک ماں کی محبت کا قصہ

طواف کے بعد وضو کی حالت میں صفا پہاڑی کی طرف چلیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔" (البقرہ 2:158)

سعی سات چکروں پر مشتمل ہے: صفا سے مروہ ایک، مروہ سے صفا دو، اور اسی طرح مروہ پر ساتویں چکر کا اختتام ہوتا ہے۔ صفا پر چڑھ کر خانہ کعبہ کی طرف رخ کریں، ہاتھ اٹھا کر تکبیر پڑھیں اور دعا کریں۔

سعی کے دوران مردوں کے لیے سبز نشانیوں کے درمیان ہروَلہ (دوڑنا) سنت ہے، یہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی یاد ہے جو پانی کی تلاش میں دوڑتی تھیں۔ ان کی وہ بے قرار دوڑ آج ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی ہر حاجی کے قدموں میں زندہ ہے۔ سعی کے دوران کوئی بھی دعا پڑھ سکتے ہیں، بس دل کی گہرائیوں سے اللہ سے مانگیں۔

مرحلہ چہارم: وقوف عرفات: حج کا رکنِ اعظم

9 ذی الحجہ کا دن حج کا دل ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: الْحَجُّ عَرَفَةُ یعنی "حج عرفات کا نام ہے۔" (صحیح بخاری 1669) جو شخص رات گزر جانے سے پہلے عرفات نہ پہنچ سکا، اس کا حج نہیں ہوتا۔ اتنا اہم ہے یہ رکن۔

8 ذی الحجہ کو منی پہنچیں اور رات وہاں گزاریں، یہ سنت ہے۔ 9 ذی الحجہ کو زوال سے پہلے عرفات روانہ ہوں۔ زوال کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں جمع تقدیم (اکٹھی) ادا کریں۔ پھر غروب آفتاب تک میدانِ عرفات میں ٹھہریں۔

یہ وقت دعا کا سب سے قیمتی لمحہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے، اور بہترین کلام جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے پڑھا وہ ہے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔" (سنن ترمذی 3585) روئیں، گڑگڑائیں، توبہ کریں اور دعائیں مانگیں۔ کوئی گناہ نہیں جو اس دن معاف نہ ہو۔

غروب کے بعد، اذان سے پہلے نہ نکلیں، اور پھر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں۔ نبی ﷺ نے یہاں سے اطمینان سے کوچ کیا، جلدبازی نہیں کی۔

مرحلہ پنجم: مزدلفہ: کھلے آسمان تلے رات

مزدلفہ عرفات اور منی کے درمیان واقع ہے۔ یہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع تاخیر پڑھی جاتی ہیں، یعنی عشاء کے وقت میں دونوں اکٹھی۔ پھر رات یہاں کھلے آسمان تلے گزاریں، یہ واجب ہے، اور جس نے بغیر عذر کے یہاں قیام نہ کیا اس پر دم (قربانی) لازم ہے۔

رات میں آرام کریں اور ساتھ ساتھ کنکریاں جمع کریں: کل کے لیے سات اور آنے والے دو دنوں کے لیے مزید (21+21=42) کنکریاں۔ کنکریاں مٹر کے دانے کے برابر ہوں، نہ بہت چھوٹی نہ بہت بڑی۔ فجر کی نماز پڑھ کر طلوع آفتاب سے پہلے مشعر الحرام کے قریب ذکر و اذکار کریں، پھر منی کی طرف روانہ ہوں۔

مرحلہ ششم: منی: قربانی، رمی اور تحلل

10 ذی الحجہ یومِ نحر کا دن ہے، یعنی قربانی کا دن۔ جب ساری دنیا کے مسلمان عید الاضحی مناتے ہیں اور حجاجِ کرام مناسک میں سب سے اہم عمل انجام دیتے ہیں۔

اس دن چار کام مخصوص ترتیب سے کرنے سنت ہیں:

  1. رمی جمرہ عقبہ: سب سے بڑے جمرے کو سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ "اللہ اکبر" کہیں۔ نبی ﷺ نے ضحی کے وقت یہ رمی کی (صحیح مسلم 1299)۔ جمرے پر کنکری ماریں، اس کے اطراف کھڑے نہ ہوں۔
  2. قربانی (نحر): رمی کے بعد ہدی (قربانی کا جانور) ذبح کریں، یہ قران اور تمتع کرنے والوں پر واجب ہے۔ آج کل ذبح کا انتظام اپنے حج گروپ کے ذریعے یا سرکاری کوپن سے ہو جاتا ہے۔
  3. حلق یا تقصیر: سر کا حلق (مکمل مونڈانا) افضل ہے، تقصیر (بال کٹوانا) بھی جائز ہے۔ عورتیں صرف انگلی کے ایک پور کے برابر بال کٹوائیں۔ اس کے بعد تحللِ اول ہو جاتا ہے، یعنی سلے کپڑے، خوشبو اور دیگر ممنوعات حلال ہو جاتی ہیں، سوائے ازواج کے۔
  4. طواف افاضہ: مکہ جا کر فرض طواف کریں (تفصیل اگلے مرحلے میں)۔

مرحلہ ہفتم: طواف افاضہ: حج کا فرض رکن

طواف افاضہ (جسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں) حج کا رکن ہے، واجب نہیں۔ اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ 10 ذی الحجہ سے لے کر ایام تشریق (13 ذی الحجہ) تک کے اندر کرنا لازم ہے، تاہم 10 کو کرنا افضل ہے۔

یہ طواف عام طواف کی طرح سات چکر ہے، حجر اسود سے آغاز، خانہ کعبہ دائیں جانب۔ اس طواف میں رمل نہیں کرتے۔ طواف کے بعد دو رکعت نفل مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کریں، زمزم پئیں، اور اگر پہلے سعی نہیں کی تھی (جیسے افراد کرنے والے) تو اب سعی کریں۔

طواف افاضہ مکمل ہونے کے بعد تحللِ ثانی ہو جاتا ہے، یعنی ازواج بھی حلال ہو جاتے ہیں۔ اب احرام کی تمام ممنوعات ختم ہو گئیں۔ منی واپس لوٹیں اور باقی مناسک جاری رکھیں۔

مرحلہ ہشتم: ایام تشریق اور طواف وداع

11، 12 اور 13 ذی الحجہ کو ایام تشریق کہتے ہیں۔ ان دنوں میں منی میں قیام کرنا واجب ہے، کم از کم 11 اور 12 کی رات، اور 13 بھی رکنا افضل ہے۔ جو جلدی واپس جانا چاہے وہ 12 کی رمی کے بعد غروب سے پہلے نکل سکتا ہے (قرآن 2:203)۔

ہر روز زوال کے بعد تینوں جمرات کو رمی کریں: پہلے جمرہ صغریٰ کو سات، پھر جمرہ وسطی کو سات، پھر جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں۔ جمرہ صغریٰ اور وسطی کے بعد قبلہ رخ ہو کر دعا کریں، یہ سنت ہے۔ جمرہ عقبہ کے بعد دعا کرنا ثابت نہیں۔

منی سے واپسی کے بعد مکہ میں آخری کام طواف وداع ہے، یعنی مکہ مکرمہ کو آخری سلام۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص مکہ سے نہ جائے جب تک خانہ کعبہ کا طواف نہ کر لے، یعنی آخری کام بیت اللہ ہو (صحیح بخاری 1755)۔ طواف وداع کے بعد فوراً روانہ ہو جائیں، طواف کے بعد رکنا مکروہ ہے۔ حائضہ اور نفاس والی عورتوں کو طواف وداع معاف ہے (صحیح بخاری 1758)۔

مدینہ منورہ کی زیارت حج کا حصہ نہیں، لیکن انتہائی افضل اور مستحب عمل ہے، خصوصاً مسجد نبوی میں نبی ﷺ کی قبر مبارک پر سلام پڑھنا اور چالیس نمازیں ادا کرنا۔

