فوری نکات:
• حکم: فرض کفایہ ـ اگر کچھ لوگ ادا کر لیں تو باقی سے ساقط
• رکوع سجدہ: نہیں ـ صرف قیام اور 4 تکبیرات
• تکبیرات: چار، ہر ایک مختلف عمل کے ساتھ
• جنازہ: نمازیوں کے آگے رکھا جاتا ہے
• جگہ: مسجد، میدان، یا کوئی بھی پاک جگہ
• دلیل: صحیح مسلم 963، صحیح بخاری 1240
نماز جنازہ ایک منفرد عبادت ہے جو عام نمازوں سے کئی اہم پہلوؤں میں مختلف ہے۔ اس میں نہ رکوع ہے نہ سجدہ، نہ قعدہ نہ تشہد۔ یہ خالص دعا کی صورت میں چار تکبیرات پر مشتمل ایک مختصر لیکن انتہائی معنی خیز عبادت ہے، جس میں پوری جماعت ایک فوت شدہ مسلمان کی آخرت کی بھلائی کے لیے اللہ سے التجا کرتی ہے۔
حکم اور فضیلت
نماز جنازہ فرض کفایہ ہے، یعنی یہ پوری مسلم آبادی پر فرض ہے، لیکن اگر کچھ لوگ ادا کر لیں تو باقی سب سے یہ فریضہ ساقط ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر کسی علاقے میں کوئی بھی ادا نہ کرے تو پوری آبادی گنہگار ہو گی۔ یہ حکم اجتماعی ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے کہ ایک مسلمان کی وفات پر اس کی پوری برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے لیے دعا کرے۔
اس کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو مسلمان کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان اور ثواب کی نیت سے چلے اور نماز جنازہ اور دفن تک ساتھ رہے، وہ دو قیراط اجر لے کر لوٹتا ہے۔ ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔ جو صرف نماز جنازہ پڑھے اور دفن سے پہلے لوٹ جائے، اسے ایک قیراط ملتا ہے۔" (صحیح بخاری 1240، صحیح مسلم 945)
نبی ﷺ خود جنازوں میں شریک ہوتے تھے اور ایسے جنازے کی نماز کے لیے بھی تشریف لے جاتے تھے جن سے شاید بظاہر خاص تعلق نہ ہو، اس طرح امت کو سکھایا کہ مسلمان بھائی کا حق یہ ہے کہ ہم اس کی موت میں شریک ہوں۔
شرائط اور ارکان
نماز جنازہ کے صحیح ہونے کے لیے کچھ شرائط لازمی ہیں۔ نمازی کے لیے ضروری ہے کہ وضو ہو، ستر ڈھکا ہو اور قبلہ رخ ہو، یعنی یہ تمام شرائط عام نماز کی طرح ہی ہیں۔ میت کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلمان ہو، غسل دیا گیا ہو اور کفن پہنایا گیا ہو۔ میت کو نمازیوں کے سامنے رکھا جائے اور امام میت کی طرف رخ کرے۔
نماز جنازہ کے ارکان میں شامل ہیں: چار تکبیریں، قیام (یعنی کھڑے ہو کر ادا کرنا)، سورہ فاتحہ، نبی ﷺ پر درود، میت کے لیے دعا، اور سلام۔ بعض فقہاء نے ترتیب کو بھی رکن قرار دیا ہے۔ رکوع، سجدہ، تشہد اور قعدہ اس نماز میں نہیں ہیں، اور یہی اسے دیگر تمام نمازوں سے ممتاز کرتا ہے۔
غسل میت
مسلمان کا جسم وفات کے بعد بھی قابل احترام ہے۔ اس لیے دفن سے قبل میت کو غسل دینا واجب ہے، یہ دینی فریضہ ہے جو خاندان اور قریبی لوگوں پر عائد ہوتا ہے۔ غسل دینے والا عام طور پر محرم ہوتا ہے: مرد کو مرد اور عورت کو عورت غسل دیتی ہے، البتہ میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں، کیونکہ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ اگر وہ پہلے وفات پائیں تو وہ انہیں غسل دیں گے (ابن ماجہ 1465)۔
غسل کا طریقہ یہ ہے کہ میت کو پاک جگہ لٹائیں اور پردہ کا خیال رکھیں۔ پہلے بائیں پہلو کو اور پھر دائیں پہلو کو دھوئیں، پھر اُلٹائیں۔ بیری کے پانی یا کافور ملے پانی سے غسل دینا مسنون ہے (صحیح بخاری 1253)۔ غسل طاق مرتبہ یعنی ایک، تین یا پانچ بار دینا مستحب ہے۔ غسل دینے والا خود بھی بعد میں وضو کرے۔
ایک اہم استثنا یہ ہے کہ شہید کو غسل نہیں دیا جاتا۔ جو مسلمان اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو، اسے اسی حال میں دفن کیا جاتا ہے، یہی نبی ﷺ کی سنت ہے (صحیح بخاری 1343)۔ اسی طرح شہید کی نماز جنازہ کے بارے میں بھی علماء کے درمیان اختلاف ہے۔
کفن
کفن سادہ سفید کپڑا ہوتا ہے، جو دنیا کی برابری اور آخرت کی تیاری کی علامت ہے۔ نبی ﷺ کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا اور ان میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا (صحیح بخاری 1264)۔
مرد کے لیے کم از کم ایک کپڑا ہے، لیکن مسنون تین ہیں۔ عورت کے لیے پانچ کپڑے مستحب ہیں: ازار، قمیص، مقنعہ اور دو چادریں۔ کفن کے کپڑے پر خوشبو لگانا اور اگر ممکن ہو تو کافور ملانا مسنون ہے۔ مہنگے اور آرائشی کپڑوں سے پرہیز کرنا چاہیے، سادگی ہی اسلام کا شعار ہے۔ حاجی اگر احرام کی حالت میں فوت ہو تو اسی احرام میں کفنایا جائے گا (صحیح بخاری 1267)۔
نماز جنازہ کا طریقہ
نماز جنازہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے, امام آگے اور مقتدی پیچھے صفیں بنا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ میت کو نمازیوں کے سامنے زمین پر رکھا جاتا ہے اور سب قبلہ رخ ہوتے ہیں۔ تین یا اس سے زیادہ صفیں بنانا مستحب ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کی نماز جنازہ تین صفوں نے پڑھی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی (ابو داود 3166)۔
قدم 1: نیت
امام اور مقتدی دونوں دل میں نیت کریں۔ مقتدی یہ نیت کریں: "میں اس میت کی نماز جنازہ اللہ کے لیے، امام کے پیچھے پڑھتا ہوں۔" زبان سے نیت کا الفاظ کہنا لازمی نہیں، دل کی نیت کافی ہے۔ میت مرد ہو تو "اس کی"، عورت ہو تو "اس کی" نیت میں فرق کریں۔
قدم 2: پہلی تکبیر اور سورہ فاتحہ
ہاتھ کانوں تک اٹھا کر اللہ اکبر کہیں, یہ تکبیرِ تحریمہ ہے, اور پھر ہاتھ سینے پر باندھ لیں۔ آہستہ آواز میں ثناء (سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ...) پڑھیں، پھر سورہ فاتحہ پڑھیں۔ فاتحہ کے بعد بعض علماء کوئی سورت ملانے کو بھی مستحب کہتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں۔ اس نماز میں تعوذ اور بسملہ آہستہ پڑھے جائیں گے۔
قدم 3: دوسری تکبیر اور درود ابراہیمی
بغیر ہاتھ اٹھائے صرف اللہ اکبر کہیں اور اب مکمل درود ابراہیمی پڑھیں جو نماز کے قعدہ اخیرہ میں پڑھا جاتا ہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔
اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔
اے اللہ! محمد ﷺ پر اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی۔ بے شک تو تعریف کا سزاوار اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی۔ بے شک تو تعریف کا سزاوار اور بزرگی والا ہے۔