عام سوالات

کیا حج بدل (نیابت) جائز ہے؟

جی ہاں، حج بدل جائز ہے۔ اگر کوئی شخص فوت ہو گیا ہو اور اس پر حج فرض تھا، یا وہ دائمی بیماری یا معذوری کی وجہ سے خود حج نہ کر سکتا ہو، تو کوئی اور اس کی طرف سے حج کر سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ نیابت کرنے والا پہلے اپنا فرض حج ادا کر چکا ہو۔ ایک عورت نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بوڑھے باپ کی طرف سے, جو سفر کی سکت نہیں رکھتا, حج کر سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں" (صحیح بخاری 1749)۔

کیا عورت بغیر محرم حج کر سکتی ہے؟

اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان خاصا اختلاف ہے۔ حنفی مذہب میں محرم کی موجودگی لازم ہے, تین دن یا اس سے زیادہ کے سفر کے لیے۔ مالکی، شافعی اور حنبلی علماء کی رائے یہ ہے کہ قابلِ اعتماد خواتین کے گروپ یا معتبر مسلمانوں کے ہمراہ سفر جائز ہے۔ سعودی حکومت نے حالیہ برسوں میں منظم گروپ کے ساتھ خواتین کو محرم کے بغیر حج کی اجازت دی ہے۔ آپ اپنے ملک کے مستند علماء سے مشورہ کریں اور اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں۔

احرام توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟

احرام کی ممنوعات میں سے کسی کی خلاف ورزی پر فدیہ دینا پڑتا ہے, قرآن 2:196 کے مطابق: یا تین دن روزے، یا چھ مسکینوں کو کھانا، یا ایک بکری ذبح کرنا۔ یہ تین میں سے کوئی ایک اختیار ہے۔ بھول کر یا جہالت میں خلاف ورزی ہو تو اکثر علماء کے نزدیک کفارہ معاف ہو جاتا ہے۔ البتہ جان بوجھ کر جنسی تعلقات قائم کرنا حج کو باطل کر دیتا ہے اور اگلے سال اس حج کی قضا اور ساتھ قربانی لازم ہو جاتی ہے, یہ سب سے سنگین خلاف ورزی ہے۔

افراد، قران اور تمتع میں کیا فرق ہے؟

یہ حج کی تین قسمیں ہیں جو طریقے کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ افراد: صرف حج کا احرام باندھا جاتا ہے، کوئی عمرہ نہیں، اور ہدی (قربانی) لازم نہیں۔ قران: ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ دونوں کی نیت, احرام نہیں کھولا جاتا اور ہدی واجب ہے۔ تمتع: پہلے علیحدہ احرام باندھ کر عمرہ کریں، پھر احرام کھولیں، 8 ذی الحجہ کو نیا احرام باندھ کر حج کریں, ہدی واجب ہے۔ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو تمتع کا حکم دیا (صحیح مسلم 1218) اور خود قران کیا کیونکہ آپ ﷺ ہدی ساتھ لائے تھے۔

بیمار شخص حج کیسے کرے؟

اسلام نے بیمار اور معذور حاجیوں کے لیے کشادگی رکھی ہے۔ طواف اور سعی وہیل چیئر یا گاڑی پر ہو سکتی ہے, طواف کے صحن میں اس کی مکمل سہولت موجود ہے۔ رمی جمرات کوئی قابلِ اعتماد شخص وکیل بن کر کر سکتا ہے, پہلے بیمار کی طرف سے رمی کرے، پھر اپنی۔ قربانی میں بھی وکیل بنا سکتے ہیں۔ عرفات میں بیٹھ کر یا لیٹ کر وقوف کرنا کافی ہے, محض موجودگی لازم ہے۔ اگر کوئی واجب ادا نہ ہو سکے تو اس کے بدلے دم (قربانی) دی جاتی ہے۔ سفر سے پہلے اپنے ڈاکٹر اور کسی مستند عالم سے مشورہ ضرور کریں۔

FivePrayer کے ساتھ نمازوں کی پابندی

حج کے بعد بھی: پانچ نمازیں وقت پر۔

FivePrayer آپ کو اذان پر یاد دلاتا ہے، قبلہ دکھاتا ہے، اور نماز کے اوقات کا حساب رکھتا ہے, چاہے آپ مکہ میں ہوں یا اپنے شہر میں۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔

ڈاؤن لوڈ کریںApp Store
سےGoogle Play
پرChrome