قدم 4: تیسری تکبیر اور دعائے میت
بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہیں، پھر میت کے لیے یہ دعا پڑھیں جو صحیح مسلم 963 میں مروی ہے, یہ نبی ﷺ سے ثابت مکمل ترین دعا ہے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَاراً خَيْراً مِّنْ دَارِهِ، وَأَهْلاً خَيْراً مِّنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجاً خَيْراً مِّنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ۔
اے اللہ! اسے معاف فرما، اس پر رحم فرما، اسے عافیت میں رکھ، اس سے درگزر فرما، اس کے اترنے کی جگہ کو معزز بنا، اس کی قبر کو کشادہ کر، پانی، برف اور اولوں سے اسے دھو، اسے گناہوں سے صاف کر جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے، اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا فرما، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے دے، اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی دے، اسے جنت میں داخل فرما، اور عذابِ قبر اور عذابِ آتش سے بچا۔
اگر میت عورت ہو تو ضمائر بدل دیں: "لَهُ" کی جگہ "لَهَا"، "زَوْجاً خَيْراً مِّنْ زَوْجِهِ", یعنی مؤنث کے ضمائر استعمال کریں۔
قدم 5: چوتھی تکبیر اور سلام
بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہیں۔ اب تھوڑا رکیں, بعض علماء نے یہاں ایک مختصر اضافی دعا پڑھنا مستحب کہا ہے: "اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ" (اے اللہ! ہمیں اس کا اجر محروم نہ کر، اس کے بعد ہمیں فتنے میں نہ ڈال، اور ہمیں اور اسے معاف فرما)۔ پھر پہلے دائیں اور پھر بائیں السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ کہہ کر نماز مکمل کریں۔
امام کی جگہ
امام کہاں کھڑا ہو, اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے اور یہ اختلاف سنت سے ثابت ہے۔ حنفی اور مالکی مذہب کے نزدیک امام مرد کے سینے کے مقابل کھڑا ہو اور عورت کے وسط (پیٹ) کے مقابل۔ شافعی اور حنبلی مذہب کے نزدیک امام مرد کے سر کے پاس کھڑا ہو اور عورت کے سینے کے پاس۔ دونوں اقوال کی اپنی دلیلیں ہیں اور دونوں پر عمل درست ہے۔ امام کے پیچھے مردوں کی صفیں ہوں، پھر بچوں کی، پھر عورتوں کی۔
اگر ایک ساتھ کئی جنازے ہوں تو انہیں صف بنا کر رکھا جا سکتا ہے اور ایک نماز سب کے لیے کافی ہے۔ مرد کو امام کے قریب اور عورت کو آگے کی صف کی طرف رکھنا مستحب ہے۔
دفن
نماز کے بعد جلد از جلد دفن کرنا واجب ہے, دیر کرنا مکروہ ہے سوائے کسی عذر کے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "میت کو جلد دفن کرو, اگر نیک ہے تو بھلائی کی طرف آگے بھیج دو، اگر برا ہے تو بوجھ کو اپنی گردنوں سے اتارو۔" (صحیح بخاری 1315)
قبر اتنی گہری ہو کہ مردار جانوروں سے محفوظ رہے اور بو باہر نہ آئے, یہی سنت ہے۔ میت کو قبر میں دائیں پہلو پر لٹایا جائے، منہ قبلہ کی طرف ہو۔ قبر پر مٹی ڈالتے وقت تین بار مٹی ڈالنا مسنون ہے۔ قبر پر کوئی عمارت بنانا، پکا کرانا، یا ڈھانچہ کھڑا کرنا ممنوع ہے, نبی ﷺ نے اس سے روکا (صحیح مسلم 970)۔ قبر زمین سے تھوڑی اونچی اور سادہ ہونی چاہیے۔ دفن کے بعد دعا کرنا مستحب ہے, نبی ﷺ دفن کے بعد رک کر فرماتے: "اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے ثابت رہنے کی دعا کرو، ابھی اس سے سوال ہو رہا ہے۔" (ابو داود 3221)
عام سوالات
کیا ایک جنازے پر بار بار نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
جمہور علماء کے نزدیک جو شخص ایک بار نماز جنازہ پڑھ چکا، وہ دوبارہ نہیں پڑھ سکتا۔ البتہ جو پہلی نماز میں شامل نہ ہو سکا, وہ قبر پر بھی نماز پڑھ سکتا ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے ایک خاتون صحابیہ کی قبر پر بعد میں نماز پڑھی (صحیح بخاری 1336)۔ یہ قبر کی نماز دفن کے کتنے عرصے بعد تک پڑھی جا سکتی ہے, اس میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، بعض ایک ماہ تک کہتے ہیں۔
کیا غائبانہ نماز جنازہ جائز ہے؟
غائبانہ نماز جنازہ, جب میت موجود نہ ہو اور دوسرے شہر یا ملک میں ہو, کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ جمہور علماء کہتے ہیں یہ جائز ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی رحمہ اللہ کی غائبانہ نماز مدینہ میں پڑھی (صحیح بخاری 1320)۔ بعض علماء اس کو صرف اسی صورت جائز سمجھتے ہیں جب وہاں کوئی نماز پڑھنے والا نہ ہو۔ دونوں آراء معتبر ہیں۔
کیا خواتین قبرستان جا سکتی ہیں؟
اس مسئلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اور دونوں طرف دلائل ہیں۔ نبی ﷺ کی ابتدائی ممانعت کے بعد انہوں نے عورتوں کو قبروں کی زیارت کی اجازت دی (صحیح مسلم 976)۔ جمہور علماء کہتے ہیں عورتیں قبرستان جا سکتی ہیں مگر وہاں نوحہ و بین سے بچیں اور زیادہ دیر نہ بیٹھیں۔ جنازے کے ساتھ جانا بھی, بعض علماء کے نزدیک, مکروہ ہے، لیکن ممنوع نہیں۔
خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ؟
خودکشی حرام اور کبیرہ گناہ ہے، لیکن یہ کفر نہیں, ایسا شخص مسلمان ہی رہتا ہے۔ اس لیے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ نبی ﷺ نے ایک موقع پر ایسے شخص کی نماز خود نہیں پڑھی (صحیح مسلم 978)، لیکن علماء نے بتایا کہ یہ تعزیری عمل تھا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو, عام مسلمانوں پر نماز جنازہ فرض ہے اور انہوں نے پڑھی۔ آج کے دور میں بھی فقہاء کی اکثریت کا یہی موقف ہے۔
بچے کی نماز جنازہ کا طریقہ کیا ہے؟
وہ بچہ جو زندہ پیدا ہوا, یعنی اس نے رویا یا کوئی حرکت کی, اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ مردہ پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے, حنفی اور مالکی مذہب میں ایسے بچے کی نماز نہیں پڑھتے، جبکہ شافعی اور حنبلی مذہب میں چار ماہ کے جنین کی بھی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔ بچے کی نماز کے طریقے میں تیسری تکبیر کے بعد والدین کے لیے صبر اور بچے کے شفیع بننے کی خصوصی دعا کرنا مستحب ہے۔
FivePrayer: پانچ نمازوں کا نرم اور خاموش ساتھی۔
اذان کے وقت لاک اسکرین پر یاد دہانی، درست قبلہ کمپاس، اور نماز کے اوقات آپ کے موجودہ مقام کے مطابق۔ مفت، بغیر اشتہار، بغیر اکاؤنٹ۔ iOS، Android اور Chrome کے لیے۔